Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے ( ان کے والد ) زبیر بن العوام رضی الله عنہ سے، حرہ ۱؎ کی نالی کے معاملہ میں، جس سے لوگ کھجور کے باغات کی سینچائی کرتے تھے، جھگڑا کیا، انصاری نے زبیر رضی الله عنہ سے کہا کہ پانی کو بہنے دو تاکہ میرے کھیت میں چلا جائے ۲؎، زبیر نے انکار کیا، پھر وہ لوگ اس جھگڑے کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر سے کہا: زبیر! تم ( اپنا کھیت ) سینچ کر پانی پڑوسی کے کھیت میں جانے دو، ( یہ سن کر ) انصاری غصہ ہو گیا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ وہ ( زبیر ) آپ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں؟ ( یہ سن کر ) آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا آپ نے کہا: زبیر! اپنا کھیت سینچ لو، اور پانی اتنا بھر لو کہ منڈیروں تک پہنچ جائے“۔ زبیر کہتے ہیں: قسم اللہ کی میں گمان کرتا ہوں کہ آیت: «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم» ”سو قسم ہے تیرے رب کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں“ ( النساء: ۶۵ ) ۔ اسی مقدمہ کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ابن وہب نے بطریق: «الليث بن سعد ويونس عن الزهري عن عروة عن عبد الله بن الزبير» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۲- اور شعیب بن ابی حمزہ نے بطریق: «الزهري عن عروة عن الزبير» روایت کی ہے اور انہوں نے اپنی روایت میں عبداللہ بن زبیر کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، انه حدثه ان عبد الله بن الزبير حدثه ان رجلا من الانصار خاصم الزبير في شراج الحرة التي يسقون بها النخل . فقال الانصاري سرح الماء يمر فابى عليه فاختصموا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم للزبير " اسق يا زبير وارسل الماء الى جارك " . فغضب الانصاري وقال يا رسول الله ان كان ابن عمتك . فتغير وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " يا زبير اسق واحبس الماء حتى يرجع الى الجدر " . فقال الزبير والله اني لاحسب هذه الاية نزلت في ذلك : (فلا وربك لا يومنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم) الاية . قال ابو عيسى سمعت محمدا يقول قد روى ابن وهب هذا الحديث عن الليث بن سعد ويونس عن الزهري عن عروة عن عبد الله بن الزبير نحو هذا الحديث . وروى شعيب بن ابي حمزة عن الزهري عن عروة عن الزبير ولم يذكر عن عبد الله بن الزبير
عبداللہ بن یزید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ آیت: «فما لكم في المنافقين فئتين» کی تفسیر کے سلسلے میں کہتے ہیں احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ( ساتھی یعنی منافق میدان جنگ سے ) لوٹ آئے ۱؎ تو لوگ ان کے سلسلے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ نے کہا: انہیں قتل کر دو، اور دوسرے فریق نے کہا: نہیں، قتل نہ کرو تو یہ آیت «فما لكم في المنافقين فئتين» ۱؎ نازل ہوئی، اور آپ نے فرمایا: ”مدینہ پاکیزہ شہر ہے، یہ ناپاکی و گندگی کو ( إن شاء اللہ ) ایسے دور کر دے گا جیسے آگ لوہے کی ناپاکی ( میل و زنگ ) کو دور کر دیتی ہے۔ ( یہ منافق یہاں رہ نہ سکیں گے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن یزید انصاری خطمی ہیں اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، قال سمعت عبد الله بن يزيد، يحدث عن زيد بن ثابت، انه قال في هذه الاية : ( فما لكم في المنافقين فيتين ) قال رجع ناس من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم احد . فكان الناس فيهم فريقين فريق يقول اقتلهم . وفريق يقول لا . فنزلت هذه الاية : ( فما لكم في المنافقين فيتين ) وقال " انها طيبة وقال انها تنفي الخبيث كما تنفي النار خبث الحديد " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وعبد الله بن يزيد هو الانصاري الخطمي وله صحبة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آ جائے گا، اس کی پیشانی اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہوں گے، مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا، کہے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا، ( یہ کہتا ہوا ) اسے لیے ہوئے عرش کے قریب جا پہنچے گا۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے ابن عباس رضی الله عنہما سے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» ۱؎ تلاوت کی، اور کہا کہ یہ آیت نہ منسوخ ہوئی ہے اور نہ ہی تبدیل، تو پھر اس کی توبہ کیوں کر قبول ہو گی؟ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو بعض راویوں نے عمر بن دینار کے واسطہ سے ابن عباس سے اسی طرح روایت کی ہے اس کو مرفوع نہیں کیا ہے۔
حدثنا الحسن بن محمد الزعفراني، حدثنا شبابة، حدثنا ورقاء بن عمر، عن عمرو بن دينار، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يجيء المقتول بالقاتل يوم القيامة ناصيته وراسه بيده واوداجه تشخب دما يقول يا رب هذا قتلني حتى يدنيه من العرش " . قال فذكروا لابن عباس التوبة فتلا هذه الاية: (ومن يقتل مومنا متعمدا فجزاوه جهبم) قال وما نسخت هذه الاية ولا بدلت وانى له التوبة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وقد روى بعضهم هذا الحديث عن عمرو بن دينار عن ابن عباس نحوه ولم يرفعه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ بنو سلیم کا ایک آدمی صحابہ کی ایک جماعت کے پاس سے گزرا، اس کے ساتھ اس کی بکریاں بھی تھیں، اس نے ان لوگوں کو سلام کیا، ان لوگوں نے کہا: اس نے تم لوگوں کی پناہ لینے کے لیے تمہیں سلام کیا ہے، پھر ان لوگوں نے بڑھ کر اسے قتل کر دیا، اس کی بکریاں اپنے قبضہ میں لے لیں۔ اور انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «يا أيها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا» ”اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں جا رہے ہو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو تم سے سلام کرے تم اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان والا نہیں“ ( النساء: ۹۴ ) نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں اسامہ بن زید سے بھی روایت ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد العزيز بن ابي رزمة، عن اسراييل، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال مر رجل من بني سليم على نفر من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه غنم له فسلم عليهم قالوا ما سلم عليكم الا ليتعوذ منكم فقاموا فقتلوه واخذوا غنمه فاتوا بها رسول الله صلى الله عليه وسلم . فانزل الله تعالى ( يا ايها الذين امنوا اذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا ولا تقولوا لمن القى اليكم السلام لست مومنا ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وفي الباب عن اسامة بن زيد
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» ”اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بیٹھے رہ جانے والے مومن برابر نہیں“ ( النساء: ۹۵ ) نازل ہوئی تو عمرو بن ام مکتوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ نابینا تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں، میں تو اندھا ہوں؟ تو اللہ تعالیٰ نے آیت: «غير أولي الضرر» نازل فرمائی، یعنی مریض اور معذور لوگوں کو چھوڑ کر، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس شانہ کی ہڈی اور دوات لے آؤ ( یا یہ کہا ) تختی اور دوات لے آؤ کہ میں لکھا کر دے دوں کہ تم معذور لوگوں میں سے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس روایت میں عمرو بن ام مکتوم رضی الله عنہ کہا گیا ہے، انہیں عبداللہ بن ام مکتوم بھی کہا جاتا ہے، وہ عبداللہ بن زائدہ ہیں، اور ام مکتوم ان کی ماں ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال لما نزلت : (لا يستوي القاعدون من المومنين ) جاء عمرو ابن ام مكتوم الى النبي صلى الله عليه وسلم - قال وكان ضرير البصر فقال يا رسول الله ما تامرني اني ضرير البصر فانزل الله تعالى هذه الاية : ( غير اولي الضرر ) الاية . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ايتوني بالكتف والدواة او اللوح والدواة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ويقال عمرو ابن ام مكتوم ويقال عبد الله ابن ام مكتوم وهو عبد الله بن زايدة وام مكتوم امه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر» کی تفسیر میں کہتے ہیں: جب جنگ بدر کا موقع آیا تو اس موقع پر یہ آیت جنگ بدر میں شریک ہونے والے اور نہ شریک ہونے والے مسلمانوں کے متعلق نازل ہوئی۔ تو عبداللہ بن جحش اور ابن ام مکتوم رضی الله عنہما دونوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم دونوں اندھے ہیں کیا ہمارے لیے رخصت ہے کہ ہم جہاد میں نہ جائیں؟ تو آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر» نازل ہوئی، اور اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت دی ہے۔ ان بیٹھ رہنے والوں سے مراد اس آیت میں غیر معذور لوگ ہیں، باقی رہے معذور لوگ تو وہ مجاہدین کے برابر ہیں۔ اللہ نے مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر اجر عظیم کے ذریعہ فضیلت دی ہے۔ اور بیٹھ رہنے والے مومنین پر اپنی جانب سے ان کے درجے بڑھا کر فضیلت دی ہے۔ اور یہ بیٹھ رہنے والے مومنین وہ ہیں جو بیمار و معذور نہیں ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- مقسم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عبداللہ بن حارث کے آزاد کردہ غلام ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ابن عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں اور مقسم کی کنیت ابوالقاسم ہے۔
حدثنا الحسن بن محمد الزعفراني، حدثنا الحجاج بن محمد، عن ابن جريج، اخبرني عبد الكريم، سمع مقسما، مولى عبد الله بن الحارث يحدث عن ابن عباس، انه قال : ( لا يستوي القاعدون من المومنين غير اولي الضرر ) عن بدر والخارجون الى بدر لما نزلت غزوة بدر قال عبد الله بن جحش وابن ام مكتوم انا اعميان يا رسول الله فهل لنا رخصة فنزلت : ( لا يستوي القاعدون من المومنين غير اولي الضرر ) و : (فضل الله المجاهدين على القاعدين درجة ) فهولاء القاعدون غير اولي الضرر : ( وفضل الله المجاهدين على القاعدين اجرا عظيما ) درجات منه على القاعدين من المومنين غير اولي الضرر . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه من حديث ابن عباس ومقسم يقال هو مولى عبد الله بن الحارث ويقال هو مولى عبد الله بن عباس وكنيته ابو القاسم
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو مسجد میں بیٹھا ہوا دیکھا تو میں بھی آگے بڑھ کر ان کے پہلو میں جا بیٹھا انہوں نے ہمیں بتایا کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ نے انہیں خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں املا کرایا « ( لا يستوي القاعدون من المؤمنين» «والمجاهدون في سبيل الله» ”گھروں میں بیٹھ رہنے والے مسلمان، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے“ اسی دوران ابن ام مکتوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ پہنچے اور آپ اس آیت کا ہمیں املا کرا رہے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی، اگر میں جہاد کی طاقت رکھتا تو ضرور جہاد کرتا، وہ نابینا شخص تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر آیت «غير أولي الضرر» نازل فرمائی اور جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت آپ کی ران ( قریب بیٹھے ہونے کی وجہ سے ) میری ران پر تھی، وہ ( نزول وحی کے دباؤ سے ) بوجھل ہو گئی، لگتا تھا کہ میری ران پس جائے گی۔ پھر ( جب نزول وحی کی کیفیت ختم ہو گئی ) تو آپ کی پریشانی دور ہو گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح کئی راویوں نے زہری سے اور زہری نے سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ۳- معمر نے زہری سے یہ حدیث قبیصہ بن ذویب کے واسطہ سے، قبیصہ نے زید بن ثابت سے روایت کی ہے، اور اس حدیث میں ایک روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کی ایک تابعی سے ہے، روایت کیا ہے سہل بن سعد انصاری ( صحابی ) نے مروان بن حکم ( تابعی ) سے۔ اور مروان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے، وہ تابعی ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن صالح بن كيسان، عن ابن شهاب، حدثني سهل بن سعد، قال رايت مروان بن الحكم جالسا في المسجد فاقبلت حتى جلست الى جنبه فاخبرنا ان زيد بن ثابت اخبره ان النبي صلى الله عليه وسلم املى عليه لا يستوي القاعدون من المومنين والمجاهدون في سبيل الله قال فجاءه ابن ام مكتوم وهو يمليها على فقال يا رسول الله والله لو استطيع الجهاد لجاهدت وكان رجلا اعمى . فانزل الله على رسوله صلى الله عليه وسلم وفخذه على فخذي فثقلت حتى همت ترض فخذي ثم سري عنه فانزل الله عليه : ( غير اولي الضرر ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . هكذا روى غير واحد عن الزهري عن سهل بن سعد نحو هذا . وروى معمر عن الزهري هذا الحديث عن قبيصة بن ذويب عن زيد بن ثابت . وفي هذا الحديث رواية رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عن رجل من التابعين رواه سهل بن سعد الانصاري عن مروان بن الحكم ومروان لم يسمع من النبي صلى الله عليه وسلم وهو من التابعين
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی الله عنہ سے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم» ”تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں پریشان کریں گے“ ( النساء: ۱۰۱ ) ، اور اب تو لوگ امن و امان میں ہیں ( پھر قصر کیوں کر جائز ہو گی؟ ) عمر رضی الله عنہ نے کہا: جو بات تمہیں کھٹکی وہ مجھے بھی کھٹک چکی ہے، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: ”یہ اللہ کی جانب سے تمہارے لیے ایک صدقہ ہے جو اللہ نے تمہیں عنایت فرمایا ہے، پس تم اس کے صدقے کو قبول کر لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، قال سمعت عبد الرحمن بن عبد الله بن ابي عمار، يحدث عن عبد الله بن باباه، عن يعلى بن امية، قال قلت لعمر بن الخطاب انما قال الله : ( ان تقصروا من الصلاة ان خفتم ان يفتنكم الذين كفروا ) وقد امن الناس . فقال عمر عجبت مما عجبت منه فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " صدقة تصدق الله بها عليكم فاقبلوا صدقته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضجنان اور عسفان ( نامی مقامات ) کے درمیان قیام فرما ہوئے، مشرکین نے کہا: ان کے یہاں ایک نماز ہوتی ہے جو انہیں اپنے باپ بیٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی ہے، اور وہ نماز عصر ہے، تو تم پوری طرح تیاری کر لو پھر ان پر یک بارگی ٹوٹ پڑو۔ ( اس پر ) جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو حکم دیا کہ اپنے صحابہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں ( ان میں سے ) ایک گروہ کے ساتھ آپ نماز پڑھیں اور دوسرا گروہ ان کے پیچھے اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار لے کر کھڑا رہے۔ پھر دوسرے گروہ کے لوگ آئیں اور آپ کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں پھر یہ ( پہلے گروہ والے لوگ ) اپنی ڈھالیں اور ہتھیار لے کر ان کے پیچھے کھڑے رہیں ۱؎ اس طرح ان سب کی ایک ایک رکعت ہو گی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوں گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے عبداللہ بن شقیق کی روایت سے جسے وہ ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، ابن عباس، جابر، ابوعیاش زرقی، ابن عمر، حذیفہ، ابوبکرہ اور سہل بن ابوحشمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور ابوعیاش کا نام زید بن صامت ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا سعيد بن عبيد الهنايي، حدثنا عبد الله بن شقيق، حدثنا ابو هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نزل بين ضجنان وعسفان فقال المشركون ان لهولاء صلاة هي احب اليهم من ابايهم وابنايهم وهي العصر فاجمعوا امركم فميلوا عليهم ميلة واحدة وان جبريل اتى النبي صلى الله عليه وسلم فامره ان يقسم اصحابه شطرين فيصلي بهم وتقوم طايفة اخرى وراءهم ولياخذوا حذرهم واسلحتهم ثم ياتي الاخرون ويصلون معه ركعة واحدة ثم ياخذ هولاء حذرهم واسلحتهم فتكون لهم ركعة ركعة ولرسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتان . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه من حديث عبد الله بن شقيق عن ابي هريرة . وفي الباب عن عبد الله بن مسعود وزيد بن ثابت وابن عباس وجابر وابي عياش الزرقي وابن عمر وحذيفة وابي بكرة وسهل بن ابي حثمة وابو عياش الزرقي اسمه زيد بن صامت
قتادہ بن نعمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( انصار ) میں سے ایک خاندان ایسا تھا، جنہیں بنو ابیرق کہا جاتا تھا۔ اور وہ تین بھائی تھے، بشر، بشیر اور مبشر، بشیر منافق تھا، شعر کہتا تھا اور صحابہ کی ہجو کرتا تھا، پھر ان کو بعض عرب کی طرف منسوب کر کے کہتا تھا: فلان نے ایسا ایسا کہا، اور فلاں نے ایسا ایسا کہا ہے۔ صحابہ نے یہ شعر سنا تو کہا: اللہ کی قسم! یہ کسی اور کے نہیں بلکہ اسی خبیث کے کہے ہوئے ہیں – یا جیسا کہ راوی نے «خبیث» کی جگہ «الرجل» کہا – انہوں ( یعنی صحابہ ) نے کہا: یہ اشعار ابن ابیرق کے کہے ہوئے ہیں، وہ لوگ زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں ہی میں محتاج اور فاقہ زدہ لوگ تھے، مدینہ میں لوگوں کا کھانا کھجور اور جو ہی تھا، جب کسی شخص کے یہاں مالداری و کشادگی ہو جاتی اور کوئی غلوں کا تاجر شام سے سفید آٹا ( میدہ ) لے کر آتا تو وہ مالدار شخص اس میں سے کچھ خرید لیتا اور اسے اپنے کھانے کے لیے مخصوص کر لیتا، اور بال بچے کھجور اور جو ہی کھاتے رہتے۔ ( ایک بار ایسا ہوا ) ایک مال بردار شتربان شام سے آیا تو میرے چچا رفاعہ بن زید نے میدے کی ایک بوری خرید لی اور اسے اپنے اسٹاک روم میں رکھ دی، اور اس اسٹور روم میں ہتھیار، زرہ اور تلوار بھی رکھی ہوئی تھی۔ ان پر ظلم و زیادتی یہ ہوئی کہ گھر کے نیچے سے اس اسٹاک روم میں نقب لگائی گئی اور راشن اور ہتھیار سب کا سب چرا لیا گیا، صبح کے وقت میرے چچا رفاعہ میرے پاس آئے اور کہا: میرے بھتیجے آج کی رات تو مجھ پر بڑی زیادتی کی گئی۔ میرے اسٹور روم میں نقب لگائی گئی ہے اور ہمارا راشن اور ہمارا ہتھیار سب کچھ چرا لیا گیا ہے۔ ہم نے محلے میں پتہ لگانے کی کوشش کی اور لوگوں سے پوچھ تاچھ کی تو ہم سے کہا گیا کہ ہم نے بنی ابیرق کو آج رات دیکھا ہے، انہوں نے آگ جلا رکھی تھی، اور ہمارا خیال ہے کہ تمہارے ہی کھانے پر ( جشن ) منا رہے ہوں گے۔ ( یعنی چوری کا مال پکا رہے ہوں گے ) جب ہم محلے میں پوچھ تاچھ کر رہے تھے تو ابوابیرق نے کہا: قسم اللہ کی! ہمیں تو تمہارا چور لبید بن سہل ہی لگتا ہے، لبید ہم میں ایک صالح مرد اور مسلمان شخص تھے، جب لبید نے سنا کہ بنو ابیرق اس پر چوری کا الزام لگا رہے ہیں تو انہوں نے اپنی تلوار سونت لی، اور کہا میں چور ہوں؟ قسم اللہ کی! میری یہ تلوار تمہارے بیچ رہے گی یا پھر تم اس چوری کا پتہ لگا کر دو۔ لوگوں نے کہا: جناب! آپ اپنی تلوار ہم سے دور ہی رکھیں، آپ چور نہیں ہو سکتے، ہم نے محلے میں مزید پوچھ تاچھ کی، تو ہمیں اس میں شک نہیں رہ گیا کہ بنو ابیرق ہی چور ہیں۔ میرے چچا نے کہا: بھتیجے! اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتے اور آپ سے اس ( حادثے ) کا ذکر کرتے ( تو ہو سکتا ہے میرا مال مجھے مل جاتا ) قتادہ بن نعمان رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کیا: ہمارے ہی لوگوں میں سے ایک گھر والے نے ظلم و زیادتی کی ہے۔ انہوں نے ہمارے چچا رفاعہ بن زید ( کے گھر ) کا رخ کیا ہے اور ان کے اسٹور روم میں نقب لگا کر ان کا ہتھیار اور ان کا راشن ( کھانا ) چرا لے گئے ہیں، تو ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ہتھیار ہمیں واپس دے دیں۔ راشن ( غلے ) کی واپسی کا ہم مطالبہ نہیں کرتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس بارے میں مشورہ ( اور پوچھ تاچھ ) کے بعد ہی کوئی فیصلہ دوں گا“۔ جب یہ بات بنو ابیرق نے سنی تو وہ اپنی قوم کے ایک شخص کے پاس آئے، اس شخص کو اسیر بن عروہ کہا جاتا تھا۔ انہوں نے اس سے اس معاملے میں بات چیت کی اور محلے کے کچھ لوگ بھی اس معاملے میں ان کے ساتھ ایک رائے ہو گئے۔ اور ان سب نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر ) کہا: اللہ کے رسول! قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا دونوں ہم ہی لوگوں میں سے ایک گھر والوں پر جو مسلمان ہیں اور بھلے لوگ ہیں بغیر کسی گواہ اور بغیر کسی ثبوت کے چوری کا الزام لگاتے ہیں۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «ومن يكسب إثما فإنما يكسبه على نفسه» إلی قولہ «إثما مبينا» ۳؎ اس سے اشارہ نبی ابیرق کی اس بات کی طرف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ چوری لبید بن سہل نے کی ہے۔ اور آگے اللہ نے فرمایا: «ولولا فضل الله عليك ورحمته» سے «فسوف نؤتيه أجرا عظيما» ۴؎ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو وہ ( بنی ابیرق ) ہتھیار رسول اللہ کے پاس لے آئے۔ اور آپ نے رفاعہ کو لوٹا دیئے، قتادہ کہتے ہیں: میرے چچا بوڑھے تھے اور اسلام لانے سے پہلے زمانہ جاہلیت ہی میں ان کی نگاہیں کمزور ہو چکی تھیں، اور میں سمجھتا تھا کہ ان کے ایمان میں کچھ خلل ہے لیکن جب میں ہتھیار لے کر اپنے چچا کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! اسے میں اللہ کی راہ میں صدقہ میں دیتا ہوں، اس وقت میں نے جان لیا ( اور یقین کر لیا ) کہ چچا کا اسلام پختہ اور درست تھا ( اور ہے ) جب قرآن کی آیتیں نازل ہوئی تو بشیر مشرکوں میں جا شامل ہوا۔ اور سلافہ بنت سعد بن سمیہ کے پاس جا ٹھہرا، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء ومن يشرك بالله فقد ضل ضلالا بعيدا» نازل فرمائی ۵؎ جب وہ سلافہ کے پاس جا کر ٹھہرا تو حسان بن ثابت رضی الله عنہ نے اپنے چند اشعار کے ذریعہ اس کی ہجو کی، ( یہ سن کر ) اس نے سدافہ بنت سعد کا سامان اپنے سر پر رکھ کر گھر سے نکلی اور میدان میں پھینک آئی۔ پھر ( اس سے ) کہا: تم نے ہمیں حسان کے شعر کا تحفہ دیا ہے؟ تم سے مجھے کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور ہم محمد بن سلمہ حرانی کے سوا کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوع کیا ہو، ۲- یونس بن بکیر اور کئی لوگوں نے اس حدیث کو محمد بن اسحاق سے اور محمد بن اسحاق نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ عاصم نے اپنے باپ سے اور انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے، ۳- قتادہ بن نعمان، ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے اخیافی بھائی ہیں، ۴- ابو سعید خدری سعد بن مالک بن سنان ہیں۔
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قرآن میں کوئی آیت مجھے اس آیت: «إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء» ”اللہ اس بات کو معاف نہیں کر سکتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، ہاں اس کے سوا جس کسی بھی چیز کو چاہے گا معاف کر دے گا“ ( النساء: ۱۱۶ ) ، سے زیادہ محبوب و پسندیدہ نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے، ۳- ثویر کی کنیت ابوجہم ہے اور وہ کوفہ کے رہنے والے ہیں تابعی ہیں اور ابن عمر اور ابن زبیر سے ان کا سماع ہے، ابن مہدی ان پر کچھ طعن کرتے تھے۔
حدثنا خلاد بن اسلم البغدادي، حدثنا النضر بن شميل، عن اسراييل، عن ثوير بن ابي فاختة، عن ابيه، عن علي بن ابي طالب، قال ما في القران اية احب الى من هذه الاية : ( ان الله لا يغفر ان يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء ) قال هذا حديث حسن غريب . وابو فاختة اسمه سعيد بن علاقة وثوير يكنى ابا جهم وهو رجل كوفي من التابعين وقد سمع من ابن عمر وابن الزبير . وابن مهدي كان يغمزه قليلا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «من يعمل سوءا يجز به» ”جو کوئی برائی کرے گا ضرور اس کا بدلہ پائے گا“ ( النساء: ۱۲۳ ) ، نازل ہوئی تو یہ بات مسلمانوں پر بڑی گراں گزری، اس کی شکایت انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو آپ نے فرمایا: ”حق کے قریب ہو جاؤ، اور سیدھے رہو، مومن کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے اس میں اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ آدمی کو کوئی کانٹا چبھ جائے یا اسے کوئی مصیبت پہنچ جائے ( تو اس کے سبب سے بھی اس کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى بن ابي عمر، وعبد الله بن ابي زياد المعنى، واحد، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن محيصن، عن محمد بن قيس بن مخرمة، عن ابي هريرة، قال لما نزلت : (من يعمل سوءا يجز به ) شق ذلك على المسلمين فشكوا ذلك الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " قاربوا وسددوا وفي كل ما يصيب المومن كفارة حتى الشوكة يشاكها او النكبة ينكبها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . ابن محيصن هو عمر بن عبد الرحمن بن محيصن
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اس وقت آپ پر یہ آیت: «من يعمل سوءا يجز به ولا يجد له من دون الله وليا ولا نصيرا» نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ابوبکر! کیا میں تمہیں ایک آیت جو ( ابھی ) مجھ پر اتری ہے نہ پڑھا دوں؟“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ ابوبکر رضی الله عنہ کہتے ہیں: تو آپ نے مجھے ( مذکورہ آیت ) پڑھائی۔ میں نہیں جانتا کیا بات تھی، مگر میں نے اتنا پایا کہ کمر ٹوٹ رہی ہے تو میں نے اس کی وجہ سے انگڑائی لی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کیا حال ہے!“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، بھلا ہم میں کون ہے ایسا جس سے کوئی برائی سرزد نہ ہوتی ہو؟ اور حال یہ ہے کہ ہم سے جو بھی عمل صادر ہو گا ہمیں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( گھبراؤ نہیں ) ابوبکر تم اور سارے مومن لوگ یہ ( چھوٹی موٹی ) سزائیں تمہیں اسی دنیا ہی میں دے دی جائیں گی، یہاں تک کہ جب تم اللہ سے ملو گے تو تمہارے ذمہ کوئی گناہ نہ ہو گا، البتہ دوسروں کا حال یہ ہو گا کہ ان کی برائیاں جمع اور اکٹھی ہوتی رہیں گی جن کا بدلہ انہیں قیامت کے دن دیا جائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور اس کی سند میں کلام ہے، ۲- موسیٰ بن عبیدہ حدیث میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید اور احمد بن حنبل نے ضعیف کہا ہے۔ اور مولی بن سباع مجہول ہیں، ۳- اور یہ حدیث اس سند کے علاوہ سند سے ابوبکر سے مروی ہے، لیکن اس کی کوئی سند بھی صحیح نہیں ہے، ۴- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، وعبد بن حميد، قالا حدثنا روح بن عبادة، عن موسى بن عبيدة، اخبرني مولى ابن سباع، قال سمعت عبد الله بن عمر، يحدث عن ابي بكر الصديق، قال كنت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فانزلت عليه هذه الاية : ( من يعمل سوءا يجز به ولا يجد له من دون الله وليا ولا نصيرا ) فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا بكر الا اقريك اية انزلت على " . قلت بلى يا رسول الله . قال فاقرانيها فلا اعلم الا اني قد كنت وجدت انقصاما في ظهري فتمطات لها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما شانك يا ابا بكر " . قلت يا رسول الله بابي انت وامي واينا لم يعمل سوءا وانا لمجزيون بما عملنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما انت يا ابا بكر والمومنون فتجزون بذلك في الدنيا حتى تلقوا الله وليس لكم ذنوب واما الاخرون فيجمع ذلك لهم حتى يجزوا به يوم القيامة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب وفي اسناده مقال . موسى بن عبيدة يضعف في الحديث ضعفه يحيى بن سعيد واحمد بن حنبل ومولى ابن سباع مجهول . وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه عن ابي بكر وليس له اسناد صحيح ايضا . وفي الباب عن عايشة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین سودہ رضی الله عنہا کو ڈر ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں طلاق دے دیں گے، تو انہوں نے عرض کیا: آپ ہمیں طلاق نہ دیں، اور مجھے اپنی بیویوں میں شامل رہنے دیں اور میری باری کا دن عائشہ رضی الله عنہا کو دے دیں، تو آپ نے ایسا ہی کیا، اس پر آیت «فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا والصلح خير» ”کوئی حرج نہیں کہ دونوں ( میاں بیوی ) صلح کر لیں اور صلح بہتر ہے“ ( النساء: ۱۲۸ ) ، تو جس بات پر بھی انہوں نے صلح کر لی، وہ جائز ہے۔ لگتا ہے کہ یہ ابن عباس رضی الله عنہما کا قول ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا سليمان بن معاذ، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال خشيت سودة ان يطلقها، النبي صلى الله عليه وسلم فقالت لا تطلقني وامسكني واجعل يومي لعايشة ففعل فنزلت : ( فلا جناح عليهما ان يصلحا بينهما صلحا والصلح خير ) . فما اصطلحا عليه من شيء فهو جايز كانه من قول ابن عباس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آخری آیت جو نازل ہوئی یا آخری چیز جو نازل کی گئی ہے وہ یہ آیت ہے «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا ابو نعيم، حدثنا مالك بن مغول، عن ابي السفر، عن البراء، قال اخر اية انزلت او اخر شيء نزل : ( يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وابو السفر اسمه سعيد بن احمد الثوري ويقال ابن يحمد
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» کی تفسیر کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے سلسلہ میں تو تمہارے لیے آیت صیف ۱؎ کافی ہو گی“۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا احمد بن يونس، عن ابي بكر بن عياش، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله : ( يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة ) فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " تجزيك اية الصيف
طارق بن شہاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے کہا: امیر المؤمنین! اگر یہ آیت «اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا» ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہو گیا“ ( المائدہ: ۳ ) ، ہمارے اوپر ( ہماری توریت میں ) نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے جس دن وہ نازل ہوئی تھی، عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے اس سے کہا: مجھے خوب معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی تھی۔ یہ آیت یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کو جمعہ کے دن نازل ہوئی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن مسعر، وغيره، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، قال قال رجل من اليهود لعمر بن الخطاب يا امير المومنين لو علينا انزلت هذه الاية : ( اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا ) لاتخذنا ذلك اليوم عيدا . فقال له عمر بن الخطاب اني اعلم اى يوم انزلت هذه الاية انزلت يوم عرفة في يوم جمعة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عمار بن ابی عمار کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے آیت «اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا» پڑھی، ان کے پاس ایک یہودی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا: اگر یہ آیت ہم ( یہودیوں ) پر نازل ہوئی ہوتی تو جس دن یہ آیت نازل ہوئی ہے اس دن کو ہم عید ( تہوار ) کا دن بنا لیتے یہ سن کر ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: یہ آیت عید ہی کے دن نازل ہوئی ہے۔ اس دن جمعہ اور عرفہ کا دن تھا۔ ( اور یہ دونوں دن مسلمانوں کی عید کے دن ہیں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابن عباس کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا يزيد بن هارون، اخبرنا حماد بن سلمة، عن عمار بن ابي عمار، قال قرا ابن عباس : ( اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا ) وعنده يهودي فقال لو انزلت هذه علينا لاتخذنا يومها عيدا . قال ابن عباس فانها نزلت في يوم عيد في يوم جمعة ويوم عرفة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث ابن عباس وهو صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوتا ہے، ( کبھی خالی نہیں ہوتا ) بخشش و عطا کرتا رہتا ہے، رات و دن لٹانے اور اس کے دیتے رہنے سے بھی کمی نہیں ہوتی، آپ نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے دیکھا ( سوچا؟ ) جب سے اللہ نے آسمان پیدا کیے ہیں کتنا خرچ کر چکا ہے؟ اتنا کچھ خرچ کر چکنے کے باوجود اللہ کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کچھ بھی کمی نہیں ہوئی۔ اس کا عرش پانی پر ہے، اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے وہ اسے بلند کرتا اور جھکاتا ہے ( جسے چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کم ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یہ حدیث اس آیت «وقالت اليهود يد الله مغلولة غلت أيديهم ولعنوا بما قالوا بل يداه مبسوطتان ينفق كيف يشاء» ۱؎ کی تفسیر ہے، اس حدیث کے بارے میں ائمہ دین کی روایت یہ ہے کہ ان پر ویسے ہی ایمان لائیں گے جیسے کہ ان کا ذکر آیا ہے، ان کی نہ کوئی تفسیر کی جائے گی اور نہ ہی کسی طرح کا وہم و قیاس لڑایا جائے گا۔ ایسا ہی بہت سے ائمہ کرام: سفیان ثوری، مالک بن انس، سفیان بن عیینہ، ابن مبارک وغیرہم نے کہا ہے۔ یہ چیزیں ایسی ہی بیان کی جائیں گی جیسی بیان کی گئی ہیں اور ان پر ایمان رکھا جائے گا لیکن ان کی کیفیت کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا ۲؎۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا محمد بن اسحاق، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يمين الرحمن ملاى سحاء لا يغيضها الليل والنهار قال ارايتم ما انفق منذ خلق السموات والارض فانه لم يغض ما في يمينه وعرشه على الماء وبيده الاخرى الميزان يرفع ويخفض " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهذا الحديث في تفسير هذه الاية : ( وقالت اليهود يد الله مغلولة غلت ايديهم ولعنوا بما قالوا بل يداه مبسوطتان ينفق كيف يشاء ) وهذا حديث قد روته الايمة نومن به كما جاء من غير ان يفسر او يتوهم هكذا قال غير واحد من الايمة منهم الثوري ومالك بن انس وابن عيينة وابن المبارك انه تروى هذه الاشياء ويومن بها ولا يقال كيف
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت و نگرانی کی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ جب آیت «والله يعصمك من الناس» ”اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچائے گا“ ( المائدہ: ۶۷ ) ، نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر خیمہ سے باہر نکالا اور پہرہ داروں سے کہا: تم ( اپنے گھروں کو ) لوٹ جاؤ کیونکہ میری حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لے لی ہے ۱؎۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا الحارث بن عبيد، عن سعيد الجريري، عن عبد الله بن شقيق، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يحرس حتى نزلت هذه الاية : ( والله يعصمك من الناس ) فاخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم راسه من القبة فقال لهم " يا ايها الناس انصرفوا فقد عصمني الله " . حدثنا نصر بن علي، حدثنا مسلم بن ابراهيم، بهذا الاسناد نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وروى بعضهم، هذا الحديث عن الجريري، عن عبد الله بن شقيق، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يحرس ولم يذكروا فيه عن عايشة
حدثنا الحسن بن احمد بن ابي شعيب ابو مسلم الحراني، حدثنا محمد بن سلمة الحراني، حدثنا محمد بن اسحاق، عن عاصم بن عمر بن قتادة، عن ابيه، عن جده، قتادة بن النعمان قال كان اهل بيت منا يقال لهم بنو ابيرق بشر وبشير ومبشر وكان بشير رجلا منافقا يقول الشعر يهجو به اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم ينحله بعض العرب ثم يقول قال فلان كذا وكذا قال فلان كذا وكذا فاذا سمع اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك الشعر قالوا والله ما يقول هذا الشعر الا هذا الخبيث او كما قال الرجل وقالوا ابن الابيرق قالها قال وكان اهل بيت حاجة وفاقة في الجاهلية والاسلام وكان الناس انما طعامهم بالمدينة التمر والشعير وكان الرجل اذا كان له يسار فقدمت ضافطة من الشام من الدرمك ابتاع الرجل منها فخص بها نفسه واما العيال فانما طعامهم التمر والشعير فقدمت ضافطة من الشام فابتاع عمي رفاعة بن زيد حملا من الدرمك فجعله في مشربة له وفي المشربة سلاح ودرع وسيف فعدي عليه من تحت البيت فنقبت المشربة واخذ الطعام والسلاح فلما اصبح اتاني عمي رفاعة فقال يا ابن اخي انه قد عدي علينا في ليلتنا هذه فنقبت مشربتنا فذهب بطعامنا وسلاحنا . قال فتحسسنا في الدار وسالنا فقيل لنا قد راينا بني ابيرق استوقدوا في هذه الليلة ولا نرى فيما نرى الا على بعض طعامكم . قال وكان بنو ابيرق قالوا ونحن نسال في الدار والله ما نرى صاحبكم الا لبيد بن سهل رجل منا له صلاح واسلام فلما سمع لبيد اخترط سيفه وقال انا اسرق فوالله ليخالطنكم هذا السيف او لتبينن هذه السرقة . قالوا اليك عنها ايها الرجل فما انت بصاحبها . فسالنا في الدار حتى لم نشك انهم اصحابها فقال لي عمي يا ابن اخي لو اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له . قال قتادة فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت ان اهل بيت منا اهل جفاء عمدوا الى عمي رفاعة بن زيد فنقبوا مشربة له واخذوا سلاحه وطعامه فليردوا علينا سلاحنا فاما الطعام فلا حاجة لنا فيه . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " سامر في ذلك " . فلما سمع بنو ابيرق اتوا رجلا منهم يقال له اسير بن عروة فكلموه في ذلك فاجتمع في ذلك ناس من اهل الدار فقالوا يا رسول الله ان قتادة بن النعمان وعمه عمدا الى اهل بيت منا اهل اسلام وصلاح يرمونهم بالسرقة من غير بينة ولا ثبت . قال قتادة فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فكلمته فقال " عمدت الى اهل بيت ذكر منهم اسلام وصلاح ترميهم بالسرقة على غير ثبت ولا بينة " . قال فرجعت ولوددت اني خرجت من بعض مالي ولم اكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك فاتاني عمي رفاعة فقال يا ابن اخي ما صنعت فاخبرته بما قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال الله المستعان فلم يلبث ان نزل القران : ( انا انزلنا اليك الكتاب بالحق لتحكم بين الناس بما اراك الله ولا تكن للخاينين خصيما ) بني ابيرق : ( واستغفر الله ) اى مما قلت لقتادة : ( ان الله كان غفورا رحيما * ولا تجادل عن الذين يختانون انفسهم ان الله لا يحب من كان خوانا اثيما * يستخفون من الناس ولا يستخفون من الله ) الى قوله : ( غفورا رحيما ) اى لو استغفروا الله لغفر لهم : ( ومن يكسب اثما فانما يكسبه على نفسه ) الى قوله : ( اثما مبينا ) قولهم للبيد : ولولا فضل الله عليك ورحمته ) الى قوله : ( فسوف نوتيه اجرا عظيما ) فلما نزل القران اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بالسلاح فرده الى رفاعة فقال قتادة لما اتيت عمي بالسلاح وكان شيخا قد عسي او عشي في الجاهلية وكنت ارى اسلامه مدخولا فلما اتيته بالسلاح قال يا ابن اخي هو في سبيل الله فعرفت ان اسلامه كان صحيحا فلما نزل القران لحق بشير بالمشركين فنزل على سلافة بنت سعد ابن سمية فانزل الله : ( ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المومنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا * ان الله لا يغفر ان يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء ومن يشرك بالله فقد ضل ضلالا بعيدا ) فلما نزل على سلافة رماها حسان بن ثابت بابيات من شعره فاخذت رحله فوضعته على راسها ثم خرجت به فرمت به في الابطح ثم قالت اهديت لي شعر حسان ما كنت تاتيني بخير . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعلم احدا اسنده غير محمد بن سلمة الحراني . وروى يونس بن بكير وغير واحد هذا الحديث عن محمد بن اسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة مرسل لم يذكروا فيه عن ابيه عن جده وقتادة بن النعمان هو اخو ابي سعيد الخدري لامه وابو سعيد الخدري اسمه سعد بن مالك بن سنان