احادیث
#3094
سنن ترمذی - Exegesis
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «والذين يكنزون الذهب والفضة» ”اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں، اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو آپ انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئیے“ ( التوبہ: ۳۴ ) ، نازل ہوئی، اس وقت ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ کے بعض صحابہ نے کہا: سونے اور چاندی کے بارے میں جو اترا سو اترا ( یعنی اس کی مذمت آئی ) اگر ہم جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو اسی کو اپناتے۔ آپ نے فرمایا: ”بہترین مال یہ ہے کہ آدمی کے پاس اللہ کو یاد کرنے والی زبان ہو، شکر گزار دل ہو، اور اس کی بیوی ایسی مومنہ عورت ہو جو اس کے ایمان کو پختہ تر بنانے میں مددگار ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا کہ کیا سالم بن ابی الجعد نے ثوبان سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نے ان سے کہا: پھر انہوں نے کسی صحابی سے سنا ہے؟ کہا: انہوں نے جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک رضی الله عنہما سے سنا ہے اور انہوں نے ان کے علاوہ کئی اور صحابہ کا ذکر کیا۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن منصور، عن سالم بن ابي الجعد، عن ثوبان، قال لما نزلت : ( والذين يكنزون الذهب والفضة ) قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض اسفاره فقال بعض اصحابه انزل في الذهب والفضة ما انزل . لو علمنا اى المال خير فنتخذه فقال " افضله لسان ذاكر وقلب شاكر وزوجة مومنة تعينه على ايمانه " . قال هذا حديث حسن . سالت محمد بن اسماعيل فقلت له سالم بن ابي الجعد سمع من ثوبان فقال لا . فقلت له ممن سمع من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال سمع من جابر بن عبد الله وانس بن مالك وذكر غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3094
- Book Index
- 146
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiDaif
