Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم سب گواہ رہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ابي معمر، عن ابن مسعود، قال انشق القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لنا النبي صلى الله عليه وسلم " اشهدوا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب گواہ رہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، عن شعبة، عن الاعمش، عن مجاهد، عن ابن عمر، قال انفلق القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اشهدوا " . قال هذا حديث حسن صحيح
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر، ان لوگوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم پر جادو کر دیا ہے، لیکن ان ہی میں سے بعض نے ( اس کی تردید کی ) کہا: اگر انہوں نے ہمیں جادو کر دیا ہے تو ( باہر کے ) سبھی لوگوں کو جادو کے زیر اثر نہیں لا سکتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ان میں سے بعض نے یہ حدیث حصین سے حصین نے جبیر بن محمد بن جبیر بن مطعم سے، جبیر نے اپنے باپ محمد سے، محمد نے ان ( جبیر پوتا ) کے دادا جبیر بن مطعم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سليمان بن كثير، عن حصين، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، قال انشق القمر على عهد النبي صلى الله عليه وسلم حتى صار فرقتين على هذا الجبل وعلى هذا الجبل فقالوا سحرنا محمد فقال بعضهم لين كان سحرنا ما يستطيع ان يسحر الناس كلهم . قال ابو عيسى وقد روى بعضهم هذا الحديث عن حصين عن جبير بن محمد بن جبير بن مطعم عن ابيه عن جده جبير بن مطعم نحوه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے مسئلہ میں لڑنے ( اور الجھنے ) لگے اس پر آیت کریمہ: «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» ”یاد کرو اس دن کو جب جہنم میں وہ اپنے مونہوں کے بل گھسیٹے جائیں گے ( کہا جائے گا ) دوزخ کا عذاب چکھو ہم نے ہر چیز تقدیر کے مطابق پیدا کی ہے“ ( القمر: ۴۸ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، وابو بكر بندار قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن زياد بن اسماعيل، عن محمد بن عباد بن جعفر المخزومي، عن ابي هريرة، قال جاء مشركو قريش يخاصمون النبي صلى الله عليه وسلم في القدر فنزلت : ( يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر * انا كل شيء خلقناه بقدر ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس آئے اور ان کے سامنے سورۃ الرحمن شروع سے آخر تک پڑھی، لوگ ( سن کر ) چپ رہے، آپ نے کہا: میں نے یہ سورۃ اپنی جنوں سے ملاقات والی رات میں جنوں کو پڑھ کر سنائی تو انہوں نے مجھے تمہارے بالمقابل اچھا جواب دیا، جب بھی میں پڑھتا ہوا آیت «فبأي آلاء ربكما تكذبان» پر پہنچتا تو وہ کہتے «لا بشيء من نعمك ربنا نكذب فلك الحمد» ”اے ہمارے رب! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی نعمت کا بھی انکار نہیں کرتے، تیرے ہی لیے ہیں ساری تعریفیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت کے سوا جسے وہ زہیر بن محمد سے روایت کرتے ہیں، اور کسی سے نہیں جانتے، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: زہیر بن محمد جو شام میں ہیں، وہ زہیر نہیں جن سے اہل عراق روایت کرتے ہیں تو ان وہ دوسرے آدمی ہیں، لوگوں نے ان کا نام اس وجہ سے تبدیل کر دیا ہے ( تاکہ لوگ ان کا نام نہ جان سکیں ) کیونکہ لوگ ان سے منکر احادیث بیان کرتے تھے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اہل شام زہیر بن محمد سے مناکیر ( منکر احادیث ) روایت کرتے ہیں، اور اہل عراق ان سے صحیح احادیث روایت کرتے ہیں۔
حدثنا عبد الرحمن بن واقد ابو مسلم السعدي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن زهير بن محمد، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، رضى الله عنه قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم على اصحابه فقرا عليهم سورة الرحمن من اولها الى اخرها فسكتوا فقال " لقد قراتها على الجن ليلة الجن فكانوا احسن مردودا منكم كنت كلما اتيت على قوله : ( فباى الاء ربكما تكذبان ) قالوا لا بشيء من نعمك ربنا نكذب فلك الحمد " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث الوليد بن مسلم عن زهير بن محمد . قال احمد بن حنبل كان زهير بن محمد الذي وقع بالشام ليس هو الذي يروى عنه بالعراق كانه رجل اخر قلبوا اسمه يعني لما يروون عنه من المناكير . وسمعت محمد بن اسماعيل البخاري يقول اهل الشام يروون عن زهير بن محمد مناكير واهل العراق يروون عنه احاديث مقاربة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کی ہیں جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ ہی کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا ہے، تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کی آنکھ کی ٹھنڈک کے طور پر جو چیز تیار کی گئی ہے اسے کوئی بھی نہیں جانتا“ ( السجدۃ: ۱۷ ) ، جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کی ( گھنی ) چھاؤں میں سوار سو برس تک بھی چلتا چلا جائے تو بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، تم چاہو تو آیت کا یہ ٹکڑا «وظل ممدود» ”پھیلا ہوا لمبا لمبا سایہ“ ( الواقعہ: ۳۰ ) ، پڑھ لو، جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ برابر دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے، چاہو تو دلیل کے طور پر یہ آیت پڑھ لو «فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور» ”جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے“ ( آل عمران: ۱۸۵ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، وعبد الرحيم بن سليمان، عن محمد بن عمرو، حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقول الله اعددت لعبادي الصالحين ما لا عين رات ولا اذن سمعت ولا خطر على قلب بشر واقرءوا ان شيتم : ( فلا تعلم نفس ما اخفي لهم من قرة اعين جزاء بما كانوا يعملون ) وفي الجنة شجرة يسير الراكب في ظلها ماية عام لا يقطعها واقرءوا ان شيتم : ( وظل ممدود ) وموضع سوط في الجنة خير من الدنيا وما فيها واقرءوا ان شيتم : ( فمن زحزح عن النار وادخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا الا متاع الغرور ) " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک درخت ہے، سوار اس کے سایہ میں سو سال تک چلے گا پھر بھی اس درخت کے سایہ کو عبور نہ کر سکے گا، اگر چاہو تو پڑھو «وظل ممدود وماء مسكوب» ”ان کے لیے دراز سایہ ہے اور ( فراواں ) بہتا ہوا پانی“ ( الواقعہ: ۳۰ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری سے بھی روایت ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان في الجنة لشجرة يسير الراكب في ظلها ماية عام لا يقطعها وان شيتم فاقرءوا : ( وظل ممدود * وماء مسكوب ) " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابي سعيد
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «وفرش مرفوعة» ”جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے“ ( الواقعہ: ۳۴ ) ، کے سلسلے میں فرمایا: ”ان بچھونوں کی اونچائی اتنی ہے جنتا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے اور ان کے درمیان چلنے کی مسافت پانچ سو سال کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم کہتے ہیں: اس حدیث میں «ارتفاعها كما بين السماء والأرض» کا مفہوم یہ ہے کہ بچھونوں کی اونچائی درجات کی بلندی کے مطابق ہو گی اور ہر دو درجے کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہو گا جتنا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا رشدين بن سعد، عن عمرو بن الحارث، عن دراج، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد الخدري، رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله : ( وفرش مرفوعة ) قال " ارتفاعها كما بين السماء والارض ومسيرة ما بينهما خمسماية عام " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث رشدين . وقال بعض اهل العلم وارتفاعها كما بين السماء والارض . قال ارتفاع الفرش المرفوعة في الدرجات والدرجات ما بين كل درجتين كما بين السماء والارض
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وتجعلون رزقكم أنكم تكذبون» ”اور تم اپنے رزق ( کا شکریہ یہ ادا کرتے ہو کہ ) تم ( اللہ کی رزاقیت کی ) تکذیب کرتے ہو“ ( الواقعہ: ۸۲ ) ، کے متعلق فرمایا: ”تمہارا «شكر» یہ ہوتا ہے: تم کہتے ہو کہ یہ بارش فلاں فلاں نچھتر کے باعث اور فلاں فلاں ستاروں کی گردش کی بدولت ہوئی ہے۔ اس طرح تم جھوٹ بول کر حقیقت کو جھٹلاتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ہم اسے اسرائیل کی روایت کے سوا اور کسی سند سے مرفوع نہیں جانتے، ۲- اس حدیث کو سفیان ثوری نے عبدالاعلی سے، عبدالاعلیٰ نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے، اور عبدالرحمٰن نے علی سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا الحسين بن محمد، حدثنا اسراييل، عن عبد الاعلى، عن ابي عبد الرحمن، عن علي، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " : (اتجعلون رزقكم انكم تكذبون ) قال شكركم تقولون مطرنا بنوء كذا وكذا وبنجم كذا وكذا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح لا نعرفه مرفوعا الا من حديث اسراييل . ورواه سفيان الثوري عن عبد الاعلى، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي، نحوه ولم يرفعه . حدثنا بذلك، محمد بن بشار حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان،
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «إنا أنشأناهن إنشاء» ”ہم انہیں نئی اٹھان اٹھائیں گے نئی اٹھان“ ( الواقعہ: ۸۲ ) ، کے سلسلے میں فرمایا: ”ان نئی اٹھان والی عورتوں میں وہ عورتیں بھی ہیں جو دنیا میں بوڑھی تھیں، جن کی آنکھیں خراب ہو چکی ہوں اور ان سے پانی بہتا رہتا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف موسیٰ بن عبیدہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اور موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث الخزاعي المروزي، حدثنا وكيع، عن موسى بن عبيدة، عن يزيد بن ابان، عن انس، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : (انا انشاناهن انشاء ) قال " ان من المنشات اللايي كن في الدنيا عجايز عمشا رمصا " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه مرفوعا الا من حديث موسى بن عبيدة وموسى بن عبيدة ويزيد بن ابان الرقاشي يضعفان في الحديث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ تو بوڑھے ہو چلے؟ آپ نے فرمایا: ”مجھے «هود»، «الواقعة»، «المرسلات»، «عم يتساءلون» اور سورۃ «إذا الشمس کوّرت» نے بوڑھا کر دیا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- علی بن صالح نے یہ حدیث اسی طرح ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے ابوحجیفہ رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ۳- اس حدیث کی کچھ باتیں ابواسحاق ابومیسرہ سے مرسلاً روایت کی گئی ہیں۔ ابوبکر بن عیاش نے ابواسحاق کے واسطہ سے، ابواسحاق نے عکرمہ سے، اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شیبان کی اس حدیث جیسی روایت کی ہے جسے انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی ہے اور انہوں نے اس روایت میں ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا معاوية بن هشام، عن شيبان، عن ابي اسحاق، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال ابو بكر رضى الله عنه يا رسول الله قد شبت . قال " شيبتني هود والواقعة والمرسلات و عم يتساءلون واذا الشمس كورت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث ابن عباس الا من هذا الوجه . وروى علي بن صالح هذا الحديث عن ابي اسحاق عن ابي جحيفة نحو هذا . وروي عن ابي اسحاق عن ابي ميسرة شيء من هذا مرسلا . وروى ابو بكر بن عياش، عن ابي اسحاق، عن عكرمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث شيبان عن ابي اسحاق ولم يذكر فيه عن ابن عباس حدثنا بذلك هاشم بن الوليد الهروي حدثنا ابو بكر بن عياش
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اس دوران کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ بیٹھے ہوئے تھے، ان پر ایک بدلی آئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہ بادل ہے اور یہ زمین کے گوشے و کنارے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس بادل کو ایک ایسی قوم کے پاس ہانک کر لے جا رہا ہے جو اس کی شکر گزار نہیں ہے اور نہ ہی اس کو پکارتے ہیں“، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہ آسمان «رقیع» ہے، ایسی چھت ہے جو ( جنوں سے ) محفوظ کر دی گئی ہے، ایک ایسی ( لہر ) ہے جو ( بغیر ستون کے ) روکی ہوئی ہے“، پھر آپ نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ کتنا فاصلہ ہے تمہارے اور اس کے درمیان؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تمہارے اور اس کے درمیان پانچ سو سال مسافت کی دوری ہے“، پھر آپ نے پوچھا: ”کیا تمہیں معلوم ہے اور اس سے اوپر کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے، آپ نے فرمایا: ”اس کے اوپر دو آسمان ہیں جن کے بیچ میں پانچ سو سال کی مسافت ہے“۔ ایسے ہی آپ نے سات آسمان گنائے، اور ہر دو آسمان کے درمیان وہی فاصلہ ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے، پھر آپ نے پوچھا: ”اور اس کے اوپر کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، اور اس کے رسول آپ نے فرمایا: ”اس کے اوپر عرش ہے، عرش اور آسمان کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری دو آسمانوں کے درمیان ہے“، آپ نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں: آپ نے فرمایا: ”یہ زمین ہے“، آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو اس کے نیچے کیا ہے؟“، لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں آپ نے فرمایا: ”اس کے نیچے دوسری زمین ہے، ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کی دوری ہے“، اس طرح آپ نے سات زمینیں شمار کیں، اور ہر زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کی دوری بتائی، پھر آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر تم کوئی رسی زمین کی نچلی سطح تک لٹکاؤ تو وہ اللہ ہی تک پہنچے گی، پھر آپ نے آیت «هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شيء عليم» ”وہی اول و آخر ہے وہی ظاہر و باطن ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے“ ( الحدید: ۳ ) ، پڑھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ایوب، یونس بن عبید اور علی بن زید سے مروی ہے، ان لوگوں نے کہا ہے کہ حسن بصری نے ابوہریرہ سے نہیں سنا ہے، ۳- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: مراد یہ ہے کہ وہ رسی اللہ کے علم پر اتری ہے، اور اللہ اور اس کی قدرت و حکومت ہر جگہ ہے اور جیسا کہ اس نے اپنی کتاب ( قرآن مجید ) میں اپنے متعلق بتایا ہے وہ عرش پر مستوی ہے۔
سلمہ بن صخر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے عورت سے جماع کی جتنی شہوت و قوت ملی تھی ( میں سمجھتا ہوں ) اتنی کسی کو بھی نہ ملی ہو گی، جب رمضان کا مہینہ آیا تو میں نے اس ڈر سے کہ کہیں میں رمضان کی رات میں بیوی سے ملوں ( صحبت کر بیٹھوں ) اور پے در پے جماع کئے ہی جاؤں کہ اتنے میں صبح ہو جائے اور میں اسے چھوڑ کر علیحدہ نہ ہو پاؤں، میں نے رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے بیوی سے ظہار ۱؎ کر لیا، پھر ایسا ہوا کہ ایک رات میری بیوی میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک مجھے اس کی ایک چیز دکھائی پڑ گئی تو میں ( اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا ) اسے دھر دبوچا، جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں اپنے حال سے باخبر کیا، میں نے ان سے کہا کہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو تاکہ میں آپ کو اپنے معاملے سے باخبر کر دوں، ان لوگوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم نہ جائیں گے، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہمارے متعلق قرآن ( کوئی آیت ) نازل نہ ہو جائے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات نہ کہہ دیں جس کی شرمندگی برقرار رہے، البتہ تم خود ہی جاؤ اور جو مناسب ہو کرو، تو میں گھر سے نکلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ کو اپنی بات بتائی، آپ نے فرمایا: ”تم نے یہ کام کیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، میں نے ایسا کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم نے ایسا کیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، میں نے ایسا کیا ہے آپ نے ( تیسری بار بھی یہی ) پوچھا: ”تو نے یہ بات کی ہے“، میں نے کہا: جی ہاں، مجھ سے ہی ایسی بات ہوئی ہے، مجھ پر اللہ کا حکم جاری و نافذ فرمائیے، میں اپنی اس بات پر ثابت و قائم رہنے والا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ایک غلام آزاد کرو“، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں اپنی اس گردن کے سوا کسی اور گردن کا مالک نہیں ہوں ( غلام کیسے آزاد کروں ) آپ نے فرمایا: ”پھر دو مہینے کے روزے رکھو“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے جو پریشانی و مصیبت لاحق ہوئی ہے وہ اسی روزے ہی کی وجہ سے تو لاحق ہوئی ہے، آپ نے فرمایا: ”تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو“، میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! ہم نے یہ رات بھوکے رہ کر گزاری ہے، ہمارے پاس رات کا بھی کھانا نہ تھا، آپ نے فرمایا: ”بنو زریق کے صدقہ دینے والوں کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ تمہیں صدقہ کا مال دے دیں اور اس میں سے تم ایک وسق ساٹھ مسکینوں کو اپنے کفارہ کے طور پر کھلا دو اور باقی جو کچھ بچے وہ اپنے اوپر اور اپنے بال بچوں پر خرچ کرو، وہ کہتے ہیں: پھر میں لوٹ کر اپنی قوم کے پاس آیا، میں نے کہا: میں نے تمہارے پاس تنگی، بدخیالی اور بری رائے و تجویز پائی، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کشادگی اور برکت پائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارا صدقہ لینے کا حکم دیا ہے تو تم لوگ اسے مجھے دے دو، چنانچہ ان لوگوں نے مجھے دے دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: سلیمان بن یسار نے میرے نزدیک سلمہ بن صخر سے نہیں سنا ہے، سلمہ بن صخر کو سلمان بن صخر بھی کہتے ہیں، ۳- اس باب میں خولہ بنت ثعلبہ سے بھی روایت ہے، اور یہ اوس بن صامت کی بیوی ہیں ( رضی الله عنہما ) ۔
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت کریمہ: «يا أيها الذين آمنوا إذا ناجيتم الرسول فقدموا بين يدي نجواكم صدقة» ”اے ایمان والو! جب رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو“ ( المجادلہ: ۱۲ ) ، نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہاری کیا رائے ہے، ایک دینار صدقہ مقرر کر دوں؟“ میں نے کہا: لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے، آپ نے فرمایا: ”تو کیا آدھا دینار مقرر کر دوں؟ میں نے کہا: اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے“، آپ نے فرمایا: ”پھر کتنا کر دوں؟“ میں نے کہا: ایک جو کر دیں، آپ نے فرمایا: ”تم تو بالکل ہی گھٹا دینے والے نکلے“، اس پر یہ آیت نازل ہوئی «أأشفقتم أن تقدموا بين يدي نجواكم صدقات» ”کیا تم اس حکم سے ڈر گئے کہ تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقے دے دیا کرو“ ( المجادلہ: ۱۳ ) ، علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ نے میری وجہ سے فضل فرما کر اس امت کے معاملے میں تخفیف فرما دی ( یعنی اس حکم کو منسوخ کر دیا ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- علی رضی الله عنہ کے قول «شعيرة» سے مراد ایک جو کے برابر ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا عبيد الله الاشجعي، عن الثوري، عن عثمان بن المغيرة الثقفي، عن سالم بن ابي الجعد، عن علي بن علقمة الانماري، عن علي بن ابي طالب، قال لما نزلت : (يا ايها الذين امنوا اذا ناجيتم الرسول فقدموا بين يدى نجواكم صدقة ) . قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " ما ترى دينارا " . قلت لا يطيقونه . قال " فنصف دينار " . قلت لا يطيقونه . قال " فكم " . قلت شعيرة . قال " انك لزهيد " . قال فنزلت : (ااشفقتم ان تقدموا بين يدى نجواكم صدقات ) الاية . قال فبي خفف الله عن هذه الامة . قال هذا حديث حسن غريب انما نعرفه من هذا الوجه . ومعنى قوله شعيرة يعني وزن شعيرة من ذهب وابو الجعد اسمه رافع
انس ابن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے پاس آ کر کہا: «السام عليكم» ( تم پر موت آئے ) لوگوں نے اسے اس کے «سام» کا جواب دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو اس نے کیا کہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، اے اللہ کے نبی! اس نے تو سلام کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس نے تو ایسا ایسا کہا ہے، تم لوگ اس ( یہودی ) کو لوٹا کر میرے پاس لاؤ“، لوگ اس کو لوٹا کر لائے، آپ نے اس یہودی سے پوچھا: تو نے «السام عليكم» کہا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت سے یہ حکم صادر فرمایا دیا کہ جب اہل کتاب میں سے کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس کے جواب میں «عليك ما قلت» ( جو تم نے کہی وہی تمہارے لیے بھی ہے ) کہہ دیا کرو، اور آپ نے یہ آیت پڑھی «وإذا جاءوك حيوك بما لم يحيك به الله» ”یہ یہودی جب تمہارے پاس آتے ہیں تو وہ تمہیں اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تمہیں سلام نہیں کیا ہے“ ( المجادلہ: ۸ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا يونس، عن شيبان، عن قتادة، حدثنا انس بن مالك، ان يهوديا، اتى على النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه فقال السام عليكم فرد عليه القوم فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم " هل تدرون ما قال هذا " . قالوا الله ورسوله اعلم�� سلم يا نبي الله . قال " لا ولكنه قال كذا وكذا ردوه على " . فردوه قال " قلت السام عليكم " . قال نعم . قال نبي الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك " اذا سلم عليكم احد من اهل الكتاب فقولوا عليك " . قال " عليك ما قلت " . قال : (واذا جاءوك حيوك بما لم يحيك به الله ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کے کھجور کے درخت جلا دئیے اور کاٹ ڈالے، اس جگہ کا نام بویرہ تھا، اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها فبإذن الله وليخزي الفاسقين» ”جو ان کے درخت تم نے کاٹے یا ان کو اپنی جڑوں پر قائم ( و سالم ) چھوڑ دیا یہ سب کچھ اذن الٰہی سے تھا، اور اس لیے بھی تھا کہ اللہ ایسے فاسقوں کو رسوا کرے“ ( الحشر: ۵ ) ، نازل فرمائی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، رضى الله عنهما قال حرق رسول الله صلى الله عليه وسلم نخل بني النضير وقطع وهي البويرة فانزل الله : (ما قطعتم من لينة او تركتموها قايمة على اصولها فباذن الله وليخزي الفاسقين ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» ”تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پر باقی رہنے دیا، یہ سب اللہ تعالیٰ کے فرمان سے تھا اور اس لیے بھی تھا کہ اللہ فاسقوں کو رسوا کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا الحسن بن محمد الزعفراني، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا حفص بن غياث، حدثنا حبيب بن ابي عمرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، في قول الله عز وجل : (ما قطعتم من لينة او تركتموها قايمة على اصولها ) . قال اللينة النخلةيخزي الفاسقين ) قال استنزلوهم من حصونهم قال وامروا بقطع النخل فحك في صدورهم . فقال المسلمون قد قطعنا بعضا وتركنا بعضا فلنسالن رسول الله صلى الله عليه وسلم هل لنا فيما قطعنا من اجر وهل علينا فيما تركنا من وزر فانزل الله تعالى : (ما قطعتم من لينة او تركتموها قايمة على اصولها ) . الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وروى بعضهم، هذا الحديث عن حفص بن غياث، عن حبيب بن ابي عمرة، عن سعيد بن جبير، مرسلا ولم يذكر فيه عن ابن عباس، . حدثني بذلك عبد الله بن عبد الرحمن، حدثنا هارون بن معاوية، عن حفص بن غياث، عن حبيب بن ابي عمرة، عن سعيد بن جبير، عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . قال ابو عيسى سمع مني محمد بن اسماعيل هذا الحديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص کے پاس رات میں ایک مہمان آیا، اس انصاری کے پاس ( اس وقت ) صرف اس کے اور اس کے بچوں بھر کا ہی کھانا تھا، اس نے اپنی بیوی سے کہا ( ایسا کرو ) بچوں کو ( کسی طرح ) سلا دو اور ( کھانا کھلانے چلو تو ) چراغ بجھا دو، اور جو کچھ تمہارے پاس ہو وہ مہمان کے قریب رکھ دو، اس پر آیت «ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة» ”یہ خود محتاج و ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی اپنے پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں“ ( الحشر: ۹ ) ، نازل ہوئی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن فضيل بن غزوان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، ان رجلا، من الانصار بات به ضيف فلم يكن عنده الا قوته وقوت صبيانه فقال لامراته نومي الصبية واطفيي السراج وقربي للضيف ما عندك فنزلت هذه الاية : ( ويوثرون على انفسهم ولو كان بهم خصاصة ) هذا حديث حسن صحيح
عبیداللہ بن ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زبیر اور مقداد بن اسود کو بھیجا، فرمایا: جاؤ، روضہ خاخ ۱؎ پر پہنچو وہاں ایک ھودج سوار عورت ہے، اس کے پاس ایک خط ہے، وہ خط جا کر اس سے لے لو، اور میرے پاس لے آؤ، چنانچہ ہم نکل پڑے، ہمارے گھوڑے ہمیں لیے لیے دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش کر رہے تھے، ہم روضہ پہنچے، ہمیں ہودج سوار عورت مل گئی، ہم نے اس سے کہا: خط نکال، اس نے کہا: ہمارے پاس کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا: خط نکالتی ہے یا پھر اپنے کپڑے اتارتی ہے؟ ( یہ سن کر ) اپنی چوٹی ( جوڑے ) سے اس نے خط نکالا، ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، وہ خط حاطب بن ابی بلتعہ رضی الله عنہ کی جانب سے تھا، مکہ کے کچھ مشرکین کے پاس بھیجا گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اقدامات کی انہیں خبر دی گئی تھی، آپ نے فرمایا: ”حاطب! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے خلاف حکم فرمانے میں جلدی نہ کریں، میں ایک ایسا شخص تھا جو قریش کے ساتھ مل جل کر رہتا تھا، لیکن ( خاندانی طور پر ) قریشی نہ تھا، باقی جو مہاجرین آپ کے ساتھ تھے ان کی وہاں رشتہ داریاں تھیں جس کی وجہ سے وہ رشتہ دار مکہ میں ان کے گھر والوں اور ان کے مالوں کی حفاظت و حمایت کرتے تھے، میں نے مناسب سمجھا کہ جب ہمارا ان سے کوئی خاندانی و نسبی تعلق نہیں ہے تو میں ان پر احسان کر کے کسی کا ہاتھ پکڑ لوں جس کی وجہ سے یہ اہل مکہ ہمارے گھر اور رشتہ داروں کی حفاظت و حمایت کریں، میں نے ایسا کفر اختیار کر لینے یا اپنے دین سے مرتد ہو جانے یا کفر کو پسند کر لینے کی وجہ سے نہیں کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حاطب نے سچ اور ( صحیح ) بات کہی ہے“، عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے، میں اس منافق کی گردن مار دوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جنگ بدر میں موجود رہے ہیں، تمہیں معلوم نہیں، یقیناً اللہ نے بدر والوں کی حالت ( یعنی ان کے جذبہ جاں فروشی ) کو دیکھ کر کہہ دیا ہے: جو چاہو کرو ہم نے تمہارے گناہ بخش دیئے ہیں“، اسی سلسلے میں یہ پوری سورۃ «يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم أولياء» ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، تم انہیں دوستی کا پیغام بھیجتے ہو“ ( الممتحنۃ: ۱ ) ، آخر تک نازل ہوئی۔ عمرو ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: میں نے عبیداللہ بن ابی رافع کو دیکھا ہے، وہ علی رضی الله عنہ کے کاتب ( محرر ) تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح کئی ایک نے یہ حدیث سفیان بن عیینہ سے روایت کی ہے، اور ان سبھوں نے بھی یہی لفظ ذکر کیا ہے کہ علی اور زبیر رضی الله عنہما وغیرہ نے کہا: تمہیں خط نکال کر دینا ہو گا، ورنہ پھر تمہیں کپڑے اتارنے پڑیں گے، ۳- ابوعبدالرحمٰن السلمی سے بھی یہ حدیث مروی ہوئی ہے، انہوں نے علی رضی الله عنہ سے اسی حدیث کے مانند روایت کیا ہے، ۴- اس باب میں عمر اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور بعضوں نے ذکر کیا کہ انہوں نے کہا کہ تو خط نکال دے ورنہ ہم تجھے ننگا کر دیں گے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا امتحان نہیں لیا کرتے تھے مگر اس آیت سے جس میں اللہ نے «إذا جاءك المؤمنات يبايعنك» ”اے مومنوا! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ( مکہ سے ) ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لو، اللہ تو ان کے ایمان کو جانتا ہی ہے، اگر تم یہ جان لو کہ یہ واقعی مومن عورتیں ہیں تو ان کو ان کے کافر شوہروں کے پاس نہ لوٹاؤ، نہ تو وہ کافروں کے لیے حلال ہیں نہ کافر ان کے لیے حلال ہیں“ ( الممتحنۃ: ۱۰ ) ، کہا ہے ۱؎۔ معمر کہتے ہیں: ابن طاؤس نے مجھے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ہے کہ ان کے باپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے اس عورت کے سوا جس کے آپ مالک ہوتے کسی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمتحن الا بالاية التي قال الله : (اذا جاءك المومنات يبايعنك ) الاية . قال معمر فاخبرني ابن طاوس، عن ابيه، قال ما مست يد رسول الله صلى الله عليه وسلم يد امراة الا امراة يملكها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حدثنا عبد بن حميد، وغير، واحد، - المعنى واحد قالوا حدثنا يونس بن محمد، حدثنا شيبان بن عبد الرحمن، عن قتادة، حدثنا الحسن، عن ابي هريرة، قال بينما نبي الله صلى الله عليه وسلم جالس واصحابه اذ اتى عليهم سحاب فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم " هل تدرون ما هذا " . فقالوا الله ورسوله اعلم . قال " هذا العنان هذه روايا الارض يسوقه الله تبارك وتعالى الى قوم لا يشكرونه ولا يدعونه " . ثم قال " هل تدرون ما فوقكم " . قالوا الله ورسوله اعلم . قال " فانها الرقيع سقف محفوظ وموج مكفوف " . ثم قال " هل تدرون كم بينكم وبينها " . قالوا الله ورسوله اعلم . قال " بينكم وبينها مسيرة خمسماية سنة " . ثم قال " هل تدرون ما فوق ذلك " . قالوا الله ورسوله اعلم . قال " فان فوق ذلك سماءين وما بينهما مسيرة خمسماية عام " . حتى عد سبع سموات ما بين كل سماءين كما بين السماء والارض . ثم قال " هل تدرون ما فوق ذلك " . قالوا الله ورسوله اعلم . قال " فان فوق ذلك العرش وبينه وبين السماء بعد ما بين السماءين " . ثم قال " هل تدرون ما الذي تحتكم " . قالوا الله ورسوله اعلم . قال " فانها الارض " . ثم قال " هل تدرون ما الذي تحت ذلك " . قالوا الله ورسوله اعلم . قال " فان تحتها الارض الاخرى بينهما مسيرة خمسماية سنة " . حتى عد سبع ارضين بين كل ارضين مسيرة خمسماية سنة ثم قال " والذي نفس محمد بيده لو انكم دليتم رجلا بحبل الى الارض السفلى لهبط على الله " . ثم قرا ( هو الاول والاخر والظاهر والباطن وهو بكل شيء عليم ) . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه . قال ويروى عن ايوب ويونس بن عبيد وعلي بن زيد قالوا لم يسمع الحسن من ابي هريرة . وفسر بعض اهل العلم هذا الحديث فقالوا انما هبط على علم الله وقدرته وسلطانه . علم الله وقدرته وسلطانه في كل مكان وهو على العرش كما وصف في كتابه
حدثنا عبد بن حميد، والحسن بن علي الحلواني، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا محمد بن اسحاق، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن سليمان بن يسار، عن سلمة بن صخر الانصاري، قال كنت رجلا قد اوتيت من جماع النساء ما لم يوت غيري فلما دخل رمضان تظاهرت من امراتي حتى ينسلخ رمضان فرقا من ان اصيب منها في ليلتي فاتتابع في ذلك الى ان يدركني النهار وانا لا اقدر ان انزع فبينما هي تخدمني ذات ليلة اذ تكشف لي منها شيء فوثبت عليها فلما اصبحت غدوت على قومي فاخبرتهم خبري فقلت انطلقوا معي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره بامري . فقالوا لا والله لا نفعل نتخوف ان ينزل فينا قران او يقول فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقالة يبقى علينا عارها ولكن اذهب انت فاصنع ما بدا لك . قال فخرجت فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته خبري . فقال " انت بذاك " . قلت انا بذاك . قال " انت بذاك " . قلت انا بذاك . قال " انت بذاك " . قلت انا بذاك وها انا ذا فامض في حكم الله فاني صابر لذلك . قال " اعتق رقبة " . قال فضربت صفحة عنقي بيدي فقلت لا والذي بعثك بالحق ما اصبحت املك غيرها . قال " صم شهرين " . قلت يا رسول الله وهل اصابني ما اصابني الا في الصيام . قال " فاطعم ستين مسكينا " . قلت والذي بعثك بالحق لقد بتنا ليلتنا هذه وحشى ما لنا عشاء . قال " اذهب الى صاحب صدقة بني زريق فقل له فليدفعها اليك فاطعم عنك منها وسقا ستين مسكينا ثم استعن بسايره عليك وعلى عيالك " . قال فرجعت الى قومي فقلت وجدت عندكم الضيق وسوء الراى ووجدت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم السعة والبركة امر لي بصدقتكم فادفعوها الى فدفعوها الى . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . قال محمد سليمان بن يسار لم يسمع عندي من سلمة بن صخر . قال ويقال سلمة بن صخر وسلمان بن صخر . وفي الباب عن خولة بنت ثعلبة وهي امراة اوس بن الصامت
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن الحسن بن محمد، هو ابن الحنفية عن عبيد الله بن ابي رافع، قال سمعت علي بن ابي طالب، يقول بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم انا والزبير والمقداد بن الاسود فقال " انطلقوا حتى تاتوا روضة خاخ فان بها ظعينة معها كتاب فخذوه منها فايتوني به " . فخرجنا تتعادى بنا خيلنا حتى اتينا الروضة فاذا نحن بالظعينة فقلنا اخرجي الكتاب . فقالت ما معي من كتاب . فقلنا لتخرجن الكتاب او لتلقين الثياب . قال فاخرجته من عقاصها . قال فاتينا به رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا هو من حاطب بن ابي بلتعة الى ناس من المشركين بمكة يخبرهم ببعض امر النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ما هذا يا حاطب " . قال لا تعجل على يا رسول الله اني كنت امرا ملصقا في قريش ولم اكن من انفسها وكان من معك من المهاجرين لهم قرابات يحمون بها اهليهم واموالهم بمكة فاحببت اذ فاتني ذلك من نسب فيهم ان اتخذ فيهم يدا يحمون بها قرابتي وما فعلت ذلك كفرا ولا ارتدادا عن ديني ولا رضا بالكفر بعد الاسلام . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " صدق " . فقال عمر بن الخطاب رضى الله عنه دعني يا رسول الله اضرب عنق هذا المنافق . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انه قد شهد بدرا فما يدريك لعل الله اطلع على اهل بدر فقال اعملوا ما شيتم فقد غفرت لكم " . قال وفيه انزلت هذه السورة : (يا ايها الذين امنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم اولياء ) السورة . قال عمرو وقد رايت ابن ابي رافع وكان كاتبا لعلي بن ابي طالب . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفيه عن عمر وجابر بن عبد الله . وروى غير واحد عن سفيان بن عيينة هذا الحديث نحو هذا وذكروا هذا الحرف فقالوا لتخرجن الكتاب او لتلقين الثياب . وقد روي ايضا عن ابي عبد الرحمن السلمي عن علي نحو هذا الحديث . وذكر بعضهم فيه فقال لتخرجن الكتاب او لنجردنك