احادیث
#2973
سنن ترمذی - Exegesis
مجاہد کہتے ہیں کہ کعب بن عجرہ رضی الله عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ آیت: «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ”البتہ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو ( جس کی وجہ سے سر منڈا لے ) تو اس پر فدیہ ہے، خواہ روزے رکھ لے، خواہ صدقہ دے، خواہ قربانی کرے“ ( البقرہ: ۱۹۶ ) ، میرے بارے میں اتری ہم حدیبیہ میں تھے، احرام باندھے ہوئے تھے، مشرکوں نے ہمیں روک رکھا تھا، میرے بال کانوں کے لو کے برابر تھے، سر کے جوئیں چہرے پر گرنے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہمارے پاس سے ہوا ( ہمیں دیکھ کر ) آپ نے فرمایا: ”لگتا ہے تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”سر لو مونڈ ڈالو“، پھر یہ آیت ( مذکورہ ) اتری۔ مجاہد کہتے ہیں: روزے تین دن ہیں، کھانا چھ مسکینوں ۱؎ کو کھلانا ہے۔ اور قربانی ( کم از کم ) ایک بکری، اور اس سے زیادہ بھی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا هشيم، اخبرنا مغيرة، عن مجاهد، قال قال كعب بن عجرة والذي نفسي بيده لفي انزلت هذه الاية واياى عنى بها : (فمن كان منكم مريضا او به اذى من راسه ففدية من صيام او صدقة او نسك ) قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم بالحديبية ونحن محرمون وقد حصرنا المشركون وكانت لي وفرة فجعلت الهوام تساقط على وجهي فمر بي النبي صلى الله عليه وسلم فقال " كان هوام راسك توذيك " . قال قلت نعم . قال " فاحلق " . ونزلت هذه الاية . قال مجاهد الصيام ثلاثة ايام والطعام ستة مساكين والنسك شاة فصاعدا . حدثنا علي بن حجر، حدثنا هشيم، عن ابي بشر، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحو ذلك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا علي بن حجر، حدثنا هشيم، عن اشعث بن سوار، عن الشعبي، عن عبد الله بن معقل، عن كعب بن عجرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحو ذلك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد رواه عبد الرحمن بن الاصبهاني عن عبد الله بن معقل ايضا
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #2973
- Book Index
- 25
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih
