Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہو گئے تو انہیں ان کے علماء نے روکا مگر وہ لوگ باز نہ آئے، اس کے باوجود وہ ( علماء ) ان کی مجلسوں میں ان کے ساتھ بیٹھے، ان کے ساتھ مل کر مل کر کھائے پئے تو اللہ نے بعض کے دل بعض سے ملا دیئے ۱؎ اور ان پر داود اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت بھیجی، اور ایسا اس وجہ سے ہوا کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور مقررہ حدود سے آگے بڑھ جاتے تھے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھل کر بیٹھ گئے۔ حالانکہ آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: ”نہیں، قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! تم اس وقت تک نجات نہ پاؤ گے جب تک کہ ”تم ان بدکاروں کو برائی سے روک نہ دو“۔ ان کو بھلائی کی طرف موڑ نہ دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: یزید نے کہا کہ سفیان ثوری اس روایت میں عبداللہ بن مسعود کا نام نہیں لیتے ہیں، ۳- یہ حدیث محمد بن مسلم بن ابی الوضاح سے بھی روایت کی گئی ہے، وہ علی بن بذیمہ سے، علی بن بذیمہ ابوعبیدہ سے اور ابوعبیدہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں، ۴- بعض راوی اسے ابوعبیدہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کرتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا يزيد بن هارون، اخبرنا شريك، عن علي بن بذيمة، عن ابي عبيدة، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لما وقعت بنو اسراييل في المعاصي نهتهم علماوهم فلم ينتهوا فجالسوهم في مجالسهم وواكلوهم وشاربوهم فضرب الله قلوب بعضهم ببعض ولعنهم على لسان داود وعيسى ابن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون " . قال فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان متكيا فقال " لا والذي نفسي بيده حتى تاطروهم على الحق اطرا " . قال عبد الله بن عبد الرحمن قال يزيد وكان سفيان الثوري لا يقول فيه عن عبد الله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وقد روي هذا الحديث عن محمد بن مسلم بن ابي الوضاح عن علي بن بذيمة عن ابي عبيدة عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وبعضهم يقول عن ابي عبيدة عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل
ابوعبیدہ (بن عبداللہ بن مسعود) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں جب کوتاہیاں و برائیاں پیدا ہوئیں تو اس وقت حال یہ تھا کہ آدمی اپنے بھائی کو گناہ میں مبتلا دیکھتا تو اسے اس گناہ کے کرنے سے روکتا، لیکن جب دوسرا دن آتا تو جو کچھ اس نے اسے کرتے دیکھا تھا وہ چیز اسے اس کا ہم نوالہ و ہم پیالہ اور ہم مجلس ہونے سے نہ روکتی، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے دل ایک دوسرے سے ملا دیئے اور انہی لوگوں کے متعلق قرآن نازل ہوا، آپ نے «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون» سے لے کر «ولو كانوا يؤمنون بالله والنبي وما أنزل إليه ما اتخذوهم أولياء ولكن كثيرا منهم فاسقون» ۱؎ تک پڑھا۔ یہ باتیں کرتے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، لیکن جب گفتگو اس مقام پر پہنچی تو آپ سنبھل کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”نہیں، تم نجات نہ پاؤ گے، تم عذاب الٰہی سے بچ نہ سکو گے جب تک کہ تم ظالم کا ہاتھ پکڑ نہ لو، اور اسے پوری طرح حق کی طرف موڑ نہ دو“۔
حدثنا بندار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن علي بن بذيمة، عن ابي عبيدة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان بني اسراييل لما وقع فيهم النقص كان الرجل فيهم يرى اخاه على الذنب فينهاه عنه فاذا كان الغد لم يمنعه ما راى منه ان يكون اكيله وشريبه وخليطه فضرب الله قلوب بعضهم ببعض ونزل فيهم القران فقال : ( لعن الذين كفروا من بني اسراييل على لسان داود وعيسى ابن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون ) " . فقرا حتى بلغ : (ولو كانوا يومنون بالله والنبي وما انزل اليه ما اتخذوهم اولياء ولكن كثيرا منهم فاسقون ) قال وكان نبي الله صلى الله عليه وسلم متكيا فجلس فقال " لا حتى تاخذوا على يدى الظالم فتاطروه على الحق اطرا " . حدثنا بندار، حدثنا ابو داود الطيالسي، واملاه، على حدثنا محمد بن مسلم بن ابي الوضاح، عن علي بن بذيمة، عن ابي عبيدة، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے دعا کی اے اللہ شراب کے بارے میں ہمارے لیے تسلی بخش صاف صاف حکم بیان فرما، تو سورۃ البقرہ کی پوری آیت «يسألونك عن الخمر والميسر» ۱؎ نازل ہوئی۔ ( جب یہ آیت نازل ہو چکی ) تو عمر رضی الله عنہ بلائے گئے اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی۔ ( یہ آیت سن کر ) عمر رضی الله عنہ نے پھر کہا: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کا واضح حکم بیان فرمایا: تو سورۃ نساء کی آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» ۲؎ نازل ہوئی، عمر رضی الله عنہ پھر بلائے گئے اور انہیں یہ آیت بھی پڑھ کر سنائی گئی، انہوں نے پھر کہا: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کا حکم صاف صاف بیان فرما دے۔ تو سورۃ المائدہ کی آیت «إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العداوة والبغضاء في الخمر والميسر» سے «فهل أنتم منتهون» ۳؎ تک نازل ہوئی، عمر رضی الله عنہ پھر بلائے گئے اور آیت پڑھ کر انہیں سنائی گئی، تو انہوں نے کہا: ہم باز رہے ہم باز رہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اسرائیل سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا محمد بن يوسف، اخبرنا اسراييل، حدثنا ابو اسحاق، عن عمر بن شرحبيل ابي ميسرة، عن عمر بن الخطاب، انه قال اللهم بين لنا في الخمر بيان شفاء فنزلت التي في البقرة : ( يسالونك عن الخمر والميسر ) الاية فدعي عمر فقريت عليه فقال اللهم بين لنا في الخمر بيان شفاء فنزلت التي في النساءايها الذين امنوا لا تقربوا الصلاة وانتم سكارى ) فدعي عمر فقريت عليه فقال اللهم بين لنا في الخمر بيان شفاء فنزلت التي في المايدة : ( انما يريد الشيطان ان يوقع بينكم العداوة والبغضاء في الخمر والميسر ) الى قوله ( فهل انتم منتهون ) فدعي عمر فقريت عليه فقال انتهينا انتهينا . قال ابو عيسى وقد روي عن اسراييل هذا الحديث مرسل . حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن ابي ميسرة، عمرو بن شرحبيل ان عمر بن الخطاب، قال اللهم بين لنا في الخمر بيان شفاء . فذكر نحوه وهذا اصح من حديث محمد بن يوسف
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ انتقال فرما گئے۔ پھر جب شراب حرام ہو گئی تو کچھ لوگوں نے کہا: ہمارے ان ساتھیوں کا کیا ہو گا جو شراب پیتے تھے اور انتقال کر گئے، تو آیت نازل ہوئی «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا إذا ما اتقوا وآمنوا وعملوا الصالحات» ”جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ( قبل حرمت ) وہ جو کچھ کھا پی چکے ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں ہے جب کہ وہ ( قبل حرمت کھاتے وقت ) متقی رہے، ایمان پر رہے اور نیک عمل کرتے رہے“ ( المائدہ: ۹۳ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے بھی ابواسحاق کے واسطہ سے براء سے روایت کی ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال مات رجال من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قبل ان تحرم الخمر فلما حرمت الخمر قال رجال كيف باصحابنا وقد ماتوا يشربون الخمر فنزلت : ( ليس على الذين امنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا اذا ما اتقوا وامنوا وعملوا الصالحات ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
اس سند سے ابواسحاق نے براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ انتقال کر گئے، وہ لوگ شراب پیتے تھے، پھر شراب کی حرمت آ گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ نے کہا: ہمارے ان ساتھیوں کا کیا حال ہو گا؟ جو شراب پیتے تھے اور وہ مر چکے ہیں؟ تو ( اس وقت ) آیت «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا» نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وقد رواه شعبة عن ابي اسحاق، عن البراء، ايضا حدثنا بذلك، محمد بن بشار بندار حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، بهذا قال قال البراء بن عازب مات ناس من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وهم يشربون الخمر فلما نزل تحريمها قال ناس من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فكيف باصحابنا الذين ماتوا وهم يشربونها فنزلت : ( ليس على الذين امنوا وعملوا الصالحات ) الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو لوگ شراب پیتے تھے اور مر گئے ان کا کیا ہو گا؟ اس وقت آیت «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا إذا ما اتقوا وآمنوا وعملوا الصالحات» ”ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو انہوں نے ( حرمت سے پہلے ) کھائے پئے جب کہ انہوں نے پرہیزگاری اختیار کر لی، ایمان لائے اور اچھے عمل کیے“ ( المائدہ: ۹۳ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد العزيز بن ابي رزمة، عن اسراييل، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قالوا يا رسول الله ارايت الذين ماتوا وهم يشربون الخمر لما نزل تحريم الخمر فنزلت : ( ليس على الذين امنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا اذا ما اتقوا وامنوا وعملوا الصالحات ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا إذا ما اتقوا وآمنوا وعملوا الصالحات» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم انہی میں سے ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا خالد بن مخلد، عن علي بن مسهر، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال لما نزلت : ( ليس على الذين امنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا اذا ما اتقوا وامنوا وعملوا الصالحات ) قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " انت منهم " . قال هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں گوشت کھا لیتا ہوں تو عورت کے لیے بے چین ہو جاتا ہوں، مجھ پر شہوت چھا جاتی ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے آپ پر گوشت کھانا حرام کر لیا ہے۔ ( اس پر ) اللہ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين وكلوا مما رزقكم الله حلالا طيبا» ”مسلمانو! اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام مت کرو اور حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور جو کچھ اللہ عزوجل نے تمہیں عطا کر رکھا ہے اس میں پاکیزہ حلال کھاؤ“ ( المائدہ: ۸۷ ) ، نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض محدثین نے اسے عثمان بن سعد سے مرسلاً روایت کیا ہے، اس میں ابن عباس سے روایت کا ذکر نہیں ہے، ۳- خالد حذاء نے بھی اس حدیث کو عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
حدثنا عمرو بن علي ابو حفص الفلاس، حدثنا ابو عاصم، حدثنا عثمان بن سعد، حدثنا عكرمة، عن ابن عباس، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني اذا اصبت اللحم انتشرت للنساء واخذتني شهوتي فحرمت على اللحم . فانزل الله : ( يا ايها الذين امنوا لا تحرموا طيبات ما احل الله لكم ولا تعتدوا ان الله لا يحب المعتدين وكلوا مما رزقكم الله حلالا طيبا ) قال هذا حديث حسن غريب . ورواه بعضهم عن عثمان بن سعد مرسلا ليس فيه عن ابن عباس ورواه خالد الحذاء عن عكرمة مرسلا
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا» ”جو لوگ خانہ کعبہ تک پہنچ سکتے ہوں ان پر اللہ کے حکم سے حج کرنا فرض ہے“ ( آل عمران: ۹۷ ) ، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے، لوگوں نے پھر کہا: اللہ کے رسول! کیا ہر سال فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال کے لیے فرض ہو جاتا“، پھر اللہ نے یہ آیت اتاری: «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» ”اے ایمان والو! بہت سی ایسی چیزوں کے بارے میں مت پوچھا کرو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار معلوم ہو“ ( المائدہ: ۱۰۱ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث علی رضی الله عنہ کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اور اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا منصور بن وردان، عن علي بن عبد الاعلى، عن ابيه، عن ابي البختري، عن علي، قال لما نزلت : ( ولله على الناس حج البيت من استطاع اليه سبيلا ) قالوا يا رسول الله في كل عام فسكت قالوا يا رسول الله في كل عام قال " لا ولو قلت نعم لوجبت " . فانزل الله : ( يا ايها الذين امنوا لا تسالوا عن اشياء ان تبد لكم تسوكم ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث علي . وفي الباب عن ابي هريرة وابن عباس
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے ۱؎ آپ نے فرمایا: ”تمہارا باپ فلاں ہے، راوی کہتے ہیں: پھر یہ آیت نازل ہوئی: «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» ”اے ایمان والو! ایسی چیزیں مت پوچھا کرو کہ اگر وہ بیان کر دی جائیں تو تم کو برا لگے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن معمر ابو عبد الله البصري، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا شعبة، اخبرني موسى بن انس، قال سمعت انس بن مالك، يقول قال رجل يا رسول الله من ابي قال " ابوك فلان " . فنزلت : ( يا ايها الذين امنوا لا تسالوا عن اشياء ان تبد لكم تسوكم ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» ۱؎ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا بھی ہے کہ جب لوگ ظالم کو ( ظلم کرتے ہوئے ) دیکھیں پھر بھی اس کے ہاتھ پکڑ نہ لیں ( اسے ظلم کرنے سے روک نہ دیں ) تو قریب ہے کہ ان پر اللہ کی طرف سے عمومی عذاب آ جائے ( اور وہ ان سب کو اپنی گرفت میں لے لے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی ایک نے یہ حدیث اسماعیل بن خالد سے مرفوعاً اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۳- بعض لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے بلکہ ابوبکر رضی الله عنہ کے قول کے طور پر اسماعیل سے، اسماعیل نے قیس سے اور قیس نے ابوبکر سے روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن ابي بكر الصديق، انه قال يا ايها الناس انكم تقرءون هذه الاية : ( يا ايها الذين امنوا عليكم انفسكم لا يضركم من ضل اذا اهتديتم ) واني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الناس اذا راوا ظالما فلم ياخذوا على يديه اوشك ان يعمهم الله بعقاب منه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه غير واحد عن اسماعيل بن ابي خالد نحو هذا الحديث مرفوعا وروى بعضهم عن اسماعيل عن قيس عن ابي بكر قوله ولم يرفعوه
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں نے ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کے پاس آ کر پوچھا: اس آیت کے سلسلے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: کون سی آیت؟ میں نے کہا: آیت یہ ہے: «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» انہوں نے کہا: آگاہ رہو! قسم اللہ کی تم نے اس کے متعلق ایک واقف کار سے پوچھا ہے، میں نے خود اس آیت کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، آپ نے فرمایا: ”بلکہ تم اچھی باتوں کا حکم کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو، یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ لوگ بخالت کے راستے پر چل پڑے ہیں، خواہشات نفس کے پیرو ہو گئے ہیں، دنیا کو آخرت پر حاصل دی جا رہی ہے اور ہر عقل و رائے والا بس اپنی ہی عقل و رائے پر مست اور مگن ہے تو تم خود اپنی فکر میں لگ جاؤ، اپنے آپ کو سنبھالو، بچاؤ اور عوام کو چھوڑ دو، کیونکہ تمہارے پیچھے ایسے دن آنے والے ہیں کہ اس وقت صبر کرنا ( کسی بات پر جمے رہنا ) ایسا مشکل کام ہو گا جتنا کہ انگارے کو مٹھی میں پکڑے رہنا، اس زمانہ میں کتاب و سنت پر عمل کرنے والے کو تم جیسے پچاس کام کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا۔ ( اس حدیث کے راوی ) عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: عتبہ کے سوا اور کئی راویوں نے مجھ سے اور زیادہ بیان کیا ہے۔ کہا گیا: اللہ کے رسول! ( ابھی آپ نے جو بتایا ہے کہ پچاس عمل صالح کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا تو ) یہ پچاس عمل صالح کرنے والے ہم میں سے مراد ہیں یا اس زمانہ کے لوگوں میں سے مراد ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس زمانہ کے، تم میں سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا سعيد بن يعقوب الطالقاني، حدثنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا عتبة بن ابي حكيم، حدثنا عمرو بن جارية اللخمي، عن ابي امية الشعباني، قال اتيت ابا ثعلبة الخشني فقلت له كيف تصنع في هذه الاية قال اية اية قلت قوله : ( يا ايها الذين امنوا عليكم انفسكم لا يضركم من ضل اذا اهتديتم ) قال اما والله لقد سالت عنها خبيرا سالت عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " بل ايتمروا بالمعروف وتناهوا عن المنكر حتى اذا رايت شحا مطاعا وهوى متبعا ودنيا موثرة واعجاب كل ذي راى برايه فعليك بخاصة نفسك ودع العوام فان من ورايكم اياما الصبر فيهن مثل القبض على الجمر للعامل فيهن مثل اجر خمسين رجلا يعملون مثل عملكم " . قال عبد الله بن المبارك وزادني غير عتبة قيل يا رسول الله اجر خمسين رجلا منا او منهم قال " لا بل اجر خمسين منكم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
تمیم داری رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ اس آیت «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت» ۱؎ کے سلسلے میں کہتے ہیں: میرے اور عدی بن بداء کے سواء سبھی لوگ اس آیت کی زد میں آنے سے محفوظ ہیں، ہم دونوں نصرانی تھے، اسلام سے پہلے شام آتے جاتے تھے تو ہم دونوں اپنی تجارت کی غرض سے شام گئے، ہمارے پاس بنی ہاشم کا ایک غلام بھی پہنچا، اسے بدیل بن ابی مریم کہا جاتا تھا، وہ بھی تجارت کی غرض سے آیا تھا، اس کے پاس چاندی کا ایک پیالہ تھا جسے وہ بادشاہ کے ہاتھ بیچ کر اچھے پیسے حاصل کرنا چاہتا تھا، یہی اس کی تجارت کے سامان میں سب سے بڑی چیز تھی۔ ( اتفاق ایسا ہوا کہ ) وہ بیمار پڑ گیا، تو اس نے ہم دونوں کو وصیت کی اور ہم سے عرض کیا کہ وہ جو کچھ چھوڑ کر مرے وہ اسے اس کے گھر والوں کو پہنچا دیں۔ جب وہ مر گیا تو ہم نے یہ پیالہ لے لیا اور ہزار درہم میں اسے بیچ دیا، پھر ہم نے اور عدی بن بداء نے اسے آپس میں تقسیم کر لیا، پھر ہم اس کے بیوی بچوں کے پاس آئے اور جو کچھ ہمارے پاس تھا وہ ہم نے انہیں واپس دے دیا، جب انہیں چاندی کا جام نہ ملا تو انہوں نے ہم سے اس کے متعلق پوچھا، ہم نے کہا کہ جو ہم نے آپ کو لا کر دیا اس کے سوا اس نے ہمارے پاس کچھ نہ چھوڑا تھا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ جانے کے بعد میں نے اسلام قبول کر لیا، تو میں اس گناہ سے ڈر گیا، چنانچہ میں اس کے گھر والوں کے پاس آیا اور پیالہ کی صحیح خبر انہیں دے دی، اور اپنے حصہ کے پانچ سو درہم انہیں ادا کر دئیے، اور انہیں یہ بھی بتایا کہ میری طرح ( عدی بن بداء ) کے پاس بھی پیالہ کی قیمت کے پانچ سو درہم ہیں پھر وہ لوگ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پکڑ کر لائے، آپ نے ان سے ثبوت مانگا تو وہ لوگ کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ پھر آپ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس سے اس چیز کی قسم لیں جسے اس کے اہل دین اہم اور عظیم تر سمجھتے ہوں تو اس نے قسم کھا لی۔ اس پر آیت «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت» سے لے کر «أو يخافوا أن ترد أيمان بعد أيمانهم» ۲؎ تک نازل ہوئی۔ تو عمرو بن العاص رضی الله عنہ اور ( بدیل کے وارثوں میں سے ) ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ عدی جھوٹا ہے، پھر اس سے پانچ سو درہم چھین لیے گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور اس کی سند صحیح نہیں ہے، ۲- ابوالنضر جن سے محمد بن اسحاق نے یہ حدیث روایت کی ہے، وہ میرے نزدیک محمد بن سائب کلبی ہیں، ابوالنضر ان کی کنیت ہے، محدثین نے ان سے روایت کرنی چھوڑ دی ہے، وہ صاحب تفسیر ہیں ( یعنی مفسرین میں جو کلبی مشہور ہیں وہ یہی شخص ہیں ) میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا: محمد بن سائب کلبی کی کنیت ابوالنضر ہے، ۳- اور ہم سالم ابوالنضر مدینی کی کوئی روایت ام ہانی کے آزاد کردہ غلام صالح سے نہیں جانتے۔ اس حدیث کا کچھ حصہ مختصراً کسی اور سند سے ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے ( جو آگے آ رہا ہے ) ۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ بنی سہم کا ایک شخص، تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ ( سفر پر ) نکلا اور یہ سہمی ( جو تمیم داری اور عدی کا ہم سفر تھا ) ایک ایسی سر زمین میں انتقال کر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب اس کے دونوں ساتھی اس کا ترکہ لے کر آئے تو اس کے گھر والے ( ورثاء ) کو اس کے متروکہ سامان میں چاندی کا وہ پیالہ نہ ملا جس پر سونے کا جڑاؤ تھا، چنانچہ ( جب مقدمہ پیش ہوا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے قسم کھلائی۔ ( اور انہوں نے قسم کھا لی کہ ہمیں پیالہ نہیں ملا تھا ) لیکن وہ پیالہ سہمی کے گھر والوں کو مکہ میں کسی اور کے پاس مل گیا، انہوں نے بتایا کہ ہم نے تمیم اور عدی سے اسے خریدا ہے۔ تب سہمی کے وارثین میں سے دو شخص کھڑے ہوئے۔ اور انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ ہماری شہادت ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے۔ اور پیالہ ہمارے ہی آدمی کا ہے۔ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: انہیں لوگوں کے بارے میں «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم» والی آیت نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، یہ ابن ابی زائدہ کی روایت ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا يحيى بن ادم، عن ابن ابي زايدة، عن محمد بن ابي القاسم، عن عبد الملك بن سعيد، عن ابيه، عن ابن عباس، قال خرج رجل من بني سهم مع تميم الداري وعدي بن بداء فمات السهمي بارض ليس فيها مسلم فلما قدما بتركته فقدوا جاما من فضة مخوصا بالذهب فاحلفهما رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم وجد الجام بمكة فقيل اشتريناه من عدي وتميم فقام رجلان من اولياء السهمي فحلفا بالله لشهادتنا احق من شهادتهما وان الجام لصاحبهم . قال وفيهم نزلت : ( يا ايها الذين امنوا شهادة بينكم ) هذا حديث حسن غريب وهو حديث ابن ابي زايدة
عمار بن یاسر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( عیسیٰ علیہ السلام کی قوم پر ) آسمان سے روٹی اور گوشت کا دستر خوان اتارا گیا اور حکم دیا گیا کہ خیانت نہ کریں نہ اگلے دن کے لیے ذخیرہ کریں، مگر انہوں نے خیانت بھی کی اور جمع بھی کیا اور اگلے دن کے لیے اٹھا بھی رکھا تو ان کے چہرے مسخ کر کے بندر اور سور جیسے بنا دئیے گئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ابوعاصم اور کئی دوسرے لوگوں بطریق: «سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن خلاس عن عمار ابن ياسر» موقوفاً روایت کیا ہے۔
حدثنا الحسن بن قزعة، حدثنا سفيان بن حبيب، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن خلاس بن عمرو، عن عمار بن ياسر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انزلت المايدة من السماء خبزا ولحما وامروا ان لا يخونوا ولا يدخروا لغد فخانوا وادخروا ورفعوا لغد فمسخوا قردة وخنازير " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . قد رواه ابو عاصم وغير واحد عن سعيد بن ابي عروبة عن قتادة عن خلاس عن عمار بن ياسر موقوفا ولا نعرفه مرفوعا الا من حديث الحسن بن قزعة . حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا سفيان بن حبيب، عن سعيد بن ابي عروبة، نحوه ولم يرفعه وهذا اصح من حديث الحسن بن قزعة ولا نعلم للحديث المرفوع اصلا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابي هريرة، قال تلقى عيسى حجته ولقاه الله في قوله : ( واذ قال الله يا عيسى ابن مريم اانت قلت للناس اتخذوني وامي الهين من دون الله ) قال ابو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم فلقاه الله : ( سبحانك ما يكون لي ان اقول ما ليس لي بحق ) الاية كلها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت سورۃ المائدہ ( اور سورۃ الفتح ) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: آخری سورۃ جو نازل ہوئی ہے وہ «إذا جاء نصر الله والفتح» ہے ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الله بن وهب، عن حيى، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن عبد الله بن عمرو، قال اخر سورة انزلت سورة المايدة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وروي عن ابن عباس انه قال اخر سورة انزلت : (اذا جاء نصر الله والفتح)
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ابوجہل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے ہیں، بلکہ آپ جو ( دین قرآن ) لے کر آئے ہیں اسے جھٹلاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فإنهم لا يكذبونك ولكن الظالمين بآيات الله يجحدون» ”وہ لوگ تجھ کو نہیں جھٹلاتے ہیں بلکہ ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں“ ( الانعام: ۳۳ ) ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا معاوية بن هشام، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن ناجية بن كعب، عن علي، ان ابا جهل، قال للنبي صلى الله عليه وسلم انا لا نكذبك ولكن نكذب بما جيت به فانزل الله : ( انهم لا يكذبونك ولكن الظالمين بايات الله يجحدون ) . حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن ناجية، ان ابا جهل، قال للنبي صلى الله عليه وسلم فذكر نحوه ولم يذكر فيه عن علي وهذا اصح
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ جب آیت «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم أو من تحت أرجلكم» ”کہہ دیجئیے، وہ ( اللہ ) قادر ہے اس بات پر کہ وہ تم پر کوئی عذاب بھیج دے اوپر سے یا نیچے سے“ ( الانعام: ۶۵ ) ، نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تیری ذات کی پناہ لیتا ہوں“ پھر جب آگے «أو يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم بأس بعض» ”یا تم کو مختلف فریق بنا کر ایک کو دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے“ ( الانعام: ۶۵ ) کا ٹکڑا نازل ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں ہی باتیں ( اللہ کے لیے ) آسان ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، سمع جابر بن عبد الله، يقول لما نزلت هذه الاية : (قل هو القادر على ان يبعث عليكم عذابا من فوقكم او من تحت ارجلكم ) قال النبي صلى الله عليه وسلم " اعوذ بوجهك " . فلما نزلت ( او يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم باس بعض ) قال النبي صلى الله عليه وسلم " هاتان اهون - او - هاتان ايسر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم أو من تحت أرجلكم» ”کہہ دو ( اے محمد! ) وہ ( اللہ ) قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیج دے یا تمہارے پیروں کے نیچے سے“ ( الانعام: ۶۵ ) ، کے متعلق فرمایا: ”آگاہ رہو یہ تو ہو کر رہنے والی بات ہے اور ابھی تک اس کا وقوع و ظہور نہیں ہوا ہے“ ( یعنی یہ عذاب نہیں آیا ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا الحسن بن عرفة، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن ابي بكر بن ابي مريم الغساني، عن راشد بن سعد، عن سعد بن ابي وقاص، عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذه الاية: (قل هو القادر على ان يبعث عليكم عذابا من فوقكم او من تحت ارجلكم ) فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اما انها كاينة ولم يات تاويلها بعد " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
حدثنا الحسن بن احمد بن ابي شعيب الحراني، حدثنا محمد بن سلمة الحراني، حدثنا محمد بن اسحاق، عن ابي النضر، عن باذان، مولى ام هاني عن ابن عباس، عن تميم الداري، في هذه الاية : ( يا ايها الذين امنوا شهادة بينكم اذا حضر احدكم الموت ) قال بري منها الناس غيري وغير عدي بن بداء وكانا نصرانيين يختلفان الى الشام قبل الاسلام فاتيا الشام لتجارتهما وقدم عليهما مولى لبني سهم يقال له بديل بن ابي مريم بتجارة ومعه جام من فضة يريد به الملك وهو عظم تجارته فمرض فاوصى اليهما وامرهما ان يبلغا ما ترك اهله قال تميم فلما مات اخذنا ذلك الجام فبعناه بالف درهم ثم اقتسمناه انا وعدي بن بداء فلما قدمنا الى اهله دفعنا اليهم ما كان معنا وفقدوا الجام فسالونا عنه فقلنا ما ترك غير هذا وما دفع الينا غيره قال تميم فلما اسلمت بعد قدوم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة تاثمت من ذلك فاتيت اهله فاخبرتهم الخبر واديت اليهم خمسماية درهم واخبرتهم ان عند صاحبي مثلها فاتوا به رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالهم البينة فلم يجدوا فامرهم ان يستحلفوه بما يعظم به على اهل دينه فحلف فانزل الله : ( يا ايها الذين امنوا شهادة بينكم اذا حضر احدكم الموت ) الى قوله : ( او يخافوا ان ترد ايمان بعد ايمانهم ) . فقام عمرو بن العاص ورجل اخر فحلفا فنزعت الخمسماية درهم من عدي بن بداء . قال ابو عيسى هذا حديث غريب وليس اسناده بصحيح . وابو النضر الذي روى عنه محمد بن اسحاق هذا الحديث هو عندي محمد بن السايب الكلبي يكنى ابا النضر وقد تركه اهل الحديث وهو صاحب التفسير سمعت محمد بن اسماعيل يقول محمد بن السايب الكلبي يكنى ابا النضر . قال ابو عيسى ولا نعرف لسالم ابي النضر المدني رواية عن ابي صالح مولى ام هاني وقد روي عن ابن عباس شيء من هذا على الاختصار من غير هذا الوجه