احادیث
#3031
سنن ترمذی - Exegesis
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» ”اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بیٹھے رہ جانے والے مومن برابر نہیں“ ( النساء: ۹۵ ) نازل ہوئی تو عمرو بن ام مکتوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ نابینا تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں، میں تو اندھا ہوں؟ تو اللہ تعالیٰ نے آیت: «غير أولي الضرر» نازل فرمائی، یعنی مریض اور معذور لوگوں کو چھوڑ کر، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس شانہ کی ہڈی اور دوات لے آؤ ( یا یہ کہا ) تختی اور دوات لے آؤ کہ میں لکھا کر دے دوں کہ تم معذور لوگوں میں سے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس روایت میں عمرو بن ام مکتوم رضی الله عنہ کہا گیا ہے، انہیں عبداللہ بن ام مکتوم بھی کہا جاتا ہے، وہ عبداللہ بن زائدہ ہیں، اور ام مکتوم ان کی ماں ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال لما نزلت : (لا يستوي القاعدون من المومنين ) جاء عمرو ابن ام مكتوم الى النبي صلى الله عليه وسلم - قال وكان ضرير البصر فقال يا رسول الله ما تامرني اني ضرير البصر فانزل الله تعالى هذه الاية : ( غير اولي الضرر ) الاية . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ايتوني بالكتف والدواة او اللوح والدواة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ويقال عمرو ابن ام مكتوم ويقال عبد الله ابن ام مكتوم وهو عبد الله بن زايدة وام مكتوم امه
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3031
- Book Index
- 83
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih
