احادیث
#3036
سنن ترمذی - Exegesis
قتادہ بن نعمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( انصار ) میں سے ایک خاندان ایسا تھا، جنہیں بنو ابیرق کہا جاتا تھا۔ اور وہ تین بھائی تھے، بشر، بشیر اور مبشر، بشیر منافق تھا، شعر کہتا تھا اور صحابہ کی ہجو کرتا تھا، پھر ان کو بعض عرب کی طرف منسوب کر کے کہتا تھا: فلان نے ایسا ایسا کہا، اور فلاں نے ایسا ایسا کہا ہے۔ صحابہ نے یہ شعر سنا تو کہا: اللہ کی قسم! یہ کسی اور کے نہیں بلکہ اسی خبیث کے کہے ہوئے ہیں – یا جیسا کہ راوی نے «خبیث» کی جگہ «الرجل» کہا – انہوں ( یعنی صحابہ ) نے کہا: یہ اشعار ابن ابیرق کے کہے ہوئے ہیں، وہ لوگ زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں ہی میں محتاج اور فاقہ زدہ لوگ تھے، مدینہ میں لوگوں کا کھانا کھجور اور جو ہی تھا، جب کسی شخص کے یہاں مالداری و کشادگی ہو جاتی اور کوئی غلوں کا تاجر شام سے سفید آٹا ( میدہ ) لے کر آتا تو وہ مالدار شخص اس میں سے کچھ خرید لیتا اور اسے اپنے کھانے کے لیے مخصوص کر لیتا، اور بال بچے کھجور اور جو ہی کھاتے رہتے۔ ( ایک بار ایسا ہوا ) ایک مال بردار شتربان شام سے آیا تو میرے چچا رفاعہ بن زید نے میدے کی ایک بوری خرید لی اور اسے اپنے اسٹاک روم میں رکھ دی، اور اس اسٹور روم میں ہتھیار، زرہ اور تلوار بھی رکھی ہوئی تھی۔ ان پر ظلم و زیادتی یہ ہوئی کہ گھر کے نیچے سے اس اسٹاک روم میں نقب لگائی گئی اور راشن اور ہتھیار سب کا سب چرا لیا گیا، صبح کے وقت میرے چچا رفاعہ میرے پاس آئے اور کہا: میرے بھتیجے آج کی رات تو مجھ پر بڑی زیادتی کی گئی۔ میرے اسٹور روم میں نقب لگائی گئی ہے اور ہمارا راشن اور ہمارا ہتھیار سب کچھ چرا لیا گیا ہے۔ ہم نے محلے میں پتہ لگانے کی کوشش کی اور لوگوں سے پوچھ تاچھ کی تو ہم سے کہا گیا کہ ہم نے بنی ابیرق کو آج رات دیکھا ہے، انہوں نے آگ جلا رکھی تھی، اور ہمارا خیال ہے کہ تمہارے ہی کھانے پر ( جشن ) منا رہے ہوں گے۔ ( یعنی چوری کا مال پکا رہے ہوں گے ) جب ہم محلے میں پوچھ تاچھ کر رہے تھے تو ابوابیرق نے کہا: قسم اللہ کی! ہمیں تو تمہارا چور لبید بن سہل ہی لگتا ہے، لبید ہم میں ایک صالح مرد اور مسلمان شخص تھے، جب لبید نے سنا کہ بنو ابیرق اس پر چوری کا الزام لگا رہے ہیں تو انہوں نے اپنی تلوار سونت لی، اور کہا میں چور ہوں؟ قسم اللہ کی! میری یہ تلوار تمہارے بیچ رہے گی یا پھر تم اس چوری کا پتہ لگا کر دو۔ لوگوں نے کہا: جناب! آپ اپنی تلوار ہم سے دور ہی رکھیں، آپ چور نہیں ہو سکتے، ہم نے محلے میں مزید پوچھ تاچھ کی، تو ہمیں اس میں شک نہیں رہ گیا کہ بنو ابیرق ہی چور ہیں۔ میرے چچا نے کہا: بھتیجے! اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتے اور آپ سے اس ( حادثے ) کا ذکر کرتے ( تو ہو سکتا ہے میرا مال مجھے مل جاتا ) قتادہ بن نعمان رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کیا: ہمارے ہی لوگوں میں سے ایک گھر والے نے ظلم و زیادتی کی ہے۔ انہوں نے ہمارے چچا رفاعہ بن زید ( کے گھر ) کا رخ کیا ہے اور ان کے اسٹور روم میں نقب لگا کر ان کا ہتھیار اور ان کا راشن ( کھانا ) چرا لے گئے ہیں، تو ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ہتھیار ہمیں واپس دے دیں۔ راشن ( غلے ) کی واپسی کا ہم مطالبہ نہیں کرتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس بارے میں مشورہ ( اور پوچھ تاچھ ) کے بعد ہی کوئی فیصلہ دوں گا“۔ جب یہ بات بنو ابیرق نے سنی تو وہ اپنی قوم کے ایک شخص کے پاس آئے، اس شخص کو اسیر بن عروہ کہا جاتا تھا۔ انہوں نے اس سے اس معاملے میں بات چیت کی اور محلے کے کچھ لوگ بھی اس معاملے میں ان کے ساتھ ایک رائے ہو گئے۔ اور ان سب نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر ) کہا: اللہ کے رسول! قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا دونوں ہم ہی لوگوں میں سے ایک گھر والوں پر جو مسلمان ہیں اور بھلے لوگ ہیں بغیر کسی گواہ اور بغیر کسی ثبوت کے چوری کا الزام لگاتے ہیں۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «ومن يكسب إثما فإنما يكسبه على نفسه» إلی قولہ «إثما مبينا» ۳؎ اس سے اشارہ نبی ابیرق کی اس بات کی طرف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ چوری لبید بن سہل نے کی ہے۔ اور آگے اللہ نے فرمایا: «ولولا فضل الله عليك ورحمته» سے «فسوف نؤتيه أجرا عظيما» ۴؎ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو وہ ( بنی ابیرق ) ہتھیار رسول اللہ کے پاس لے آئے۔ اور آپ نے رفاعہ کو لوٹا دیئے، قتادہ کہتے ہیں: میرے چچا بوڑھے تھے اور اسلام لانے سے پہلے زمانہ جاہلیت ہی میں ان کی نگاہیں کمزور ہو چکی تھیں، اور میں سمجھتا تھا کہ ان کے ایمان میں کچھ خلل ہے لیکن جب میں ہتھیار لے کر اپنے چچا کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! اسے میں اللہ کی راہ میں صدقہ میں دیتا ہوں، اس وقت میں نے جان لیا ( اور یقین کر لیا ) کہ چچا کا اسلام پختہ اور درست تھا ( اور ہے ) جب قرآن کی آیتیں نازل ہوئی تو بشیر مشرکوں میں جا شامل ہوا۔ اور سلافہ بنت سعد بن سمیہ کے پاس جا ٹھہرا، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء ومن يشرك بالله فقد ضل ضلالا بعيدا» نازل فرمائی ۵؎ جب وہ سلافہ کے پاس جا کر ٹھہرا تو حسان بن ثابت رضی الله عنہ نے اپنے چند اشعار کے ذریعہ اس کی ہجو کی، ( یہ سن کر ) اس نے سدافہ بنت سعد کا سامان اپنے سر پر رکھ کر گھر سے نکلی اور میدان میں پھینک آئی۔ پھر ( اس سے ) کہا: تم نے ہمیں حسان کے شعر کا تحفہ دیا ہے؟ تم سے مجھے کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور ہم محمد بن سلمہ حرانی کے سوا کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوع کیا ہو، ۲- یونس بن بکیر اور کئی لوگوں نے اس حدیث کو محمد بن اسحاق سے اور محمد بن اسحاق نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ عاصم نے اپنے باپ سے اور انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے، ۳- قتادہ بن نعمان، ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے اخیافی بھائی ہیں، ۴- ابو سعید خدری سعد بن مالک بن سنان ہیں۔
حدثنا الحسن بن احمد بن ابي شعيب ابو مسلم الحراني، حدثنا محمد بن سلمة الحراني، حدثنا محمد بن اسحاق، عن عاصم بن عمر بن قتادة، عن ابيه، عن جده، قتادة بن النعمان قال كان اهل بيت منا يقال لهم بنو ابيرق بشر وبشير ومبشر وكان بشير رجلا منافقا يقول الشعر يهجو به اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم ينحله بعض العرب ثم يقول قال فلان كذا وكذا قال فلان كذا وكذا فاذا سمع اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك الشعر قالوا والله ما يقول هذا الشعر الا هذا الخبيث او كما قال الرجل وقالوا ابن الابيرق قالها قال وكان اهل بيت حاجة وفاقة في الجاهلية والاسلام وكان الناس انما طعامهم بالمدينة التمر والشعير وكان الرجل اذا كان له يسار فقدمت ضافطة من الشام من الدرمك ابتاع الرجل منها فخص بها نفسه واما العيال فانما طعامهم التمر والشعير فقدمت ضافطة من الشام فابتاع عمي رفاعة بن زيد حملا من الدرمك فجعله في مشربة له وفي المشربة سلاح ودرع وسيف فعدي عليه من تحت البيت فنقبت المشربة واخذ الطعام والسلاح فلما اصبح اتاني عمي رفاعة فقال يا ابن اخي انه قد عدي علينا في ليلتنا هذه فنقبت مشربتنا فذهب بطعامنا وسلاحنا . قال فتحسسنا في الدار وسالنا فقيل لنا قد راينا بني ابيرق استوقدوا في هذه الليلة ولا نرى فيما نرى الا على بعض طعامكم . قال وكان بنو ابيرق قالوا ونحن نسال في الدار والله ما نرى صاحبكم الا لبيد بن سهل رجل منا له صلاح واسلام فلما سمع لبيد اخترط سيفه وقال انا اسرق فوالله ليخالطنكم هذا السيف او لتبينن هذه السرقة . قالوا اليك عنها ايها الرجل فما انت بصاحبها . فسالنا في الدار حتى لم نشك انهم اصحابها فقال لي عمي يا ابن اخي لو اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له . قال قتادة فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت ان اهل بيت منا اهل جفاء عمدوا الى عمي رفاعة بن زيد فنقبوا مشربة له واخذوا سلاحه وطعامه فليردوا علينا سلاحنا فاما الطعام فلا حاجة لنا فيه . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " سامر في ذلك " . فلما سمع بنو ابيرق اتوا رجلا منهم يقال له اسير بن عروة فكلموه في ذلك فاجتمع في ذلك ناس من اهل الدار فقالوا يا رسول الله ان قتادة بن النعمان وعمه عمدا الى اهل بيت منا اهل اسلام وصلاح يرمونهم بالسرقة من غير بينة ولا ثبت . قال قتادة فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فكلمته فقال " عمدت الى اهل بيت ذكر منهم اسلام وصلاح ترميهم بالسرقة على غير ثبت ولا بينة " . قال فرجعت ولوددت اني خرجت من بعض مالي ولم اكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك فاتاني عمي رفاعة فقال يا ابن اخي ما صنعت فاخبرته بما قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال الله المستعان فلم يلبث ان نزل القران : ( انا انزلنا اليك الكتاب بالحق لتحكم بين الناس بما اراك الله ولا تكن للخاينين خصيما ) بني ابيرق : ( واستغفر الله ) اى مما قلت لقتادة : ( ان الله كان غفورا رحيما * ولا تجادل عن الذين يختانون انفسهم ان الله لا يحب من كان خوانا اثيما * يستخفون من الناس ولا يستخفون من الله ) الى قوله : ( غفورا رحيما ) اى لو استغفروا الله لغفر لهم : ( ومن يكسب اثما فانما يكسبه على نفسه ) الى قوله : ( اثما مبينا ) قولهم للبيد : ولولا فضل الله عليك ورحمته ) الى قوله : ( فسوف نوتيه اجرا عظيما ) فلما نزل القران اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بالسلاح فرده الى رفاعة فقال قتادة لما اتيت عمي بالسلاح وكان شيخا قد عسي او عشي في الجاهلية وكنت ارى اسلامه مدخولا فلما اتيته بالسلاح قال يا ابن اخي هو في سبيل الله فعرفت ان اسلامه كان صحيحا فلما نزل القران لحق بشير بالمشركين فنزل على سلافة بنت سعد ابن سمية فانزل الله : ( ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المومنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا * ان الله لا يغفر ان يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء ومن يشرك بالله فقد ضل ضلالا بعيدا ) فلما نزل على سلافة رماها حسان بن ثابت بابيات من شعره فاخذت رحله فوضعته على راسها ثم خرجت به فرمت به في الابطح ثم قالت اهديت لي شعر حسان ما كنت تاتيني بخير . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعلم احدا اسنده غير محمد بن سلمة الحراني . وروى يونس بن بكير وغير واحد هذا الحديث عن محمد بن اسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة مرسل لم يذكروا فيه عن ابيه عن جده وقتادة بن النعمان هو اخو ابي سعيد الخدري لامه وابو سعيد الخدري اسمه سعد بن مالك بن سنان
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3036
- Book Index
- 88
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirHasan
- Al-AlbaniHasan
- Bashar Awad MaaroufHasan
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
