Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بغیر علم کے ( بغیر سمجھے بوجھے ) قرآن کی تفسیر کی، تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا بشر بن السري، حدثنا سفيان، عن عبد الاعلى، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال في القران بغير علم فليتبوا مقعده من النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری طرف سے کوئی بات اس وقت تک نہ بیان کرو جب تک کہ تم ( اچھی طرح ) جان نہ لو کیونکہ جس نے جان بوجھ کر جھوٹی بات میری طرف منسوب کی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے اور جس نے قرآن میں اپنی عقل و رائے سے کچھ کہا وہ بھی اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا سويد بن عمرو الكلبي، حدثنا ابو عوانة، عن عبد الاعلى، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اتقوا الحديث عني الا ما علمتم فمن كذب على متعمدا فليتبوا مقعده من النار ومن قال في القران برايه فليتبوا مقعده من النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
جندب بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے ( اور اپنی صواب دید ) سے کی، اور بات صحیح و درست نکل بھی گئی تو بھی اس نے غلطی کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض محدثین نے سہیل بن ابی حزم کے بارے کلام کیا ہے، ۳- اسی طرح بعض اہل علم صحابہ اور دوسروں سے مروی ہے کہ انہوں نے سختی سے اس بات سے منع کیا ہے کہ قرآن کی تفسیر بغیر علم کے کی جائے، لیکن مجاہد، قتادہ اور ان دونوں کے علاوہ بعض اہل علم کے بارے میں جو یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے قرآن کی تفسیر ( بغیر علم کے ) کی ہے تو یہ کہنا درست نہیں، ایسے ( ستودہ صفات ) لوگوں کے بارے میں یہ بدگمانی نہیں کی جا سکتی کہ انہوں نے قرآن کے بارے میں جو کچھ کہا ہے یا انہوں نے قرآن کی جو تفسیر کی ہے یہ بغیر علم کے یا اپنے جی سے کی ہے، ۴- ان ائمہ سے ایسی باتیں مروی ہیں جو ہمارے اس قول کو تقویت دیتی ہیں کہ انہوں نے کوئی بات بغیر علم کے اپنی جانب سے نہیں کہی ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا حبان بن هلال، حدثنا سهيل بن عبد الله، وهو ابن ابي حزم اخو حزم القطعي حدثنا ابو عمران الجوني، عن جندب بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال في القران برايه فاصاب فقد اخطا " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وقد تكلم بعض اهل العلم في سهيل بن ابي حزم . قال ابو عيسى هكذا روي عن بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم انهم شددوا في هذا في ان يفسر القران بغير علم . واما الذي روي عن مجاهد وقتادة وغيرهما من اهل العلم انهم فسروا القران فليس الظن بهم انهم قالوا في القران او فسروه بغير علم او من قبل انفسهم وقد روي عنهم ما يدل على ما قلنا انهم لم يقولوا من قبل انفسهم بغير علم . حدثنا الحسين بن مهدي البصري، اخبرنا عبد الرزاق، عن معمر، عن قتادة، قال ما في القران اية الا وقد سمعت فيها بشيء . حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الاعمش، قال قال مجاهد لو كنت قرات قراءة ابن مسعود لم احتج الى ان اسال ابن عباس عن كثير من القران مما سالت
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، وہ نماز ناقص ہے، نامکمل ہے ۱؎ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے کہا: ابوہریرہ! میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں؟ انہوں نے کہا: فارسی لڑکے! اسے اپنے جی میں ( دل ہی دل میں ) پڑھ لیا کرو ۲؎ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز ۳؎ اپنے اور بندے کے درمیان دو حصوں میں بانٹ دی ہے۔ آدھی نماز میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو مانگے۔ میرا بندہ پڑھتا ہے: «الحمد لله رب العالمين» تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے میری حمد یعنی تعریف کی۔ بندہ کہتا ہے: «الرحمن الرحيم» تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا کی، بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے میری عظمت اور بزرگی بیان کی اور عظمت اور بزرگی صرف میرے لیے ہے، اور میرے اور میرے بندے کے درمیان «إياك نعبد وإياك نستعين» سے لے کر سورۃ کی آخری آیات تک ہیں، اور بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو وہ مانگے۔ بندہ کہتا ہے «اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» ”ہمیں سیدھی اور سچی راہ دکھا، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- شعبہ، اسماعیل بن جعفر اور کئی دوسرے رواۃ نے ایسی ہی حدیث علاء بن عبدالرحمٰن سے، علاء نے اپنے باپ سے اور ان کے باپ نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من صلى صلاة لم يقرا فيها بام القران فهي خداج فهي خداج غير تمام " . قال قلت يا ابا هريرة اني احيانا اكون وراء الامام . قال يا ابن الفارسي فاقراها في نفسك فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " قال الله تعالى قسمت الصلاة بيني وبين عبدي نصفين فنصفها لي ونصفها لعبدي ولعبدي ما سال يقوم العبد فيقرا : (الحمد لله رب العالمين ) فيقول الله حمدني عبدي فيقول : (الرحمن الرحيم ) فيقول الله اثنى على عبدي فيقول : ( مالك يوم الدين ) فيقول مجدني عبدي وهذا لي وبيني وبين عبدي : (اياك نعبد واياك نستعين ) واخر السورة لعبدي ولعبدي ما سال يقول : (اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين ) " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روى شعبة واسماعيل بن جعفر وغير واحد عن العلاء بن عبد الرحمن عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا الحديث . وروى ابن جريج ومالك بن انس عن العلاء بن عبد الرحمن عن ابي السايب مولى هشام بن زهرة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا . وروى ابن ابي اويس، عن ابيه، عن العلاء بن عبد الرحمن، قال حدثني ابي وابو السايب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا . اخبرنا بذلك محمد بن يحيى النيسابوري ويعقوب بن سفيان الفارسي قالا حدثنا اسماعيل بن ابي اويس عن ابيه عن العلاء بن عبد الرحمن حدثني ابي وابو السايب مولى هشام بن زهرة وكانا جليسين لابي هريرة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صلى صلاة لم يقرا فيها بام القران فهي خداج فهي خداج غير تمام " . وليس في حديث اسماعيل بن ابي اويس اكثر من هذا . وسالت ابا زرعة عن هذا الحديث فقال كلا الحديثين صحيح . واحتج بحديث ابن ابي اويس عن ابيه عن العلاء
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے، لوگوں نے کہا: یہ عدی بن حاتم ہیں، میں آپ کے پاس بغیر کسی امان اور بغیر کسی تحریر کے آیا تھا، جب مجھے آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ آپ اس سے پہلے فرما چکے تھے کہ ”مجھے امید ہے کہ اللہ ان کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے گا“ ۱؎۔ عدی کہتے ہیں: آپ مجھے لے کر کھڑے ہوئے، اسی اثناء میں ایک عورت ایک بچے کے ساتھ آپ سے ملنے آ گئی، ان دونوں نے عرض کیا: ہمیں آپ سے ایک ضرورت ہے۔ آپ ان دونوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور ان کی ضرورت پوری فرما دی۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا اور مجھے لیے اپنے گھر آ گئے۔ ایک بچی نے آپ کے لیے ایک گدا بچھا دیا، جس پر آپ بیٹھ گئے اور میں بھی آپ کے سامنے بیٹھ گیا، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ” ( بتاؤ ) تمہیں «لا إلہ إلا اللہ» کہنے سے کیا چیز روک رہی ہے؟ کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کو معبود سمجھتے ہو؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ نے کچھ دیر باتیں کیں، پھر فرمایا: ”اللہ اکبر کہنے سے بھاگ رہے ہو؟“ کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ سے بھی بڑی کوئی چیز ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”یہود پر اللہ کا غضب نازل ہو چکا ہے اور نصاریٰ گمراہ ہیں“، اس پر وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں تو مسلمان ہونے کا ارادہ کر کے آیا ہوں۔ وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا، پھر آپ نے میرے لیے حکم فرمایا: تو میں ایک انصاری صحابی کے یہاں ( بطور مہمان ) ٹھہرا دیا گیا، پھر میں دن کے دونوں کناروں پر یعنی صبح و شام آپ کے پاس حاضر ہونے لگا۔ ایک شام میں آپ کے پاس بیٹھا ہی ہوا تھا کہ لوگ چیتے کی سی دھاری دار گرم کپڑے پہنے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوئے ( ان کے آنے کے بعد ) آپ نے نماز پڑھی، پھر آپ نے کھڑے ہو کر تقریر فرمائی اور لوگوں کو ان پر خرچ کرنے کے لیے ابھارا۔ آپ نے فرمایا: ” ( صدقہ ) دو اگرچہ ایک صاع ہو، اگرچہ آدھا صاع ہو، اگرچہ ایک مٹھی ہو، اگرچہ ایک مٹھی سے بھی کم ہو جس کے ذریعہ سے تم میں کا کوئی بھی اپنے آپ کو جہنم کی گرمی یا جہنم سے بچا سکتا ہے۔ ( تم صدقہ دو ) چاہے ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو؟ چاہے آدھی کھجور ہی کیوں نہ ہو؟ کیونکہ تم میں سے ہر کوئی اللہ کے پاس پہنچنے والا ہے، اللہ اس سے وہی بات کہنے والا ہے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، ( وہ پوچھے گا ) کیا ہم نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں نہیں بنائیں؟ وہ کہے گا: ہاں، کیوں نہیں! اللہ پھر کہے گا: کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد نہ دی؟، وہ کہے گا: کیوں نہیں تو نے ہمیں مال و اولاد سے نوازا۔ وہ پھر کہے گا وہ سب کچھ کہاں ہے جو تم نے اپنی ذات کی حفاظت کے لیے آگے بھیجا ہے؟ ( یہ سن کر ) وہ اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں بائیں ( چاروں طرف ) دیکھے گا، لیکن ایسی کوئی چیز نہ پائے گا جس کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی گرمی سے بچا سکے۔ اس لیے تم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ کو جہنم کی گرمی سے بچانے کی کوشش و تدبیر کرنی چاہیئے ایک کھجور ہی صدقہ کر کے کیوں نہ کرے۔ اور اگر یہ بھی نہ میسر ہو تو اچھی و بھلی بات کہہ کر ہی اپنے کو جہنم کی گرمی سے بچائے۔ مجھے اس کا خوف نہیں ہے کہ تم فقر و فاقہ کا شکار ہو جاؤ گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہے، اور تمہیں دینے والا ہے ( اتنا دینے والا ہے ) کہ ایک ہودج سوار عورت ( تنہا ) یثرب ( مدینہ ) سے حیرہ تک یا اس سے بھی لمبا سفر کرے گی اور اسے اپنی سواری کے چوری ہو جانے تک کا ڈر نہ ہو گا ۲؎“ عدی رضی الله عنہ کہتے ہیں: ( اس وقت ) میں سوچنے لگا کہ قبیلہ بنی طی کے چور کہاں چلے جائیں گے ۳؎؟ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سماک بن حرب کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- شعبہ نے سماک بن حرب سے، سماک نے، عباد بن حبیش سے، اور عباد بن حبیش نے عدی بن حاتم رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوری حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، وبندار، قالا حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سماك بن حرب، عن عباد بن حبيش، عن عدي بن حاتم، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اليهود مغضوب عليهم والنصارى ضلال " . فذكر الحديث بطوله
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ساری زمین کے ہر حصے سے ایک مٹھی مٹی لے کر اس سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، چنانچہ ان کی اولاد میں مٹی کی مناسبت سے کوئی لال، کوئی سفید، کالا اور ان کے درمیان مختلف رنگوں کے اور نرم مزاج و گرم مزاج، بد باطن و پاک طینت لوگ پیدا ہوئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، وابن ابي عدي، ومحمد بن جعفر، وعبد الوهاب، قالوا حدثنا عوف بن ابي جميلة الاعرابي، عن قسامة بن زهير، عن ابي موسى الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله تعالى خلق ادم من قبضة قبضها من جميع الارض فجاء بنو ادم على قدر الارض فجاء منهم الاحمر والابيض والاسود وبين ذلك والسهل والحزن والخبيث والطيب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «ادخلوا الباب سجدا» ”اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہونا“ ( البقرہ: ۵۸ ) کے بارے میں فرمایا: ”بنی اسرائیل چوتڑ کے بل کھسکتے ہوئے داخل ہوئے“۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في قوله : (ادخلوا الباب سجدا ) قال " دخلوا متزحفين على اوراكهم " . وبهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم : (فبدل الذين ظلموا قولا غير الذي قيل لهم ) قال " قالوا حبة في شعرة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک انتہائی اندھیری رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، کوئی نہ جان سکا کہ قبلہ کدھر ہے۔ چنانچہ جو جس رخ پر تھا اس نے اسی رخ پر نماز پڑھ لی، جب صبح ہوئی تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو ( اس وقت ) یہ آیت «فأينما تولوا فثم وجه الله» ”تم جدھر بھی منہ کروا ادھر اللہ کا منہ ہے“ ( البقرہ: ۱۱۵ ) نازل ہوئی۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا اشعث السمان، عن عاصم بن عبيد الله، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، عن ابيه، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفره في ليلة مظلمة فلم ندر اين القبلة فصلى كل رجل منا على حياله فلما اصبحنا ذكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فنزلت : (اينما تولوا فثم وجه الله ) . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث اشعث السمان ابي الربيع عن عاصم بن عبيد الله . واشعث يضعف في الحديث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ آتے ہوئے نفل نماز اپنی اونٹنی پر بیٹھے بیٹھے پڑھ رہے تھے۔ اونٹنی جدھر بھی چاہتی منہ پھیرتی ۱؎، ابن عمر نے پھر یہ آیت «ولله المشرق والمغرب» ”اللہ ہی کے لیے مغرب و مشرق ہیں“ ( البقرہ: ۱۱۵ ) پڑھی۔ ابن عمر کہتے ہیں: یہ آیت اسی تعلق سے نازل ہوئی ہے ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قتادہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: آیت: «ولله المشرق والمغرب فأينما تولوا فثم وجه الله» ( البقرة: ۱۱۵ ) منسوخ ہے، اور اسے منسوخ کرنے والی آیت «فول وجهك شطر المسجد الحرام» ”آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں“ ( البقرہ: ۱۴۴ ) ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا يزيد بن هارون، اخبرنا عبد الملك بن ابي سليمان، قال سمعت سعيد بن جبير، يحدث عن ابن عمر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي على راحلته تطوعا حيثما توجهت به وهو جاء من مكة الى المدينة ثم قرا ابن عمر هذه الاية : (ولله المشرق والمغرب ) الاية . قال ابن عمر ففي هذا انزلت هذه الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ويروى عن قتادة، انه قال في هذه الاية : ()ولله المشرق والمغرب فاينما تولوا فثم وجه الله ) قال قتادة هي منسوخة نسخها قوله : (فول وجهك شطر المسجد الحرام ) اى تلقاءه . حدثنا بذلك محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب حدثنا يزيد بن زريع عن سعيد عن قتادة . ويروى عن مجاهد، في هذه الاية : (اينما تولوا فثم وجه الله ) قال فثم قبلة الله . حدثنا بذلك ابو كريب محمد بن العلاء حدثنا وكيع عن النضر بن عربي عن مجاهد بهذا
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کاش ہم مقام ( مقام ابراہیم ) کے پیچھے نماز پڑھتے، تو آیت: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”تم مقام ابراہیم کو جائے صلاۃ مقرر کر لو“ ( البقرہ: ۱۲۵ ) نازل ہوئی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا الحجاج بن منهال، حدثنا حماد بن سلمة، عن حميد، عن انس، ان عمر، قال يا رسول الله لو صلينا خلف المقام فنزلت : (واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اگر آپ مقام ابراہیم کو مصلی ( نماز پڑھنے کی جگہ ) بنا لیتے ( تو کیا ہی اچھی بات ہوتی ) تو آیت «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا حميد الطويل، عن انس، قال قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه قلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم لو اتخذت من مقام ابراهيم مصلى فنزلت : (واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابن عمر
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك جعلناكم أمة وسطا» ”ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے“ ( البقرہ: ۱۴۳ ) کے سلسلے میں فرمایا: ” «وسط» سے مراد عدل ہے“ ( یعنی انصاف پسند ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله : (كذلك جعلناكم امة وسطا ) قال " عدلا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا جعفر بن عون، اخبرنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يدعى نوح فيقال هل بلغت فيقول نعم . فيدعى قومه فيقال هل بلغكم فيقولون ما اتانا من نذير وما اتانا من احد . فيقول من شهودك فيقول محمد وامته . قال فيوتى بكم تشهدون انه قد بلغ فذلك قول الله : ( وكذلك جعلناكم امة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا ) والوسط العدل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا جعفر بن عون، عن الاعمش، نحوه
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ تشریف لے آئے تو سولہ یا سترہ مہینے تک آپ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے، حالانکہ آپ کی خواہش یہی تھی کہ قبلہ کعبہ کی طرف کر دیا جائے، تو اللہ نے آپ کی اس خواہش کے مطابق «قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام» ”ہم آپ کے چہرے کو باربار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب پھیر دیں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں، آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں“ ( البقرہ: ۱۴۴ ) ، پھر آپ کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے، اور آپ یہی چاہتے ہی تھے۔ ایک آدمی نے آپ کے ساتھ نماز عصر پڑھی، پھر وہ کچھ انصاری لوگوں کے پاس سے گزرا وہ لوگ بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ اور رکوع کی حالت میں تھے، اس شخص نے ( اعلان کرتے ہوئے ) کہا کہ وہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور آپ کو کعبہ کی طرف منہ پھیر کر نماز پڑھنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ یہ سن کر لوگ حالت رکوع ہی میں ( کعبہ کی طرف ) پھر گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے سفیان ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة صلى نحو بيت المقدس ستة او سبعة عشر شهرا وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب ان يوجه الى الكعبة فانزل الله: ( قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام ) فوجه نحو الكعبة وكان يحب ذلك فصلى رجل معه العصر قال ثم مر على قوم من الانصار وهم ركوع في صلاة العصر نحو بيت المقدس فقال هو يشهد انه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وانه قد وجه الى الكعبة قال فانحرفوا وهم ركوع . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد رواه سفيان الثوري عن ابي اسحاق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ لوگ فجر کی نماز ۱؎ میں حالت رکوع میں تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمرو بن عوف مزنی، ابن عمر، عمارہ بن اوس اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال كانوا ركوعا في صلاة الفجر . وفي الباب عن عمرو بن عوف المزني وابن عمر وعمارة بن اوس وانس بن مالك . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اور وہ گزر گئے تو ( اسی موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ”اللہ تعالیٰ تمہارا ایمان ضائع نہ کرے گا“ ( البقرہ: ۱۴۳ ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، وابو عمار قالا حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لما وجه النبي صلى الله عليه وسلم الى الكعبة قالوا يا رسول الله كيف باخواننا الذين ماتوا وهم يصلون الى بيت المقدس فانزل الله: (وما كان الله ليضيع ايمانكم ) الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عروہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے کہا: میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرے، اور میں خود اپنے لیے ان کے درمیان طواف نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں پاتا۔ تو عائشہ نے کہا: اے میرے بھانجے! تم نے بری بات کہہ دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کیا اور مسلمانوں نے بھی کیا ہے۔ ہاں ایسا زمانہ جاہلیت میں تھا کہ جو لوگ مناۃ ( بت ) کے نام پر جو مشلل ۱؎ میں تھا احرام باندھتے تھے وہ صفا و مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت: «فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما» ۲؎ نازل فرمائی۔ اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہو تو آیت اس طرح ہوتی «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» ( یعنی اس پر صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ) ۔ زہری کہتے ہیں: میں نے اس بات کا ذکر ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے کیا تو انہیں یہ بات بڑی پسند آئی۔ کہا: یہ ہے علم و دانائی کی بات۔ اور ( بھئی ) میں نے تو کئی اہل علم کو کہتے سنا ہے کہ جو عرب صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ ہمارا طواف ان دونوں پتھروں کے درمیان جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔ اور کچھ دوسرے انصاری لوگوں نے کہا: ہمیں تو خانہ کعبہ کے طواف کا حکم ملا ہے نہ کہ صفا و مروہ کے درمیان طواف کا۔ ( اسی موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے آیت: «إن الصفا والمروة من شعائر الله» نازل فرمائی ۳؎۔ ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت انہیں لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، قال سمعت الزهري، يحدث عن عروة، قال قلت لعايشة ما ارى على احد لم يطف بين الصفا والمروة شييا وما ابالي ان لا اطوف بينهما . فقالت بيسما قلت يا ابن اختي طاف رسول الله صلى الله عليه وسلم وطاف المسلمون وانما كان من اهل لمناة الطاغية التي بالمشلل لا يطوفون بين الصفا والمروة فانزل الله : (فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بهما ) ولو كانت كما تقول لكانت فلا جناح عليه ان لا يطوف بهما قال الزهري فذكرت ذلك لابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام فاعجبه ذلك وقال ان هذا لعلم ولقد سمعت رجالا من اهل العلم يقولون انما كان من لا يطوف بين الصفا والمروة من العرب يقولون ان طوافنا بين هذين الحجرين من امر الجاهلية وقال اخرون من الانصار انما امرنا بالطواف بالبيت ولم نومر به بين الصفا والمروة فانزل الله تعالى (ان الصفا والمروة من شعاير الله ) قال ابو بكر بن عبد الرحمن فاراها قد نزلت في هولاء وهولاء . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عاصم الأحول کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے صفا اور مروہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ دونوں جاہلیت کے شعائر میں سے تھے ۱؎، پھر جب اسلام آیا تو ہم ان دونوں کے درمیان طواف کرنے سے رک گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ( صفا و مروہ شعائر الٰہی میں سے ہیں ) نازل فرمائی۔ تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے اس کے لیے ان دونوں کے درمیان طواف ( سعی ) کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ان کے درمیان طواف ( سعی ) نفل ہے اور جو کوئی بھلائی کام ثواب کی خاطر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا قدردان اور علم رکھنے والا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا يزيد بن ابي حكيم، عن سفيان، عن عاصم الاحول، قال سالت انس بن مالك عن الصفا، والمروة، فقال كانا من شعاير الجاهلية فلما كان الاسلام امسكنا عنهما فانزل الله : ( ان الصفا والمروة من شعاير الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بهما ) قال هما تطوع (فمن تطوع خيرا فان الله شاكر عليم ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے اور آپ بیت اللہ کا سات طواف کیا تو میں نے آپ کو یہ آیت پڑھتے سنا: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو“۔ آپ نے مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی، پھر حجر اسود کے پاس آ کر اسے چوما، پھر فرمایا: ”ہم ( سعی ) وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ نے ( اس کا ذکر ) شروع کیا ہے۔ اور آپ نے پڑھا «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم حين قدم مكة طاف بالبيت سبعا فقرا : (واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى ) فصلى خلف المقام ثم اتى الحجر فاستلمه ثم قال " نبدا بما بدا الله به " . وقرا : (ان الصفا والمروة من شعاير الله ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ شروع میں کے صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی آدمی روزہ رکھتا اور افطار کا وقت ہوتا اور افطار کرنے سے پہلے سو جاتا، تو پھر وہ ساری رات اور سارا دن نہ کھاتا یہاں تک کہ شام ہو جاتی۔ قیس بن صرمہ انصاری کا واقعہ ہے کہ وہ روزے سے تھے جب افطار کا وقت آیا تو وہ اپنی اہلیہ کے پاس آئے اور پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ انہوں نے کہا: ہے تو نہیں، لیکن میں جاتی ہوں اور آپ کے لیے کہیں سے ڈھونڈھ لاتی ہوں، وہ دن بھر محنت مزدوری کرتے تھے اس لیے ان کی آنکھ لگ گئی۔ وہ لوٹ کر آئیں تو انہیں سوتا ہوا پایا، کہا: ہائے رے تمہاری محرومی و بدقسمتی۔ پھر جب دوپہر ہو گئی تو قیس پر غشی طاری ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی گئی تو اس وقت یہ آیت: «أحل لكم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم» ”روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا“ ( البقرہ: ۱۸۷ ) ، نازل ہوئی، لوگ اس آیت سے بہت خوش ہوئے۔ ( اس کے بعد یہ حکم نازل ہو گیا ) «وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے ظاہر ہو جائے“ ( البقرہ: ۱۸۷ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل بن يونس، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال كان اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم اذا كان الرجل صايما فحضر الافطار فنام قبل ان يفطر لم ياكل ليلته ولا يومه حتى يمسي وان قيس بن صرمة الانصاري كان صايما فلما حضره الافطار اتى امراته فقال هل عندك طعام قالت لا ولكن انطلق فاطلب لك . وكان يومه يعمل فغلبته عينه وجاءته امراته فلما راته قالت خيبة لك . فلما انتصف النهار غشي عليه فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فنزلت هذه الاية : ( احل لكم ليلة الصيام الرفث الى نسايكم ) ففرحوا بها فرحا شديدا : (فكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود من الفجر ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
اخبرنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الرحمن بن سعد، انبانا عمرو بن ابي قيس، عن سماك بن حرب، عن عباد بن حبيش، عن عدي بن حاتم، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو جالس في المسجد فقال القوم هذا عدي بن حاتم . وجيت بغير امان ولا كتاب فلما دفعت اليه اخذ بيدي وقد كان قال قبل ذلك اني لارجو ان يجعل الله يده في يدي قال فقام بي فلقيته امراة وصبي معها . فقالا ان لنا اليك حاجة فقام معهما حتى قضى حاجتهما ثم اخذ بيدي حتى اتى بي داره فالقت له الوليدة وسادة فجلس عليها وجلست بين يديه فحمد الله واثنى عليه ثم قال " ما يفرك ان تقول لا اله الا الله فهل تعلم من اله سوى الله " . قال قلت لا . قال ثم تكلم ساعة ثم قال " انما تفر ان تقول الله اكبر وتعلم ان شييا اكبر من الله " . قال قلت لا قال " فان اليهود مغضوب عليهم وان النصارى ضلال " . قال قلت فاني جيت مسلما . قال فرايت وجهه تبسط فرحا قال ثم امر بي فانزلت عند رجل من الانصار جعلت اغشاه اتيه طرفى النهار قال فبينا انا عنده عشية اذ جاءه قوم في ثياب من الصوف من هذه النمار قال فصلى وقام فحث عليهم ثم قال " ولو صاع ولو بنصف صاع ولو بقبضة ولو ببعض قبضة يقي احدكم وجهه حر جهنم او النار ولو بتمرة ولو بشق تمرة فان احدكم لاقي الله وقايل له ما اقول لكم الم اجعل لك سمعا وبصرا فيقول بلى . فيقول الم اجعل لك مالا وولدا فيقول بلى . فيقول اين ما قدمت لنفسك فينظر قدامه وبعده وعن يمينه وعن شماله ثم لا يجد شييا يقي به وجهه حر جهنم ليق احدكم وجهه النار ولو بشق تمرة فان لم يجد فبكلمة طيبة فاني لا اخاف عليكم الفاقة فان الله ناصركم ومعطيكم حتى تسير الظعينة فيما بين يثرب والحيرة اكثر ما تخاف على مطيتها السرق " . قال فجعلت اقول في نفسي فاين لصوص طيي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث سماك بن حرب . وروى شعبة عن سماك بن حرب عن عباد بن حبيش عن عدي بن حاتم عن النبي صلى الله عليه وسلم الحديث بطوله