احادیث
#3112
سنن ترمذی - Exegesis
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: شہر کے بیرونی علاقے میں ایک عورت سے میں ملا اور سوائے جماع کے اس کے ساتھ میں نے سب کچھ کیا، اور اب بذات خود میں یہاں موجود ہوں، تو آپ اب میرے بارے میں جو فیصلہ چاہیں صادر فرمائیں ( میں وہ سزا جھیلنے کے لیے تیار ہوں ) عمر رضی الله عنہ نے اس سے کہا: اللہ نے تیری پردہ پوشی کی ہے کاش تو نے بھی اپنے نفس کی پردہ پوشی کی ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اور وہ آدمی چلا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیج کر اسے بلایا اور اسے آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» ”نماز قائم کرو دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے حصوں میں، بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے یاد رکھنے والوں کے لیے“ ( ہود: ۱۱۴ ) ، تک پڑھ کر سنائی۔ ایک صحابی نے کہا: کیا یہ ( بشارت ) اس شخص کے لیے خاص ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ سب کے لیے ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح اسی جیسی روایت کی ہے اسرائیل نے سماک سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ اور اسود سے، اور ان دونوں نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، ۳- اور اسی سفیان ثوری نے سماک سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور عبدالرحمٰن نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ان لوگوں کی روایت سفیان ثوری کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ۳؎، ۴- شعبہ نے سماک بن حرب سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے اور اسود نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن ابراهيم، عن علقمة، والاسود، عن عبد الله، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اني عالجت امراة في اقصى المدينة واني اصبت منها ما دون ان امسها وانا هذا فاقض في ما شيت . فقال له عمر لقد سترك الله لو سترت على نفسك . فلم يرد عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم شييا فانطلق الرجل فاتبعه رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا فدعاه فتلا عليهم : ( اقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل ان الحسنات يذهبن السييات ذلك ذكرى للذاكرين ) الى اخر الاية فقال رجل من القوم هذا له خاصة قال " لا بل للناس كافة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وهكذا روى اسراييل عن سماك عن ابراهيم عن علقمة والاسود عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وروى سفيان الثوري عن سماك عن ابراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله ورواية هولاء اصح من رواية الثوري وروى شعبة عن سماك بن حرب عن ابراهيم عن الاسود عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . حدثنا محمد بن يحيى النيسابوري، حدثنا محمد بن يوسف، عن سفيان، عن الاعمش، وسماك، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه . حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا الفضل بن موسى، عن سفيان، عن سماك، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه ولم يذكر فيه الاعمش وقد روى سليمان التيمي هذا الحديث عن ابي عثمان النهدي عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3112
- Book Index
- 164
Grades
- Al-AlbaniHasan Sahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim
