Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم ( شرک ) کی آمیزش نہ کی“ ( الأنعام ۸۲ ) ، نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ بات گراں گزری، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں کون ایسا ہے جس سے اپنی ذات کے حق میں ظلم و زیادتی نہ ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا: ” ( تم غلط سمجھے ) ایسی بات نہیں ہے، اس ظلم سے مراد صرف شرک ہے، کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحت کی تھی؟ انہوں نے کہا تھا: «يا بني لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ”اے میرے بیٹے! شرک نہ کر، شرک بہت بڑا گناہ ہے“ ( لقمان: ۱۳ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن خشرم، اخبرنا عيسى بن يونس، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال : لما نزلت: ( الذين امنوا ولم يلبسوا ايمانهم بظلم ) شق ذلك على المسلمين فقالوا يا رسول الله واينا لا يظلم نفسه . قال " ليس ذلك انما هو الشرك الم تسمعوا ما قال لقمان لابنه : ( يا بني لا تشرك بالله ان الشرك لظلم عظيم ) " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
مسروق کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا: اے ابوعائشہ! تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں سے کسی نے ایک بھی کیا تو وہ اللہ پر بڑی بہتان لگائے گا: ( ۱ ) جس نے خیال کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ( معراج کی رات میں ) اللہ کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ کی ذات کے بارے میں بڑی بہتان لگائی۔ کیونکہ اللہ اپنی ذات کے بارے میں کہتا ہے «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار وهو اللطيف الخبير» ”کہ اسے انسانی نگاہیں نہیں پا سکتی ہیں، اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے ( یعنی اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور وہ سبھی کو دیکھ لیتا ہے ) اور اس کی ذات لطیف و خبیر ہے“، «وما كان لبشر أن يكلمه الله إلا وحيا أو من وراء حجاب» ”کسی انسان کو بھی یہ مقام و درجہ حاصل نہیں ہے کہ اللہ اس سے بغیر وحی کے یا بغیر پردے کے براہ راست اس سے بات چیت کرے“، ( وہ کہتے ہیں ) میں ٹیک لگائے ہوئے تھا اور اٹھ بیٹھا، میں نے کہا: ام المؤمنین! مجھے بولنے کا موقع دیجئیے اور میرے بارے میں حکم لگانے میں جلدی نہ کیجئے گا، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: «ولقد رآه نزلة أخرى» ”بیشک محمد نے اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا“ ( النجم: ۱۳ ) «ولقد رآه بالأفق المبين» ”بیشک انہوں نے اسے آسمان کے روشن کنارے پر دیکھا“ ( التکویر: ۲۳ ) تب عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: قسم اللہ کی! میں وہ پہلی ذات ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ”وہ تو جبرائیل علیہ السلام تھے ( ان آیتوں میں میرے دیکھنے سے مراد جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا تھا، اللہ کو نہیں ) ان دو مواقع کے سوا اور کوئی موقع ایسا نہیں ہے جس میں جبرائیل علیہ السلام کو میں نے ان کی اپنی اصل صورت میں دیکھا ہو۔ جس پر ان کی تخلیق ہوئی ہے، میں نے ان کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا ہے، ان کی بناوٹ کی بڑائی یعنی بھاری بھر کم جسامت نے آسمان و زمین کے درمیان جگہ کو گھیر رکھا تھا“، ( ۲ ) : اور دوسرا وہ شخص کہ جو اللہ پر جھوٹا الزام لگانے کا بڑا مجرم ہے جس نے یہ خیال کیا کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو چیزیں اتاری ہیں ان میں سے کچھ چیزیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپا لی ہیں۔ جب کہ اللہ کہتا ہے «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك» ”جو چیز اللہ کی جانب سے تم پر اتاری گئی ہے اسے لوگوں تک پہنچا دو“ ( النساء: ۶۷ ) ، ( ۳ ) : وہ شخص بھی اللہ پر جھوٹا الزام لگانے والا ہے جو یہ سمجھے کہ کل کیا ہونے والا ہے، محمد اسے جانتے ہیں، جب کہ اللہ خود کہتا ہے «قل لا يعلم من في السموات والأرض الغيب إلا الله» ”کہ آسمان و زمین میں غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسحاق بن يوسف الازرق، حدثنا داود بن ابي هند، عن الشعبي، عن مسروق، قال كنت متكيا عند عايشة فقالت يا ابا عايشة ثلاث من تكلم بواحدة منهن فقد اعظم على الله الفرية من زعم ان محمدا راى ربه فقد اعظم الفرية على الله والله يقول : ( لا تدركه الابصار وهو يدرك الابصار وهو اللطيف الخبير ) ، ( ما كان لبشر ان يكلمه الله الا وحيا او من وراء حجاب ) وكنت متكيا فجلست فقلت يا ام المومنين انظريني ولا تعجليني اليس يقول الله : ( ولقد راه نزلة اخرى )، ( ولقد راه بالافق المبين ) قالت انا والله اول من سال عن هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انما ذاك جبريل ما رايته في الصورة التي خلق فيها غير هاتين المرتين رايته منهبطا من السماء سادا عظم خلقه ما بين السماء والارض " . ومن زعم ان محمدا كتم شييا مما انزل الله عليه فقد اعظم الفرية على الله يقول الله : ( يا ايها الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك ) ومن زعم انه يعلم ما في غد فقد اعظم الفرية على الله والله يقول : (قل لا يعلم من في السموات والارض الغيب الا الله ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح ومسروق بن الاجدع يكنى ابا عايشة وهو مسروق بن عبد الرحمن وهكذا كان اسمه في الديوان
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم وہ جانور کھائیں جنہیں ہم قتل ( یعنی ذبح ) کرتے ہیں، اور ان جانوروں کو نہ کھائیں جنہیں اللہ قتل کرتا ( یعنی مار دیتا ) ہے، تو اللہ نے «فكلوا مما ذكر اسم الله عليه إن كنتم بآياته مؤمنين» سے «وإن أطعتموهم إنكم لمشركون» ۱؎ تک نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے، ۳- بعض نے اسے عطا بن سائب سے اور عطاء نے سعید بن جبیر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن موسى البصري الحرشي، حدثنا زياد بن عبد الله البكايي، حدثنا عطاء بن السايب، عن سعيد بن جبير، عن عبد الله بن عباس، قال اتى اناس النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله اناكل ما نقتل ولا ناكل ما يقتل الله فانزل الله ( فكلوا مما ذكر اسم الله عليه ان كنتم باياته مومنين ) الى قوله : (وان اطعتموهم انكم لمشركون ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه عن ابن عباس ايضا ورواه بعضهم عن عطاء بن السايب عن سعيد بن جبير عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جسے اس بات سے خوشی ہو کہ وہ صحیفہ دیکھے جس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر ہے تو اسے یہ آیات «قل تعالوا أتل ما حرم ربكم عليكم» سے «لعلكم تتقون» ۱؎ تک پڑھنی چاہیئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا الفضل بن الصباح البغدادي، حدثنا محمد بن فضيل، عن داود الاودي، عن الشعبي، عن علقمة، عن عبد الله، قال من سره ان ينظر الى الصحيفة التي عليها خاتم محمد صلى الله عليه وسلم فليقرا هذه الايات : ( قل تعالوا اتل ما حرم ربكم عليكم ) الاية الى قوله : ( لعلكم تتقون ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «أو يأتي بعض آيات ربك» ”یا تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں“ ( الانعام: ۱۵۸ ) ، کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد سورج کا پچھم سے نکلنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض دوسرے لوگوں نے بھی اس حدیث کو روایت کیا، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابي، عن ابن ابي ليلى، عن عطية، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قول الله عز وجل : (او ياتي بعض ايات ربك ) قال "طلوع الشمس من مغربها" . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب ورواه بعضهم ولم يرفعه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں ایسی ہیں کہ جب وہ ظاہر ہوں گی، تو جو شخص پہلے سے ایمان نہ لایا ہو گا اسے اس کا ( بروقت ) ایمان لانا فائدہ نہ پہنچا سکے گا، ( ۱ ) دجال کا ظاہر ہونا ( ۲ ) چوپائے کا نکلنا ( ۳ ) سورج کا پچھم سے نکلنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- ابوحازم سے حازم اشجعی کوفی مراد ہیں۔ ان کا نام سلمان ہے اور وہ عزہ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا يعلى بن عبيد، عن فضيل بن غزوان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ثلاث اذا خرجن : لم ينفع نفسا ايمانها لم تكن امنت من قبل الاية الدجال والدابة وطلوع الشمس من المغرب او من مغربها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو حازم هو الاشجعي الكوفي واسمه سلمان مولى عزة الاشجعية
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور اس کا فرمان برحق ( و درست ) ہے: جب میرا بندہ کسی نیکی کا قصد و ارادہ کرے، تو ( میرے فرشتو! ) اس کے لیے نیکی لکھ لو، اور اگر وہ اس بھلے کام کو کر گزرے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ لو، اور جب وہ کسی برے کام کا ارادہ کرے تو کچھ نہ لکھو، اور اگر وہ برے کام کو کر ڈالے تو صرف ایک گناہ لکھو، پھر اگر وہ اسے چھوڑ دے ( کبھی راوی نے یہ کہا ) اور کبھی یہ کہا ( دوبارہ ) اس گناہ کا ارتکاب نہ کرے ) تو اس کے لیے اس پر بھی ایک نیکی لکھ لو، پھر آپ نے آیت «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» پڑھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ فائدہ ۱؎: ”جس نے نیک کام کیا ہو گا اس کو دس گنا ثواب ملے گا، اور جس نے برائی کی ہو گی اس کو اسی قدر سزا ملے گی اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا“ ( الانعام: ۱۶۰ ) ۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " قال الله عز وجل وقوله الحق اذا هم عبدي بحسنة فاكتبوها له حسنة فان عملها فاكتبوها له بعشر امثالها واذا هم بسيية فلا تكتبوها فان عملها فاكتبوها بمثلها فان تركها وربما قال لم يعمل بها فاكتبوها له حسنة ثم قرا : ( من جاء بالحسنة فله عشر امثالها ) " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «فلما تجلى ربه للجبل جعله دكا» ”جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو تجلی نے اس کے پرخچ اڑا دیے“ ( الأعراف: ۱۴۳ ) ، حماد ( راوی ) نے کہا: اس طرح، پھر سلیمان ( راوی ) نے اپنی داہنی انگلی کے پور پر اپنے انگوٹھے کا کنارا رکھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( بس اتنی سی دیر میں ) پہاڑ زمین میں دھنس گیا، «وخر موسى صعقا» اور موسیٰ علیہ السلام چیخ مار کر گر پڑے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قرا هذه الاية : ( فلما تجلى ربه للجبل جعله دكا ) قال حماد هكذا وامسك سليمان بطرف ابهامه على انملة اصبعه اليمنى قال فساخ الجبل ( وخر موسى صعقا ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح لا نعرفه الا من حديث حماد بن سلمة . حدثنا عبد الوهاب الوراق البغدادي، حدثنا معاذ بن معاذ، عن حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . هذا حديث حسن
مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے آیت «وإذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم ذريتهم وأشهدهم على أنفسهم ألست بربكم قالوا بلى شهدنا أن تقولوا يوم القيامة إنا كنا عن هذا غافلين» ۱؎ کا مطلب پوچھا گیا، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ سے اسی آیت کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ نے آدم کو پیدا کیا پھر اپنا داہنا ہاتھ ان کی پیٹھ پر پھیرا اور ان کی ایک ذریت ( نسل ) کو نکالا، اور کہا: میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ لوگ جنت ہی کا کام کریں گے، پھر ( دوبارہ ) ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور وہاں سے ایک ذریت ( ایک نسل ) نکالی اور کہا کہ میں نے انہیں جہنم کے لیے پیدا کیا ہے اور جہنمیوں کا کام کریں گے“۔ ایک شخص نے کہا: پھر عمل کی کیا ضرورت ہے؟ اللہ کے رسول! ۲؎ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ جنتی شخص کو پیدا کرتا ہے تو اسے جنتیوں کے کام میں لگا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ جنتیوں کا کام کرتا ہوا مر جاتا ہے تو اللہ اسے جنت میں داخل فرما دیتا ہے۔ اور جب اللہ جہنمی شخص کو پیدا کرتا ہے تو اسے جہنمیوں کے کام میں لگا دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ جہنمیوں کا کام کرتا ہوا مرتا ہے تو اللہ اسے جہنم میں داخل کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- مسلم بن یسار نے عمر رضی الله عنہ سے سنا نہیں ہے، ۳- بعض راویوں نے اس اسناد میں مسلم بن یسار اور عمر رضی الله عنہ کے درمیان کسی غیر معروف راوی کا ذکر کیا ہے۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن زيد بن ابي انيسة، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب، عن مسلم بن يسار الجهني، ان عمر بن الخطاب، سيل عن هذه الاية ( واذ اخذ ربك من بني ادم من ظهورهم ذريتهم واشهدهم على انفسهم الست بربكم قالوا بلى شهدنا ان تقولوا يوم القيامة انا كنا عن هذا غافلين ) قال عمر بن الخطاب سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عنها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله خلق ادم ثم مسح ظهره بيمينه فاستخرج منه ذرية فقال خلقت هولاء للجنة وبعمل اهل الجنة يعملون ثم مسح ظهره فاستخرج منه ذرية فقال خلقت هولاء للنار وبعمل اهل النار يعملون " . فقال رجل يا رسول الله ففيم العمل قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله اذا خلق العبد للجنة استعمله بعمل اهل الجنة حتى يموت على عمل من اعمال اهل الجنة فيدخله الله الجنة واذا خلق العبد للنار استعمله بعمل اهل النار حتى يموت على عمل من اعمال اهل النار فيدخله الله النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . ومسلم بن يسار لم يسمع من عمر وقد ذكر بعضهم في هذا الاسناد بين مسلم بن يسار وبين عمر رجلا مجهولا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے آدم کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے ان کی اولاد کی وہ ساری روحیں باہر آ گئیں جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے والا ہے۔ پھر ان میں سے ہر انسان کی آنکھوں کی بیچ میں نور کی ایک ایک چمک رکھ دی، پھر انہیں آدم کے سامنے پیش کیا، تو آدم نے کہا: میرے رب! کون ہیں یہ لوگ؟ اللہ نے کہا: یہ تمہاری ذریت ( اولاد ) ہیں، پھر انہوں نے ان میں ایک ایسا شخص دیکھا جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک انہیں بہت اچھی لگی، انہوں نے کہا: اے میرے رب! یہ کون ہے؟ اللہ نے فرمایا: تمہاری اولاد کی آخری امتوں میں سے ایک فرد ہے۔ اسے داود کہتے ہیں: انہوں نے کہا: میرے رب! اس کی عمر کتنی رکھی ہے؟ اللہ نے کہا: ساٹھ سال، انہوں نے کہا: میرے رب! میری عمر میں سے چالیس سال لے کر اس کی عمر میں اضافہ فرما دے، پھر جب آدم کی عمر پوری ہو گئی، ملک الموت ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: کیا میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی نہیں ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو نے اپنے بیٹے داود کو دے نہیں دیئے تھے؟ آپ نے فرمایا: تو آدم نے انکار کیا، چنانچہ ان کی اولاد بھی انکاری بن گئی۔ آدم بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول گئی۔ آدم نے غلطی کی تو ان کی اولاد بھی خطاکار بن گئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا ابو نعيم، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لما خلق الله ادم مسح ظهره فسقط من ظهره كل نسمة هو خالقها من ذريته الى يوم القيامة وجعل بين عينى كل انسان منهم وبيصا من نور ثم عرضهم على ادم فقال اى رب من هولاء قال هولاء ذريتك فراى رجلا منهم فاعجبه وبيص ما بين عينيه فقال اى رب من هذا فقال هذا رجل من اخر الامم من ذريتك يقال له داود . فقال رب كم جعلت عمره قال ستين سنة قال اى رب زده من عمري اربعين سنة . فلما انقضى عمر ادم جاءه ملك الموت فقال اولم يبق من عمري اربعون سنة قال اولم تعطها ابنك داود قال فجحد ادم فجحدت ذريته ونسي ادم فنسيت ذريته وخطي ادم فخطيت ذريته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حواء حاملہ ہوئیں تو ان کے پاس شیطان آیا، ان کے بچے جیتے نہ تھے، تو اس نے کہا: ( اب جب تیرا بچہ پیدا ہو ) تو اس کا نام عبدالحارث رکھ، چنانچہ حواء نے اس کا نام عبدالحارث ہی رکھا تو وہ جیتا رہا۔ ایسا انہوں نے شیطانی وسوسے اور اس کے مشورے سے کیا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے مرفوع صرف عمر بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ قتادہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- بعض راویوں نے یہ حدیث عبدالصمد سے روایت کی ہے، لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- عمر بن ابراہیم بصریٰ شیخ ہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا عمر بن ابراهيم، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لما حملت حواء طاف بها ابليس وكان لا يعيش لها ولد فقال سميه عبد الحارث . فسمته عبد الحارث فعاش وكان ذلك من وحى الشيطان وامره " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه مرفوعا الا من حديث عمر بن ابراهيم عن قتادة . ورواه بعضهم عن عبد الصمد ولم يرفعه عمر بن ابراهيم شيخ بصري
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدم پیدا کئے گئے …“ ( آگے ) پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا ابو نعيم، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لما خلق ادم " . الحديث
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن میں ایک تلوار لے کر ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) پہنچا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ نے میرا سینہ مشرکین سے ٹھنڈا کر دیا ( یعنی انہیں خوب مارا ) یہ کہا یا ایسا ہی کوئی اور جملہ کہا ( راوی کو شک ہو گیا ) آپ یہ تلوار مجھے عنایت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نہ میری ہے اور نہ تیری ۱؎، میں نے ( جی میں ) کہا ہو سکتا ہے یہ ایسے شخص کو مل جائے جس نے میرے جیسا کارنامہ جنگ میں نہ انجام دیا ہو، ( میں حسرت و یاس میں ڈوبا ہوا آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا آیا ) تو ( میرے پیچھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد آیا اور اس نے ( آپ کی طرف سے ) کہا: تم نے مجھ سے تلوار مانگی تھی، تب وہ میری نہ تھی اور اب وہ ( بحکم الٰہی ) میرے اختیار میں آ گئی ہے ۲؎، تو اب وہ تمہاری ہے ( میں اسے تمہیں دیتا ہوں ) راوی کہتے ہیں، اسی موقع پر «يسألونك عن الأنفال» ۳؎ والی آیت نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو سماک بن حرب نے بھی مصعب سے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں عبادہ بن صامت سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عاصم بن بهدلة، عن مصعب بن سعد، عن ابيه، قال لما كان يوم بدر جيت بسيف فقلت يا رسول الله ان الله قد شفى صدري من المشركين او نحو هذا هب لي هذا السيف . فقال " هذا ليس لي ولا لك " . فقلت عسى ان يعطى هذا من لا يبلي بلايي فجاءني الرسول فقال " انك سالتني وليس لي وقد صار لي وهو لك " . قال فنزلت : ( يسالونك عن الانفال ) الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه سماك بن حرب عن مصعب بن سعد ايضا . وفي الباب عن عبادة بن الصامت
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ بدر سے نمٹ چکے تو آپ سے کہا گیا ( شام سے آتا ہوا ) قافلہ آپ کی زد اور نشانے پر ہے، اس پر غالب آنے میں کوئی چیز مانع اور رکاوٹ نہیں ہے۔ تو عباس نے آپ کو پکارا، اس وقت وہ ( قیدی تھے ) زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے، اور کہا: آپ کا یہ اقدام ( اگر آپ نے ایسا کیا ) تو درست نہ ہو گا، اور درست اس لیے نہ ہو گا کہ اللہ نے آپ سے دونوں گروہوں ( قافلہ یا لشکر ) میں سے کسی ایک پر فتح و غلبہ کا وعدہ کیا تھا ۱؎ اور اللہ نے آپ سے اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم سچ کہتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ۱؎: یہ اللہ تعالیٰ کا قول: «وإذ يعدكم الله إحدى الطائفتين أنها لكم» ( الانفال: ۷ ) کی طرف اشارہ ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرزاق، عن اسراييل، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من بدر قيل له عليك العير ليس دونها شيء قال فناداه العباس وهو في وثاقه لا يصلح وقال لان الله وعدك احدى الطايفتين وقد اعطاك ما وعدك قال " صدقت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( جنگ بدر کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مشرکین مکہ پر ) ایک نظر ڈالی، وہ ایک ہزار تھے اور آپ کے صحابہ تین سو دس اور کچھ ( کل ۳۱۳ ) تھے۔ پھر آپ قبلہ رخ ہو گئے اور اپنے دونوں ہاتھ اللہ کے حضور پھیلا دیئے اور اپنے رب کو پکارنے لگے: ”اے میرے رب! مجھ سے اپنا کیا ہوا وعدہ پورا فرما دے، جو کچھ تو نے مجھے دینے کا وعدہ فرمایا ہے، اسے عطا فرما دے، اے میرے رب! اگر اہل اسلام کی اس مختصر جماعت کو تو نے ہلاک کر دیا تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ کی جا سکے گی“۔ آپ قبلہ کی طرف منہ کیے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتے رہے یہاں تک کہ آپ کی چادر آپ کے دونوں کندھوں پر سے گر پڑی۔ پھر ابوبکر رضی الله عنہ نے آ کر آپ کی چادر اٹھائی اور آپ کے کندھوں پر ڈال کر پیچھے ہی سے آپ سے لپٹ کر کہنے لگے۔ اللہ کے نبی! بس، کافی ہے آپ کی اپنے رب سے اتنی ہی دعا۔ اللہ نے آپ سے جو وعدہ کر کھا ہے وہ اسے پورا کرے گا ( ان شاءاللہ ) پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی «إذ تستغيثون ربكم فاستجاب لكم أني ممدكم بألف من الملائكة مردفين» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- عمر رضی الله عنہ کی اس حدیث کو صرف عکرمہ بن عمار کی روایت سے جانتے ہیں۔ جسے وہ ابوزمیل سے روایت کرتے ہیں۔ ابوزمیل کا نام سماک حنفی ہے۔ ایسا بدر کے دن ہوا ۲؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عمر بن يونس اليمامي، حدثنا عكرمة بن عمار، حدثنا ابو زميل، حدثنا عبد الله بن عباس، حدثنا عمر بن الخطاب، قال نظر نبي الله صلى الله عليه وسلم الى المشركين وهم الف واصحابه ثلاثماية وبضعة عشر رجلا فاستقبل نبي الله صلى الله عليه وسلم القبلة ثم مد يديه وجعل يهتف بربه " اللهم انجز لي ما وعدتني اللهم اتني ما وعدتني اللهم ان تهلك هذه العصابة من اهل الاسلام لا تعبد في الارض " . فما زال يهتف بربه مادا يديه مستقبل القبلة حتى سقط رداوه من منكبيه فاتاه ابو بكر فاخذ رداءه فالقاه على منكبيه ثم التزمه من ورايه فقال يا نبي الله كفاك مناشدتك ربك فانه سينجز لك ما وعدك فانزل الله : (اذ تستغيثون ربكم فاستجاب لكم اني ممدكم بالف من الملايكة مردفين ) فامدهم الله بالملايكة . قال هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه من حديث عمر الا من حديث عكرمة بن عمار عن ابي زميل وابو زميل اسمه سماك الحنفي وانما كان هذا يوم بدر
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لیے اللہ نے مجھ پر دو امان نازل فرمائے ہیں ( ایک ) «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم» ”تمہارے موجود رہتے ہوئے اللہ انہیں عذاب سے دوچار نہ کرے گا“ ( الأنفال: ۳۳ ) ، ( دوسرا ) «وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون» ”دوسرے جب وہ توبہ و استغفار کرتے رہیں گے تو بھی ان پر اللہ عذاب نازل نہ کرے گا“ ( الأنفال: ۳۳ ) ، اور جب میں ( اس دنیا سے ) چلا جاؤں گا تو ان کے لیے دوسرا امان استغفار قیامت تک چھوڑ جاؤں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے۔ ۲- اسماعیل بن مہاجر حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابن نمير، عن اسماعيل بن ابراهيم بن مهاجر، عن عباد بن يوسف، عن ابي بردة بن ابي موسى، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انزل الله على امانين لامتي : ( وما كان الله ليعذبهم وانت فيهم ) ( وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون ) اذا مضيت تركت فيهم الاستغفار الى يوم القيامة " . هذا حديث غريب . واسماعيل بن ابراهيم بن مهاجر يضعف في الحديث
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر آیت: «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ”تم کافروں کے مقابلے کے لیے جتنی قوت فراہم کر سکتے ہو کرو“ ( الانفال: ۶۰ ) پڑھی، اور فرمایا: «قوة» سے مراد تیر اندازی ہے۔ آپ نے یہ بات تین بار کہی، سنو عنقریب اللہ تمہیں زمین پر فتح دیدے گا۔ اور تمہیں مستغنی اور بے نیاز کر دے گا۔ تو ایسا ہرگز نہ ہو کہ تم میں سے کوئی بھی ( نیزہ بازی اور ) تیر اندازی سے عاجز و غافل ہو جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بعض نے یہ حدیث اسامہ بن زید سے روایت کی ہے اور اسامہ نے صالح بن کیسان سے روایت کی ہے، ۲- ابواسامہ نے اور کئی لوگوں نے اسے عقبہ بن عامر سے روایت کیا ہے، ۳- وکیع کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ۴- صالح بن کیسان کی ملاقات عقبہ بن عامر سے نہیں ہے، ہاں ان کی ملاقات ابن عمر سے ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا وكيع، عن اسامة بن زيد، عن صالح بن كيسان، عن رجل، لم يسمه عن عقبة بن عامر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا هذه الاية على المنبر : ( واعدوا لهم ما استطعتم من قوة ) قال " الا ان القوة الرمى ثلاث مرات الا ان الله سيفتح لكم الارض وستكفون المونة فلا يعجزن احدكم ان يلهو باسهمه " . قال ابو عيسى وقد روى بعضهم هذا الحديث عن اسامة بن زيد عن صالح بن كيسان عن عقبة بن عامر رواه ابو اسامة وغير واحد وحديث وكيع اصح . وصالح بن كيسان لم يدرك عقبة بن عامر وقد ادرك ابن عمر
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب بدر کی لڑائی ہوئی اور قیدی پکڑ کر لائے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیدیوں کے بارے میں تم لوگ کیا کہتے ہو؟ پھر راوی نے حدیث میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مشوروں کا طویل قصہ بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغیر فدیہ کے کسی کو نہ چھوڑا جائے، یا اس کی گردن اڑا دی جائے“۔ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! سہیل بن بیضاء کو چھوڑ کر، اس لیے کہ میں نے انہیں اسلام کی باتیں کرتے ہوئے سنا ہے، ( مجھے توقع ہے کہ وہ ایمان لے آئیں گے ) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، تو میں نے اس دن اتنا خوف محسوس کیا کہ کہیں مجھ پر پتھر نہ برس پڑیں، اس سے زیادہ کسی دن بھی میں نے اپنے کو خوف زدہ نہ پایا ۱؎، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سہیل بن بیضاء کو چھوڑ کر“، اور عمر رضی الله عنہ کی تائید میں «ما كان لنبي أن يكون له أسرى حتى يثخن في الأرض» ”کسی نبی کے لیے یہ مناسب اور سزاوار نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ پورے طور پر خوں ریزی نہ کر لے“ ( الأنفال: ۶۷ ) ، والی آیت آخر تک نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوعبیدہ نے اپنے باپ عبداللہ بن مسعود سے سنا نہیں ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن ابي عبيدة بن عبد الله، عن عبد الله بن مسعود، قال لما كان يوم بدر وجيء بالاسارى قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما تقولون في هولاء الاسارى " . فذكر في الحديث قصة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ينفلتن منهم احد الا بفداء او ضرب عنق " . قال عبد الله بن مسعود فقلت يا رسول الله الا سهيل بن بيضاء فاني قد سمعته يذكر الاسلام . قال فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فما رايتني في يوم اخوف ان تقع على حجارة من السماء مني في ذلك اليوم قال حتى قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا سهيل ابن بيضاء " . قال ونزل القران بقول عمر : ( ما كان لنبي ان يكون له اسرى حتى يثخن في الارض ) الى اخر الايات . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وابو عبيدة بن عبد الله لم يسمع من ابيه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مسلمانوں سے پہلے کسی کالے بالوں والے ( مراد ہے انسان ) کے لیے اموال غنیمت حلال نہ تھے، آسمان سے ایک آگ آتی اور غنائم کو کھا جاتی ( بھسم کر دیتی ) سلیمان اعمش کہتے ہیں: اسے ابوہریرہ کے سوا اور کون کہہ سکتا ہے اس وقت؟ بدر کی لڑائی کے وقت مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ قبل اس کے کہ اموال غنیمت تقسیم کر کے ہر ایک کو دے کر ان کے لیے حلال کر دی جاتیں وہ لوگ اموال غنیمت پر ٹوٹ پڑے۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت «لولا كتاب من الله سبق لمسكم فيما أخذتم عذاب عظيم» ”اگر پہلے سے تمہارے حق میں اللہ کی جانب سے لکھا نہ جا چکا ہو تاکہ تمہیں غنائم ملیں گے تو تمہیں تمہارے اس کے لینے کے سبب سے بڑا عذاب پہنچتا“ ( الأنفال: ۶۸ ) نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرني معاوية بن عمرو، عن زايدة، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لم تحل الغنايم لاحد سود الرءوس من قبلكم كانت تنزل نار من السماء فتاكلها " . قال سليمان الاعمش فمن يقول هذا الا ابو هريرة الان فلما كان يوم بدر وقعوا في الغنايم قبل ان تحل لهم فانزل الله تعالى : (لولا كتاب من الله سبق لمسكم فيما اخذتم عذاب عظيم ) قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث الاعمش
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے کہا کہ کس چیز نے آپ کو آمادہ کیا کہ سورۃ الانفال کو جو «مثانی» میں سے ہے اور سورۃ برأۃ کو جو «مئین» میں سے ہے دونوں کو ایک ساتھ ملا دیا، اور ان دونوں سورتوں کے بیچ میں «بسم الله الرحمن الرحيم» کی سطر بھی نہ لکھی۔ اور ان دونوں کو «سبع طوال» ( سات لمبی سورتوں ) میں شامل کر دیا۔ کس سبب سے آپ نے ایسا کیا؟ عثمان رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر زمانہ آتا جا رہا تھا اور آپ پر متعدد سورتیں نازل ہو رہی تھیں، تو جب آپ پر کوئی آیت نازل ہوتی تو وحی لکھنے والوں میں سے آپ کسی کو بلاتے اور کہتے کہ ان آیات کو اس سورۃ میں شامل کر دو جس میں ایسا ایسا مذکور ہے۔ اور پھر جب آپ پر کوئی آیت اترتی تو آپ فرماتے اس آیت کو اس سورۃ میں رکھ دو جس میں اس اس طرح کا ذکر ہے۔ سورۃ الانفال ان سورتوں میں سے ہے جو مدینہ میں آنے کے بعد شروع شروع میں نازل ہوئی ہیں۔ اور سورۃ برأت قرآن کے آخر میں نازل ہوئی ہے۔ اور دونوں کے قصوں میں ایک دوسرے سے مشابہت تھی تو ہمیں خیال ہوا کہ یہ اس کا ایک حصہ ( و تکملہ ) ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بتائے بغیر کہ یہ سورۃ اسی سورۃ کا جزو حصہ ہے اس دنیا سے رحلت فرما گئے۔ اس سبب سے ہم نے ان دونوں سورتوں کو ایک ساتھ ملا دیا اور ان دونوں سورتوں کے درمیان ہم نے «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں لکھا اور ہم نے اسے «سبع طوال» میں رکھ دیا ( شامل کر دیا ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے ہم صرف عوف کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ یزید فارسی کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کرتے ہیں، اور یزید فارسی تابعین میں سے ہیں، انہوں نے ابن عباس سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ وہ یزید بن ہرمز ہیں۔ اور یزید رقاشی یہ یزید بن ابان رقاشی ہیں، یہ تابعین میں سے ہیں اور ان کی ملاقات ابن عباس سے نہیں ہے۔ انہوں نے صرف انس بن مالک سے روایت کی ہے، اور یہ دونوں ہی بصرہ والوں میں سے ہیں۔ اور یزید فارسی، یزید رقاشی سے متقدم ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، ومحمد بن جعفر، وابن ابي عدي، وسهل بن يوسف، قالوا حدثنا عوف بن ابي جميلة، حدثنا يزيد الفارسي، حدثنا ابن عباس، قال قلت لعثمان بن عفان ما حملكم ان عمدتم، الى الانفال وهي من المثاني والى براءة وهي من الميين فقرنتم بينهما ولم تكتبوا بينهما سطر بسم الله الرحمن الرحيم ووضعتموهما في السبع الطول ما حملكم على ذلك فقال عثمان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم مما ياتي عليه الزمان وهو تنزل عليه السور ذوات العدد فكان اذا نزل عليه الشىء دعا بعض من كان يكتب فيقول ضعوا هولاء الايات في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا واذا نزلت عليه الاية فيقول ضعوا هذه الاية في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا وكانت الانفال من اوايل ما انزلت بالمدينة وكانت براءة من اخر القران وكانت قصتها شبيهة بقصتها فظننت انها منها فقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يبين لنا انها منها فمن اجل ذلك قرنت بينهما ولم اكتب بينهما سطر بسم الله الرحمن الرحيم فوضعتها في السبع الطول . قال ابو عيسى هذا حديث حسن لا نعرفه الا من حديث عوف عن يزيد الفارسي عن ابن عباس . ويزيد الفارسي قد روى عن ابن عباس غير حديث ويقال هو يزيد بن هرمز ويزيد الرقاشي هو يزيد بن ابان الرقاشي ولم يدرك ابن عباس انما روى عن انس بن مالك وكلاهما من التابعين من اهل البصرة ويزيد الفارسي اقدم من يزيد الرقاشي