احادیث
#2991
سنن ترمذی - Exegesis
امیہ کہتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے اللہ تبارک وتعالیٰ کے قول «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله» ۱؎ اور ( دوسرے ) قول «من يعمل سوءا يجز به» ۲؎ کا مطلب پوچھا، تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا مطلب پوچھا ہے تب سے ( تمہارے سوا ) کسی نے مجھ سے ان کا مطلب نہیں پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ اللہ کی جانب سے بخار اور مصیبت ( وغیرہ ) میں مبتلا کر کے بندے کی سرزنش ہے۔ یہاں تک کہ وہ سامان جو وہ اپنی قمیص کی آستین میں رکھ لیتا ہے پھر گم کر دیتا ہے پھر وہ گھبراتا اور اس کے لیے پریشان ہوتا ہے، یہاں تک کہ بندہ اپنے گناہوں سے ویسے ہی پاک و صاف ہو جاتا ہے جیسا کہ سرخ سونا بھٹی سے ( صاف ستھرا ) نکلتا ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا الحسن بن موسى، وروح بن عبادة، عن حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن امية، انها سالت عايشة عن قول الله تعالى : (ان تبدوا ما في انفسكم او تخفوه يحاسبكم به الله) وعن قوله : (من يعمل سوءا يجز به ) فقالت ما سالني عنها احد منذ سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " هذه معاتبة الله العبد فيما يصيبه من الحمى والنكبة حتى البضاعة يضعها في كم قميصه فيفقدها فيفزع لها حتى ان العبد ليخرج من ذنوبه كما يخرج التبر الاحمر من الكير " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث عايشة لا نعرفه الا من حديث حماد بن سلمة
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #2991
- Book Index
- 43
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif Isnaad
- Al-AlbaniDaif Isnaad
- Zubair Ali ZaiDaif
