Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» ”اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے اعراض کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے“ ( المؤمن: ۶۰ ) ، کی تفسیر میں فرمایا کہ دعا ہی عبادت ہے۔ پھر آپ نے سورۃ مومن کی آیت «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» سے «داخرين» ۱؎ تک پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسے منصور نے روایت کیا ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ذر، عن يسيع الكندي، عن النعمان بن بشير، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله : (وقال ربكم ادعوني استجب لكم ) قال " الدعاء هو العبادة " . وقرا :( وقال ربكم ادعوني استجب لكم ) الى قوله ( داخرين ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت: «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اس سے مراد رات کی تاریکی سے دن کی سفیدی ( روشنی ) کا نمودار ہو جانا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا حصين، عن الشعبي، اخبرنا عدي بن حاتم، قال لما نزلت : ( حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود من الفجر ) قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " انما ذاك بياض النهار من سواد الليل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، حدثنا مجالد، عن الشعبي، عن عدي بن حاتم، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» ”یہاں تک کہ سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے نمایاں ہو جائے“ تو میں نے دو ڈوریاں لیں۔ ایک سفید تھی دوسری کالی، میں انہیں کو دیکھ کر ( سحری کے وقت ہونے یا نہ ہونے کا ) فیصلہ کرنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کچھ باتیں کہیں ( ابن ابی عمر کہتے ہیں: میرے استاد ) سفیان انہیں یاد نہ رکھ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد رات اور دن ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن مجالد، عن الشعبي، عن عدي بن حاتم، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصوم فقال : ( حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود ) قال فاخذت عقالين احدهما ابيض والاخر اسود فجعلت انظر اليهما فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم شييا لم يحفظه سفيان قال " انما هو الليل والنهار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
اسلم ابوعمران تجیبی کہتے ہیں کہ ہم روم شہر میں تھے، رومیوں کی ایک بڑی جماعت ہم پر حملہ آور ہونے کے لیے نکلی تو مسلمان بھی انہی جیسی بلکہ ان سے بھی زیادہ تعداد میں ان کے مقابلے میں نکلے، عقبہ بن عامر رضی الله عنہ اہل مصر کے گورنر تھے اور فضالہ بن عبید رضی الله عنہ فوج کے سپہ سالار تھے۔ ایک مسلمان رومی صف پر حملہ آور ہو گیا اور اتنا زبردست حملہ کیا کہ ان کے اندر گھس گیا۔ لوگ چیخ پڑے، کہنے لگے: سبحان اللہ! اللہ پاک و برتر ہے اس نے تو خود ہی اپنے آپ کو ہلاکت میں جھونک دیا ہے۔ ( یہ سن کر ) ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: لوگو! تم اس آیت کی یہ تاویل کرتے ہو، یہ آیت تو ہم انصار کے بارے میں اتری ہے، جب اللہ نے اسلام کو طاقت بخشی اور اس کے مددگار بڑھ گئے تو ہم میں سے بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپا کر رازداری سے آپس میں کہا کہ ہمارے مال برباد ہو گئے ہیں ( یعنی ہماری کھیتی باڑیاں تباہ ہو گئی ہیں ) اللہ نے اسلام کو قوت و طاقت بخش دی۔ اس کے ( حمایتی ) و مددگار بڑھ گئے، اب اگر ہم اپنے کاروبار اور کھیتی باڑی کی طرف متوجہ ہو جاتے تو جو نقصان ہو گیا ہے اس کمی کو پورا کر لیتے، چنانچہ ہم میں سے جن لوگوں نے یہ بات کہی تھی اس کے رد میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی۔ اللہ نے فرمایا: «وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة» ”اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو“ ( البقرہ: ۱۹۵ ) ، تو ہلاکت یہ تھی کہ مالی حالت کو سدھار نے کی جدوجہد میں لگا جائے، اور جہاد کو چھوڑ دیا جائے ( یہی وجہ تھی کہ ) ابوایوب انصاری رضی الله عنہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کی ایک علامت و ہدف کی حیثیت اختیار کر گئے تھے یہاں تک کہ سر زمین روم میں مدفون ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا الضحاك بن مخلد ابو عاصم النبيل، عن حيوة بن شريح، عن يزيد بن ابي حبيب، عن اسلم ابي عمران التجيبي، قال كنا بمدينة الروم فاخرجوا الينا صفا عظيما من الروم فخرج اليهم من المسلمين مثلهم او اكثر وعلى اهل مصر عقبة بن عامر وعلى الجماعة فضالة بن عبيد فحمل رجل من المسلمين على صف الروم حتى دخل فيهم فصاح الناس وقالوا سبحان الله يلقي بيديه الى التهلكة فقام ابو ايوب الانصاري فقال يا ايها الناس انكم تتاولون هذه الاية هذا التاويل وانما نزلت هذه الاية فينا معشر الانصار لما اعز الله الاسلام وكثر ناصروه فقال بعضنا لبعض سرا دون رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اموالنا قد ضاعت وان الله قد اعز الاسلام وكثر ناصروه فلو اقمنا في اموالنا فاصلحنا ما ضاع منها . فانزل الله على نبيه صلى الله عليه وسلم يرد علينا ما قلنا: (وانفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بايديكم الى التهلكة ) فكانت التهلكة الاقامة على الاموال واصلاحها وتركنا الغزو فما زال ابو ايوب شاخصا في سبيل الله حتى دفن بارض الروم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
مجاہد کہتے ہیں کہ کعب بن عجرہ رضی الله عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ آیت: «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ”البتہ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو ( جس کی وجہ سے سر منڈا لے ) تو اس پر فدیہ ہے، خواہ روزے رکھ لے، خواہ صدقہ دے، خواہ قربانی کرے“ ( البقرہ: ۱۹۶ ) ، میرے بارے میں اتری ہم حدیبیہ میں تھے، احرام باندھے ہوئے تھے، مشرکوں نے ہمیں روک رکھا تھا، میرے بال کانوں کے لو کے برابر تھے، سر کے جوئیں چہرے پر گرنے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہمارے پاس سے ہوا ( ہمیں دیکھ کر ) آپ نے فرمایا: ”لگتا ہے تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”سر لو مونڈ ڈالو“، پھر یہ آیت ( مذکورہ ) اتری۔ مجاہد کہتے ہیں: روزے تین دن ہیں، کھانا چھ مسکینوں ۱؎ کو کھلانا ہے۔ اور قربانی ( کم از کم ) ایک بکری، اور اس سے زیادہ بھی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا هشيم، اخبرنا مغيرة، عن مجاهد، قال قال كعب بن عجرة والذي نفسي بيده لفي انزلت هذه الاية واياى عنى بها : (فمن كان منكم مريضا او به اذى من راسه ففدية من صيام او صدقة او نسك ) قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم بالحديبية ونحن محرمون وقد حصرنا المشركون وكانت لي وفرة فجعلت الهوام تساقط على وجهي فمر بي النبي صلى الله عليه وسلم فقال " كان هوام راسك توذيك " . قال قلت نعم . قال " فاحلق " . ونزلت هذه الاية . قال مجاهد الصيام ثلاثة ايام والطعام ستة مساكين والنسك شاة فصاعدا . حدثنا علي بن حجر، حدثنا هشيم، عن ابي بشر، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحو ذلك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا علي بن حجر، حدثنا هشيم، عن اشعث بن سوار، عن الشعبي، عن عبد الله بن معقل، عن كعب بن عجرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحو ذلك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد رواه عبد الرحمن بن الاصبهاني عن عبد الله بن معقل ايضا
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ اس وقت میں ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میری پیشانی یا بھوؤں پر بکھر رہی تھیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”اپنا سر مونڈ ڈالو اور بدلہ میں قربانی کر دو، یا تین دن روزہ رکھ لو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو“۔ ایوب ( راوی ) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں رہا کہ ( میرے استاذ نے ) کون سی چیز پہلے بتائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ايوب، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، قال اتى على رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا اوقد تحت قدر والقمل تتناثر على جبهتي او قال حاجبي فقال " اتوذيك هوام راسك " . قال قلت نعم . قال " فاحلق راسك وانسك نسيكة او صم ثلاثة ايام او اطعم ستة مساكين " . قال ايوب لا ادري بايتهن بدا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج عرفات کی حاضری ہے، حج عرفات کی حاضری ہے۔ حج عرفات کی حاضری ہے، منیٰ ( میں قیام ) کے دن تین ہیں۔ مگر جو جلدی کر کے دو دنوں ہی میں واپس ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو تین دن پورے کر کے گیا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ۲؎ اور جو طلوع فجر سے پہلے عرفہ پہنچ گیا، اس نے حج کو پا لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن ابی عمر کہتے ہیں: سفیان بن عیینہ نے کہا: یہ ثوری کی سب سے عمدہ حدیث ہے، جسے انہوں نے روایت کی ہے، ۳- اسے شعبہ نے بھی بکیر بن عطاء سے روایت کیا ہے، ۴- اس حدیث کو ہم صرف بکیر بن عطاء کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن سفيان الثوري، عن بكير بن عطاء، عن عبد الرحمن بن يعمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الحج عرفات الحج عرفات الحج عرفات ايام منى ثلاث : (فمن تعجل في يومين فلا اثم عليه ومن تاخر فلا اثم عليه ) ومن ادرك عرفة قبل ان يطلع الفجر فقد ادرك الحج " . قال ابن ابي عمر قال سفيان بن عيينة وهذا اجود حديث رواه الثوري . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ورواه شعبة عن بكير بن عطاء ولا نعرفه الا من حديث بكير بن عطاء
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ جھگڑالو ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابغض الرجال الى الله الالد الخصم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ یہودیوں کے یہاں جب ان کی کوئی عورت حائضہ ہوتی تھی تو وہ اسے اپنے ساتھ نہ کھلاتے تھے نہ پلاتے تھے۔ اور نہ ہی اسے اپنے ساتھ گھر میں رہنے دیتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» ۱؎ نازل فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ انہیں اپنے ساتھ کھلائیں پلائیں اور ان کے ساتھ گھروں میں رہیں۔ اور ان کے ساتھ جماع کے سوا ( بوس و کنار وغیرہ ) سب کچھ کریں، یہودیوں نے کہا: یہ شخص ہمارا کوئی کام نہیں چھوڑتا جس میں ہماری مخالفت نہ کرتا ہو، عباد بن بشیر اور اسید بن حضیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو یہودیوں کی یہ بات بتائی اور کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے حالت حیض میں جماع ( بھی ) نہ کریں؟ یہ سن کر آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا یہاں تک کہ ہم نے سمجھ لیا کہ آپ ان دونوں سے سخت ناراض ہو گئے ہیں۔ وہ اٹھ کر ( اپنے گھر چلے ) ان کے نکلتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ہدیہ آ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انہیں بلانے کے لیے ) ان کے پیچھے آدمی بھیجا ( وہ آ گئے ) تو آپ نے ان دونوں کو دودھ پلایا، جس سے انہوں نے جانا کہ آپ ان دونوں سے غصہ نہیں ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثني سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس، قال كانت اليهود اذا حاضت امراة منهم لم يواكلوها ولم يشاربوها ولم يجامعوها في البيوت فسيل النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك فانزل الله تعالى : (يسالونك عن المحيض قل هو اذى ) فامرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يواكلوهن ويشاربوهن وان يكونوا معهن في البيوت وان يفعلوا كل شيء ما خلا النكاح فقالت اليهود ما يريد ان يدع شييا من امرنا الا خالفنا فيه . قال فجاء عباد بن بشر واسيد بن حضير الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبراه بذلك وقالا يا رسول الله افلا ننكحهن في المحيض فتمعر وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى ظننا انه قد غضب عليهما فقاما فاستقبلتهما هدية من لبن فارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم في اثارهما فسقاهما فعلمنا انه لم يغضب عليهما . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ سے اس سند سے بھی اسی کے ہم معنی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس، نحوه بمعناه . حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ابن المنكدر، سمع جابرا، يقول كانت اليهود تقول من اتى امراته في قبلها من دبرها كان الولد احول فنزلت : (نساوكم حرث لكم فاتوا حرثكم انى شيتم ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» کی تفسیر میں فرمایا: اس سے مراد ایک سوراخ ( یعنی قبل اگلی شرمگاہ ) میں دخول ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن ابن خثيم، عن ابن سابط، عن حفصة بنت عبد الرحمن، عن ام سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله : (نساوكم حرث لكم فاتوا حرثكم انى شيتم ) يعني صماما واحدا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وابن خثيم هو عبد الله بن عثمان وابن سابط هو عبد الرحمن بن عبد الله بن سابط الجمحي المكي وحفصة هي بنت عبد الرحمن بن ابي بكر الصديق ويروى في سمام واحد
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں تو ہلاک ہو گیا، آپ نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ہلاک کر دیا؟“ کہا: رات میں نے سواری تبدیل کر دی ( یعنی میں نے بیوی سے آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے صحبت کر لی ) ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ سن کر ) انہیں کوئی جواب نہ دیا، تو آپ پر یہ آیت: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» نازل ہوئی، بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرو، مگر دبر سے اور حیض سے بچو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا الحسن بن موسى، حدثنا يعقوب بن عبد الله الاشعري، عن جعفر بن ابي المغيرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال جاء عمر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله هلكت قال " وما اهلكك " . قال حولت رحلي الليلة . قال فلم يرد عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم شييا قال فانزل الله على رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه الاية : (نساوكم حرث لكم فاتوا حرثكم انى شيتم ) اقبل وادبر واتق الدبر والحيضة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب ويعقوب بن عبد الله الاشعري هو يعقوب القمي
معقل بن یسار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم کے زمانے میں اپنی بہن کی شادی ایک مسلمان شخص سے کر دی۔ وہ اس کے یہاں کچھ عرصے تک رہیں، پھر اس نے انہیں ایسی طلاق دی کہ اس کے بعد ان سے رجوع نہ کیا یہاں تک کہ عدت کی مدت ختم ہو گئی۔ پھر دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی خواہش و چاہت پیدا ہوئی اور ( دوسرے ) پیغام نکاح دینے والوں کے ساتھ اس نے بھی پیغام نکاح دیا۔ معقل رضی الله عنہ نے اس سے کہا: بیوقوف! میں نے تمہاری شادی اس سے کر کے تیری عزت افزائی کی تھی پھر بھی تو اسے طلاق دے بیٹھا، قسم اللہ کی! اب وہ تمہاری طرف زندگی بھر کبھی بھی لوٹ نہیں سکتی، اور اللہ معلوم تھا کہ اس شخص کو اس عورت کی حاجت و خواہش ہے اور اس عورت کو اس شخص کی حاجت و چاہت ہے۔ تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت: «وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن» سے «وأنتم لا تعلمون» ۱؎ تک نازل فرمائی۔ جب معقل رضی الله عنہ نے یہ آیت سنی تو کہا: اب اپنے رب کی بات سنتا ہوں اور اطاعت کرتا ہوں ( یہ کہہ کر ) بلایا اور کہا: میں تمہاری شادی ( دوبارہ ) کیے دیتا ہوں اور تجھے عزت بخشتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ کئی سندوں سے حسن بصری سے مروی ہے۔ حسن بصری کے واسطہ سے یہ غریب ہے، ۳- اس حدیث میں اس بات کا ثبوت ہے کہ بغیر ولی کے نکاح جائز نہیں ہے۔ اس لیے کہ معقل بن یسار کی بہن ثیبہ تھیں۔ اگر ولی کی بجائے معاملہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ اپنی شادی آپ کر سکتی تھیں اور وہ اپنے ولی معقل بن یسار کی محتاج نہ ہوتیں۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولیاء کو خطاب کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں اپنے ( سابق ) شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔ تو اس آیت میں اس بات کا ثبوت ہے کہ نکاح کا معاملہ عورتوں کی رضا مندی کے ساتھ اولیاء کے ہاتھ میں ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا هشام بن القاسم، عن المبارك بن فضالة، عن الحسن، عن معقل بن يسار، انه زوج اخته رجلا من المسلمين على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فكانت عنده ما كانت ثم طلقها تطليقة لم يراجعها حتى انقضت العدة فهويها وهويته ثم خطبها مع الخطاب فقال له يا لكع اكرمتك بها وزوجتكها فطلقتها والله لا ترجع اليك ابدا اخر ما عليك قال فعلم الله حاجته اليها وحاجتها الى بعلها فانزل الله ( واذا طلقتم النساء فبلغن اجلهن ) الى قوله :( وانتم لا تعلمون ) فلما سمعها معقل قال سمعا لربي وطاعة ثم دعاه فقال ازوجك واكرمك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن الحسن . وفي هذا الحديث دلالة على انه لا يجوز النكاح بغير ولي لان اخت معقل بن يسار كانت ثيبا فلو كان الامر اليها دون وليها لزوجت نفسها ولم تحتج الى وليها معقل بن يسار وانما خاطب الله في الاية الاولياء فقال : (ولا تعضلوهن ان ينكحن ازواجهن ) ففي هذه الاية دلالة على ان الامر الى الاولياء في التزويج مع رضاهن
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے غلام ابو یونس کہتے ہیں کہ مجھے عائشہ رضی الله عنہا نے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھ کر تیار کر دوں۔ اور ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تم آیت: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى» ۱؎ پر پہنچو تو مجھے خبر دو، چنانچہ جب میں اس آیت پر پہنچا اور میں نے انہیں خبر دی، تو انہوں نے مجھے بول کر لکھایا «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» ۱؎ ”نمازوں پر مداومت کرو اور درمیانی نماز کا خاص خیال کرو، اور نماز عصر کا بھی خاص دھیان رکھو اور اللہ کے آگے خضوع و خشوع سے کھڑے ہوا کرو“۔ اور انہوں نے کہا کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حفصہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، عن مالك بن انس، ح قال وحدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن زيد بن اسلم، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي يونس، مولى عايشة قال امرتني عايشة رضى الله عنها ان اكتب لها مصحفا فقالت اذا بلغت هذه الاية فاذني : (حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى ) فلما بلغتها اذنتها فاملت على حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين وقالت سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم . وفي الباب عن حفصة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صلاة الوسطى» ( بیچ کی نماز ) نماز عصر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا يزيد بن زريع، عن سعيد، عن قتادة، حدثنا الحسن، عن سمرة بن جندب، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " صلاة الوسطى صلاة العصر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب کے دن فرمایا: ”اے اللہ! ان کفار و مشرکین کی قبریں اور ان کے گھر آگ سے بھر دے جیسے کہ انہوں نے ہمیں درمیانی نماز ( نماز عصر ) پڑھنے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث علی رضی الله عنہ سے متعدد سندوں سے مروی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن ابي حسان الاعرج، عن عبيدة السلماني، ان عليا، حدثه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال يوم الاحزاب " اللهم املا قبورهم وبيوتهم نارا كما شغلونا عن صلاة الوسطى حتى غابت الشمس " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن علي وابو حسان الاعرج اسمه مسلم
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صلاة الوسطى» سے مراد عصر کی نماز ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں زید بن ثابت، ابوہاشم بن عتبہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو النضر، وابو داود الطيالسي عن محمد بن طلحة بن مصرف، عن زبيد، عن مرة، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الوسطى صلاة العصر " . وفي الباب عن زيد بن ثابت وابي هاشم بن عتبة وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نماز کے اندر باتیں کیا کرتے تھے، تو جب آیت «وقوموا لله قانتين» ( البقرہ: ۲۳۸ ) ، نازل ہوئی تو ہمیں چپ رہنے کا حکم ملا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا مروان بن معاوية، ويزيد بن هارون، ومحمد بن عبيد، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن الحارث بن شبيل، عن ابي عمرو الشيباني، عن زيد بن ارقم، قال كنا نتكلم على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلاة فنزلت : (وقوموا لله قانتين ) فامرنا بالسكوت . حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، نحوه وزاد فيه ونهينا عن الكلام، . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وابو عمرو الشيباني اسمه سعد بن اياس
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ آیت «ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» ۱؎ ہم گروہ انصار کے بارے میں اتری ہے۔ ہم کھجور والے لوگ تھے، ہم میں سے کوئی آدمی اپنی کھجوروں کی کم و بیش پیداوار و مقدار کے اعتبار سے زیادہ یا تھوڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا۔ بعض لوگ کھجور کے ایک دو گچھے لے کر آتے، اور انہیں مسجد میں لٹکا دیتے، اہل صفہ کے کھانے کا کوئی بندوبست نہیں تھا تو ان میں سے جب کسی کو بھوک لگتی تو وہ گچھے کے پاس آتا اور اسے چھڑی سے جھاڑتا کچی اور پکی کھجوریں گرتیں پھر وہ انہیں کھا لیتا۔ کچھ لوگ ایسے تھے جنہیں خیر سے رغبت و دلچسپی نہ تھی، وہ ایسے گچھے لاتے جس میں خراب، ردی اور گلی سڑی کھجوریں ہوتیں اور بعض گچھے ٹوٹے بھی ہوتے، وہ انہیں لٹکا دیتے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا أنفقوا من طيبات ما كسبتم ومما أخرجنا لكم من الأرض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون ولستم بآخذيه إلا أن تغمضوا فيه» ۲؎ نازل فرمائی۔ لوگوں نے کہا کہ اگر تم میں سے کسی کو ویسا ہی ہدیہ دیا جائے جیسا دین سے بیزار لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو وہ اسے نہیں لے گا اور لے گا بھی تو منہ موڑ کر، اس کے بعد ہم میں سے ہر شخص اپنے پاس موجود عمدہ چیز میں سے لانے لگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- سفیان ثوری نے سدی سے اس روایت میں سے کچھ روایت کی ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن السدي، عن ابي مالك، عن البراء: (ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون ) قال نزلت فينا معشر الانصار كنا اصحاب نخل فكان الرجل ياتي من نخله على قدر كثرته وقلته وكان الرجل ياتي بالقنو والقنوين فيعلقه في المسجد وكان اهل الصفة ليس لهم طعام فكان احدهم اذا جاع اتى القنو فضربه بعصاه فيسقط من البسر والتمر فياكل وكان ناس ممن لا يرغب في الخير ياتي الرجل بالقنو فيه الشيص والحشف وبالقنو قد انكسر فيعلقه فانزل الله تعالى : (يا ايها الذين امنوا انفقوا من طيبات ما كسبتم ومما اخرجنا لكم من الارض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون ولستم باخذيه الا ان تغمضوا فيه ) قالوا لو ان احدكم اهدي اليه مثل ما اعطى لم ياخذه الا على اغماض وحياء قال فكنا بعد ذلك ياتي احدنا بصالح ما عنده . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح وابو مالك هو الغفاري ويقال اسمه غزوان وقد روى سفيان عن السدي شييا من هذا
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی پر شیطان کا اثر ( وسوسہ ) ہوتا ہے اور فرشتے کا بھی اثر ( الہام ) ہوتا ہے۔ شیطان کا اثر یہ ہے کہ انسان سے برائی کا وعدہ کرتا ہے، اور حق کو جھٹلاتا ہے۔ اور فرشتے کا اثر یہ ہے کہ وہ خیر کا وعدہ کرتا ہے، اور حق کی تصدیق کرتا ہے۔ تو جو شخص یہ پائے ۱؎ اس پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ اور جو دوسرا اثر پائے یعنی شیطان کا تو شیطان سے اللہ کی پناہ حاصل کرے۔ پھر آپ نے آیت «الشيطان يعدكم الفقر ويأمركم بالفحشاء» ۲؎ پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوالاحوص کی یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف ابوالاحوص کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن عطاء بن السايب، عن مرة الهمداني، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان للشيطان لمة بابن ادم وللملك لمة فاما لمة الشيطان فايعاد بالشر وتكذيب بالحق واما لمة الملك فايعاد بالخير وتصديق بالحق فمن وجد ذلك فليعلم انه من الله فليحمد الله ومن وجد الاخرى فليتعوذ بالله من الشيطان الرجيم ثم قرا : (الشيطان يعدكم الفقر ويامركم بالفحشاء ) " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وهو حديث ابي الاحوص لا نعلمه مرفوعا الا من حديث ابي الاحوص