احادیث
#2968
سنن ترمذی - Exegesis
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ شروع میں کے صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی آدمی روزہ رکھتا اور افطار کا وقت ہوتا اور افطار کرنے سے پہلے سو جاتا، تو پھر وہ ساری رات اور سارا دن نہ کھاتا یہاں تک کہ شام ہو جاتی۔ قیس بن صرمہ انصاری کا واقعہ ہے کہ وہ روزے سے تھے جب افطار کا وقت آیا تو وہ اپنی اہلیہ کے پاس آئے اور پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ انہوں نے کہا: ہے تو نہیں، لیکن میں جاتی ہوں اور آپ کے لیے کہیں سے ڈھونڈھ لاتی ہوں، وہ دن بھر محنت مزدوری کرتے تھے اس لیے ان کی آنکھ لگ گئی۔ وہ لوٹ کر آئیں تو انہیں سوتا ہوا پایا، کہا: ہائے رے تمہاری محرومی و بدقسمتی۔ پھر جب دوپہر ہو گئی تو قیس پر غشی طاری ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی گئی تو اس وقت یہ آیت: «أحل لكم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم» ”روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا“ ( البقرہ: ۱۸۷ ) ، نازل ہوئی، لوگ اس آیت سے بہت خوش ہوئے۔ ( اس کے بعد یہ حکم نازل ہو گیا ) «وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے ظاہر ہو جائے“ ( البقرہ: ۱۸۷ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل بن يونس، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال كان اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم اذا كان الرجل صايما فحضر الافطار فنام قبل ان يفطر لم ياكل ليلته ولا يومه حتى يمسي وان قيس بن صرمة الانصاري كان صايما فلما حضره الافطار اتى امراته فقال هل عندك طعام قالت لا ولكن انطلق فاطلب لك . وكان يومه يعمل فغلبته عينه وجاءته امراته فلما راته قالت خيبة لك . فلما انتصف النهار غشي عليه فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فنزلت هذه الاية : ( احل لكم ليلة الصيام الرفث الى نسايكم ) ففرحوا بها فرحا شديدا : (فكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود من الفجر ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #2968
- Book Index
- 20
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih Bukhari
