Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”لوگو! اللہ پاک ہے اور حلال و پاک چیز کو ہی پسند کرتا ہے اور اللہ نے مومنین کو انہیں چیزوں کا حکم دیا ہے جن چیزوں کا حکم اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے۔ اللہ نے فرمایا: «يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم» ۱؎ اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے «يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم» ۲؎ ( پھر ) آپ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، پریشان حال اور غبار آلود ہے۔ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعائیں مانگتا ہے ( میرے رب! اے میرے رب! ) اور حال یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس پینا حرام ہے، اس کا پہننا حرام کا ہے اور اس کی پرورش ہی حرام سے ہوئی ہے۔ پھر اس کی دعا کیوں کر قبول ہو گی“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف فضیل بن مرزوق کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا ابو نعيم، حدثنا فضيل بن مرزوق، عن عدي بن ثابت، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ايها الناس ان الله طيب ولا يقبل الا طيبا وان الله امر المومنين بما امر به المرسلين فقال : (يا ايها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا اني بما تعملون عليم ) وقال ايها الذين امنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم ) " . قال "وذكر الرجل يطيل السفر اشعث اغبر يمد يده الى السماء يا رب يا رب ومطعمه حرام ومشربه حرام وملبسه حرام وغذي بالحرام فانى يستجاب لذلك ". قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وانما نعرفه من حديث فضيل بن مرزوق وابو حازم هو الاشجعي اسمه سلمان مولى عزة الاشجعية
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله فيغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء» ۱؎ نازل ہوئی۔ تو اس نے ہم سب کو فکرو غم میں مبتلا کر دیا۔ ہم نے کہا: ہم میں سے کوئی اپنے دل میں باتیں کرے پھر اس کا حساب لیا جائے۔ ہمیں معلوم نہیں اس میں سے کیا بخشا جائے گا اور کیا نہیں بخشا جائے؟، اس پر یہ آیت نازل ہوئی «لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت» ۲؎ اور اس آیت نے اس سے پہلی والی آیت کو منسوخ کر دیا ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن السدي، قال حدثني من، سمع عليا، يقول لما نزلت هذه الاية : (ان تبدوا ما في انفسكم او تخفوه يحاسبكم به الله فيغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء ) الاية احزنتنا قال قلنا يحدث احدنا نفسه فيحاسب به لا ندري ما يغفر منه ولا ما لا يغفر فنزلت هذه الاية بعدها فنسختها ( لا يكلف الله نفسا الا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت)
امیہ کہتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے اللہ تبارک وتعالیٰ کے قول «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله» ۱؎ اور ( دوسرے ) قول «من يعمل سوءا يجز به» ۲؎ کا مطلب پوچھا، تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا مطلب پوچھا ہے تب سے ( تمہارے سوا ) کسی نے مجھ سے ان کا مطلب نہیں پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ اللہ کی جانب سے بخار اور مصیبت ( وغیرہ ) میں مبتلا کر کے بندے کی سرزنش ہے۔ یہاں تک کہ وہ سامان جو وہ اپنی قمیص کی آستین میں رکھ لیتا ہے پھر گم کر دیتا ہے پھر وہ گھبراتا اور اس کے لیے پریشان ہوتا ہے، یہاں تک کہ بندہ اپنے گناہوں سے ویسے ہی پاک و صاف ہو جاتا ہے جیسا کہ سرخ سونا بھٹی سے ( صاف ستھرا ) نکلتا ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا الحسن بن موسى، وروح بن عبادة، عن حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن امية، انها سالت عايشة عن قول الله تعالى : (ان تبدوا ما في انفسكم او تخفوه يحاسبكم به الله) وعن قوله : (من يعمل سوءا يجز به ) فقالت ما سالني عنها احد منذ سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " هذه معاتبة الله العبد فيما يصيبه من الحمى والنكبة حتى البضاعة يضعها في كم قميصه فيفقدها فيفزع لها حتى ان العبد ليخرج من ذنوبه كما يخرج التبر الاحمر من الكير " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث عايشة لا نعرفه الا من حديث حماد بن سلمة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب یہ آیت «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله» نازل ہوئی تو لوگوں کے دلوں میں ایسا خوف و خطر پیدا ہوا جو اور کسی چیز سے پیدا نہ ہوا تھا۔ لوگوں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی تو آپ نے فرمایا: ” ( پہلے تو ) تم «سمعنا وأطعنا» کہو یعنی ہم نے سنا اور ہم نے بے چون و چرا بات مان لی، ( چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کہا ) تو اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا۔ اور اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں «آمن الرسول بما أنزل إليه من ربه والمؤمنون» سے لے کر آخری آیت «لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا»، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں نے ایسا کر دیا ( تمہاری دعا قبول کر لی ) “ «ربنا ولا تحمل علينا إصرا كما حملته على الذين من قبلنا» ”ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا“، اللہ نے فرمایا: ”میں نے تمہارا کہا کر دیا“، «ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به واعف عنا واغفر لنا وارحمنا» ”اے اللہ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جس کی طاقت ہم میں نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما، اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما“، اللہ نے فرمایا: ”میں نے ایسا کر دیا ( یعنی تمہاری دعا قبول کر لی ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابن عباس رضی الله عنہما سے دوسری سند سے بھی مروی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ادم بن سليمان، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال لما نزلت هذه الاية : (ان تبدوا ما في انفسكم او تخفوه يحاسبكم به الله ) قال دخل قلوبهم منه شيء لم يدخل من شيء فقالوا للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " قولوا سمعنا واطعنا " . فالقى الله الايمان في قلوبهم فانزل الله : (امن الرسول بما انزل اليه من ربه والمومنون ) الاية : ( لا يكلف الله نفسا الا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت ربنا لا تواخذنا ان نسينا او اخطانا ) قال " قد فعلت " (ربنا ولا تحمل علينا اصرا كما حملته على الذين من قبلنا ) قال " قد فعلت " . (ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به واعف عنا واغفر لنا وارحمنا ) الاية قال " قد فعلت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وقد روي هذا من غير هذا الوجه عن ابن عباس وادم بن سليمان هو والد يحيى بن ادم . وفي الباب عن ابي هريرة رضى الله عنه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت «فأما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تأويله» ۲؎ کی تفسیر پوچھی۔ تو آپ نے فرمایا: ”جب تم انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لو ( کہ یہی لوگ اصحاب زیغ ہیں ) ۔ یزید کی روایت میں ہے ”جب تم لوگ انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لو“ یہ بات عائشہ رضی الله عنہا نے دو یا تین بار کہی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا ابو عامر، وهو الخزاز ويزيد بن ابراهيم كلاهما عن ابن ابي مليكة، قال يزيد عن ابن ابي مليكة، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، ولم يذكر ابو عامر القاسم قالت سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قوله : ( فاما الذين في قلوبهم زيع فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تاويله ) قال " فاذا رايتيهم فاعرفيهم " . وقال يزيد فاذا رايتموهم فاعرفوهم . قالها مرتين او ثلاثا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات» کی تفسیر پوچھی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ان لوگوں کو آیات متشابہات کے پیچھے پڑے ہوئے دیکھو تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کا اللہ نے نام لیا ہے اور ایسے لوگوں سے بچو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ایوب سے بھی مروی ہے، اور ایوب نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے، ۳- ایسے ہی یہ حدیث متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ سے عائشہ سے روایت کی ہے۔ لیکن ان لوگوں نے اپنی اپنی روایات میں ”قاسم بن محمد“ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ان کا ذکر صرف ”یزید بن ابراہیم تستری“ نے اس حدیث میں «عن القاسم» کہہ کر کیا ہے، ۴- ابن ابی ملیکہ عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہیں، انہوں نے بھی عائشہ سے سنا ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا ابو داود الطيالسي، حدثنا يزيد بن ابراهيم، حدثنا ابن ابي مليكة، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، قالت سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن هذه الاية : ( هو الذي انزل عليك الكتاب منه ايات محكمات ) الى اخر الاية . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رايتم الذين يتبعون ما تشابه منه فاوليك الذين سماهم الله فاحذروهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح. وروي عن ايوب عن ابن ابي مليكة عن عايشة هكذا روى غير واحد هذا الحديث عن ابن ابي مليكة عن عايشة ولم يذكروا فيه عن القاسم بن محمد وانما ذكر يزيد بن ابراهيم التستري عن القاسم في هذا الحديث . وابن ابي مليكة هو عبد الله بن عبيد الله بن ابي مليكة سمع من عايشة ايضا
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا نبیوں میں سے کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے، اور میرے دوست میرے باپ اور میرے رب کے گہرے دوست ابراہیم ہیں۔ پھر آپ نے آیت «إن أولى الناس بإبراهيم للذين اتبعوه وهذا النبي والذين آمنوا والله ولي المؤمنين» ۱؎ پڑھی“۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن ابيه، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لكل نبي ولاة من النبيين وان وليي ابي وخليل ربي " . ثم قرا : (ان اولى الناس بابراهيم للذين اتبعوه وهذا النبي والذين امنوا والله ولي المومنين ). حدثنا محمود، حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن ابيه، عن ابي الضحى، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله ولم يقل فيه عن مسروق . قال ابو عيسى هذا اصح من حديث ابي الضحى عن مسروق وابو الضحى اسمه مسلم بن صبيح . حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابيه، عن ابي الضحى، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث ابي نعيم وليس فيه عن مسروق
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور وہ جھوٹا ہو اور قسم اس لیے کھائی تاکہ وہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناحق لے لے تو جب وہ ( قیامت میں ) اللہ سے ملے گا، اس وقت اللہ اس سخت غضبناک ہو گا“۔ اشعث بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! یہ حدیث میرے بارے میں ہے۔ میرے اور ایک یہودی شخص کے درمیان ایک ( مشترک ) زمین تھی، اس نے اس میں میری حصہ داری کا انکار کر دیا، تو میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی دلیل و ثبوت ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، پھر آپ نے یہودی سے فرمایا: ”تم قسم کھاؤ“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت: «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ۱؎ نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق بن سلمة، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين هو فيها فاجر ليقتطع بها مال امري مسلم لقي الله وهو عليه غضبان " . فقال الاشعث بن قيس في والله كان ذلك كان بيني وبين رجل من اليهود ارض فجحدني فقدمته الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " الك بينة " . فقلت لا . فقال لليهودي " احلف " . فقلت يا رسول الله اذا يحلف فيذهب بمالي فانزل الله تبارك وتعالى: ( ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا ) الى اخر الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابن ابي اوفى
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت: «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون» ۱؎ یا «من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا» ۲؎ نازل ہوئی۔ اس وقت ابوطلحہ رضی الله عنہ کے پاس ایک باغ تھا، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرا باغ اللہ کی رضا کے لیے صدقہ ہے، اگر میں اسے چھپا سکتا ( تو چھپاتا ) اعلان نہ کرتا ۳؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے رشتہ داروں کے لیے وقف کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ کے واسطہ سے انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کی ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الله بن بكر السهمي، حدثنا حميد، عن انس، قال لما نزلت هذه الاية : ( لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون ) او : (من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا ) قال ابو طلحة وكان له حايط فقال يا رسول الله حايطي لله ولو استطعت ان اسره لم اعلنه . فقال " اجعله في قرابتك او اقربيك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه مالك بن انس عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة عن انس بن مالك
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ( واقعی ) حاجی کون ہے؟ ۔ آپ نے فرمایا: ”وہ حاجی جس کا سر گردوغبار سے اٹ گیا ہو جس نے زیب و زینت اور خوشبو چھوڑ دی ہو، جس کے بدن سے بو آنے لگی ہو“ پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: کون سا حج سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ حج جس میں لبیک بآواز بلند پکارا جائے، اور ہدی اور قربانی کے جانوروں کا ( خوب خوب ) خون بہایا جائے“۔ ایک اور شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ( «من استطاع سبیلاً» میں ) «سبیل» سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”زاد راہ ( توشہ ) اور سواری“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما کی اس حدیث کو ہم نہیں جانتے سوائے ابراہیم بن یزید خوزی مکی کی روایت سے، اور بعض محدثین نے ابراہیم بن یزید کے بارے میں ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا ابراهيم بن يزيد، قال سمعت محمد بن عباد بن جعفر المخزومي، يحدث عن ابن عمر، قال قام رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال من الحاج يا رسول الله قال " الشعث التفل " . فقام رجل اخر فقال اى الحج افضل قال " العج والثج " . فقام رجل اخر فقال ما السبيل يا رسول الله قال " الزاد والراحلة " . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه من حديث ابن عمر الا من حديث ابراهيم بن يزيد الخوزي المكي . وقد تكلم بعض اهل الحديث في ابراهيم بن يزيد من قبل حفظه
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «تعالوا ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم» ۱؎ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین رضی الله عنہم کو بلایا پھر فرمایا: ”یا اللہ! یہ لوگ میرے اہل ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن بكير بن مسمار، هو مدني ثقة عن عامر بن سعد بن ابي وقاص، عن ابيه، قال لما انزل الله هذه الاية : ( ندع ابناءنا وابناءكم ) دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا وفاطمة وحسنا وحسينا فقال " اللهم هولاء اهلي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح
ابوغالب کہتے ہیں کہ ابوامامہ رضی الله عنہ نے دمشق کی مسجد کی سیڑھیوں پر ( حروراء کے مقتول خوارج کے ) سر لٹکتے ہوئے دیکھے، تو کہا: یہ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کے سایہ تلے بدترین مقتول ہیں جب کہ بہترین مقتول وہ ہیں جنہیں انہوں نے قتل کیا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت «يوم تبيض وجوه وتسود وجوه» ۱؎ پڑھی میں نے ابوامامہ رضی الله عنہ سے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کہا: میں نے اسے اگر ایک بار یا دو بار یا تین بار یا چار بار یہاں تک انہوں نے سات بار گنا، نہ سنا ہوتا تو تم لوگوں سے میں اسے نہ بیان کرتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوغالب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا نام حزور ہے۔ ۳- اور ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کا نام صدی بن عجلان ہے، وہ قبیلہ باہلہ کے سردار تھے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن الربيع بن صبيح، وحماد بن سلمة، عن ابي غالب، قال راى ابو امامة رءوسا منصوبة على درج مسجد دمشق فقال ابو امامة " كلاب النار شر قتلى تحت اديم السماء خير قتلى من قتلوه " . ثم قرا : ( يوم تبيض وجوه وتسود وجوه ) الى اخر الاية قلت لابي امامة انت سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لو لم اسمعه الا مرة او مرتين او ثلاثا او اربعا حتى عد سبعا ما حدثتكموه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وابو غالب يقال اسمه حزور وابو امامة الباهلي اسمه صدى بن عجلان وهو سيد باهلة
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے قول «كنتم خير أمة أخرجت للناس» ۱؎ کی تفسیر کرتے ہوئے سنا: ”تم ستر امتوں کا تتمہ ( و تکملہ ) ہو، تم اللہ کے نزدیک ان سب سے بہتر اور سب سے زیادہ باعزت ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- متعدد لوگوں نے بہز بن حکیم سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے، لیکن ان راویوں نے اس میں آیت «كنتم خير أمة أخرجت للناس» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول في قوله : ( كنتم خير امة اخرجت للناس ) قال " انكم تتمون سبعين امة انتم خيرها واكرمها على الله " . هذا حديث حسن . وقد روى غير واحد هذا الحديث عن بهز بن حكيم نحو هذا ولم يذكروا فيه ( كنتم خير امة اخرجت للناس)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ احد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چاروں دانت ( رباعیہ ) توڑ دیئے گئے، اور پیشانی زخمی کر دی گئی، یہاں تک کہ خون آپ کے مبارک چہرے پر بہ پڑا۔ آپ نے فرمایا: ”بھلا وہ قوم کیوں کر کامیاب ہو گی جو اپنے نبی کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرے، جب کہ حال یہ ہو کہ وہ نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو۔ تو یہ آیت «ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم» ۱؎ نازل ہوئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كسرت رباعيته يوم احد وشج وجهه شجة في جبهته حتى سال الدم على وجهه فقال " كيف يفلح قوم فعلوا هذا بنبيهم وهو يدعوهم الى الله " . فنزلت : ( ليس لك من الامر شيء او يتوب عليهم او يعذبهم ) الى اخرها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے خون بہایا گیا، آپ کے دانت توڑ دیئے گئے، آپ کے کندھے پر پتھر مارا گیا، جس سے آپ کے چہرے پر خون بہنے لگا، آپ اسے پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے: ”وہ امت کیسے فلاح یاب ہو گی جس کا نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو اور وہ اس کے ساتھ ایسا ( برا ) سلوک کر رہے ہوں“۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت: «ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون» نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے عبد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ یزید بن ہارون اس معاملے میں غلطی کر گئے ہیں ۱؎۔
حدثنا احمد بن منيع، وعبد بن حميد، قالا حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا حميد، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم شج في وجهه وكسرت رباعيته ورمي رمية على كتفه فجعل الدم يسيل على وجهه وهو يمسحه ويقول " كيف تفلح امة فعلوا هذا بنبيهم وهو يدعوهم الى الله " . فانزل الله تعالى : (ليس لك من الامر شيء او يتوب عليهم او يعذبهم فانهم ظالمون ) . سمعت عبد بن حميد يقول غلط يزيد بن هارون في هذا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن فرمایا: ”اے اللہ! لعنت نازل فرما ابوسفیان پر، اے اللہ! لعنت نازل فرما حارث بن ہشام پر، اے اللہ! لعنت نازل فرما صفوان بن امیہ پر“، تو آپ پر یہ آیت «ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم» نازل ہوئی۔ تو اللہ نے انہیں توبہ کی توفیق دی، انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلام بہترین اسلام ثابت ہوا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ روایت «عمر بن حمزة عن سالم عن أبيه» کے طریق سے غریب ہے، ۳- زہری نے بھی اسے سالم سے اور انہوں نے بھی اپنے باپ سے روایت کیا ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو عمر بن حمزہ کی روایت سے نہیں جانا بلکہ زہری کی روایت سے جانا ہے۔
حدثنا ابو السايب، سلم بن جنادة بن سلم الكوفي حدثنا احمد بن بشير، عن عمر بن حمزة، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم احد " اللهم العن ابا سفيان اللهم العن الحارث بن هشام اللهم العن صفوان بن امية " . قال فنزلت : (ليس لك من الامر شيء او يتوب عليهم او يعذبهم ) فتاب الله عليهم فاسلموا فحسن اسلامهم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن. غريب يستغرب من حديث عمر بن حمزة عن سالم عن ابيه . وقد رواه الزهري عن سالم عن ابيه لم يعرفه محمد بن اسماعيل من حديث عمر بن حمزة وعرفه من حديث الزهري
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار افراد کے لیے بدعا فرماتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے آیت: «ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون» نازل فرمائی۔ پھر اللہ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی ہدایت و توفیق بخش دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ یعنی: اس سند سے بطریق «نافع عن ابن عمر» ۲- اس حدیث کو یحییٰ بن ایوب نے بھی ابن عجلان سے روایت کیا ہے۔
حدثنا يحيى بن حبيب بن عربي البصري، حدثنا خالد بن الحارث، عن محمد بن عجلان، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو على اربعة نفر فانزل الله : (ليس لك من الامر شيء او يتوب عليهم او يعذبهم فانهم ظالمون ) فهداهم الله للاسلام . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح يستغرب من هذا الوجه من حديث نافع عن ابن عمر ورواه يحيى بن ايوب عن ابن عجلان
اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا: جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنی تو اللہ نے مجھے جتنا فائدہ پہنچانا چاہا پہنچایا، اور جب مجھ سے آپ کا کوئی صحابی حدیث بیان کرتا تو میں اسے قسم کھلاتا پھر جب وہ میرے کہنے سے قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا۔ اور بیشک مجھ سے ابوبکر رضی الله عنہ نے حدیث بیان کی اور بالکل سچ بیان کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ”جو کوئی بھی شخص کوئی گناہ کرتا ہے پھر وہ کھڑا ہوتا ہے پھر پاکی حاصل کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے، اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اسے بخش دیتا ہے“، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو شعبہ اور دیگر کئی لوگوں نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے اسے مرفوع روایت کیا ہے جب کہ مسعر اور سفیان نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے لیکن ان دونوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا۔ اور بعض لوگوں نے اسے مسعر سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ اور بعض لوگوں نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اور سفیان ثوری نے عثمان بن مغیرہ سے موقوفاً روایت کیا ہے، ۲- اسماء بن حکم سے اس روایت کے سوا کوئی دوسری روایت ہم نہیں جانتے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن عثمان بن المغيرة، عن علي بن ربيعة، عن اسماء بن الحكم الفزاري، قال سمعت عليا، يقول اني كنت رجلا اذا سمعت من، رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا نفعني الله منه بما شاء ان ينفعني واذا حدثني رجل من اصحابه استحلفته فاذا حلف لي صدقته وانه حدثني ابو بكر وصدق ابو بكر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من رجل يذنب ذنبا ثم يقوم فيتطهر ثم يصلي ثم يستغفر الله الا غفر له " . ثم قرا هذه الاية : (والذين اذا فعلوا فاحشة او ظلموا انفسهم ذكروا الله فاستغفروا ) الى اخر الاية . قال ابو عيسى هذا حديث قد رواه شعبة وغير واحد عن عثمان بن المغيرة فرفعوه ورواه مسعر وسفيان عن عثمان بن المغيرة فلم يرفعاه وقد رواه بعضهم عن مسعر فاوقفه ورفعه بعضهم ورواه سفيان الثوري عن عثمان بن المغيرة فاوقفه ولا نعرف لاسماء بن الحكم حديثا الا هذا
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ احد کی لڑائی کے دن میں اپنا سر بلند کر کے ( ادھر ادھر ) دیکھنے لگا، اس دن کوئی ایسا نہ تھا جس کا سر نیند سے ( بوجھل ) اپنے سینے کے نیچے جھکا نہ جا رہا ہو، اللہ تعالیٰ کے قول «ثم أنزل عليكم من بعد الغم أمنة نعاسا» ۱؎ کا مفہوم و مراد یہی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا روح بن عبادة، عن حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس، عن ابي طلحة، قال رفعت راسي يوم احد فجعلت انظر وما منهم يوميذ احد الا يميد تحت حجفته من النعاس فذلك قوله عز وجل : (فانزل عليكم من بعد الغم امنة نعاسا ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا عبد بن حميد، حدثنا روح بن عبادة، عن حماد بن سلمة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن الزبير، مثله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ ہم جنگ احد میں اپنی صف ( پوزیشن ) میں تھے اور ہم پر غنودگی طاری ہو گئی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اس دن غنودگی ( نیند ) نے آ گھیرا تھا، حالت یہ ہو گئی تھی کہ تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹی جا رہی تھی، میں اسے پکڑ رہا تھا اور میرے ہاتھ سے گری جا رہی تھی، میں اسے سنبھال رہا تھا۔ دوسرا گروہ منافقوں کا تھا جنہیں صرف اپنی جانوں کی حفاظت کی فکر تھی، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ بزدل، سب سے زیادہ مرعوب ہو جانے والے ( ڈرپوک ) اور حق کا سب سے زیادہ ساتھ چھوڑنے والے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا يوسف بن حماد، حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى، عن سعيد، عن قتادة، عن انس، ان ابا طلحة، قال غشينا ونحن في مصافنا يوم احد حدث انه كان فيمن غشيه النعاس يوميذ قال فجعل سيفي يسقط من يدي واخذه ويسقط من يدي واخذه والطايفة الاخرى المنافقون ليس لهم هم الا انفسهم اجبن قوم وارعبه واخذله للحق . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح