احادیث
#2953
سنن ترمذی - Exegesis
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، وہ نماز ناقص ہے، نامکمل ہے ۱؎ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے کہا: ابوہریرہ! میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں؟ انہوں نے کہا: فارسی لڑکے! اسے اپنے جی میں ( دل ہی دل میں ) پڑھ لیا کرو ۲؎ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز ۳؎ اپنے اور بندے کے درمیان دو حصوں میں بانٹ دی ہے۔ آدھی نماز میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو مانگے۔ میرا بندہ پڑھتا ہے: «الحمد لله رب العالمين» تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے میری حمد یعنی تعریف کی۔ بندہ کہتا ہے: «الرحمن الرحيم» تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا کی، بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے میری عظمت اور بزرگی بیان کی اور عظمت اور بزرگی صرف میرے لیے ہے، اور میرے اور میرے بندے کے درمیان «إياك نعبد وإياك نستعين» سے لے کر سورۃ کی آخری آیات تک ہیں، اور بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو وہ مانگے۔ بندہ کہتا ہے «اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» ”ہمیں سیدھی اور سچی راہ دکھا، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- شعبہ، اسماعیل بن جعفر اور کئی دوسرے رواۃ نے ایسی ہی حدیث علاء بن عبدالرحمٰن سے، علاء نے اپنے باپ سے اور ان کے باپ نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من صلى صلاة لم يقرا فيها بام القران فهي خداج فهي خداج غير تمام " . قال قلت يا ابا هريرة اني احيانا اكون وراء الامام . قال يا ابن الفارسي فاقراها في نفسك فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " قال الله تعالى قسمت الصلاة بيني وبين عبدي نصفين فنصفها لي ونصفها لعبدي ولعبدي ما سال يقوم العبد فيقرا : (الحمد لله رب العالمين ) فيقول الله حمدني عبدي فيقول : (الرحمن الرحيم ) فيقول الله اثنى على عبدي فيقول : ( مالك يوم الدين ) فيقول مجدني عبدي وهذا لي وبيني وبين عبدي : (اياك نعبد واياك نستعين ) واخر السورة لعبدي ولعبدي ما سال يقول : (اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين ) " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روى شعبة واسماعيل بن جعفر وغير واحد عن العلاء بن عبد الرحمن عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا الحديث . وروى ابن جريج ومالك بن انس عن العلاء بن عبد الرحمن عن ابي السايب مولى هشام بن زهرة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا . وروى ابن ابي اويس، عن ابيه، عن العلاء بن عبد الرحمن، قال حدثني ابي وابو السايب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا . اخبرنا بذلك محمد بن يحيى النيسابوري ويعقوب بن سفيان الفارسي قالا حدثنا اسماعيل بن ابي اويس عن ابيه عن العلاء بن عبد الرحمن حدثني ابي وابو السايب مولى هشام بن زهرة وكانا جليسين لابي هريرة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صلى صلاة لم يقرا فيها بام القران فهي خداج فهي خداج غير تمام " . وليس في حديث اسماعيل بن ابي اويس اكثر من هذا . وسالت ابا زرعة عن هذا الحديث فقال كلا الحديثين صحيح . واحتج بحديث ابن ابي اويس عن ابيه عن العلاء
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #2953
- Book Index
- 4
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim
