Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما ارشاد باری «ما كان لنبي أن يغل» کے بارے میں کہتے ہیں: جنگ بدر کے دن ( مال غنیمت میں آئی ہوئی ) ایک سرخ رنگ کی چادر کھو گئی، بعض لوگوں نے کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو تو آیت: «ما كان لنبي أن يغل» ۱؎ نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عبدالسلام بن حرب نے خصیف سے اسی جیسی روایت کی ہے، ۳- اور بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «خصيف عن مقسم» روایت کی ہے، لیکن ان لوگوں نے اس روایت میں ابن عباس رضی الله عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الواحد بن زياد، عن خصيف، حدثنا مقسم، قال قال ابن عباس نزلت هذه الاية : ( وما كان لنبي ان يغل ) في قطيفة حمراء افتقدت يوم بدر . فقال بعض الناس لعل رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذها فانزل الله كان لنبي ان يغل ) الى اخر الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وقد روى عبد السلام بن حرب عن خصيف نحو هذا وروى بعضهم هذا الحديث عن خصيف عن مقسم ولم يذكر فيه عن ابن عباس
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ملے اور فرمایا: ”جابر! کیا بات ہے میں تجھے شکستہ دل دیکھ رہا ہوں؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد شہید کر دیئے گئے، جنگ احد میں ان کے قتل کا سانحہ پیش آیا، اور وہ بال بچے اور قرض چھوڑ گئے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس چیز کی بشارت نہ دوں جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ سے ملاقات کے وقت کہا؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی کسی سے بغیر پردہ کے کلام نہیں کیا ( لیکن ) اس نے تمہارے باپ کو زندہ کیا، پھر ان سے ( بغیر پردہ کے ) آمنے سامنے بات کی، کہا: اے میرے بندے! مجھ سے کسی چیز کے حاصل کرنے کی تمنا و آرزو کر، میں تجھے دوں گا، انہوں نے کہا: رب! مجھے دوبارہ زندہ فرما، تاکہ میں تیری راہ میں دوبارہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا: میری طرف سے یہ فیصلہ پہلے ہو چکا ہے «أنهم إليها لا يرجعون» کہ لوگ دنیا میں دوبارہ نہ بھیجے جائیں گے“، راوی کہتے ہیں: آیت «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» ۱؎ اسی سلسلہ میں نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل نے اس حدیث کا کچھ حصہ جابر سے روایت کیا ہے، ۳- اور اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں، ۴- اسے علی بن عبداللہ بن مدینی اور کئی بڑے محدثین نے موسیٰ بن ابراہیم کے واسطہ سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔
حدثنا يحيى بن حبيب بن عربي، حدثنا موسى بن ابراهيم بن كثير الانصاري، قال سمعت طلحة بن خراش، قال سمعت جابر بن عبد الله، يقول لقيني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لي " يا جابر ما لي اراك منكسرا " . قلت يا رسول الله استشهد ابي قتل يوم احد وترك عيالا ودينا . قال " افلا ابشرك بما لقي الله به اباك " . قال قلت بلى يا رسول الله . قال " ما كلم الله احدا قط الا من وراء حجاب واحيا اباك فكلمه كفاحا فقال يا عبدي تمن على اعطك . قال يا رب تحييني فاقتل فيك ثانية . قال الرب عز وجل انه قد سبق مني انهم اليها لا يرجعون " . قال وانزلت هذه الاية : (ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا ) الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه ولا نعرفه الا من حديث موسى بن ابراهيم ورواه علي بن عبد الله بن المديني وغير واحد من كبار اهل الحديث هكذا عن موسى بن ابراهيم . وقد روى عبد الله بن محمد بن عقيل عن جابر شييا من هذا
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے آیت «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون» کی تفسیر پوچھی گئی تو انہوں نے کہا: لوگو! سن لو، ہم نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) اس کی تفسیر پوچھی تھی تو ہمیں بتایا گیا کہ شہداء کی روحیں سبز چڑیوں کی شکل میں ہیں، جنت میں جہاں چاہتی گھومتی پھرتی ہیں اور شام میں عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں۔ ایک بار تمہارے رب نے انہیں جھانک کر ایک نظر دیکھا اور پوچھا: ”تمہیں کوئی چیز مزید چاہیئے تو میں عطا کروں؟“ انہوں نے کہا: رب! ہمیں مزید کچھ نہیں چاہیئے۔ ہم جنت میں جہاں چاہتی ہیں گھومتی ہیں۔ پھر ( ایک دن ) دوبارہ اللہ نے ان کی طرف جھانکا اور فرمایا: ”کیا تمہیں مزید کچھ چاہیئے تو میں عطا کر دوں؟“ جب انہوں نے دیکھا کہ ( اللہ دینے پر ہی تلا ہوا ہے، بغیر مانگے اور لیے ) چھٹکارا نہیں ہے تو انہوں نے کہا: ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں دوبارہ لوٹا دے، تاکہ ہم دنیا میں واپس چلے جائیں۔ پھر تیری راہ میں دوبارہ قتل کئے جائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله بن مسعود، انه سيل عن قوله : (ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا بل احياء عند ربهم يرزقون ) فقال اما انا قد سالنا عن ذلك فاخبرنا ان ارواحهم في طير خضر تسرح في الجنة حيث شاءت وتاوي الى قناديل معلقة بالعرش فاطلع اليهم ربك اطلاعة فقال هل تستزيدون شييا فازيدكم قالوا ربنا وما نستزيد ونحن في الجنة نسرح حيث شينا ثم اطلع اليهم الثانية فقال هل تستزيدون شييا فازيدكم فلما راوا انهم لم يتركوا قالوا تعيد ارواحنا في اجسادنا حتى نرجع الى الدنيا فنقتل في سبيلك مرة اخرى . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السايب، عن ابي عبيدة، عن ابن مسعود، مثله وزاد فيه وتقري نبينا السلام وتخبره عنا انا قد رضينا ورضي عنا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی گردن میں ایک سانپ ڈال دے گا“، پھر آپ نے اس کے ثبوت کے لیے قرآن کی یہ آیت «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله» ۱؎ پڑھی راوی نے ایک مرتبہ یہ کہا کہ آپ نے اس کی مناسبت سے یہ آیت «سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة» ۲؎ تلاوت فرمائی، اور فرمایا: ”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا مال جھوٹی قسم کھا کر لے لے وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے برہم ( اور سخت غصے میں ) ہو گا“، پھر آپ نے اس کی مصداق آیت: «إن الذين يشترون بعهد الله» پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن جامع، وهو ابن ابي راشد وعبد الملك بن اعين عن ابي وايل، عن عبد الله بن مسعود، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من رجل لا يودي زكاة ماله الا جعل الله يوم القيامة في عنقه شجاعا " . ثم قرا علينا مصداقه من كتاب الله عز وجل : (ولا تحسبن الذين يبخلون بما اتاهم الله من فضله ) الاية . وقال مرة قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم مصداقه : (سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة ) " ومن اقتطع مال اخيه المسلم بيمين لقي الله وهو عليه غضبان " . ثم قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم مصداقه من كتاب الله : (ان الذين يشترون بعهد الله ) الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ومعنى قوله شجاعا اقرع يعني حية
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک کوڑے برابر جگہ دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے، اس کو سمجھنے کے لیے چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا يزيد بن هارون، وسعيد بن عامر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان موضع سوط في الجنة لخير من الدنيا وما فيها اقرءوا ان شيتم : (فمن زحزح عن النار وادخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا الا متاع الغرور ) " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے انہیں بتایا کہ مروان بن حکم نے اپنے دربان ابورافع سے کہا: ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے کہو، اگر اپنے کیے پر خوش ہونے والا اور بن کیے پر تعریف چاہنے والا ہر شخص سزا کا مستحق ہو جائے، تب تو ہم سب ہی مستحق سزا بن جائیں گے، ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: تمہیں اس آیت سے کیا مطلب؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، پھر ابن عباس رضی الله عنہما نے یہ آیت «وإذ أخذ الله ميثاق الذين أوتوا الكتاب لتبيننه للناس ولا تكتمونه» ۱؎ پڑھی اور «لا تحسبن الذين يفرحون بما أتوا ويحبون أن يحمدوا بما لم يفعلوا» ۲؎ کی تلاوت کی۔ اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( یہود ) سے کسی چیز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے وہ چیز چھپا لی، اور اس سے ہٹ کر کوئی اور چیز بتا دی اور چلے گئے، پھر آپ پر یہ ظاہر کیا کہ آپ نے ان سے جو کچھ پوچھا تھا اس کے متعلق انہوں نے بتا دیا ہے، اور آپ سے اس کی تعریف سننی چاہی، اور انہوں نے اپنی کتاب سے چھپا کر آپ کو جو جواب دیا اور آپ نے انہیں جو مخاطب کر لیا اس پر خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن محمد الزعفراني، حدثنا الحجاج بن محمد، قال قال ابن جريج اخبرني ابن ابي مليكة، ان حميد بن عبد الرحمن بن عوف، اخبره ان مروان بن الحكم قال اذهب يا رافع لبوابه الى ابن عباس فقل له لين كان كل امري فرح بما اوتي واحب ان يحمد بما لم يفعل معذبا لنعذبن اجمعون . قال ابن عباس ما لكم ولهذه الاية انما انزلت هذه في اهل الكتاب ثم تلا ابن عباس : ( واذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب لتبيننه للناس ولا تكتمونه ) وتلا : (لا تحسبن الذين يفرحون بما اتوا ويحبون ان يحمدوا بما لم يفعلوا ) قال ابن عباس سالهم النبي صلى الله عليه وسلم عن شيء فكتموه واخبروه بغيره فخرجوا وقد اروه ان قد اخبروه بما قد سالهم عنه واستحمدوا بذلك اليه وفرحوا بما اوتوا من كتمانهم وما سالهم عنه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو تشریف لائے اس وقت مجھ پر بے ہوشی طاری تھی، پھر جب مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا: میں اپنے مال میں کس طرح تقسیم کروں؟ آپ یہ سن کر خاموش رہے، مجھے کوئی جواب نہیں دیا، پھر یہ آیات «يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين» نازل ہوئیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے کئی اور لوگوں نے بھی محمد بن منکدر سے روایت کیا ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا ابن عيينة، عن محمد بن المنكدر، قال سمعت جابر بن عبد الله، يقول مرضت فاتاني رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني وقد اغمي على فلما افقت قلت كيف اقضي في مالي فسكت عني حتى نزلت : ( يوصيكم الله في اولادكم للذكر مثل حظ الانثيين ) قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روى غير واحد عن محمد بن المنكدر . حدثنا الفضل بن الصباح البغدادي، حدثنا سفيان، عن ابن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وفي حديث الفضل بن الصباح كلام اكثر من هذا
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اوطاس کے موقع پر غنیمت میں ہمیں کچھ ایسی عورتیں ہاتھ آئیں جن کے مشرک شوہر موجود تھے کچھ مسلمانوں نے عورتوں سے صحبت کرنے کو مکروہ جانا ۱؎ تو اللہ تعالیٰ نے آیت «والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم» ۱؎ نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا حبان بن هلال، حدثنا همام بن يحيى، حدثنا قتادة، عن ابي الخليل، عن ابي علقمة الهاشمي، عن ابي سعيد الخدري، قال لما كان يوم اوطاس اصبنا نساء لهن ازواج في المشركين فكرههن رجال منهم فانزل الله : (والمحصنات من النساء الا ما ملكت ايمانكم ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جنگ اوطاس میں ہمیں کچھ ایسی قیدی عورتیں ہاتھ آئیں جن کے شوہر ان کی قوم میں موجود تھے، تو لوگوں نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، اس پر آیت «والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم» نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ثوری نے عثمان بتی سے اور عثمان بتی نے ابوالخلیل سے اور ابوالخلیل نے ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی، ۳- امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث میں علقمہ سے روایت کا ذکر نہیں ہے۔ ( جب کہ پچھلی سند میں ہے ) اور میں نہیں جانتا کہ کسی نے اس حدیث میں ابوعلقمہ کا ذکر کیا ہو سوائے ہمام کے، ۴- ابوالخلیل کا نام صالح بن ابی مریم ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا عثمان البتي، عن ابي الخليل، عن ابي سعيد الخدري، قال اصبنا سبايا يوم اوطاس لهن ازواج في قومهن فذكروا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فنزلت : (والمحصنات من النساء الا ما ملكت ايمانكم ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وهكذا روى الثوري عن عثمان البتي عن ابي الخليل عن ابي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وليس في هذا الحديث عن ابي علقمة ولا اعلم ان احدا ذكر ابا علقمة في هذا الحديث الا ما ذكر همام عن قتادة وابو الخليل اسمه صالح بن ابي مريم
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبیرہ گناہ: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، ( ناحق ) کسی کو قتل کرنا، جھوٹ کہنا یا جھوٹ بولنا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس کو روح بن عبادہ نے بھی شعبہ یہ روایت کیا ہے، لیکن ( عبیداللہ کی جگہ عبداللہ بن ابی بکر کہا ہے، ( عبیداللہ ہی صحیح ہے ) لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا خالد بن الحارث، عن شعبة، حدثنا عبيد الله بن ابي بكر بن انس، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الكباير قال " الشرك بالله وعقوق الوالدين وقتل النفس وقول الزور " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح . ورواه روح بن عبادة عن شعبة وقال عن عبد الله بن ابي بكر ولا يصح
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں بڑے سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر اٹھ بیٹھے اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی دینا، یا جھوٹی بات کہنا“، آپ یہ بات باربار دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے جی میں کہنے لگے کاش آپ خاموش ہو جاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا حميد بن مسعدة، - بصري - حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا الجريري، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا احدثكم باكبر الكباير " . قالوا بلى يا رسول الله . قال " الاشراك بالله وعقوق الوالدين " . قال وجلس وكان متكيا قال " وشهادة الزور او قول الزور " . قال فما زال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولها حتى قلنا ليته سكت . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح
عبداللہ بن انیس جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑے گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا ہے، جھوٹی قسم کھانا۔ تو جس کسی نے بھی ایسی قسم کھائی جس پر وہ مجبور کر دیا گیا اور ( اسی پر فیصلہ کا انحصار ہے ) پھر اس نے اس میں مچھر کے پر کے برابر جھوٹ شامل کر دیا تو اس کے دل میں ایک ( کالا ) نکتہ ڈال دیا جائے گا جو قیامت تک قائم اور باقی رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوامامہ انصاری ثعلبہ کے بیٹے ہیں اور ان کا نام ہمیں نہیں معلوم ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں روایت کی ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا الليث بن سعد، عن هشام بن سعد، عن محمد بن زيد بن مهاجر بن قنفذ التيمي، عن ابي امامة الانصاري، عن عبد الله بن انيس الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من اكبر الكباير الشرك بالله وعقوق الوالدين واليمين الغموس وما حلف حالف بالله يمين صبر فادخل فيها مثل جناح بعوضة الا جعلت نكتة في قلبه الى يوم القيامة " . قال ابو عيسى وابو امامة الانصاري هو ابن ثعلبة ولا نعرف اسمه وقد روى عن النبي صلى الله عليه وسلم احاديث . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبائر یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، یا کہا: جھوٹی قسم کھانا“۔ اس میں شعبہ کو شک ہو گیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن فراس، عن الشعبي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الكباير الاشراك بالله وعقوق الوالدين او قال اليمين الغموس " . شك شعبة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مرد جنگ کرتے ہیں، عورتیں جنگ نہیں کرتیں، ہم عورتوں کو آدھی میراث ملتی ہے ( یعنی مرد کے حصے کا آدھا ) تو اللہ تعالیٰ نے آیت «ولا تتمنوا ما فضل الله به بعضكم على بعض» ۱؎ نازل فرمائی۔ مجاہد کہتے ہیں: انہیں کے بارے میں آیت «إن المسلمين والمسلمات» ۲؎ بھی نازل ہوئی ہے، ام سلمہ پہلی مسافرہ ہیں جو ہجرت کر کے مدینہ آئیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ مرسل حدیث ہے، ۲- اس حدیث کو بعض راویوں نے ابن ابی نجیح کے واسطہ سے مجاہد سے مرسلاً روایت کیا ہے، کہ ام سلمہ نے اس اس طرح کہا ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ام سلمة، انها قالت يغزو الرجال ولا يغزو النساء وانما لنا نصف الميراث . فانزل الله : (ولا تتمنوا ما فضل الله به بعضكم على بعض ) . قال مجاهد فانزل فيها : ( ان المسلمين والمسلمات ) وكانت ام سلمة اول ظعينة قدمت المدينة مهاجرة . قال ابو عيسى هذا حديث مرسل . ورواه بعضهم عن ابن ابي نجيح عن مجاهد مرسل ان ام سلمة قالت كذا وكذا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول! میں عورتوں کی ہجرت کا ذکر کلام پاک میں نہیں سنتی، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «أني لا أضيع عمل عامل منكم من ذكر أو أنثى بعضكم من بعض» ۱؎ نازل فرمائی۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن رجل، من ولد ام سلمة عن ام سلمة، قالت يا رسول الله لا اسمع الله ذكر النساء في الهجرة . فانزل الله تعالى : ( اني لا اضيع عمل عامل منكم من ذكر او انثى بعضكم من بعض)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں، چنانچہ میں نے آپ کے سامنے سورۃ نساء میں سے تلاوت کی، جب میں آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» ۱؎ پر پہنچا تو رسول اللہ نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا ( کہ بس کرو، آگے نہ پڑھو ) میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابولأحوص نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے اور ابراہیم نے علقمہ کے واسطہ سے، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے، اور حقیقت میں وہ سند یوں ہے «إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله» ( «عن علقمة» نہیں ) ۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، قال قال عبد الله امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اقرا عليه وهو على المنبر . فقرات عليه من سورة النساء حتى اذا بلغت: ( فكيف اذا جينا من كل امة بشهيد وجينا بك على هولاء شهيدا ) غمزني رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده فنظرت اليه وعيناه تدمعان . قال ابو عيسى هكذا روى ابو الاحوص عن الاعمش عن ابراهيم عن علقمة عن عبد الله وانما هو ابراهيم عن عبيدة عن عبد الله
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کے سامنے قرآن پڑھوں قرآن تو آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟، آپ نے فرمایا: ”اپنے سے ہٹ کر دوسرے سے سننا چاہتا ہوں“، تو میں نے سورۃ نساء پڑھی، جب میں آیت: «وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ آپ کی دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوالا ٔحوص کی روایت سے صحیح تر ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا سفيان الثوري، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عبيدة، عن عبد الله، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرا على " . فقلت يا رسول الله اقرا عليك وعليك انزل قال " اني احب ان اسمعه من غيري " . فقرات سورة النساء حتى اذا بلغت : (جينا بك على هولاء شهيدا ) قال فرايت عينى النبي صلى الله عليه وسلم تهملان . قال ابو عيسى هذا اصح من حديث ابي الاحوص
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ہمارے لیے کھانا تیار کیا، پھر ہمیں بلا کر کھلایا اور شراب پلائی۔ شراب نے ہماری عقلیں ماؤف کر دیں، اور اسی دوران نماز کا وقت آ گیا، تو لوگوں نے مجھے ( امامت کے لیے ) آگے بڑھا دیا، میں نے پڑھا «قل يا أيها الكافرون لا أعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون» ”اے نبی! کہہ دیجئیے: کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، اور ہم اسی کو پوجتے ہیں جنہیں تم پوجتے ہو“، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» ”اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو، تو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو“ ( النساء: ۴۳ ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا ابن المبارك، عن سفيان، عن الاعمش، نحو حديث معاوية بن هشام . حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرحمن بن سعد، عن ابي جعفر الرازي، عن عطاء بن السايب، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي بن ابي طالب، قال صنع لنا عبد الرحمن بن عوف طعاما فدعانا وسقانا من الخمر فاخذت الخمر منا وحضرت الصلاة فقدموني فقرات : ( قل يا ايها الكافرون ) لا اعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون . قال فانزل الله تعالى : ( يا ايها الذين امنوا لا تقربوا الصلاة وانتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب