Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما روایت ہے کہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے فرعون کو ڈبویا تو اس نے ( اس موقع پر ) کہا «آمنت أنه لا إله إلا الذي آمنت به بنو إسرائيل» کہ ”میں اس بات پر ایمان لایا کہ اس معبود کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں“ ( یونس: ۹۰ ) ، پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے محمد! کاش اس وقت میری حالت دیکھی ہوتی۔ میں اس ڈر سے کہ کہیں اس ( مردود ) کو اللہ کی رحمت حاصل نہ ہو جائے، میں سمندر سے کیچڑ نکال نکال کر اس کے منہ میں ٹھونسنے لگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا الحجاج بن منهال، حدثنا حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن يوسف بن مهران، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لما اغرق الله فرعون قال امنت انه لا اله الا الذي امنت به بنو اسراييل فقال جبريل يا محمد فلو رايتني وانا اخذ من حال البحر فادسه في فيه مخافة ان تدركه الرحمة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا کہ ( جب فرعون ڈوبنے لگا ) جبرائیل علیہ السلام فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونسنے لگے، اس ڈر سے کہ وہ کہیں «لا إلٰہ إلا اللہ» نہ کہہ دے تو اللہ کو اس پر رحم آ جائے۔ راوی کو شک ہو گیا ہے کہ آپ نے «خشية أن يقول لا إله إلا الله» کہا یا «خشية أن يرحمه الله» کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا خالد بن الحارث، اخبرنا شعبة، اخبرني عدي بن ثابت، وعطاء بن السايب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ذكر احدهما عن النبي صلى الله عليه وسلم انه ذكر " ان جبريل صلى الله عليه وسلم جعل يدس في في فرعون الطين خشية ان يقول لا اله الا الله فيرحمه الله او خشية ان يرحمه الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
ابورزین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ اپنی مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا؟ آپ نے فرمایا: ” «عماء» میں تھا، نہ تو اس کے نیچے ہوا تھی نہ ہی اس کے اوپر۔ اس نے اپنا عرش پانی پر بنایا ۱؎“، احمد بن منیع کہتے ہیں: ( ہمارے استاد ) یزید نے بتایا: «عماء» کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسی طرح حماد بن سلمہ نے اپنی روایت میں ”وكيع بن حدس“ کہا ہے اور شعبہ، ابو عوانہ اور ہشیم نے ”وكيع بن عدس“ کہا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے، ۳- ابورزین کا نام لقیط بن عامر ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا حماد بن سلمة، عن يعلى بن عطاء، عن وكيع بن حدس، عن عمه ابي رزين، قال قلت يا رسول الله اين كان ربنا قبل ان يخلق خلقه قال " كان في عماء ما تحته هواء وما فوقه هواء وخلق عرشه على الماء " . قال احمد بن منيع قال يزيد بن هارون العماء اى ليس معه شيء . قال ابو عيسى هكذا روى حماد بن سلمة وكيع بن حدس ويقول شعبة وابو عوانة وهشيم وكيع بن عدس وهو اصح وابو رزين اسمه لقيط بن عامر قال وهذا حديث حسن
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے مگر جب اسے گرفت میں لے لیتا ہے پھر تو اسے چھوڑتا بھی نہیں“، پھر آپ نے آیت «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» ”ایسی ہی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی ظالم بستی والے کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت، درد ناک ہوتی ہے“ ( ہود: ۱۰۲ ) ، تلاوت فرمائی۔ ( راوی ابومعاویہ نے کبھی «یملی» کہا اور کبھی «یمہل» دونوں کا معنی ایک ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابواسامہ نے بھی اسے برید سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور «یُملی» کا لفظ استعمال کیا ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن بريد بن عبد الله، عن ابي بردة، عن ابي موسى، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله تبارك وتعالى يملي وربما قال يمهل للظالم حتى اذا اخذه لم يفلته " . ثم قرا : ( كذلك اخذ ربك اذا اخذ القرى ) الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب وقد رواه ابو اسامة عن بريد نحوه وقال يملي . حدثنا ابراهيم بن سعيد الجوهري، عن ابي اسامة، عن بريد بن عبد الله بن ابي بردة، عن جده ابي بردة، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وقال يملي ولم يشك فيه
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «فمنهم شقي وسعيد» ”سو ان میں کوئی بدبخت ہو گا اور کوئی نیک بخت“ ( ہود: ۱۰۵ ) ، نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے نبی! پھر ہم کس چیز کے موافق عمل کریں؟ کیا اس چیز کے موافق عمل کریں جس سے فراغت ہو چکی ہے ( یعنی جس کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے ) ؟ یا ہم ایسی چیز پر عمل کریں جس سے ابھی فراغت نہیں ہوئی ہے۔ ( یعنی اس کا فیصلہ ہمارا عمل دیکھ کر کیا جائے گا ) آپ نے فرمایا: ”عمر! ہم اسی چیز کے موافق عمل کرتے ہیں جس سے فراغت ہو چکی ہے۔ ( اور ہمارے عمل سے پہلے ) وہ چیز ضبط تحریر میں آ چکی ہے ۲؎، لیکن بات صرف اتنی ہے کہ ہر شخص کے لیے وہی آسان ہے جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالملک بن عمرو کی حدیث سے جانتے ہیں۔
حدثنا بندار، محمد بن بشار حدثنا ابو عامر العقدي، هو عبد الملك بن عمرو حدثنا سليمان بن سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، عن عمر بن الخطاب، قال لما نزلت هذه الاية : ( منهم شقي وسعيد ) سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا نبي الله فعلى ما نعمل على شيء قد فرغ منه او على شيء لم يفرغ منه قال " بل على شيء قد فرغ منه وجرت به الاقلام يا عمر ولكن كل ميسر لما خلق له " . هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه لا نعرفه الا من حديث عبد الملك بن عمرو
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: شہر کے بیرونی علاقے میں ایک عورت سے میں ملا اور سوائے جماع کے اس کے ساتھ میں نے سب کچھ کیا، اور اب بذات خود میں یہاں موجود ہوں، تو آپ اب میرے بارے میں جو فیصلہ چاہیں صادر فرمائیں ( میں وہ سزا جھیلنے کے لیے تیار ہوں ) عمر رضی الله عنہ نے اس سے کہا: اللہ نے تیری پردہ پوشی کی ہے کاش تو نے بھی اپنے نفس کی پردہ پوشی کی ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اور وہ آدمی چلا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیج کر اسے بلایا اور اسے آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» ”نماز قائم کرو دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے حصوں میں، بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے یاد رکھنے والوں کے لیے“ ( ہود: ۱۱۴ ) ، تک پڑھ کر سنائی۔ ایک صحابی نے کہا: کیا یہ ( بشارت ) اس شخص کے لیے خاص ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ سب کے لیے ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح اسی جیسی روایت کی ہے اسرائیل نے سماک سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ اور اسود سے، اور ان دونوں نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، ۳- اور اسی سفیان ثوری نے سماک سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور عبدالرحمٰن نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ان لوگوں کی روایت سفیان ثوری کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ۳؎، ۴- شعبہ نے سماک بن حرب سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے اور اسود نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن ابراهيم، عن علقمة، والاسود، عن عبد الله، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اني عالجت امراة في اقصى المدينة واني اصبت منها ما دون ان امسها وانا هذا فاقض في ما شيت . فقال له عمر لقد سترك الله لو سترت على نفسك . فلم يرد عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم شييا فانطلق الرجل فاتبعه رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا فدعاه فتلا عليهم : ( اقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل ان الحسنات يذهبن السييات ذلك ذكرى للذاكرين ) الى اخر الاية فقال رجل من القوم هذا له خاصة قال " لا بل للناس كافة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وهكذا روى اسراييل عن سماك عن ابراهيم عن علقمة والاسود عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وروى سفيان الثوري عن سماك عن ابراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله ورواية هولاء اصح من رواية الثوري وروى شعبة عن سماك بن حرب عن ابراهيم عن الاسود عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . حدثنا محمد بن يحيى النيسابوري، حدثنا محمد بن يوسف، عن سفيان، عن الاعمش، وسماك، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه . حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا الفضل بن موسى، عن سفيان، عن سماك، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه ولم يذكر فيه الاعمش وقد روى سليمان التيمي هذا الحديث عن ابي عثمان النهدي عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک ایسے شخص کے بارے میں مجھے بتائیے جو ایک ایسی عورت سے ملا جن دونوں کا آپس میں جان پہچان، رشتہ و ناطہٰ ( نکاح ) نہیں ہے اور اس نے اس عورت کے ساتھ سوائے جماع کے وہ سب کچھ ( بوس و کنار چوما چاٹی وغیرہ ) کیا جو ایک مرد اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے؟، ( اس پر ) اللہ تعالیٰ نے آیت: «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» ناز فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا، میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! کیا یہ حکم اس شخص کے لیے خاص ہے یا سبھی مومنین کے لیے عام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ سبھی مسلمانوں کے لیے عام ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، ( اس لیے کہ ) عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے معاذ سے نہیں سنا ہے، اور معاذ بن جبل رضی الله عنہ کا انتقال عمر رضی الله عنہ کے دور خلافت میں ہوا تھا، اور عمر رضی الله عنہ جب شہید کیے گئے تو اس وقت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ چھ برس کے چھوٹے بچے تھے۔ حالانکہ انہوں نے عمر سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے ( جبکہ صرف ) انہیں دیکھا ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا حسين الجعفي، عن زايدة، عن عبد الملك بن عمير، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن معاذ بن جبل، قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال يا رسول الله ارايت رجلا لقي امراة وليس بينهما معرفة فليس ياتي الرجل شييا الى امراته الا قد اتى هو اليها الا انه لم يجامعها . قال فانزل الله : ( اقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل ان الحسنات يذهبن السييات ذلك ذكرى للذاكرين ) فامره ان يتوضا ويصلي . قال معاذ فقلت يا رسول الله اهي له خاصة ام للمومنين عامة قال " بل للمومنين عامة " . قال ابو عيسى هذا حديث ليس اسناده بمتصل عبد الرحمن بن ابي ليلى لم يسمع من معاذ ومعاذ بن جبل مات في خلافة عمر وقتل عمر وعبد الرحمن بن ابي ليلى غلام صغير ابن ست سنين وقد روى عن عمر وراه . وروى شعبة هذا الحديث عن عبد الملك بن عمير عن عبد الرحمن بن ابي ليلى عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک ( غیر محرم ) عورت کا ناجائز بوسہ لے لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر پوچھا کہ اس کا کفارہ کیا ہے؟ اس پر آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات» نازل ہوئی، اس شخص نے پوچھا کیا یہ ( کفارہ ) صرف میرے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ تمہارے لیے ہے اور میری امت کے ہر اس شخص کے لیے جو یہ غلطی کر بیٹھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سليمان التيمي، عن ابي عثمان، عن ابن مسعود، ان رجلا، اصاب من امراة قبلة حرام فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فساله عن كفارتها فنزلت : ( اقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل ان الحسنات يذهبن السييات ) فقال الرجل الي هذه يا رسول الله فقال " لك ولمن عمل بها من امتي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوالیسر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس کھجور خریدنے آئی، میں نے اس سے کہا: ( یہ کھجور جو یہاں موجود ہے جسے تم دیکھ رہی ہو ) اس سے اچھی اور عمدہ کھجور گھر میں رکھی ہے۔ چنانچہ وہ بھی میرے ساتھ ساتھ گھر میں آ گئی، میں اس کی طرف مائل ہو گیا اور اس کو چوم لیا، تب ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس آ کر ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: اپنے نفس ( کی اس غلطی ) پر پردہ ڈال دو، توبہ کرو دوسرے کسی اور سے اس واقعہ کا ذکر نہ کرو، لیکن مجھ سے صبر نہ ہو سکا چنانچہ میں عمر رضی الله عنہ کے پاس آیا اور ان سے بھی اس ( واقعہ ) کا ذکر کیا، انہوں نے بھی کہا: اپنے نفس کی پردہ پوشی کرو، توبہ کرو اور کسی دوسرے کو یہ واقعہ نہ بتاؤ۔ ( مگر میرا جی نہ مانا ) میں اس بات پر قائم نہ رہا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بھی یہ بات بتا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے ایک غازی کی بیوی کے ساتھ جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلا ہے اس کی غیر موجودگی میں ایسی حرکت کی ہے؟“ آپ کی اتنی بات کہنے سے مجھے اتنی غیرت آئی کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہوتا بلکہ اب لاتا اسے خیال ہوا کہ وہ تو جہنم والوں میں سے ہو گیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( سوچ میں ) کافی دیر تک سر جھکائے رہے یہاں تک کہ آپ پر بذریعہ وحی آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل» سے «ذكرى للذاكرين» تک نازل ہوئی۔ ابوالیسر رضی الله عنہ کہتے ہیں: ( جب ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ ( بشارت ) ان کے لیے خاص ہے یا سبھی لوگوں کے لیے عام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ سبھی لوگوں کے لیے عام ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قیس بن ربیع کو وکیع وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور ابوالیسر کعب بن عمرو رضی الله عنہ ہیں، ۳- شریک نے عثمان بن عبداللہ سے یہ حدیث قیس بن ربیع کی روایت کی طرح روایت کی ہے، ۴- اس باب میں ابوامامہ اور واثلہ بن اسقع اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا يزيد بن هارون، اخبرنا قيس بن الربيع، عن عثمان بن عبد الله بن موهب، عن موسى بن طلحة، عن ابي اليسر، قال اتتني امراة تبتاع تمرا فقلت ان في البيت تمرا اطيب منه . فدخلت معي في البيت فاهويت اليها فقبلتها فاتيت ابا بكر فذكرت ذلك له قال استر على نفسك وتب ولا تخبر احدا . فلم اصبر فاتيت عمر فذكرت ذلك له فقال استر على نفسك وتب ولا تخبر احدا . فلم اصبر فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له . فقال له " اخلفت غازيا في سبيل الله في اهله بمثل هذا " . حتى تمنى انه لم يكن اسلم الا تلك الساعة حتى ظن انه من اهل النار . قال واطرق رسول الله صلى الله عليه وسلم طويلا حتى اوحى الله اليه : (اقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل ) الى قوله : (ذكرى للذاكرين ) . قال ابو اليسر فاتيته فقراها على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال اصحابه يا رسول الله الهذا خاصة ام للناس عامة قال " بل للناس عامة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وقيس بن الربيع ضعفه وكيع وغيره وابو اليسر هو كعب بن عمرو . قال وروى شريك عن عثمان بن عبد الله هذا الحديث مثل رواية قيس بن الربيع . قال وفي الباب عن ابي امامة وواثلة بن الاسقع وانس بن مالك
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شریف بیٹے شریف ( باپ ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف ( باپ ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف باپ کے ( یعنی ) یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ۱؎ کی عظمت اور نجابت و شرافت کا یہ حال تھا کہ جتنے دنوں یوسف علیہ السلام جیل خانے میں رہے ۲؎ اگر میں قید خانے میں رہتا، پھر ( بادشاہ کا ) قاصد مجھے بلانے آتا تو میں اس کی پکار پر فوراً جا حاضر ہوتا، یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کی طلبی کو قبول نہ کیا بلکہ کہا جاؤ پہلے بادشاہ سے پوچھو! ان ”محترمات“ کا اب کیا معاملہ ہے، جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ لیے تھے۔ پھر آپ نے آیت: «فلما جاءه الرسول قال ارجع إلى ربك فاسأله ما بال النسوة اللاتي قطعن أيديهن» ۳؎ کی تلاوت فرمائی۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ رحم فرمائے لوط علیہ السلام پر جب کہ انہوں نے مجبور ہو کر تمنا کی تھی: اے کاش میرے پاس طاقت ہوتی، یا کوئی مضبوط سہارا مل جاتا۔ جب کہ انہوں نے کہا: «لو أن لي بكم قوة أو آوي إلى ركن شديد» ۴؎۔ آپ نے فرمایا: ”لوط علیہ السلام کے بعد تو اللہ نے جتنے بھی نبی بھیجے انہیں ان کی قوم کے اعلیٰ نسب چیدہ لوگوں اور بلند مقام والوں ہی میں سے بھیجے“۔
حدثنا الحسين بن حريث الخزاعي المروزي، حدثنا الفضل بن موسى، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الكريم بن الكريم بن الكريم بن الكريم يوسف بن يعقوب بن اسحاق بن ابراهيم قال ولو لبثت في السجن ما لبث ثم جاءني الرسول اجبت . ثم قرا : ( فلما جاءه الرسول قال ارجع الى ربك فاساله ما بال النسوة اللاتي قطعن ايديهن ) قال : ورحمة الله على لوط ان كان لياوي الى ركن شديد اذ قال : ( لو ان لي بكم قوة او اوي الى ركن شديد ) فما بعث الله من بعده نبيا الا في ذروة من قومه " . حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة، وعبد الرحيم، عن محمد بن عمرو، نحو حديث الفضل بن موسى الا انه قال " ما بعث الله بعده نبيا الا في ثروة من قومه " . قال محمد بن عمرو الثروة الكثرة والمنعة . قال ابو عيسى وهذا اصح من رواية الفضل بن موسى وهذا حديث حسن
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کہا: اے ابوالقاسم! ہمیں «رعد» کے بارے میں بتائیے وہ کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے۔ بادلوں کو گردش دینے ( ہانکنے ) پر مقرر ہے، اس کے پاس آگ کے کوڑے ہیں۔ اس کے ذریعہ اللہ جہاں چاہتا ہے وہ وہاں بادلوں کو ہانک کر لے جاتا ہے“۔ پھر انہوں نے کہا: یہ آواز کیسی ہے جسے ہم سنتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ تو بادل کو اس کی ڈانٹ ہے، جب تک کہ جہاں پہنچنے کا حکم دیا گیا ہے نہ پہنچے ڈانٹ پڑتی ہی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا: آپ نے درست فرمایا: ”اچھا اب ہمیں یہ بتائیے اسرائیل ( یعنی یعقوب علیہ السلام ) نے اپنے آپ پر کیا چیز حرام کر لی تھی؟“ آپ نے فرمایا: ”اسرائیل کو عرق النسا کی تکلیف ہو گئی تھی تو انہوں نے اونٹوں کے گوشت اور ان کا دودھ ( بطور نذر ) ۱؎ کھانا پینا حرام کر لیا تھا“۔ انہوں نے کہا: آپ صحیح فرما رہے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ـ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا ابو نعيم، عن عبد الله بن الوليد، وكان، يكون في بني عجل عن بكير بن شهاب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال اقبلت يهود الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا يا ابا القاسم اخبرنا عن الرعد ما هو قال " ملك من الملايكة موكل بالسحاب معه مخاريق من نار يسوق بها السحاب حيث شاء الله " . فقالوا فما هذا الصوت الذي نسمع قال " زجره بالسحاب اذا زجره حتى ينتهي الى حيث امر " . قالوا صدقت فاخبرنا عما حرم اسراييل على نفسه قال " اشتكى عرق النسا فلم يجد شييا يلايمه الا لحوم الابل والبانها فلذلك حرمها " . قالوا صدقت . قال هذا حديث حسن صحيح غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ونفضل بعضها على بعض في الأكل» ”ہم بعض پھلوں کو بعض پر ( لذت اور خوش ذائقگی میں ) فضیلت دیتے ہیں“ ( الرعد: ۴ ) ، بارے میں فرمایا: ”اس سے مراد ردی اور سوکھی کھجوریں ہیں، فارسی کھجوریں ہیں، میٹھی اور کڑوی کسیلی کھجوریں ہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- زید بن ابی انیسہ نے اعمش سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۳- اور سیف بن محمد ( جو اس روایت کے راویوں میں سے ہیں ) وہ عمار بن محمد کے بھائی ہیں اور عمار ان سے زیادہ ثقہ ہیں اور یہ سفیان ثوری کے بھانجے ہیں۔ فائدہ ۱؎: ان کو سیراب کرنے والا پانی ایک ہے، نشو و نما کرنے والی دھوپ، گرمی اور ہوا ایک ہے، مگر رنگ، شکلیں اور ذائقے الگ الگ ہیں، یہ اللہ کا کمال قدرت ہے۔
حدثنا محمود بن خداش البغدادي، حدثنا سيف بن محمد الثوري، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله : ( ونفضل بعضها على بعض في الاكل ) قال " الدقل والفارسي والحلو والحامض " . قال هذا حديث حسن غريب وقد رواه زيد بن ابي انيسة عن الاعمش نحو هذا . وسيف بن محمد هو اخو عمار بن محمد وعمار اثبت منه وهو ابن اخت سفيان الثوري
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹوکری لائی گئی جس میں تروتازہ پکی ہوئی کھجوریں تھیں، آپ نے فرمایا: «كلمة طيبة كشجرة طيبة أصلها ثابت وفرعها في السماء تؤتي أكلها كل حين بإذن ربها» ۱؎ آپ نے فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے، اور آیت «ومثل كلمة خبيثة كشجرة خبيثة اجتثت من فوق الأرض ما لها من قرار» ۲؎ میں برے درخت سے مراد اندرائن ہے۔ شعیب بن حبحاب ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کا ذکر ابوالعالیہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ اور صحیح کہا۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا ابو الوليد، حدثنا حماد بن سلمة، عن شعيب بن الحبحاب، عن انس بن مالك، قال اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بقناع عليه رطب فقال " مثل كلمة طيبة كشجرة طيبة اصلها ثابت وفرعها في السماء توتي اكلها كل حين باذن ربها قال هي النخلة : ( مثل كلمة خبيثة كشجرة خبيثة اجتثت من فوق الارض ما لها من قرار ) قال هي الحنظل " . قال فاخبرت بذلك ابا العالية فقال صدق واحسن . حدثنا قتيبة، حدثنا ابو بكر بن شعيب بن الحبحاب، عن ابيه، عن انس بن مالك، نحوه بمعناه ولم يرفعه ولم يذكر قول ابي العالية وهذا اصح من حديث حماد بن سلمة وروى غير واحد مثل هذا موقوفا ولا نعلم احدا رفعه غير حماد بن سلمة ورواه معمر وحماد بن زيد وغير واحد ولم يرفعوه . حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا حماد بن زيد، عن شعيب بن الحبحاب، عن انس بن مالك، نحو حديث قتيبة ولم يرفعه
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ”اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، قول ثابت ( محکم بات ) کے ذریعہ دنیا و آخرت دونوں میں ثابت قدم رکھتا ہے“ ( ابراہیم: ۲۷ ) ، کی تفسیر میں فرمایا: ”ثابت رکھنے سے مراد قبر میں اس وقت ثابت رکھنا ہے جب قبر میں پوچھا جائے گا: «من ربك؟» تمہارا رب، معبود کون ہے؟ «وما دينك؟» تمہارا دین کیا ہے؟ «ومن نبيك؟» تمہارا نبی کون ہے؟“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، حدثنا شعبة، اخبرني علقمة بن مرثد، قال سمعت سعد بن عبيدة، يحدث عن البراء، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قول الله : ( يثبت الله الذين امنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الاخرة ) قال " في القبر اذا قيل له من ربك وما دينك ومن نبيك؟ " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
مسروق کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے آیت «يوم تبدل الأرض غير الأرض» ”جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کر دیئے جائیں گے“ ( ابراہیم: ۴۸ ) ، پڑھ کر سوال کیا: اللہ کے رسول! اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ” «على الصراط» پل صراط پر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن داود بن ابي هند، عن الشعبي، عن مسروق، قال تلت عايشة هذه الاية : ( يوم تبدل الارض غير الارض ) قالت يا رسول الله فاين يكون الناس قال " على الصراط " . قال هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير هذا الوجه عن عايشة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک خوبصورت عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( عورتوں کی صفوں میں ) نماز پڑھا کرتی تھی تو بعض لوگ آگے بڑھ کر پہلی صف میں ہو جاتے تھے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں اور بعض آگے سے پیچھے آ کر آخری صف میں ہو جاتے تھے ( عورتوں کی صف سے ملی ہوئی صف میں ) پھر جب وہ رکوع میں جاتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھتے، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ”ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھ جانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں“ ( الحجر: ۲۴ ) ، نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جعفر بن سلیمان نے یہ حدیث عمرو بن مالک سے اور عمروبن مالک نے ابوالجوزاء سے اسی طرح روایت کی ہے، اور اس میں «عن ابن عباس» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور اس میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ نوح کی حدیث سے زیادہ صحیح و درست ہو۔
حدثنا قتيبة، حدثنا نوح بن قيس الحداني، عن عمرو بن مالك، عن ابي الجوزاء، عن ابن عباس، قال كانت امراة تصلي خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم - حسناء من احسن الناس فكان بعض القوم يتقدم حتى يكون في الصف الاول ليلا يراها ويستاخر بعضهم حتى يكون في الصف الموخر فاذا ركع نظر من تحت ابطيه فانزل الله : ( ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستاخرين ) . قال ابو عيسى وروى جعفر بن سليمان هذا الحديث عن عمرو بن مالك عن ابي الجوزاء نحوه ولم يذكر فيه عن ابن عباس وهذا اشبه ان يكون اصح من حديث نوح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میری امت یا امت محمدیہ پر تلوار اٹھائیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عثمان بن عمر، عن مالك بن مغول، عن جنيد، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لجهنم سبعة ابواب باب منها لمن سل السيف على امتي او قال على امة محمد صلى الله عليه وسلم - " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث مالك بن مغول
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۃ الحمدللہ ( فاتحہ ) ، ام القرآن ہے، ام الکتاب ( قرآن کی اصل اساس ہے ) اور «السبع المثانی» ہے ( باربار دہرائی جانے والی آیتیں ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا ابو علي الحنفي، عن ابن ابي ذيب، عن المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الحمد لله ام القران وام الكتاب والسبع المثاني " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ابی بن کعب کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تو رات میں اور نہ ہی انجیل میں ام القرآن ( فاتحہ ) جیسی کوئی سورۃ نازل فرمائی ہے، اور یہ سات آیتیں ہیں جو ( ہر رکعت میں پڑھی جانے کی وجہ سے ) باربار دہرائی جانے والی ہیں، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان تقسیم ہیں اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو وہ مانگے“۔
حدثنا الحسين بن حريث، حدثنا الفضل بن موسى، عن عبد الحميد بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن ابى بن كعب، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ما انزل الله في التوراة ولا في الانجيل مثل ام القران وهي السبع المثاني وهي مقسومة بيني وبين عبدي ولعبدي ما سال " . حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج على ابى وهو يصلي فذكر نحوه بمعناه . قال ابو عيسى حديث عبد العزيز بن محمد اطول واتم وهذا اصح من حديث عبد الحميد بن جعفر هكذا روى غير واحد عن العلاء بن عبد الرحمن
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «لنسألنهم أجمعين عما كانوا يعملون» ”ہم ان سے پوچھیں گے اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے“ ( الحجر: ۹۲ ) ، کے متعلق فرمایا: ”یہ پوچھنا «لا إله إلا الله» کے متعلق ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے لیث بن ابی سلیم کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- عبداللہ بن ادریس نے لیث بن ابی سلیم سے، اور لیث نے بشر کے واسطہ سے انس سے ایسے ہی روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا معتمر بن سليمان، عن ليث بن ابي سليم، عن بشر، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله : (ولنسالنهم اجمعين * عما كانوا يعملون ) قال " عن قول لا اله الا الله " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب انما نعرفه من حديث ليث بن ابي سليم . وقد روى عبد الله بن ادريس عن ليث بن ابي سليم عن بشر عن انس بن مالك نحوه ولم يرفعه