Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
سلیمان بن عمرو بن احوص کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے بتایا کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف اور ثنا کی، اور وعظ و نصیحت فرمائی۔ پھر فرمایا: ”کون سا دن سب سے زیادہ حرمت و تقدس والا ہے؟ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت و تقدس ہے؟ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت و تقدس والا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! حج اکبر کا دن ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تمہارا خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں سب تم پر حرام ہیں جیسے کہ تمہارے آج کے دن کی حرمت ہے، تمہارے اس شہر میں تمہارے اس مہینے میں، سن لو! کوئی انسان کوئی جرم نہیں کرے گا مگر اس کا وبال اسی پر آئے گا، کوئی باپ قصور نہیں کرے گا کہ جس کی سزا اس کے بیٹے کو ملے۔ اور نہ ہی کوئی بیٹا کوئی قصور کرے گا کہ اس کی سزا اس کے باپ کو ملے۔ آگاہ رہو! مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ کسی مسلمان کے لیے اپنے بھائی کی کوئی چیز حلال نہیں ہے سوائے اس چیز کے جو اسے اس کا بھائی خود سے دیدے۔ سن لو! جاہلیت کا ہر سود باطل ہے تم صرف اپنا اصل مال ( اصل پونجی ) لے سکتے ہو، نہ تم کسی پر ظلم و زیادتی کرو گے اور نہ تمہارے ساتھ ظلم و زیادتی کی جائے گی۔ سوائے عباس بن عبدالمطلب کے سود کے کہ اس کا سارا کا سارا معاف ہے۔ خبردار! جاہلیت کا ہر خون ختم کر دیا گیا ہے ۱؎ اور جاہلیت میں ہوئے خونوں میں سے پہلا خون جسے میں معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے، وہ قبیلہ بنی لیث میں دودھ پیتے تھے، تو انہیں قبیلہ ہذیل نے قتل کر دیا تھا، سنو! عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک ( و برتاؤ ) کرو۔ کیونکہ وہ تمہارے پاس بے کس و لاچار بن کر ہیں اور تم اس کے سوا ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو، مگر یہ کہ وہ کوئی کھلی ہوئی بدکاری کر بیٹھیں، اگر وہ کوئی قبیح گناہ کر بیٹھیں تو ان کے بستر الگ کر دو اور انہیں مارو مگر ایسی مار نہ لگاؤ کہ ان کی ہڈی پسلی توڑ بیٹھو، پھر اگر وہ تمہارے کہے میں آ جائیں تو ان پر ظلم و زیادتی کے راستے نہ ڈھونڈو، خبردار ہو جاؤ! تمہارے لیے تمہاری بیویوں پر حقوق ہیں، اور تمہاری بیویوں کے تم پر حقوق ہیں، تمہارا حق تمہاری بیویوں پر یہ ہے کہ جنہیں تم ناپسند کرتے ہو انہیں وہ تمہارے بستروں پر نہ آنے دیں، اور نہ ہی ان لوگوں کو گھروں میں آنے کی اجازت دیں جنہیں تم برا جانتے ہو، اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور انہیں اچھا پہناؤ اور اچھا کھلاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے ابوالا ٔحوص نے شبیب بن غرقدہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا حسين بن علي الجعفي، عن زايدة، عن شبيب بن غرقدة، عن سليمان بن عمرو بن الاحوص، حدثنا ابي انه، شهد حجة الوداع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فحمد الله واثنى عليه وذكر ووعظ ثم قال " اى يوم احرم اى يوم احرم اى يوم احرم " . قال فقال الناس يوم الحج الاكبر يا رسول الله . قال " فان دماءكم واموالكم واعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا الا لا يجني جان الا على نفسه ولا يجني والد على ولده ولا ولد على والده الا ان المسلم اخو المسلم فليس يحل لمسلم من اخيه شيء الا ما احل من نفسه الا وان كل ربا في الجاهلية موضوع لكم رءوس اموالكم لا تظلمون ولا تظلمون غير ربا العباس بن عبد المطلب فانه موضوع كله الا وان كل دم كان في الجاهلية موضوع واول دم اضع من دماء الجاهلية دم الحارث بن عبد المطلب كان مسترضعا في بني ليث فقتلته هذيل الا واستوصوا بالنساء خيرا فانما هن عوان عندكم ليس تملكون منهن شييا غير ذلك الا ان ياتين بفاحشة مبينة فان فعلن فاهجروهن في المضاجع واضربوهن ضربا غير مبرح فان اطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا الا ان لكم على نسايكم حقا ولنسايكم عليكم حقا فاما حقكم على نسايكم فلا يوطين فرشكم من تكرهون ولا ياذن في بيوتكم من تكرهون الا وان حقهن عليكم ان تحسنوا اليهن في كسوتهن وطعامهن " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد رواه ابو الاحوص عن شبيب بن غرقدة
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حج اکبر کا دن کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نحر ( قربانی ) کا دن ہے“ ۱؎۔
حدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا ابي، عن ابيه، عن محمد بن اسحاق، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن يوم الحج الاكبر فقال " يوم النحر
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حج اکبر کا دن یوم النحر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ روایت محمد بن اسحاق کی روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ حدیث کئی سندوں سے ابواسحاق سے مروی ہے، اور ابواسحاق حارث کے واسطہ سے علی رضی الله عنہ سے موقوفاً روایت کرتے ہیں۔ اور ہم کسی کو محمد بن اسحاق کے سوا نہیں جانتے کہ انہوں نے اسے مرفوع کیا ہو، ۲- شعبہ نے اس حدیث کو ابواسحاق سے، ابواسحاق نے عبداللہ بن مرہ سے، اور عبداللہ نے حارث کے واسطہ سے علی رضی الله عنہ سے موقوفا ہی روایت کی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال يوم الحج الاكبر يوم النحر . قال هذا الحديث اصح من حديث محمد بن اسحاق لانه روي من غير وجه هذا الحديث عن ابي اسحاق عن الحارث عن علي موقوفا ولا نعلم احدا رفعه الا ما روي عن محمد بن اسحاق وقد روى شعبة هذا الحديث عن ابي اسحاق عن عبد الله بن مرة عن الحارث عن علي موقوفا
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ برأۃ ابوبکر رضی الله عنہ کے ساتھ بھیجی ۱؎ پھر آپ نے انہیں بلا لیا، فرمایا: ”میرے خاندان کے کسی فرد کے سوا کسی اور کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ جا کر یہ پیغام وہاں پہنچائے ( اس لیے تم اسے لے کر نہ جاؤ ) پھر آپ نے علی رضی الله عنہ کو بلایا اور انہیں سورۃ برأۃ دے کر ( مکہ ) بھیجا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث انس بن مالک کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عفان بن مسلم، وعبد الصمد بن عبد الوارث، قالا حدثنا حماد بن سلمة، عن سماك بن حرب، عن انس بن مالك، قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم ببراءة مع ابي بكر ثم دعاه فقال " لا ينبغي لاحد ان يبلغ هذا الا رجل من اهلي " . فدعا عليا فاعطاه اياها . قال هذا حديث حسن غريب من حديث انس بن مالك
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ کو ( مکہ ) بھیجا کہ وہاں پہنچ کر لوگوں میں ان کلمات ( سورۃ التوبہ کی ابتدائی آیات ) کی منادی کر دیں۔ پھر ( ان کے بھیجنے کے فوراً بعد ہی ) ان کے پیچھے آپ نے علی رضی الله عنہ کو بھیجا۔ ابوبکر رضی الله عنہ بھی کسی جگہ راستہ ہی میں تھے کہ انہوں نے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصویٰ کی بلبلاہٹ سنی، گھبرا کر ( خیمہ ) سے باہر آئے، انہیں خیال ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں، لیکن وہ آپ کے بجائے علی رضی الله عنہ تھے۔ علی رضی الله عنہ نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا خط انہیں پکڑا دیا، اور ( آپ نے ) علی رضی الله عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کلمات کا ( بزبان خود ) اعلان کر دیں۔ پھر یہ دونوں حضرات ساتھ چلے، ( دونوں نے حج کیا، اور علی رضی الله عنہ نے ایام تشریق میں کھڑے ہو کر اعلان کیا: اللہ اور اس کے رسول ہر مشرک و کافر سے بری الذمہ ہیں، صرف چار مہینے ( سر زمین مکہ میں ) گھوم پھر لو، اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے، کوئی شخص بیت اللہ کا ننگا ہو کر طواف نہ کرے، جنت میں صرف مومن ہی جائے گا، علی رضی الله عنہ اعلان کرتے رہے جب وہ تھک جاتے تو انہیں کلمات کا ابوبکر رضی الله عنہ اعلان کرنے لگتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے ابن عباس کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عباد بن العوام، حدثنا سفيان بن حسين، عن الحكم بن عتيبة، عن مقسم، عن ابن عباس، قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم ابا بكر وامره ان ينادي بهولاء الكلمات ثم اتبعه عليا فبينا ابو بكر في بعض الطريق اذ سمع رغاء ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم القصواء فخرج ابو بكر فزعا فظن انه رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا هو علي فدفع اليه كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وامر عليا ان ينادي بهولاء الكلمات فانطلقا فحجا فقام علي ايام التشريق فنادى ذمة الله ورسوله بريية من كل مشرك فسيحوا في الارض اربعة اشهر ولا يحجن بعد العام مشرك ولا يطوفن بالبيت عريان ولا يدخل الجنة الا مومن وكان علي ينادي فاذا عيي قام ابو بكر فنادى بها . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث ابن عباس
زید بن یثیع کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ حج میں کیا پیغام لے کر بھیجے گئے تھے؟ کہا: میں چار چیزوں کا اعلان کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا ( ایک یہ کہ ) کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف ( آئندہ ) نہیں کرے گا۔ ( دوسرے ) یہ کہ جس کافر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی معاہدہ ہے وہ معاہدہ مدت ختم ہونے تک قائم رہے گا اور جن کا کوئی معاہدہ نہیں ان کے لیے چار ماہ کی مدت ہو گی ۱؎ ( تیسرے ) یہ کہ جنت میں صرف ایمان والا ( مسلمان ) ہی داخل ہو سکے گا۔ ( چوتھے یہ کہ ) اس سال کے بعد مسلم و مشرک دونوں حج نہ کر سکیں گے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث سفیان بن عیینہ کی روایت سے جسے وہ ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح ہے، ۲- اسے سفیان ثوری نے ابواسحاق کے بعض اصحاب سے روایت کی ہے اور انہوں نے علی رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن زيد بن يثيع، قال سالنا عليا باى شيء بعثت في الحجة قال بعثت باربع ان لا يطوف بالبيت عريان ومن كان بينه وبين النبي صلى الله عليه وسلم عهد فهو الى مدته ومن لم يكن له عهد فاجله اربعة اشهر ولا يدخل الجنة الا نفس مومنة ولا يجتمع المشركون والمسلمون بعد عامهم هذا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وهو حديث سفيان بن عيينة عن ابي اسحاق ورواه الثوري عن ابي اسحاق عن بعض اصحابه عن علي . وفي الباب عن ابي هريرة . حدثنا نصر بن علي، وغير، واحد، قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي اسحاق، عن زيد بن يثيع، عن علي، نحوه . حدثنا علي بن خشرم، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي اسحاق، عن زيد بن اثيع، عن علي، نحوه . قال ابو عيسى وقد روي عن ابن عيينة، كلتا الروايتين يقال عنه عن ابن اثيع، وعن ابن يثيع، والصحيح، هو زيد بن اثيع وقد روى شعبة، عن ابي اسحاق، عن زيد، غير هذا الحديث فوهم فيه وقال زيد بن اثيل ولا يتابع عليه . وفي الباب عن ابي هريرة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی آدمی کو دیکھو کہ وہ مسجد کا عادی ہے ( یعنی برابر مسجد میں نمازیں پڑھنے جاتا ہے ) تو اس کے مومن ہونے کی گواہی دو“، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر» ”اللہ کی مسجدیں وہی لوگ آباد رکھتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں“ ( التوبہ: ۱۸ ) ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا رشدين بن سعد، عن عمرو بن الحارث، عن دراج، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رايتم الرجل يعتاد المسجد فاشهدوا له بالايمان . قال الله تعالى : ( انما يعمر مساجد الله من امن بالله واليوم الاخر ) . " . حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا عبد الله بن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن دراج، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه الا انه قال " يتعاهد المسجد " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وابو الهيثم اسمه سليمان بن عمرو بن عبد العتواري وكان يتيما في حجر ابي سعيد الخدري
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «والذين يكنزون الذهب والفضة» ”اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں، اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو آپ انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئیے“ ( التوبہ: ۳۴ ) ، نازل ہوئی، اس وقت ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ کے بعض صحابہ نے کہا: سونے اور چاندی کے بارے میں جو اترا سو اترا ( یعنی اس کی مذمت آئی ) اگر ہم جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو اسی کو اپناتے۔ آپ نے فرمایا: ”بہترین مال یہ ہے کہ آدمی کے پاس اللہ کو یاد کرنے والی زبان ہو، شکر گزار دل ہو، اور اس کی بیوی ایسی مومنہ عورت ہو جو اس کے ایمان کو پختہ تر بنانے میں مددگار ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا کہ کیا سالم بن ابی الجعد نے ثوبان سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نے ان سے کہا: پھر انہوں نے کسی صحابی سے سنا ہے؟ کہا: انہوں نے جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک رضی الله عنہما سے سنا ہے اور انہوں نے ان کے علاوہ کئی اور صحابہ کا ذکر کیا۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن منصور، عن سالم بن ابي الجعد، عن ثوبان، قال لما نزلت : ( والذين يكنزون الذهب والفضة ) قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض اسفاره فقال بعض اصحابه انزل في الذهب والفضة ما انزل . لو علمنا اى المال خير فنتخذه فقال " افضله لسان ذاكر وقلب شاكر وزوجة مومنة تعينه على ايمانه " . قال هذا حديث حسن . سالت محمد بن اسماعيل فقلت له سالم بن ابي الجعد سمع من ثوبان فقال لا . فقلت له ممن سمع من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال سمع من جابر بن عبد الله وانس بن مالك وذكر غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میری گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی، آپ نے فرمایا: ”عدی! اس بت کو نکال کر پھینک دو، میں نے آپ کو سورۃ برأۃ کی آیت: «اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله» ”انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں کو معبود بنا لیا ہے“ ( التوبہ: 31 ) ، پڑھتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا: ”وہ لوگ ان کی عبادت نہ کرتے تھے، لیکن جب وہ لوگ کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تھے تو وہ لوگ اسے حلال جان لیتے تھے، اور جب وہ لوگ ان کے لیے کسی چیز کو حرام ٹھہرا دیتے تو وہ لوگ اسے حرام جان لیتے تھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالسلام بن حرب کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- غطیف بن اعین حدیث میں معروف نہیں ہیں۔
حدثنا الحسين بن يزيد الكوفي، حدثنا عبد السلام بن حرب، عن غطيف بن اعين، عن مصعب بن سعد، عن عدي بن حاتم، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم وفي عنقي صليب من ذهب . فقال " يا عدي اطرح عنك هذا الوثن " . وسمعته يقرا في سورة براءة : ( اتخذوا احبارهم ورهبانهم اربابا من دون الله ) قال " اما انهم لم يكونوا يعبدونهم ولكنهم كانوا اذا احلوا لهم شييا استحلوه واذا حرموا عليهم شييا حرموه " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث عبد السلام بن حرب . وغطيف بن اعين ليس بمعروف في الحديث
ابوبکر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جب غار میں تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر ان ( کافروں ) میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف نظر ڈالے تو ہمیں اپنے قدموں کے نیچے ( غار میں ) دیکھ لے گا۔ آپ نے فرمایا: ”ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال و گمان ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ہمام کی حدیث مشہور ہے اور ہمام اس روایت میں منفرد ہیں، ۳- اس حدیث کو حبان بن ہلال اور کئی لوگوں نے اسی کے مانند ہمام سے روایت کیا ہے۔
حدثنا زياد بن ايوب البغدادي، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا همام، حدثنا ثابت، عن انس، ان ابا بكر، حدثه قال قلت للنبي صلى الله عليه وسلم ونحن في الغار لو ان احدهم ينظر الى قدميه لابصرنا تحت قدميه . فقال " يا ابا بكر! ما ظنك باثنين الله ثالثهما؟ " . قال هذا حديث حسن صحيح غريب انما يعرف من حديث همام تفرد به . وقد روى هذا الحديث حبان بن هلال وغير واحد عن همام نحو هذا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب عبداللہ بن ابی ( منافقوں کا سردار ) مرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے بلائے گئے، آپ کھڑے ہو کر اس کی طرف بڑھے اور اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھانے کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ میں لپک کر آپ کے سینے کے سامنے جا کھڑا ہوا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ اللہ کے دشمن عبداللہ بن ابی کی نماز پڑھنے جا رہے ہیں جس نے فلاں فلاں دن ایسا اور ایسا کہا تھا؟ وہ اس کے بےادبی و بدتمیزی کے دن گن گن کر بیان کرنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے یہاں تک کہ جب میں بہت کچھ کہہ گیا ( حد سے تجاوز کر گیا ) تو آپ نے فرمایا: ” ( بس بس ) مجھ سے ذرا پرے جاؤ عمر! مجھے اختیار دیا گیا ہے تو میں نے اس کے لیے مغفرت طلبی کو ترجیح دی ہے۔ کیونکہ مجھ سے کہا گیا ہے: «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم» ”ان ( منافقوں ) کے لیے مغفرت طلب کرو یا نہ کرو اگر تم ان کے لیے ستر بار بھی مغفرت طلب کرو گے تو بھی وہ انہیں معاف نہ کرے گا“ ( التوبہ: ۸۰ ) ، اگر میں جانتا کہ ستر بار سے زیادہ مغفرت طلب کرنے سے وہ معاف کر دیا جائے گا تو ستر بار سے بھی زیادہ میں اس کے لیے مغفرت مانگتا۔ پھر آپ نے عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھی اور جنازہ کے ساتھ چلے اور اس کی قبر پر کھڑے رہے، یہاں تک کہ اس کے کفن دفن سے فارغ ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اپنی جرات و جسارت پر مجھے حیرت ہوئی۔ اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۱؎، قسم اللہ کی! بس تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں۔ «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ”ان میں سے کسی ( منافق ) کی جو مر جائے نماز جنازہ کبھی بھی نہ پڑھو، اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہو“ ( التوبہ: ۸۴ ) ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرنے تک کبھی بھی کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہو کر دعا فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن محمد بن اسحاق، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، قال سمعت عمر بن الخطاب، يقول لما توفي عبد الله بن ابى دعي رسول الله صلى الله عليه وسلم للصلاة عليه فقام اليه فلما وقف عليه يريد الصلاة تحولت حتى قمت في صدره فقلت يا رسول الله اعلى عدو الله عبد الله بن ابى القايل يوم كذا كذا وكذا يعد ايامه . قال ورسول الله صلى الله عليه وسلم يتبسم حتى اذا اكثرت عليه قال " اخر عني يا عمر . اني خيرت فاخترت قد قيل لي : ( استغفر لهم او لا تستغفر لهم ان تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم ) لو اعلم اني لو زدت على السبعين غفر له لزدت " . قال ثم صلى عليه ومشى معه فقام على قبره حتى فرغ منه قال فعجب لي وجراتي على رسول الله صلى الله عليه وسلم والله ورسوله اعلم فوالله ما كان الا يسيرا حتى نزلت هاتان الايتان : (ولا تصل على احد منهم مات ابدا ولا تقم على قبره ) الى اخر الاية قال فما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعده على منافق ولا قام على قبره حتى قبضه الله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی کے باپ کا جب انتقال ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ اپنی قمیص ہمیں عنایت فرما دیں، میں انہیں ( عبداللہ بن ابی ) اس میں کفن دوں گا۔ اور ان کی نماز جنازہ پڑھ دیجئیے اور ان کے لیے استغفار فرما دیجئیے۔ تو آپ نے عبداللہ کو اپنی قمیص دے دی۔ اور فرمایا: ”جب تم ( غسل و غیرہ سے ) فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر دو۔ پھر جب آپ نے نماز پڑھنے کا ارادہ کیا تو عمر رضی الله عنہ نے آپ کو کھینچ لیا، اور کہا: کیا اللہ نے آپ کو منافقین کی نماز پڑھنے سے منع نہیں فرمایا؟ آپ نے فرمایا: ”مجھے دو چیزوں «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ”ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو“ میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا۔ چنانچہ آپ نے اس کی نماز پڑھی۔ جس پر اللہ نے آیت «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» نازل فرمائی۔ تو آپ نے ان ( منافقوں ) پر نماز جنازہ پڑھنی چھوڑ دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا عبيد الله، اخبرنا نافع، عن ابن عمر، قال جاء عبد الله بن عبد الله بن ابى الى النبي صلى الله عليه وسلم حين مات ابوه فقال اعطني قميصك اكفنه فيه وصل عليه واستغفر له . فاعطاه قميصه وقال " اذا فرغتم فاذنوني " . فلما اراد ان يصلي جذبه عمر وقال اليس قد نهى الله ان تصلي على المنافقين فقال " انا بين خيرتين : (استغفر لهم او لا تستغفر لهم ) " . فصلى عليه فانزل الله: (ولا تصل على احد منهم مات ابدا ولا تقم على قبره ) فترك الصلاة عليهم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی اس مسجد کے بارے میں اختلاف کر بیٹھے جس کی تاسیس و تعمیر پہلے دن سے تقویٰ پر ہوئی ہے ۱؎ ( کہ وہ کون سی ہے؟ ) ایک شخص نے کہا: وہ مسجد قباء ہے اور دوسرے نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے۔ تب آپ نے فرمایا: ”وہ میری یہی مسجد ( مسجد نبوی ) ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمران بن ابی انس کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث ابو سعید خدری سے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی مروی ہے، ۳- اسے انیس بن ابی یحییٰ نے اپنے والد سے اور ان کے والد ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن عمران بن ابي انس، عن عبد الرحمن بن ابي سعيد، عن ابي سعيد الخدري، انه قال تمارى رجلان في المسجد الذي اسس على التقوى من اول يوم فقال رجل هو مسجد قباء وقال الاخر هو مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو مسجدي هذا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث عمران بن ابي انس . وقد روي هذا عن ابي سعيد من غير هذا الوجه رواه انيس بن ابي يحيى عن ابيه عن ابي سعيد رضى الله عنه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آیت «فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين» ”اس میں ( قباء میں ) وہ لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک رہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو محبوب رکھتا ہے“ ( التوبہ: ۱۰۸ ) ، اہل قباء کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان کی عادت تھی کہ وہ استنجاء پانی سے کرتے تھے، تو ان کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوایوب، انس بن مالک اور محمد بن عبداللہ بن سلام سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء ابو كريب، حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا يونس بن الحارث، عن ابراهيم بن ابي ميمون، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " نزلت هذه الاية في اهل قباء : (فيه رجال يحبون ان يتطهروا والله يحب المطهرين ) " . قال كانوا يستنجون بالماء فنزلت هذه الاية فيهم . قال هذا حديث غريب من هذا الوجه . قال وفي الباب عن ابي ايوب وانس بن مالك ومحمد بن عبد الله بن سلام
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو اپنے مشرک ماں باپ کے لیے مغفرت طلب کرتے ہوئے سنا تو میں نے اس سے کہا: کیا اپنے مشرک ماں باپ کے لیے مغفرت طلب کرتے ہو؟ اس نے کہا: کیا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے مشرک باپ کے لیے مغفرت طلب نہیں کی تھی؟ پھر میں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ پر یہ آیت نازل ہوئی «ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين» ”نبی اور مومنین کے لیے زیبا نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت طلب کریں“ ( التوبہ: ۱۱۳ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں سعید بن مسیب سے بھی روایت ہے اور وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي الخليل، كوفي عن علي، قال سمعت رجلا، يستغفر لابويه وهما مشركان فقلت له اتستغفر لابويك وهما مشركان . فقال اوليس استغفر ابراهيم لابيه وهو مشرك فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فنزلت : ( ما كان للنبي والذين امنوا ان يستغفروا للمشركين ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن قال وفي الباب عن سعيد بن المسيب عن ابيه
کعب بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی غزوے کیے ان میں سے غزوہ تبوک کو چھوڑ کر کوئی بھی غزوہ ایسا نہیں ہے کہ جس میں آپ کے ساتھ میں نہ رہا ہوں۔ رہا بدر کا معاملہ سو بدر میں جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے ان میں سے کسی کی بھی آپ نے سرزنش نہیں کی تھی۔ کیونکہ آپ کا ارادہ ( شام سے آ رہے ) قافلے کو گھیرنے کا تھا، اور قریش اپنے قافلے کو بچانے کے لیے نکلے تھے، پھر دونوں قافلے بغیر پہلے سے طے کئے ہوئے جگہ میں جا ٹکرائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آیت: «إذ أنتم بالعدوة الدنيا وهم بالعدوة القصوى والركب أسفل منكم ولو تواعدتم لاختلفتم في الميعاد ولكن ليقضي الله أمرا كان مفعولا» ( الأنفال: ۴۲ ) ۱؎ میں فرمایا ہے اور قسم اللہ کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں سب سے بڑھ کر غزوہ بدر ہے۔ اور میں اس میں شرکت کو عقبہ کی رات میں اپنی بیعت کے مقابل میں قابل ترجیح نہیں سمجھتا۔ جب ہم نے اسلام پر عہد و میثاق لیا تھا۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر میں کبھی پیچھے نہیں ہوا یہاں تک کہ غزوہ تبوک کا واقعہ پیش آ گیا۔ اور یہ آخری غزوہ تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں کوچ کا اعلان کر دیا۔ پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی، کہا ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوہ تبوک سے لوٹنے کے بعد ) میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے اور مسلمان آپ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔ اور چاند کی روشنی بکھرنے کی طرح آپ نور بکھیر رہے تھے۔ آپ جب کسی معاملے میں خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ انور دمکنے لگتا تھا، میں پہنچ کر آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا: ”کعب بن مالک! اس بہترین دن کی بدولت خوش ہو جاؤ جو تمہیں جب سے تمہاری ماں نے جنا ہے اس دن سے آج تک میں اب حاصل ہوا ہے“۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! یہ دن مجھے اللہ کی طرف سے حاصل ہوا ہے یا آپ کی طرف سے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے حاصل ہوا ہے“۔ پھر آپ نے یہ آیات پڑھیں «لقد تاب الله على النبي والمهاجرين والأنصار الذين اتبعوه في ساعة العسرة» یہاں تک کہ آپ تلاوت کرتے ہوئے «إن الله هو التواب الرحيم» ۱؎ تک پہنچے۔ آیت «اتقوا الله وكونوا مع الصادقين» بھی ہمارے ہی متعلق نازل ہوئی ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! میری توبہ کی قبولیت کا تقاضہ ہے کہ میں جب بھی بولوں سچی بات ہی بولوں، اور میری توبہ میں یہ بھی شامل ہے کہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کے حوالے کر کے خود خالی ہاتھ ہو جاؤں۔ آپ نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے“۔ میں نے کہا: تو پھر میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے، اسلام قبول کرنے کے بعد اللہ نے میری نظر میں اس سے بڑھ کر کوئی اور نعمت مجھے نہیں عطا کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچ بولا اور جھوٹ نہ بولے کہ ہم ہلاک ہو جاتے جیسا کہ ( جھوٹ بول کر ) دوسرے ہلاک و برباد ہو گئے۔ اور میرا گمان غالب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سچائی کے معاملے میں جتنا مجھے آزمایا ہے کسی اور کو نہ آزمایا ہو گا، اس کے بعد تو میں نے کبھی جھوٹ بولنے کا قصد و ارادہ ہی نہیں کیا۔ اور میں اللہ کی ذات سے امید رکھتا ہوں کہ وہ باقی ماندہ زندگی میں بھی مجھے جھوٹ بولنے سے محفوظ رکھے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث زہری سے اس اسناد سے مختلف دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۲- یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حدیث روایت کی گئی ہے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے اور وہ روایت کرتے ہیں اپنے چچا عبیداللہ سے اور وہ کعب سے، اور اس کے سوا اور بھی کچھ کہا گیا ہے، ۳- یونس بن یزید نے یہ حدیث زہری سے روایت کی ہے، اور زہری نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے کہ ان کے باپ نے کعب بن مالک سے سن کر بیان کیا۔
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے موقع پر ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے انہیں بلا بھیجا، اتفاق کی بات کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ بھی وہاں موجود تھے، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: عمر بن خطاب میرے پاس آئے ہیں کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے بہت سے قراء ( حافظوں ) کی ہلاکت ہوئی ہے، اور میں ڈرتا ہوں کہ اگر ان تمام جگہوں میں جہاں جنگیں چل رہی ہیں قراء قرآن کا قتل بڑھتا رہا تو بہت سارا قرآن ضائع ہو سکتا ہے، اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ مکمل قرآن اکٹھا کرنے کا حکم فرمائیں۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ سے کہا: میں کوئی ایسی چیز کیسے کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے۔ عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ بہتر کام ہے۔ وہ مجھ سے یہ بات باربار کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے مجھے بھی اس کام کے لیے شرح صدر عطا کر دیا جس کام کے لیے اللہ نے عمر کو شرح صدر عطا فرمایا تھا۔ اور میں نے بھی اس سلسلہ میں وہی بات مناسب سمجھی جو انہوں نے سمجھی۔ زید کہتے ہیں: ابوبکر رضی الله عنہ نے ( مجھ سے ) کہا: تم جوان ہو، عقلمند ہو، ہم تمہیں ( کسی معاملے میں بھی ) متہم نہیں کرتے۔ اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی لکھتے بھی تھے، تو ایسا کرو کہ پورا قرآن تلاش کر کے لکھ ڈالو، ( یکجا کر دو ) زید کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اگر مجھ سے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے کہتے تو یہ کام مجھے اس کام سے زیادہ بھاری نہ لگتا، میں نے کہا: آپ لوگ کوئی ایسا کام جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے کیسے ( کرنے کی جرات ) کرتے ہیں؟ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارے لیے بہتر ہے۔ اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما دونوں مجھ سے باربار یہی دہراتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرے سینے کو بھی اس حق کے لیے کھول دیا جس کے لیے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے سینے کو اس نے کھولا تھا، تو میں نے پورے قرآن کی تلاش و جستجو شروع کر دی، میں پرزوں، کھجور کے پتوں، نرم پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے لے کر نقل کر کر کے یکجا کرنے لگا، تو سورۃ برأۃ کی آخری آیات «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم بالمؤمنين رءوف رحيم فإن تولوا فقل حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم» ”تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے، اس پر تمہاری تکلیف شاق گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کا حریص ہے اور ایمان داروں کے حال پر نہایت درجہ شفیق اور مہربان ہے۔ پھر بھی اگر وہ منہ پھیر لیں تو اللہ مجھ کو کافی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے“ ( التوبہ: ۱۲۸ ) ۔ مجھے خزیمہ بن ثابت رضی الله عنہ کے پاس ملیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن الزهري، عن عبيد بن السباق، ان زيد بن ثابت، حدثه قال بعث الى ابو بكر الصديق مقتل اهل اليمامة فاذا عمر بن الخطاب عنده فقال ان عمر بن الخطاب قد اتاني فقال ان القتل قد استحر بقراء القران يوم اليمامة واني لاخشى ان يستحر القتل بالقراء في المواطن كلها فيذهب قران كثير واني ارى ان تامر بجمع القران . قال ابو بكر لعمر كيف افعل شييا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عمر هو والله خير فلم يزل يراجعني في ذلك حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر عمر ورايت فيه الذي راى قال زيد قال ابو بكر انك شاب عاقل لا نتهمك قد كنت تكتب لرسول الله صلى الله عليه وسلم الوحى فتتبع القران . قال فوالله لو كلفوني نقل جبل من الجبال ما كان اثقل على من ذلك قال قلت كيف تفعلون شييا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ابو بكر هو والله خير . فلم يزل يراجعني في ذلك ابو بكر وعمر حتى شرح الله صدري للذي شرح صدرهما صدر ابي بكر وعمر فتتبعت القران اجمعه من الرقاع والعسب واللخاف يعني الحجارة الرقاق وصدور الرجال فوجدت اخر سورة براءة مع خزيمة بن ثابت : ( قد جاءكم رسول من انفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم بالمومنين رءوف رحيم * فان تولوا فقل حسبي الله لا اله الا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حذیفہ بن الیمان عثمان رضی الله عنہما کے پاس آئے، ان دنوں آپ شام والوں کے ساتھ آرمینیہ کی فتح میں اور عراق والوں کے ساتھ آذر بائیجان کی فتح میں مشغول تھے، حذیفہ رضی الله عنہ نے قرآن کی قرأت میں لوگوں کا اختلاف دیکھ کر عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے کہا: امیر المؤمنین! اس امت کو سنبھالئے اس سے پہلے کہ یہ کتاب ( قرآن مجید ) کے معاملے میں اختلاف کا شکار ہو جائے ( اور آپس میں لڑنے لگے ) جیسا کہ یہود و نصاریٰ اپنی کتابوں ( تورات و انجیل اور زبور ) کے بارے میں مختلف ہو گئے۔ تو عثمان رضی الله عنہ نے حفصہ رضی الله عنہا کے پاس پیغام بھیجا کہ ( ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے تیار کرائے ہوئے ) صحیفے ہمارے پاس بھیج دیں ہم انہیں مصاحف میں لکھا کر آپ کے پاس واپس بھیج دیں گے، چنانچہ ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے پاس یہ صحیفے بھیج دیے۔ پھر عثمان نے زید بن ثابت اور سعید بن العاص اور عبدالرحمٰن بن الحارث بن ہشام اور عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم کے پاس ان صحیفوں کو اس حکم کے ساتھ بھیجا کہ یہ لوگ ان کو مصاحف میں نقل کر دیں۔ اور تینوں قریشی صحابہ سے کہا کہ جب تم میں اور زید بن ثابت رضی الله عنہ میں اختلاف ہو جائے تو قریش کی زبان ( و لہجہ ) میں لکھو کیونکہ قرآن انہیں کی زبان میں نازل ہوا ہے، یہاں تک کہ جب انہوں نے صحیفے مصحف میں نقل کر لیے تو عثمان نے ان تیار مصاحف کو ( مملکت اسلامیہ کے حدود اربعہ میں ) ہر جانب ایک ایک مصحف بھیج دیا۔ زہری کہتے ہیں مجھ سے خارجہ بن زید نے بیان کیا کہ زید بن ثابت نے کہا کہ میں سورۃ الاحزاب کی ایک آیت جسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنتا تھا اور مجھے یاد نہیں رہ گئی تھی اور وہ آیت یہ ہے «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر» ۱؎ تو میں نے اسے ڈھونڈا، بہت تلاش کے بعد میں اسے خزیمہ بن ثابت کے پاس پایا ۲؎ خزیمہ بن ثابت رضی الله عنہ کہا یا ابوخزیمہ کہا۔ ( راوی کو شک ہو گیا ) تو میں نے اسے اس کی سورۃ میں شامل کر دیا۔ زہری کہتے ہیں: لوگ اس وقت ( لفظ ) «تابوهاور» تابوت میں مختلف ہو گئے، قریشیوں نے کہا «التابوت» اور زید نے «التابوه» کہا۔ ان کا اختلاف عثمان رضی الله عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: «التابوت» لکھو کیونکہ یہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ زہری کہتے ہیں: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بتایا ہے کہ عبداللہ بن مسعود نے زید بن ثابت رضی الله عنہما کے مصاحف لکھنے کو ناپسند کیا اور کہا: اے گروہ مسلمانان! میں مصاحف کے لکھنے سے روک دیا گیا، اور اس کام کا والی و کارگزار وہ شخص ہو گیا جو قسم اللہ کی جس وقت میں ایمان لایا وہ شخص ایک کافر شخص کی پیٹھ میں تھا ( یعنی پیدا نہ ہوا تھا ) یہ کہہ کر انہوں نے زید بن ثابت کو مراد لیا ۳؎ اور اسی وجہ سے عبداللہ بن مسعود نے کہا: عراق والو! جو مصاحف تمہارے پاس ہیں انہیں چھپا لو، اور سنبھال کر رکھو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو کوئی چیز چھپا رکھے گا قیامت کے دن اسے لے کر حاضر ہو گا تو تم قیامت میں اپنے مصاحف ساتھ میں لے کر اللہ سے ملاقات کرنا ۴؎ زہری کہتے ہیں: مجھے یہ اطلاع و خبر بھی ملی کہ کبار صحابہ نے ابن مسعود رضی الله عنہ کی یہ بات ناپسند فرمائی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور یہ زہری کی حدیث ہے، اور ہم اسے صرف انہیں کی روایت سے جانتے ہیں۔
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «للذين أحسنوا الحسنى وزيادة» ”جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے اچھائی ( جنت ) ہے اور مزید برآں بھی ( یعنی دیدار الٰہی ) “ ( یونس: ۲۶ ) ، کی تفسیر اس طرح فرمائی: ”جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا: اللہ کے پاس تمہارے لیے اس کی طرف سے کیا ہوا ایک وعدہ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ تم سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر دے۔ تو وہ جنتی کہیں گے: کیا اللہ نے ہمارے چہرے روشن نہیں کر دیئے ہیں اور ہمیں آگ سے نجات نہیں دی ہے اور ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا ہے؟ ( اب کون سی نعمت باقی رہ گئی ہے؟ ) “، آپ نے فرمایا: ”پھر پردہ اٹھا دیا جائے گا“، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! اللہ نے انہیں کوئی ایسی چیز دی ہی نہیں جو انہیں اس کے دیدار سے زیادہ لذیذ اور محبوب ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حماد بن سلمہ کی حدیث ایسی ہی ہے، ۲- کئی ایک نے اسے حماد بن سلمہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ سلیمان بن مغیرہ نے یہ حدیث ثابت سے اور ثابت نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ان کے قول کی حیثیت سے روایت کی ہے اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ یہ روایت صہیب سے ہے اور صہیب رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت البناني، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن صهيب، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قول الله عز وجل : (للذين احسنوا الحسنى وزيادة ) قال " اذا دخل اهل الجنة الجنة نادى مناد ان لكم عند الله موعدا يريد ان ينجزكموه قالوا الم تبيض وجوهنا وتنجنا من النار وتدخلنا الجنة قال فيكشف الحجاب . قال فوالله ما اعطاهم الله شييا احب اليهم من النظر اليه " . قال ابو عيسى حديث حماد بن سلمة هكذا روى غير واحد عن حماد بن سلمة مرفوعا . وروى سليمان بن المغيرة هذا الحديث عن ثابت عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قوله ولم يذكر فيه عن صهيب عن النبي صلى الله عليه وسلم
عطاء بن یسار ایک مصری شیخ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابو الدرداء رضی الله عنہ سے اس آیت «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے بشارت ہے دنیا کی زندگی میں“ ( یونس: ۶۴ ) ، کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی تفسیر پوچھی مجھ سے کسی نے اس آیت کے متعلق نہیں پوچھا ( اور میں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے مجھ سے تمہارے سوا کسی نے اس کے متعلق نہیں پوچھا۔ ”یہ بشارت اچھے خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لیے ( کسی اور کو ) دکھایا جاتا ہے“۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ابن المنكدر، عن عطاء بن يسار، عن رجل، من اهل مصر قال سالت ابا الدرداء عن هذه الاية : ( لهم البشرى، في الحياة الدنيا ) قال ما سالني عنها احد منذ سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عنها فقال " ما سالني عنها احد غيرك منذ انزلت فهي الرويا الصالحة يراها المسلم او ترى له " . حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عبد العزيز بن رفيع، عن ابي صالح السمان، عن عطاء بن يسار، عن رجل، من اهل مصر عن ابي الدرداء، فذكر نحوه . حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم بن بهدلة، عن ابي صالح، عن ابي الدرداء، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وليس فيه عن عطاء بن يسار . قال وفي الباب عن عبادة بن الصامت
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن ابيه، قال لم اتخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة غزاها حتى كانت غزوة تبوك الا بدرا ولم يعاتب النبي صلى الله عليه وسلم احدا تخلف عن بدر انما خرج يريد العير فخرجت قريش مغوثين لعيرهم فالتقوا عن غير موعد كما قال الله عز وجل ولعمري ان اشرف مشاهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس لبدر وما احب اني كنت شهدتها مكان بيعتي ليلة العقبة حيث تواثقنا على الاسلام ثم لم اتخلف بعد عن النبي صلى الله عليه وسلم حتى كانت غزوة تبوك وهي اخر غزوة غزاها واذن النبي صلى الله عليه وسلم بالرحيل . فذكر الحديث بطوله قال فانطلقت الى النبي صلى الله عليه وسلم فاذا هو جالس في المسجد وحوله المسلمون وهو يستنير كاستنارة القمر وكان اذا سر بالامر استنار فجيت فجلست بين يديه فقال " ابشر يا كعب بن مالك بخير يوم اتى عليك منذ ولدتك امك " . فقلت يا نبي الله امن عند الله ام من عندك قال " بل من عند الله " . ثم تلا هولاء الايات : ( لقد تاب الله على النبي والمهاجرين والانصار الذين اتبعوه في ساعة العسرة ) حتى بلغ الله هو التواب الرحيم ) قال وفينا انزلت ايضا : ( اتقوا الله وكونوا مع الصادقين ) قال قلت يا نبي الله ان من توبتي ان لا احدث الا صدقا وان انخلع من مالي كله صدقة الى الله والى رسوله . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " امسك عليك بعض مالك فهو خير لك " . فقلت فاني امسك سهمي الذي بخيبر قال فما انعم الله على نعمة بعد الاسلام اعظم في نفسي من صدقي رسول الله صلى الله عليه وسلم حين صدقته انا وصاحباى لا نكون كذبنا فهلكنا كما هلكوا واني لارجو ان لا يكون الله ابلى احدا في الصدق مثل الذي ابلاني ما تعمدت لكذبة بعد واني لارجو ان يحفظني الله فيما بقي . قال وقد روي عن الزهري هذا الحديث بخلاف هذا الاسناد وقد قيل عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك عن عمه عبيد الله عن كعب وقد قيل غير هذا وروى يونس بن يزيد هذا الحديث عن الزهري عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك ان اباه حدثه عن كعب بن مالك
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن الزهري، عن انس، ان حذيفة، قدم على عثمان بن عفان وكان يغازي اهل الشام في فتح ارمينية واذربيجان مع اهل العراق فراى حذيفة اختلافهم في القران فقال لعثمان بن عفان يا امير المومنين ادرك هذه الامة قبل ان يختلفوا في الكتاب كما اختلفت اليهود والنصارى فارسل الى حفصة ان ارسلي الينا بالصحف ننسخها في المصاحف ثم نردها اليك فارسلت حفصة الى عثمان بالصحف فارسل عثمان الى زيد بن ثابت وسعيد بن العاصي وعبد الرحمن بن الحارث بن هشام وعبد الله بن الزبير ان انسخوا الصحف في المصاحف وقال للرهط القرشيين الثلاثة ما اختلفتم فيه انتم وزيد بن ثابت فاكتبوه بلسان قريش فانما نزل بلسانهم . حتى نسخوا الصحف في المصاحف بعث عثمان الى كل افق بمصحف من تلك المصاحف التي نسخوا . قال الزهري وحدثني خارجة بن زيد بن ثابت ان زيد بن ثابت قال فقدت اية من سورة الاحزاب كنت اسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقروها : ( من المومنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ) فالتمستها فوجدتها مع خزيمة بن ثابت او ابي خزيمة فالحقتها في سورتها . قال الزهري فاختلفوا يوميذ في التابوت والتابوه فقال القرشيون التابوت . وقال زيد التابوه . فرفع اختلافهم الى عثمان فقال اكتبوه التابوت فانه نزل بلسان قريش . قال الزهري فاخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة ان عبد الله بن مسعود كره لزيد بن ثابت نسخ المصاحف وقال يا معشر المسلمين اعزل عن نسخ كتابة المصحف ويتولاها رجل والله لقد اسلمت وانه لفي صلب رجل كافر يريد زيد بن ثابت ولذلك قال عبد الله بن مسعود يا اهل العراق اكتموا المصاحف التي عندكم وغلوها فان الله يقول : ( ومن يغلل يات بما غل يوم القيامة ) فالقوا الله بالمصاحف . قال الزهري فبلغني ان ذلك كرهه من مقالة ابن مسعود رجال من افاضل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم . قال هذا حديث حسن صحيح . وهو حديث الزهري لا نعرفه الا من حديثه