احادیث
#3040
سنن ترمذی - Exegesis
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین سودہ رضی الله عنہا کو ڈر ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں طلاق دے دیں گے، تو انہوں نے عرض کیا: آپ ہمیں طلاق نہ دیں، اور مجھے اپنی بیویوں میں شامل رہنے دیں اور میری باری کا دن عائشہ رضی الله عنہا کو دے دیں، تو آپ نے ایسا ہی کیا، اس پر آیت «فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا والصلح خير» ”کوئی حرج نہیں کہ دونوں ( میاں بیوی ) صلح کر لیں اور صلح بہتر ہے“ ( النساء: ۱۲۸ ) ، تو جس بات پر بھی انہوں نے صلح کر لی، وہ جائز ہے۔ لگتا ہے کہ یہ ابن عباس رضی الله عنہما کا قول ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا سليمان بن معاذ، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال خشيت سودة ان يطلقها، النبي صلى الله عليه وسلم فقالت لا تطلقني وامسكني واجعل يومي لعايشة ففعل فنزلت : ( فلا جناح عليهما ان يصلحا بينهما صلحا والصلح خير ) . فما اصطلحا عليه من شيء فهو جايز كانه من قول ابن عباس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3040
- Book Index
- 92
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiDaif
