Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے“، پھر آپ نے آیت «إن في ذلك لآيات للمتوسمين» ”بیشک اس میں نشانیاں ہیں سمجھ داروں کے لیے ہے“ ( الحجر: ۷۵ ) ، تلاوت فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، بعض اہل علم نے اس آیت «إن في ذلك لآيات للمتوسمين» کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس میں نشانیاں ہیں اصحاب فراست کے لیے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا احمد بن ابي الطيب، حدثنا مصعب بن سلام، عن عمرو بن قيس، عن عطية، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتقوا فراسة المومن فانه ينظر بنور الله " . ثم قرا : ( ان في ذلك لايات للمتوسمين ) . قال ابو عيسى هذا حديث غريب انما نعرفه من هذا الوجه وقد روي عن بعض اهل العلم في تفسير هذه الاية : ( ان في ذلك لايات للمتوسمين ) قال للمتفرسين
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زوال یعنی سورج ڈھلنے کے بعد ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعتیں سحر ( تہجد ) کی چار رکعتوں کے ثواب کے برابر کا درجہ رکھتی ہیں“، آپ نے فرمایا: ”کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو اس گھڑی ( یعنی زوال کے وقت ) اللہ کی تسبیح نہ بیان کرتی ہو“۔ پھر آپ نے آیت «يتفيأ ظلاله عن اليمين والشمائل سجدا لله وهم داخرون» ”کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھتے ان کے سائے دائیں اور بائیں اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے جھکتے ہیں“ ( النحل: ۴۸ ) ، پڑھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف علی بن عاصم کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا علي بن عاصم، عن يحيى البكاء، حدثني عبد الله بن عمر، قال سمعت عمر بن الخطاب، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اربع قبل الظهر بعد الزوال تحسب بمثلهن في صلاة السحر " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وليس من شيء الا وهو يسبح الله تلك الساعة " . ثم قرا : ( يتفيا ظلاله عن اليمين والشمايل سجدا لله ) الاية كلها . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث علي بن عاصم
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب احد کی جنگ ہوئی تو انصار کے چونسٹھ ( ۶۴ ) اور مہاجرین کے چھ کام آئے۔ ان میں حمزہ رضی الله عنہ بھی تھے۔ کفار نے ان کا مثلہ کر دیا تھا، انصار نے کہا: اگر کسی دن ہمیں ان پر غلبہ حاصل ہوا تو ہم ان کے مقتولین کا مثلہ اس سے کہیں زیادہ کر دیں گے۔ پھر جب مکہ کے فتح کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت «وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ولئن صبرتم لهو خير للصابرين» ۱؎ نازل فرما دی۔ ایک صحابی نے کہا: «لا قريش بعد اليوم» ( آج کے بعد کوئی قریشی وریشی نہ دیکھا جائے گا ) ۲؎ آپ نے فرمایا: ” ( نہیں ) چار اشخاص کے سوا کسی کو قتل نہ کرو“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابی بن کعب کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث، حدثنا الفضل بن موسى، عن عيسى بن عبيد، عن الربيع بن انس، عن ابي العالية، قال حدثني ابى بن كعب، قال لما كان يوم احد اصيب من الانصار اربعة وستون رجلا ومن المهاجرين ستة فيهم حمزة فمثلوا بهم فقالت الانصار لين اصبنا منهم يوما مثل هذا لنربين عليهم قال فلما كان يوم فتح مكة فانزل الله ( وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ولين صبرتم لهو خير للصابرين ) فقال رجل لا قريش بعد اليوم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كفوا عن القوم الا اربعة " . قال هذا حديث حسن غريب من حديث ابى بن كعب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( معراج کی رات ) جب مجھے آسمان پر لے جایا گیا تو میری ملاقات موسیٰ ( علیہ السلام ) سے ہوئی، آپ نے ان کا حلیہ بتایا“ اور میرا گمان یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: ”موسیٰ لمبے قد والے تھے: ہلکے پھلکے روغن آمیز سر کے بال تھے، شنوءۃ قوم کے لوگوں میں سے لگتے تھے“، آپ نے فرمایا: ”میری ملاقات عیسیٰ ( علیہ السلام ) سے بھی ہوئی“، آپ نے ان کا بھی وصف بیان کیا، فرمایا: ”عیسیٰ درمیانے قد کے سرخ ( سفید ) رنگ کے تھے، ایسا لگتا تھا گویا ابھی دیماس ( غسل خانہ ) سے نہا دھو کر نکل کر آ رہے ہوں، میں نے ابراہیم ( علیہ السلام ) کو بھی دیکھا، میں ان کی اولاد میں سب سے زیادہ ان سے مشابہہ ہوں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک دودھ کا پیالہ تھا اور دوسرے میں شراب تھی، مجھ سے کہا گیا: جسے چاہو لے لو، تو میں نے دودھ کا پیالہ لے لیا اور دودھ پی گیا، مجھ سے کہا گیا: آپ کو فطرت کی طرف رہنمائی مل گئی، یا آپ نے فطرت سے ہم آہنگ اور درست قدم اٹھایا، اگر آپ نے شراب کا برتن لے لیا ہوتا تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی“ ۱؎۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، اخبرني سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حين اسري بي لقيت موسى . قال فنعته فاذا رجل حسبته قال مضطرب رجل الراس كانه من رجال شنوءة قال ولقيت عيسى . قال فنعته قال ربعة احمر كانما خرج من ديماس يعني الحمام ورايت ابراهيم . قال وانا اشبه ولده به قال واتيت باناءين احدهما لبن والاخر خمر فقيل لي خذ ايهما شيت . فاخذت اللبن فشربته فقيل لي هديت الفطرة او اصبت الفطرة اما انك لو اخذت الخمر غوت امتك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج حاصل ہوئی آپ کی سواری کے لیے براق لایا گیا۔ براق لگام لگایا ہوا تھا اور اس پر کاٹھی کسی ہوئی تھی، آپ نے اس پر سوار ہوتے وقت دقت محسوس کی تو جبرائیل علیہ السلام نے اسے یہ کہہ کر جھڑکا: تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کر رہا ہے، تجھ پر اب تک ان سے زیادہ اللہ کے نزدیک کوئی معزز شخص سوار نہیں ہوا ہے، یہ سن کر براق پسینے پسینے ہو گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتي بالبراق ليلة اسري به ملجما مسرجا فاستصعب عليه فقال له جبريل ابمحمد تفعل هذا فما ركبك احد اكرم على الله منه قال " فارفض عرقا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب ولا نعرفه الا من حديث عبد الرزاق
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( معراج کی رات ) جب ہم بیت المقدس پہنچے تو جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی کے اشارے سے پتھر میں شگاف کر دیا اور براق کو اس سے باندھ دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، حدثنا ابو تميلة، عن الزبير بن جنادة، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لما انتهينا الى بيت المقدس قال جبريل باصبعه فخرق به الحجر وشد به البراق " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قریش نے مجھے ( معراج کے سفر کے بارے میں ) جھٹلا دیا کہ میں حجر ( حطیم ) میں کھڑا ہوا اور اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے ظاہر کر دیا اور میں اسے دیکھ دیکھ کر انہیں اس کی نشانیاں ( پہچان ) بتانے لگا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں مالک بن صعصعہ ابوسعید، ابن عباس، ابوذر اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لما كذبتني قريش قمت في الحجر فجلا الله لي بيت المقدس فطفقت اخبرهم عن اياته وانا انظر اليه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن مالك بن صعصعة وابي سعيد وابن عباس وابي ذر وابن مسعود
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» ”اور نہیں کیا ہم نے وہ مشاہدہ کہ جسے ہم نے تمہیں کروایا ہے ( یعنی إسراء و معراج کے موقع پر جو کچھ دکھلایا ہے ) مگر لوگوں کی آزمائش کے لیے“ ( بنی اسرائیل: ۶۰ ) ، کے بارے میں کہتے ہیں: اس سے مراد ( کھلی ) آنکھوں سے دیکھنا تھا، جس دن آپ کو بیت المقدس کی سیر کرائی گئی تھی ۱؎ انہوں نے یہ بھی کہا «والشجرة الملعونة في القرآن» میں شجرہ «ملعونہ» سے مراد تھوہڑ کا درخت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، في قوله: ( وما جعلنا الرويا التي اريناك الا فتنة للناس ) قال هي رويا عين اريها النبي صلى الله عليه وسلم ليلة اسري به الى بيت المقدس . قال : (والشجرة الملعونة في القران ) هي شجرة الزقوم . قال هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا» ”صبح کو قرآن پڑھا کرو کیونکہ صبح قرآن پڑھنے کا وقت فرشتوں کے حاضر ہونے کا ہوتا ہے“ ( بنی اسرائیل: ۷۸ ) ، کے متعلق فرمایا: ”اس وقت رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے سب حاضر ( و موجود ) ہوتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبيد بن اسباط بن محمد، - قرشي كوفي حدثنا ابي، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله : ( وقران الفجر ان قران الفجر كان مشهودا ) قال " تشهده ملايكة الليل وملايكة النهار " . قال هذا حديث حسن صحيح . وروى علي بن مسهر، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، وابي، سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . حدثنا بذلك، علي بن حجر حدثنا علي بن مسهر، عن الاعمش، فذكر نحوه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «يوم ندعو كل أناس بإمامهم» ”جس دن ہم ہر انسان کو اس کے امام ( اگوا و پیشوا ) کے ساتھ بلائیں گے“ ( بنی اسرائیل: ۷۱ ) ، کے بارے میں فرمایا: ”ان میں سے جو کوئی ( جنتی شخص ) بلایا جائے گا اور اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کا جسم بڑھا کر ساٹھ گز کا کر دیا جائے گا، اس کا چہرہ چمکتا ہوا ہو گا اس کے سر پر موتیوں کا جھلملاتا ہوا تاج رکھا جائے گا، پھر وہ اپنے ساتھیوں کے پاس جائے گا، اسے لوگ دور سے دیکھ کر کہیں گے: اے اللہ! ایسی ہی نعمتوں سے ہمیں بھی نواز، اور ہمیں بھی ان میں برکت عطا کر، وہ ان کے پاس پہنچ کر کہے گا: تم سب خوش ہو جاؤ۔ ہر شخص کو ایسا ہی ملے گا، لیکن کافر کا معاملہ کیا ہو گا؟ کافر کا چہرہ کالا کر دیا جائے گا، اور اس کا جسم ساٹھ گز کا کر دیا جائے گا جیسا کہ آدم علیہ السلام کا تھا، اسے تاج پہنایا جائے گا۔ اس کے ساتھی اسے دیکھیں گے تو کہیں گے اس کے شر سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں ایسا تاج نہ دے، کہتے ہیں: پھر وہ ان لوگوں کے پاس آئے گا وہ لوگ کہیں گے: اے اللہ! اسے ذلیل کر، وہ کہے گا: اللہ تمہیں ہم سے دور ہی رکھے، کیونکہ تم میں سے ہر ایک کے لیے ایسا ہی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سدی کا نام اسماعیل بن عبدالرحمٰن ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن السدي، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قول الله : ( يوم ندعو كل اناس بامامهم ) قال " يدعى احدهم فيعطى كتابه بيمينه ويمد له في جسمه ستون ذراعا ويبيض وجهه ويجعل على راسه تاج من لولو يتلالا فينطلق الى اصحابه فيرونه من بعيد فيقولون اللهم ايتنا بهذا وبارك لنا في هذا حتى ياتيهم فيقول ابشروا لكل رجل منكم مثل هذا . قال واما الكافر فيسود وجهه ويمد له في جسمه ستون ذراعا على صورة ادم فيلبس تاجا فيراه اصحابه فيقولون نعوذ بالله من شر هذا اللهم لا تاتنا بهذا . قال فياتيهم فيقولون اللهم اخزه . فيقول ابعدكم الله فان لكل رجل منكم مثل هذا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . والسدي اسمه اسماعيل بن عبد الرحمن
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا» ”عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا“ ( بنی اسرائیل: ۷۹ ) ، کے بارے میں پوچھے جانے پر فرمایا: ”اس سے مراد شفاعت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور داود زغافری: داود اود بن یزید بن عبداللہ اودی ہیں، اور یہ عبداللہ بن ادریس کے چچا ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن داود بن يزيد الزعافري، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في قوله : ( عسى ان يبعثك ربك مقاما محمودا ) سيل عنها قال " هي الشفاعة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وداود الزعافري هو داود الاودي ابن يزيد بن عبد الرحمن وهو عم عبد الله بن ادريس
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس سال مکہ فتح ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، آپ اپنے ہاتھ میں لی ہوئی چھڑی سے انہیں کچوکے لگانے لگے ( عبداللہ نے کبھی ایسا کہا ) اور کبھی کہا کہ آپ اپنے ہاتھ میں ایک لکڑی لیے ہوئے تھے، اور انہیں ہاتھ لگاتے ہوئے کہتے جاتے تھے «جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا» ”حق آ گیا باطل مٹ گیا باطل کو مٹنا اور ختم ہونا ہی تھا“ ( بنی اسرائیل: ۸۱ ) ، «جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد» ”حق غالب آ گیا ہے، اب باطل نہ ابھر سکے گا اور نہ ہی لوٹ کر آئے گا“ ( سبا: ۴۹ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ابي معمر، عن ابن مسعود، قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة عام الفتح وحول الكعبة ثلاثماية وستون نصبا فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يطعنها بمخصرة في يده وربما قال بعود ويقول : (جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا ) : (جاء الحق وما يبدي الباطل وما يعيد ) . قال هذا حديث حسن صحيح وفيه عن ابن عمر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم ملا، اسی موقع پر آیت: «وقل رب أدخلني مدخل صدق وأخرجني مخرج صدق واجعل لي من لدنك سلطانا نصيرا» ”دعا کر، اے میرے رب! مجھے اچھی جگہ پہنچا اور مجھے اچھی طرح نکال، اور اپنی طرف سے مجھے قوی مددگار مہیا فرما“ ( بنی اسرائیل: ۸۰ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا جرير، عن قابوس بن ابي ظبيان، عن ابيه، عن ابن عباس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم بمكة ثم امر بالهجرة فنزلت عليه : ( قل رب ادخلني مدخل صدق واخرجني مخرج صدق واجعل لي من لدنك سلطانا نصيرا ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ قریش نے یہود سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسا سوال دو جسے ہم اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) سے پوچھیں، انہوں نے کہا: اس شخص سے روح کے بارے میں سوال کرو، تو انہوں نے آپ سے روح کے بارے میں پوچھا ( روح کی حقیقت کیا ہے؟ ) اس پر اللہ نے آیت «ويسألونك عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» ”تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو! روح امر الٰہی ہے، تمہیں بہت ہی تھوڑا علم دیا گیا ہے“ ( بنی اسرائیل: ۸۵ ) ، انہوں نے کہا: ہمیں تو بہت زیادہ علم حاصل ہے، ہمیں توراۃ ملی ہے، اور جسے توراۃ دی گئی ہو اسے بہت بڑی خیر مل گئی، اس پر آیت «قل لو كان البحر مدادا لكلمات ربي لنفد البحر» ”کہہ دیجئیے: اگر میرے رب کی باتیں، کلمے، معلومات و مقدرات لکھنے کے لیے سمندر سیاہی ( روشنائی ) بن جائیں تو سمندر ختم ہو جائے ( مگر میرے رب کی حمد و ثناء ختم نہ ہو ) “ ( الکہف: ۱۰۹ ) ، نازل ہوئی ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، عن داود بن ابي هند، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قالت قريش ليهود اعطونا شييا نسال عنه هذا الرجل فقال سلوه عن الروح قال فسالوه عن الروح فانزل الله : (و يسالونك عن الروح قل الروح من امر ربي وما اوتيتم من العلم الا قليلا ) قالوا اوتينا علما كثيرا التوراة ومن اوتي التوراة فقد اوتي خيرا كثيرا فانزلت: ( قل لو كان البحر مدادا لكلمات ربي لنفد البحر ) الى اخر الاية . قال هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں چل رہا تھا۔ آپ ( کبھی کبھی ) کھجور کی ایک ٹہنی کا سہارا لے لیا کرتے تھے، پھر آپ کچھ یہودیوں کے پاس سے گزرے تو ان میں سے بعض نے ( چہ میگوئی کی ) کہا: کاش ان سے کچھ پوچھتے، بعض نے کہا: ان سے کچھ نہ پوچھو، کیونکہ وہ تمہیں ایسا جواب دیں گے جو تمہیں پسند نہ آئے گا ( مگر وہ نہ مانے ) کہا: ابوالقاسم! ہمیں روح کے بارے میں بتائیے، ( یہ سوال سن کر ) آپ کچھ دیر ( خاموش ) کھڑے رہے، پھر آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا، تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی آنے والی ہے، چنانچہ وحی آ ہی گئی، پھر آپ نے فرمایا: «الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» ”روح میرے رب کے حکم سے ہے، تمہیں بہت تھوڑا علم حاصل ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن خشرم، اخبرنا عيسى بن يونس، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال كنت امشي مع النبي صلى الله عليه وسلم في حرث بالمدينة وهو يتوكا على عسيب فمر بنفر من اليهود فقال بعضهم لو سالتموه فقال بعضهم لا تسالوه فانه يسمعكم ما تكرهون . فقالوا له يا ابا القاسم حدثنا عن الروح . فقام النبي صلى الله عليه وسلم ساعة ورفع راسه الى السماء فعرفت انه يوحى اليه حتى صعد الوحى ثم قال : (الروح من امر ربي وما اوتيتم من العلم الا قليلا ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگ تین طرح سے جمع کئے جائیں گے، ایک گروہ چل کر آئے گا، اور ایک گروہ سوار ہو کر آئے گا اور ایک گروہ اپنے منہ کے بل آئے گا“۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! وہ لوگ اپنے منہ کے بل کیسے چلیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”جس نے انہیں قدموں سے چلایا ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ وہ انہیں ان کے منہ کے بل چلا دے، سنو ( یہی نہیں ہو گا کہ وہ چلیں گے بلکہ ) وہ منہ ہی سے ہر بلندی ( نشیب و فراز ) اور کانٹے سے بچ کر چلیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- وہیب نے ابن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے باپ طاؤس سے اور طاؤس نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا الحسن بن موسى، وسليمان بن حرب، قالا حدثنا حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن اوس بن خالد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يحشر الناس يوم القيامة ثلاثة اصناف صنفا مشاة وصنفا ركبانا وصنفا على وجوههم " . قيل يا رسول الله وكيف يمشون على وجوههم قال " ان الذي امشاهم على اقدامهم قادر على ان يمشيهم على وجوههم اما انهم يتقون بوجوههم كل حدب وشوك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روى وهيب عن ابن طاوس عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم شييا من هذا
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ( قیامت میں ) جمع کئے جاؤ گے: کچھ لوگ پیدل ہوں گے، کچھ لوگ سواری پر، اور کچھ لوگ اپنے منہ کے بل گھسیٹ کر اکٹھا کئے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انكم محشورون رجالا وركبانا ويجرون على وجوهكم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
صفوان بن عسال رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ یہود میں سے ایک یہودی نے دوسرے یہودی سے کہا: اس نبی کے پاس مجھے لے چلو، ہم چل کر ان سے ( کچھ ) پوچھتے ہیں، دوسرے نے کہا: انہیں نبی نہ کہو، اگر انہوں نے سن لیا کہ تم انہیں نبی کہتے ہو تو ( مارے خوشی کے ) ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی۔ پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ولقد آتينا موسى تسع آيات بينات» ”ہم نے موسیٰ کو نو نشانیاں دیں“ ( اسرائیل: ۱۰۱ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ وہ نو نشانیاں کیا تھیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، زنا نہ کرو، ناحق کسی شخص کا قتل نہ کرو، چوری نہ کرو، جادو نہ کرو، کسی بری ( بےگناہ ) شخص کو ( مجرم بنا کر ) بادشاہ کے سامنے نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے، سود نہ کھاؤ، کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت نہ لگاؤ، دشمن کی طرف بڑھتے ہوئے بڑے لشکر سے نکل کر نہ بھاگو“۔ شعبہ کو شک ہو گیا ہے ( کہ آپ نے نویں چیز یہ فرمائی ہے ) اور تم خاص یہودیوں کے لیے یہ بات ہے کہ ہفتے کے دن میں زیادتی ( الٹ پھیر ) نہ کرو، ( یہ جواب سن کر ) ان دونوں نے آپ کے ہاتھ پیر چومے اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تمہیں اسلام قبول کر لینے سے کیا چیز روک رہی ہے؟“ دونوں نے جواب دیا داود ( علیہ السلام ) نے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی نبی ہو گا ( اور آپ ان کی ذریت میں سے نہیں ہیں ) اب ہمیں ڈر ہے کہ ہم اگر آپ پر ایمان لے آتے ہیں تو ہمیں یہود قتل نہ کر دیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، ويزيد بن هارون، وابو الوليد، واللفظ، لفظ يزيد والمعنى واحد عن شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، عن صفوان بن عسال المرادي، ان يهوديين، قال احدهما لصاحبه اذهب بنا الى هذا النبي نساله فقال لا تقل له نبي فانه ان سمعنا نقول نبي كانت له اربعة اعين فاتيا النبي صلى الله عليه وسلم فسالاه عن قول الله عز وجل : ( ولقد اتينا موسى تسع ايات بينات ) فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تشركوا بالله شييا ولا تزنوا ولا تقتلوا النفس التي حرم الله الا بالحق ولا تسرقوا ولا تسحروا ولا تمشوا ببريء الى سلطان فيقتله ولا تاكلوا الربا ولا تقذفوا محصنة ولا تفروا من الزحف شك شعبة وعليكم اليهود خاصة ان لا تعدوا في السبت " . فقبلا يديه ورجليه وقالا نشهد انك نبي . قال " فما يمنعكما ان تسلما " . قالا ان داود دعا الله ان لا يزال في ذريته نبي وانا نخاف ان اسلمنا ان تقتلنا اليهود . قال هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتك» ”اپنی صلاۃ بلند آواز سے نہ پڑھو“ ( بنی اسرائیل: ۱۱۰ ) ، کے بارے میں کہتے ہیں: یہ مکہ میں نازل ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بلند آواز کے ساتھ قرآن پڑھتے تھے تو مشرکین اسے اور جس نے قرآن نازل کیا ہے اور جو قرآن لے کر آیا ہے سب کو گالیاں دیتے تھے، تو اللہ نے «ولا تجهر بصلاتك» نازل کر کے نماز میں قرآن بلند آواز سے پڑھنے سے منع فرما دیا تاکہ وہ قرآن، اللہ تعالیٰ اور جبرائیل علیہ السلام کو گالیاں نہ دیں اور آگے «ولا تخافت بها» نازل فرمایا، یعنی اتنے دھیرے بھی نہ پڑھو کہ آپ کے ساتھی سن نہ سکیں بلکہ یہ ہے کہ وہ آپ سے قرآن سیکھیں ( بلکہ ان دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرو ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا سليمان بن داود، عن شعبة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، ولم يذكر عن ابن عباس، وهشيم، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس : (ولا تجهر بصلاتك ) قال نزلت بمكة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا رفع صوته بالقران سبه المشركون ومن انزله ومن جاء به فانزل الله : (ولا تجهر بصلاتك ) فيسبوا القران ومن انزله ومن جاء به : (ولا تخافت بها ) عن اصحابك بان تسمعهم حتى ياخذوا عنك القران . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا» ”صلاۃ میں آواز بہت بلند نہ کیجئے اور نہ ہی بہت پست بلکہ دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کیجئے“ ( الاسراء: ۱۱۰ ) ، کے بارے میں کہتے ہیں: یہ آیت مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جب آپ مکہ میں چھپے چھپے رہتے تھے، جب آپ اپنے صحابہ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے، مشرکین جب سن لیتے تو قرآن، قرآن نازل کرنے والے اور قرآن لانے والے سب کو گالیاں دیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: «ولا تجهر بصلاتك» بلند آواز سے نماز نہ پڑھو ( یعنی بلند آواز سے قرأت نہ کرو ) کہ جسے سن کر مشرکین قرآن کو گالیاں دینے لگیں اور نہ دھیمی آواز سے پڑھو ( کہ تمہارے صحابہ سن نہ سکیں ) بلکہ درمیان کا راستہ اختیار کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، حدثنا ابو بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، في قوله : (ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا ) قال نزلت ورسول الله صلى الله عليه وسلم مختف بمكة وكان اذا صلى باصحابه رفع صوته بالقران فكان المشركون اذا سمعوه شتموا القران ومن انزله ومن جاء به فقال الله لنبيه : (ولا تجهر بصلاتك ) اى بقراءتك فيسمع المشركون فيسبوا القران : (ولا تخافت بها ) عن اصحابك : ( وابتغ بين ذلك سبيلا ) . هذا حديث حسن صحيح