احادیث
#3292
سنن ترمذی - Exegesis
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کی ہیں جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ ہی کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا ہے، تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کی آنکھ کی ٹھنڈک کے طور پر جو چیز تیار کی گئی ہے اسے کوئی بھی نہیں جانتا“ ( السجدۃ: ۱۷ ) ، جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کی ( گھنی ) چھاؤں میں سوار سو برس تک بھی چلتا چلا جائے تو بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، تم چاہو تو آیت کا یہ ٹکڑا «وظل ممدود» ”پھیلا ہوا لمبا لمبا سایہ“ ( الواقعہ: ۳۰ ) ، پڑھ لو، جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ برابر دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے، چاہو تو دلیل کے طور پر یہ آیت پڑھ لو «فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور» ”جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے“ ( آل عمران: ۱۸۵ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، وعبد الرحيم بن سليمان، عن محمد بن عمرو، حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقول الله اعددت لعبادي الصالحين ما لا عين رات ولا اذن سمعت ولا خطر على قلب بشر واقرءوا ان شيتم : ( فلا تعلم نفس ما اخفي لهم من قرة اعين جزاء بما كانوا يعملون ) وفي الجنة شجرة يسير الراكب في ظلها ماية عام لا يقطعها واقرءوا ان شيتم : ( وظل ممدود ) وموضع سوط في الجنة خير من الدنيا وما فيها واقرءوا ان شيتم : ( فمن زحزح عن النار وادخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا الا متاع الغرور ) " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3292
- Book Index
- 344
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirHasan
- Al-AlbaniHasan
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
