احادیث
#3303
سنن ترمذی - Exegesis
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» ( تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے ) کے بارے میں کہتے ہیں: ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور ( مسلمانوں کو یہود کے ) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا: ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہو گا؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها» ”تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پر باقی رہنے دیا، یہ سب اللہ تعالیٰ کے فرمان سے تھا اور اس لیے بھی تھا کہ اللہ فاسقوں کو رسوا کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا الحسن بن محمد الزعفراني، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا حفص بن غياث، حدثنا حبيب بن ابي عمرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، في قول الله عز وجل : (ما قطعتم من لينة او تركتموها قايمة على اصولها ) . قال اللينة النخلةيخزي الفاسقين ) قال استنزلوهم من حصونهم قال وامروا بقطع النخل فحك في صدورهم . فقال المسلمون قد قطعنا بعضا وتركنا بعضا فلنسالن رسول الله صلى الله عليه وسلم هل لنا فيما قطعنا من اجر وهل علينا فيما تركنا من وزر فانزل الله تعالى : (ما قطعتم من لينة او تركتموها قايمة على اصولها ) . الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وروى بعضهم، هذا الحديث عن حفص بن غياث، عن حبيب بن ابي عمرة، عن سعيد بن جبير، مرسلا ولم يذكر فيه عن ابن عباس، . حدثني بذلك عبد الله بن عبد الرحمن، حدثنا هارون بن معاوية، عن حفص بن غياث، عن حبيب بن ابي عمرة، عن سعيد بن جبير، عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . قال ابو عيسى سمع مني محمد بن اسماعيل هذا الحديث
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3303
- Book Index
- 355
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih Isnaad
- Al-AlbaniSahih Isnaad
- Zubair Ali ZaiIsnaad Sahih
