Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں نے حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھی تھی؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: بیشک پڑھی تھی، انہوں نے کہا: اے گنجے سر والے، تم ایسا کہتے ہو؟ کس بنا پر تم ایسا کہتے ہو؟ میں نے کہا: میں قرآن کی دلیل سے کہتا ہوں، میرے اور آپ کے درمیان قرآن فیصل ہے۔ حذیفہ رضی الله عنہ نے کہا: جس نے قرآن سے دلیل قائم کی وہ کامیاب رہا، جس نے قرآن سے دلیل پکڑی وہ حجت میں غالب رہا، زر بن حبیش نے کہا: میں نے «سبحان الذي أسرى بعبده ليلا من المسجدالحرام إلى المسجد الأقصى» ۱؎ آیت پیش کی، حذیفہ رضی الله عنہ نے کہا: کیا تم اس آیت میں کہیں یہ دیکھتے ہو کہ آپ نے نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: اگر آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے وہاں نماز پڑھ لی ہوتی تو تم پر وہاں نماز پڑھنی ویسے ہی فرض ہو جاتی جیسا کہ مسجد الحرام میں پڑھنی فرض کر دی گئی ہے ۲؎، حذیفہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لمبی چوڑی پیٹھ والا جانور ( براق ) لایا گیا، اس کا قدم وہاں پڑتا جہاں اس کی نظر پہنچتی اور وہ دونوں اس وقت تک براق پر سوار رہے جب تک کہ جنت جہنم اور آخرت کے وعدہ کی ساری چیزیں دیکھ نہ لیں، پھر وہ دونوں لوٹے، اور ان کا لوٹنا ان کے شروع کرنے کے انداز سے تھا ۳؎ لوگ بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے اسے ( یعنی براق کو بیت المقدس میں ) باندھ دیا تھا، کیوں باندھ دیا تھا؟ کیا اس لیے کہ کہیں بھاگ نہ جائے؟ ( غلط بات ہے ) جس جانور کو عالم الغیب والشھادۃ غائب و موجود ہر چیز کے جاننے والے نے آپ کے لیے مسخر کر دیا ہو وہ کہیں بھاگ سکتا ہے؟ نہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن مسعر، عن عاصم بن ابي النجود، عن زر بن حبيش، قال قلت لحذيفة بن اليمان اصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيت المقدس قال لا . قلت بلى . قال انت تقول ذاك يا اصلع بما تقول ذلك قلت بالقران بيني وبينك القران . فقال حذيفة من احتج بالقران فقد افلح قال سفيان يقول فقد احتج . وربما قال قد فلج فقال : (سبحان الذي اسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى ) قال افتراه صلى فيه قلت لا . قال لو صلى فيه لكتب عليكم فيه الصلاة كما كتبت الصلاة في المسجد الحرام قال حذيفة قد اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بدابة طويلة الظهر ممدودة هكذا خطوه مد بصره فما زايلا ظهر البراق حتى رايا الجنة والنار ووعد الاخرة اجمع ثم رجعا عودهما على بديهما قال ويتحدثون انه ربطه لم ايفر منه وانما سخره له عالم الغيب والشهادة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن میں سارے انسانوں کا سردار ہوں گا، اور اس پر مجھے کوئی گھمنڈ نہیں ہے، میرے ہاتھ میں حمد ( و شکر ) کا پرچم ہو گا اور مجھے ( اس اعزاز پر ) کوئی گھمنڈ نہیں ہے۔ اس دن آدم اور آدم کے علاوہ جتنے بھی نبی ہیں سب کے سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے، میں پہلا شخص ہوں گا جس کے لیے زمین پھٹے گی ( اور میں برآمد ہوں گا ) اور مجھے اس پر بھی کوئی گھمنڈ نہیں ہے“، آپ نے فرمایا: ” ( قیامت میں ) لوگوں پر تین مرتبہ سخت گھبراہٹ طاری ہو گی، لوگ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپ ہمارے باپ ہیں، آپ اپنے رب سے ہماری شفاعت ( سفارش ) کر دیجئیے، وہ کہیں گے: مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو چکا ہے جس کی وجہ سے میں زمین پر بھیج دیا گیا تھا، تم لوگ نوح کے پاس جاؤ، وہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، مگر نوح علیہ السلام کہیں گے: میں زمین والوں کے خلاف بد دعا کر چکا ہوں جس کے نتیجہ میں وہ ہلاک کیے جا چکے ہیں، لیکن ایسا کرو، تم لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، ابراہیم علیہ السلام کہیں گے: میں تین جھوٹ بول چکا ہوں“، آپ نے فرمایا: ”ان میں سے کوئی جھوٹ جھوٹ نہیں تھا، بلکہ اس سے اللہ کے دین کی حمایت و تائید مقصود تھی، البتہ تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، تو وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، موسیٰ علیہ السلام کہیں گے: میں ایک قتل کر چکا ہوں، لیکن تم عیسیی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ تو وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے: اللہ کے سوا مجھے معبود بنا لیا گیا تھا، تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ“، آپ نے فرمایا: ”لوگ میرے پاس ( سفارش کرانے کی غرض سے ) آئیں گے، میں ان کے ساتھ ( دربار الٰہی کی طرف ) جاؤں گا“، ابن جدعان ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: انس نے کہا: مجھے ایسا لگ رہا ہے تو ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ نے فرمایا: ”میں جنت کے دروازے کا حلقہ ( زنجیر ) پکڑ کر اسے ہلاؤں گا، پوچھا جائے گا: کون ہے؟ کہا جائے گا: محمد ہیں، وہ لوگ میرے لیے دروازہ کھول دیں گے، اور مجھے خوش آمدید کہیں گے، میں ( اندر پہنچ کر اللہ کے حضور ) سجدے میں گر جاؤں گا اور حمد و ثنا کے جو الفاظ اور کلمے اللہ میرے دل میں ڈالے گا وہ میں سجدے میں ادا کروں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھائیے، مانگیے ( جو کچھ مانگنا ہو ) آپ کو دیا جائے گا۔ ( کسی کی سفارش کرنی ہو تو ) سفارش کیجئے آپ کی شفاعت ( سفارش ) قبول کی جائے گی، کہئے آپ کی بات سنی جائے گی۔ اور وہ جگہ ( جہاں یہ باتیں ہوں گی ) مقام محمود ہو گا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا» ”توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود میں بھیجے“ ( بنی اسرائیل: ۷۹ ) ۔ سفیان ثوری کہتے ہیں: انس کی روایت میں اس کلمے «فآخذ بحلقة باب الجنة فأقعقعها» کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض محدثین نے یہ پوری حدیث ابونضرہ کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کی ہے۔
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کہتا ہے کہ بنی اسرائیل والے موسیٰ خضر والے موسیٰ علیہما السلام نہیں ہیں، ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا، میں نے ابی بن کعب کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں ایک دن تقریر کی، ان سے پوچھا گیا ( اس وقت ) لوگوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے؟ کہا: میں سب سے زیادہ علم والا ہوں، یہ بات اللہ کو ناگوار ہوئی کہ انہوں نے «اللہ اعلم» ( اللہ بہتر جانتا ہے ) نہیں کہا، اللہ نے ان کی سرزنش کی اور ان کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ «مجمع البحرین» ( دو سمندروں کے سنگم ) کے مقام پر ہے، وہ تم سے بڑا عالم ہے، موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! میری ان سے ملاقات کی صورت کیا ہو سکتی ہے؟ اللہ نے کہا: «زنبیل» ( تھیلے ) میں ایک مچھلی رکھ لو پھر جہاں مچھلی غائب ہو جائے وہیں میرا وہ بندہ تمہیں ملے گا، موسیٰ چل پڑے ان کے ساتھ ان کے خادم یوشع بن نون بھی تھے، موسیٰ نے ایک مچھلی ٹوکری میں رکھ لی، دونوں چلتے چلتے صخرہ ( چٹان ) کے پاس پہنچے، اور وہاں سو گئے، ( سونے کے دوران ) مچھلی تڑپی، تھیلے سے نکل کر سمندر میں جا گری، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: مچھلی کے گرتے ہی اللہ تعالیٰ نے پانی کے بہاؤ کو روک دیا، یہاں تک کہ ایک محراب کی صورت بن گئی اور مچھلی کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے کا راستہ بن گیا، موسیٰ اور ان کے خادم کے لیے یہ حیرت انگیز چیز تھی، وہ نیند سے بیدار ہو کر باقی دن و رات چلتے رہے، موسیٰ کا رفیق سفر انہیں یہ بتانا بھول گیا کہ فلاں مقام پر مچھلی تھیلے سے نکل کر سمندر میں جا چکی ہے، صبح ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا: بھئی ہمارا ناشتہ لاؤ، ہم تو اس سفر میں بہت تھک چکے ہیں، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: موسیٰ علیہ السلام کو تھکان اس جگہ سے آگے بڑھ جانے کے بعد ہی لاحق ہوئی جس جگہ اللہ نے انہیں پہنچنے کا حکم دیا تھا، غلام نے کہا: بھلا دیکھئیے تو سہی ( کیسی عجیب بات ہوئی ) جب ہم چٹان پر فروکش ہوئے تھے ( کچھ دیر آرام کے لیے ) تو میں آپ سے مچھلی کا ذکر کرنا بھول ہی گیا، اور شیطان کے سوا مجھے کسی نے بھی اس کے یاد دلانے سے غافل نہیں کیا ہے، وہ تو حیرت انگیز طریقے سے سمندر میں چلی گئی، موسیٰ علیہ السلام نے کہا: یہی تو وہ جگہ تھی جس کی تلاش میں ہم نکلے تھے، پھر وہ اپنے نشان قدم دیکھتے ہوئے پلٹے، وہ اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر چل رہے تھے ( تاکہ صحیح جگہ پر پہنچ جائیں ) ( سفیان ( راوی ) کہتے ہیں: کچھ لوگ سمجھتے ہیں اس چٹان کے قریب چشمہ حیات ہے، جس کسی مردے کو اس کا پانی چھو جائے وہ زندہ ہو جاتا ہے ) ، مچھلی کچھ کھائی جا چکی تھی۔ مگر جب پانی کے قطرے اس پر پڑے تو وہ زندہ ہو گئی، دونوں اپنے نشانات قدم دیکھ کر چلے یہاں تک کہ چٹان کے پاس پہنچ گئے وہاں سر ڈھانپے ہوئے ایک شخص کو دیکھا، موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام عرض کیا، انہوں نے کہا: تمہارے اس ملک میں سلام کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: میں موسیٰ ہوں، ( اور میری شریعت میں سلام ہے ) انہوں نے پوچھا: بنی اسرائیل والے موسیٰ؟ کہا: ہاں، انہوں نے کہا: اے موسیٰ اللہ کے ( بےشمار اور بے انتہائی ) علوم میں سے تمہارے پاس ایک علم ہے، اللہ نے تمہیں سکھایا ہے جسے میں نہیں جانتا، اور مجھے بھی اللہ کے علوم میں سے ایک علم حاصل ہے، اللہ نے مجھے وہ علم سکھایا ہے، جسے تم نہیں جانتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں آپ کے ساتھ ساتھ رہوں تو کیا آپ مجھے اللہ نے آپ کو رشد و ہدایت کی جو باتیں سکھائیں ہیں انہیں سکھا دیں گے؟ انہوں نے کہا: آپ میرے پاس ٹک نہیں سکتے، اور جس بات کا آپ کو علم نہیں آپ ( اسے بظاہر خلاف شرع دیکھ کر ) کیسے خاموش رہ سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں ان شاءاللہ جموں ( اور ٹکوں ) گا اور کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی ( اور مخالفت ) نہیں کروں گا۔ ان سے خضر ( علیہ السلام ) نے کہا: اگر آپ میرے ساتھ رہنا ہی چاہتے ہیں تو ( دھیان رہے ) کسی چیز کے بارے میں بھی مجھ سے مت پوچھیں اور حجت بازی نہ کریں جب تک کہ میں خود ہی آپ کو اس کے بارے میں بتا نہ دوں، موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ہاں ہاں، ( بالکل ایسا ہی ہو گا ) پھر خضر و موسیٰ چلے، دونوں سمندر کے ساحل سے لگ کر چلے جا رہے تھے کہ ان کے قریب سے ایک کشتی گزری، ان دونوں نے کشتی والوں سے بات کی کہ ہمیں بھی کشتی پر سوار کر لو، ( باتوں ہی باتوں میں ) انہوں نے خضر کو پہچان لیا، ان دونوں کو کشتی پر چڑھا لیا، اور ان سے کرایہ نہ لیا، مگر خضر علیہ السلام کشتی کے تختوں میں سے ایک تختے کی طرف بڑھے اور اسے اکھاڑ دیا، ( یہ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سے صبر نہ ہوا ) بول پڑے، ایک تو یہ ( کشتی والے شریف ) لوگ ہیں کہ انہوں نے بغیر کرایہ بھاڑا لیے ہمیں کشتی پر چڑھا لیا اور ایک آپ ہیں کہ آپ نے ان کی کشتی کی طرف بڑھ کر اسے توڑ دیا تاکہ انہیں ڈبو دیں، یہ تو آپ نے بڑا برا کام کیا، انہوں نے کہا: کیا میں آپ سے پہلے ہی نہیں کہہ چکا ہوں کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکتے؟ ( خاموش نہیں رہ سکتے ) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ اس پر میری گرفت نہ کریں میں بھول گیا تھا ( کہ میں نے آپ سے خاموش رہنے کا وعدہ کر رکھا ہے ) اور آپ میرے کام و معاملے میں دشواریاں کھڑی نہ کریں، پھر وہ دونوں کشتی سے اتر کر ساحل کے کنارے کنارے چلے جا رہے تھے کہ اچانک ایک لڑکا انہیں اور لڑکوں کے ساتھ کھیلتا ہوا ملا، خضر نے اس کا سر پکڑا اور اپنے ہاتھ سے اس کی کھوپڑی سر سے اتار کر اسے مار ڈالا، ( موسیٰ سے پھر رہا نہ گیا ) موسیٰ نے کہا: آپ نے بغیر کسی قصاص کے ایک اچھی بھلی جان لے لی، یہ تو آپ نے بڑی گھناونی حرکت کی ہے۔ انہوں نے کہا: میں تو آپ سے پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کر سکیں گے۔ ( کچھ نہ کچھ ضرور بول بیٹھیں گے راوی ) کہتے ہیں اور یہ تو پہلے سے بھی زیادہ سخت معاملہ تھا، ( اس میں وہ کیسے خاموش رہتے ) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ( یہ بھول بھی ہو ہی گئی ) اب اگر میں اس کے بعد کسی چیز کے بارے میں کچھ پوچھ بیٹھوں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئیے، میرے سلسلے میں آپ عذر کو پہنچے ہوئے ہوں گے، پھر وہ دونوں آگے بڑھے، ایک گاؤں میں پہنچ کر گاؤں والوں سے کہا: آپ لوگ ہماری ضیافت کریں مگر گاؤں والوں نے انہیں اپنا مہمان بنانے سے انکار کر دیا، وہاں انہیں ایک دیوار دکھائی دی جو گری پڑتی تھی، راوی کہتے ہیں: جھکی ہوئی تھی تو خضر علیہ السلام نے ہاتھ ( بڑھا کر ) دیوار سیدھی کھڑی کر دی۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: یہ تو ( ایسی گئی گزری ) قوم ہے کہ ہم ان کے پاس آئے، مگر انہوں نے ہماری ضیافت تک نہ کی، ہمیں کھلایا پلایا تک نہیں، آپ چاہتے تو ان سے دیوار سیدھی کھڑی کر دینے کی اجرت لے لیتے۔ خضر علیہ السلام نے کہا: اب آ گئی ہے ہماری تمہاری جدائی کی گھڑی، جن باتوں پر تم صبر نہ سکے میں تمہیں ان کی حقیقت بتائے دیتا ہوں“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ موسیٰ پر رحم فرمائے، ہمارے لیے تو یہ پسند ہوتا کہ وہ صبر کرتے تو ہم ان دونوں کی ( عجیب و غریب ) خبریں سنتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی بار تو موسیٰ علیہ السلام سے بھول ہوئی تھی“، آپ نے فرمایا: ” ( اسی موقع پر ) ایک گوریا آئی اور کشتی کے ایک کنارے بیٹھ گئی پھر سمندر سے اپنی چونچ مار کر پانی نکالا، خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو متوجہ کر کے کہا: اس چڑیا کے سمندر میں چونچ مارنے سے جو کمی ہوئی ہے وہی حیثیت اللہ کے علم کے آگے ہمارے اور تمہارے علم کی ہے، ( اس لیے متکبرانہ جملہ کہنے کے بجائے «اللہ اعلم» کہنا زیادہ بہتر ہوتا ) ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: ابن عباس «وكان أمامهم ملك يأخذ كل سفينة صالحة غصبا وكان يقرأ وأما الغلام فكان كافرا» ۲؎ پڑھا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو زہری نے عبیداللہ بن عتبہ سے عبیداللہ نے ابن عباس سے اور ابن عباس نے ابی بن کعب رضی الله عنہم کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اور اس حدیث کو ابواسحاق ہمدانی نے بھی سعید بن جبیر سے، سعید نے ابن عباس سے اور ابن عباس نے ابی بن کعب رضی الله عنہم کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، ۳- میں نے ابومزاحم سمرقندی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے علی ابن مدینی کو سنا وہ کہتے تھے: میں نے حج کیا، اور میرا حج سے مقصد صرف یہ تھا کہ میں سفیان سے خود سن لوں کہ وہ اس حدیث میں خبر یعنی لفظ «اخبرنا» استعمال کرتے ہیں ( یا نہیں ) چنانچہ میں نے سنا، انہوں نے «حدثنا عمرو بن دینار …» کا لفظ استعمال کیا۔ اور میں اس سے پہلے بھی سفیان سے یہ سن چکا تھا اور اس میں خبر ( یعنی «اخبرنا» ) کا ذکر نہیں تھا۔
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لڑکا جسے خضر علیہ السلام نے مار ڈالا تھا پیدائشی کافر تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي حدثنا ابو قتيبة، سلم بن قتيبة حدثنا عبد الجبار بن العباس الهمداني، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن ابى بن كعب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الغلام الذي قتله الخضر طبع يوم طبع كافرا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خضر نام اس لیے پڑا کہ وہ سوکھی ہوئی گھاس پر بیٹھے، تو وہ ہری گھاس میں تبدیل ہو گئی“ ( یہ اللہ کی طرف سے معجزہ تھا ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما سمي الخضر لانه جلس على فروة بيضاء فاهتزت تحته خضراء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «وكان تحته كنز لهما» ”ان دونوں یتیم بچوں کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن تھا“ ( الکہف: ۸۲ ) ، کے بارے میں فرمایا: ”کنز سے مراد سونا چاندی ہے“۔
حدثنا جعفر بن محمد بن فضيل الجزري، وغير، واحد، قالوا حدثنا صفوان بن صالح، حدثنا الوليد بن مسلم، عن يزيد بن يوسف الصنعاني، عن مكحول، عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله : ( وكان تحته كنز لهما ) قال " ذهب وفضة " . حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا صفوان بن صالح، حدثنا الوليد بن مسلم، عن يزيد بن يوسف الصنعاني، عن يزيد بن يزيد بن جابر، عن مكحول، بهذا الاسناد نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
ابورافع، ابوہریرہ رضی الله عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث میں سے «سد» (سکندری) سے متعلق حصہ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ” ( یاجوج و ماجوج اور ان کی ذریت ) اسے ہر دن کھودتے ہیں، جب وہ اس میں شگاف ڈال دینے کے قریب پہنچ جاتے ہیں تو ان کا نگراں ( جو ان سے کام کرا رہا ہوتا ہے ) ان سے کہتا ہے: واپس چلو کل ہم اس میں سوراخ کر دیں گے، ادھر اللہ اسے پہلے زیادہ مضبوط و ٹھوس بنا دیتا ہے، پھر جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی اور اللہ ان کو لوگوں تک لے جانے کا ارادہ کرے گا، اس وقت دیوار کھودنے والوں کا نگراں کہے گا: لوٹ جاؤ کل ہم اسے ان شاءاللہ توڑ دیں گے“، آپ نے فرمایا: ”پھر جب وہ ( اگلے روز ) لوٹ کر آئیں گے تو وہ اسے اسی حالت میں پائیں گے جس حالت میں وہ اسے چھوڑ کر گئے تھے ۱؎، پھر وہ اسے توڑ دیں گے، اور لوگوں پر نکل پڑیں گے ( ٹوٹ پڑیں گے ) سارا پانی پی جائیں گے، لوگ ان سے بچنے کے لیے بھاگیں گے، وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھیکیں گے، تیر خون میں ڈوبے ہوئے واپس آئیں گے، وہ کہیں گے کہ ہم زمین والوں پر غالب آ گئے اور آسمان والے سے بھی ہم قوت و بلندی میں بڑھ گئے ( یعنی اللہ تعالیٰ سے ) پھر اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا جس سے وہ مر جائیں گے“، آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، زمین کے جانور ان کا گوشت کھا کھا کر موٹے ہو جائیں گے اور اینٹھتے پھریں گے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے ایسے ہی جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، وغير، واحد، - المعنى واحد واللفظ لابن بشار قالوا حدثنا هشام بن عبد الملك حدثنا ابو عوانة عن قتادة عن ابي رافع عن حديث ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم في السد قال " يحفرونه كل يوم حتى اذا كادوا يخرقونه قال الذي عليهم ارجعوا فستخرقونه غدا فيعيده الله كامثل ما كان حتى اذا بلغ مدتهم واراد الله ان يبعثهم على الناس قال الذي عليهم ارجعوا فستخرقونه غدا ان شاء الله واستثنى . قال فيرجعون فيجدونه كهييته حين تركوه فيخرقونه فيخرجون على الناس فيستقون المياه ويفر الناس منهم فيرمون بسهامهم في السماء فترجع مخضبة بالدماء فيقولون قهرنا من في الارض وعلونا من في السماء قسوة وعلوا . فيبعث الله عليهم نغفا في اقفايهم فيهلكون قال فوالذي نفس محمد بيده ان دواب الارض تسمن وتبطر وتشكر شكرا من لحومهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب انما نعرفه من هذا الوجه مثل هذا
ابوسعید بن ابی فضالہ انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے جمع کرے گا تو پکارنے والا پکار کر کہے گا: جس نے اللہ کے واسطے کوئی کام کیا ہو اور اس کام میں کسی کو شریک کر لیا ہو، وہ جس غیر کو اس نے شریک کیا تھا اسی سے اپنے عمل کا ثواب مانگ لے، کیونکہ اللہ شرک سے کلی طور پر بیزار و بے نیاز ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن بکر کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، وغير، واحد، قالوا حدثنا محمد بن بكر البرساني، عن عبد الحميد بن جعفر، اخبرني ابي، عن ابن ميناء، عن ابي سعد بن ابي فضالة الانصاري، وكان، من الصحابة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا جمع الله الناس ليوم القيامة ليوم لا ريب فيه نادى مناد من كان اشرك في عمل عمله لله احدا فليطلب ثوابه من عند غير الله فان الله اغنى الشركاء عن الشرك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث محمد بن بكر
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نجران بھیجا ( وہاں نصاریٰ آباد تھے ) انہوں نے مجھ سے کہا: کیا آپ لوگ «يا أخت هارون» ۱؎ نہیں پڑھتے؟ جب کہ موسیٰ و عیسیٰ کے درمیان ( فاصلہ ) تھا جو تھا ۲؎ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میں انہیں کیا جواب دوں؟ میں لوٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا، تو آپ نے فرمایا: ”تم نے انہیں کیوں نہیں بتا دیا کہ لوگ اپنے سے پہلے کے انبیاء و صالحین کے ناموں پر نام رکھا کرتے تھے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے، اور ہم اسے صرف ابن ادریس ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، وابو موسى محمد بن المثنى قالا حدثنا ابن ادريس، عن ابيه، عن سماك بن حرب، عن علقمة بن وايل، عن المغيرة بن شعبة، قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى نجران فقالوا لي الستم تقرءون : ( يا اخت هارون ) وقد كان بين عيسى وموسى ما كان فلم ادر ما اجيبهم . فرجعت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته فقال " الا اخبرتهم انهم كانوا يسمون بانبيايهم والصالحين قبلهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من حديث ابن ادريس
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وأنذرهم يوم الحسرة» ”اے نبی! ان کو حسرت و افسوس کے دن سے ڈراؤ“ ( مریم: ۳۹ ) ، پڑھی ( پھر ) فرمایا: ”موت چتکبری بھیڑ کی صورت میں لائی جائے گی اور جنت و جہنم کے درمیان دیوار پر کھڑی کر دی جائے گی، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! جنتی گردن اٹھا کر دیکھیں گے، پھر کہا جائے گا: اے جہنمیو! جہنمی گردن اٹھا کر دیکھنے لگیں گے، پوچھا جائے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ سب کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے، پھر اسے پہلو کے بل پچھاڑ کر ذبح کر دیا جائے گا، اگر اہل جنت کے لیے زندگی و بقاء کا فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو وہ خوشی سے مر جاتے، اور اگر اہل جہنم کے لیے جہنم کی زندگی اور جہنم میں ہمیشگی کا فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو وہ غم سے مر جاتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا النضر بن اسماعيل ابو المغيرة، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي سعيد الخدري، رضى الله عنه قال قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( وانذرهم يوم الحسرة ) قال " يوتى بالموت كانه كبش املح حتى يوقف على السور بين الجنة والنار فيقال يا اهل الجنة . فيشريبون . ويقال يا اهل النار . فيشريبون . فيقال هل تعرفون هذا فيقولون نعم هذا الموت . فيضجع فيذبح فلولا ان الله قضى لاهل الجنة الحياة فيها والبقاء لماتوا فرحا ولولا ان الله قضى لاهل النار الحياة فيها والبقاء لماتوا ترحا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
قتادہ آیت «ورفعناه مكانا عليا» ۱؎ کے تعلق سے کہتے ہیں کہ ہم سے انس بن مالک رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں نے ادریس علیہ السلام کو چوتھے آسمان پر دیکھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور سعید بن ابی عروہ، ہمام اور کئی دیگر راویوں نے قتادہ سے، قتادہ نے انس سے اور انس نے مالک بن صعصعہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث معراج پوری کی پوری روایت کی، اور یہ ہمارے نزدیک اس سے مختصر ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری خدری رضی الله عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا الحسين بن محمد، حدثنا شيبان، عن قتادة، في قوله : (ورفعناه مكانا عليا ) قال حدثنا انس بن مالك، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " لما عرج بي رايت ادريس في السماء الرابعة " . قال وفي الباب عن ابي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال وهذا حديث حسن صحيح وقد رواه سعيد بن ابي عروبة وهمام وغير واحد عن قتادة عن انس عن مالك بن صعصعة عن النبي صلى الله عليه وسلم حديث المعراج بطوله وهذا عندنا مختصر من ذاك
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: ”جتنا آپ ہمارے پاس آتے ہیں، اس سے زیادہ آنے سے آپ کو کیا چیز روک رہی ہے؟ اس پر آیت «وما نتنزل إلا بأمر ربك» ”تمہارے رب کے حکم ہی سے اترتے ہیں اسی کے پاس ان تمام باتوں کا علم ہے جو ہمارے آگے ہیں، جو ہمارے پیچھے ہیں، اور ان کے درمیان ہیں“ ( مریم: ۶۴ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم سے حسین بن حریث نے بیان کیا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا اور وکیع نے عمر بن ذر سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا يعلى بن عبيد، حدثنا عمر بن ذر، عن ابيه، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لجبريل " ما يمنعك ان تزورنا اكثر مما تزورنا " . قال فنزلت هذه الاية : (وما نتنزل الا بامر ربك له ما بين ايدينا وما خلفنا ) الى اخر الاية . قال هذا حديث حسن غريب . حدثنا الحسين بن حريث، حدثنا وكيع، عن عمر بن ذر، نحوه
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن السدي، قال سالت مرة الهمداني عن قول الله، عز وجل : ( وان منكم الا واردها ) فحدثني ان عبد الله بن مسعود حدثهم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يرد الناس النار ثم يصدرون منها باعمالهم فاولهم كلمح البرق ثم كالريح ثم كحضر الفرس ثم كالراكب في رحله ثم كشد الرجل ثم كمشيه " . قال هذا حديث حسن . ورواه شعبة عن السدي فلم يرفعه
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا شعبة، عن السدي، عن مرة، عن عبد الله بن مسعود : (وان منكم الا واردها ) قال يردونها ثم يصدرون باعمالهم . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن شعبة، عن السدي، بمثله . قال عبد الرحمن قلت لشعبة ان اسراييل حدثني عن السدي عن مرة عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال شعبة وقد سمعته من السدي مرفوعا ولكني عمدا ادعه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو جبرائیل کو بلا کر کہتا ہے: میں نے فلاں کو اپنا حبیب بنا لیا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جبرائیل آسمان میں اعلان کر دیتے ہیں، اور پھر زمین والوں کے دلوں میں محبت پیدا ہو جاتی ہے، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے قول: «إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات سيجعل لهم الرحمن ودا» ”اس میں شک نہیں کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اور نیک عمل کرتے ہیں اللہ ان کے لیے ( لوگوں کے دلوں میں ) محبت پیدا کر دے گا“ ( مریم: ۹۶ ) ، کا مطلب و مفہوم۔ اور اللہ جب کسی بندے کو نہیں چاہتا ( اس سے بغض و نفرت رکھتا ہے ) تو جبرائیل کو بلا کر کہتا ہے، میں فلاں کو پسند نہیں کرتا پھر وہ آسمان میں پکار کر سب کو اس سے باخبر کر دیتے ہیں۔ تو زمین میں اس کے لیے ( لوگوں کے دلوں میں ) نفرت و بغض پیدا ہو جاتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی جیسی حدیث عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے اپنے باپ سے اور ان کے باپ نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا احب الله عبدا نادى جبريل اني قد احببت فلانا فاحبه قال فينادي في السماء ثم تنزل له المحبة في اهل الارض فذلك قول الله : ( ان الذين امنوا وعملوا الصالحات سيجعل لهم الرحمن ودا ) واذا ابغض الله عبدا نادى جبريل اني قد ابغضت فلانا فينادي في السماء ثم تنزل له البغضاء في الارض " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روى عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار عن ابيه عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے خباب بن ارت رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں عاص بن وائل سہمی ( کافر ) کے پاس اس سے اپنا ایک حق لینے کے لیے گیا، اس نے کہا: جب تک تم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ) کا انکار نہیں کر دیتے میں تمہیں دے نہیں سکتا۔ میں نے کہا: نہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کا انکار نہیں کر سکتا۔ چاہے تم یہ کہتے کہتے مر جاؤ۔ پھر زندہ ہو پھر یہی کہو۔ اس نے پوچھا کیا: میں مروں گا؟ پھر زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا؟ میں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: وہاں بھی میرے پاس مال ہو گا، اولاد ہو گی، اس وقت میں تمہارا حق تمہیں لوٹا دوں گا۔ اس موقع پر آیت «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا» ”کیا آپ نے دیکھا اس شخص کو جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا میں مال و اولاد سے بھی نوازا جاؤں گا“ ( مریم: ۷۷ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي الضحى، عن مسروق، قال سمعت خباب بن الارت، يقول جيت العاصي بن وايل السهمي اتقاضاه حقا لي عنده فقال لا اعطيك حتى تكفر بمحمد . فقلت لا حتى تموت ثم تبعث . قال واني لميت ثم مبعوث فقلت نعم . فقال ان لي هناك مالا وولدا فاقضيك . فنزلت : ( ارايت الذي كفر باياتنا وقال لاوتين مالا وولدا ) الاية . حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، نحوه . قال هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹے، رات کا سفر اختیار کیا، چلتے چلتے آپ کو نیند آنے لگی ( مجبور ہو کر ) اونٹ بٹھایا اور قیام کیا، بلال رضی الله عنہ سے فرمایا: ”بلال! آج رات تم ہماری حفاظت و پہرہ داری کرو“، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: بلال نے ( جاگنے کی صورت یہ کی کہ ) نماز پڑھی، صبح ہونے کو تھی، طلوع فجر ہونے کا انتظار کرتے ہوئے انہوں نے اپنے کجاوے کی ( ذرا سی ) ٹیک لے لی، تو ان کی آنکھ لگ گئی، اور وہ سو گئے، پھر تو کوئی اٹھ نہ سکا، ان سب میں سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، آپ نے فرمایا: ”بلال! ( یہ کیا ہوا؟ ) “ بلال نے عرض کیا: میرے باپ آپ پر قربان، مجھے بھی اسی چیز نے اپنی گرفت میں لے لیا جس نے آپ کو لیا، آپ نے فرمایا: ”یہاں سے اونٹوں کو آگے کھینچ کر لے چلو، پھر آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اونٹ بٹھائے، وضو کیا، نماز کھڑی کی اور ویسی ہی نماز پڑھی جیسی آپ اطمینان سے اپنے وقت پر پڑھی جانے والی نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ پھر آپ نے آیت «أقم الصلاة لذكري» ”مجھے یاد کرنے کے لیے نماز پڑھو“ ( طہٰ: ۱۴ ) ، پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، اسے کئی حافظان حدیث نے زہری سے، زہری نے سعید بن مسیب سے اور سعید بن مسیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ان لوگوں نے اپنی روایتوں میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ۲- صالح بن ابی الاخضر حدیث میں ضعیف قرار دیئے جاتے ہیں۔ انہیں یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے حفظ کے تعلق سے ضعیف کہا۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا النضر بن شميل، اخبرنا صالح بن ابي الاخضر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال لما قفل رسول الله صلى الله عليه وسلم من خيبر اسرى ليلة حتى ادركه الكرى اناخ فعرس ثم قال " يا بلال اكلا لنا الليلة " . قال فصلى بلال ثم تساند الى راحلته مستقبل الفجر فغلبته عيناه فنام فلم يستيقظ احد منهم وكان اولهم استيقاظا النبي صلى الله عليه وسلم . فقال " اى بلال " . فقال بلال بابي انت يا رسول الله اخذ بنفسي الذي اخذ بنفسك . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقتادوا " . ثم اناخ فتوضا فاقام الصلاة ثم صلى مثل صلاته للوقت في تمكث ث��م قال : (واقم الصلاة لذكري ) . قال هذا حديث غير محفوظ رواه غير واحد من الحفاظ عن الزهري عن سعيد بن المسيب ان النبي صلى الله عليه وسلم ولم يذكروا فيه عن ابي هريرة . وصالح بن ابي الاخضر يضعف في الحديث ضعفه يحيى بن سعيد القطان وغيره من قبل حفظه
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ويل» جہنم کی ایک وادی ہے ( اور اتنی گہری ہے کہ ) جب کافر اس میں گرے گا تو اس کو تہہ تک پہنچنے سے پہلے گرنے میں چالیس سال لگ جائیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم ابن لہیعہ کے سوا کسی اور کو نہیں جانتے کہ وہ اسے مرفوعاً روایت کرتا ہو۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا الحسن بن موسى الاشيب، بغدادي حدثنا ابن لهيعة، عن دراج، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الويل واد في جهنم يهوي فيه الكافر اربعين خريفا قبل ان يبلغ قعره " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه مرفوعا الا من حديث ابن لهيعة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرے دو غلام ہیں، جو مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، میرے مال میں خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں، میں انہیں گالیاں دیتا ہوں مارتا ہوں، میرا ان کا نپٹارا کیسے ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”انہوں نے، تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، اور تمہاری نافرمانی کی ہے تم سے جو جھوٹ بولے ہیں ان سب کا شمار و حساب ہو گا تم نے انہیں جو سزائیں دی ہیں ان کا بھی شمار و حساب ہو گا، اب اگر تمہاری سزائیں ان کے گناہوں کے بقدر ہوئیں تو تم اور وہ برابر سرابر چھوٹ جاؤ گے، نہ تمہارا حق ان پر رہے گا اور نہ ان کا حق تم پر، اور اگر تمہاری سزا ان کے قصور سے کم ہوئی تو تمہارا فضل و احسان ہو گا، اور اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی تو تجھ سے ان کے ساتھ زیادتی کا بدلہ لیا جائے گا، ( یہ سن کر ) وہ شخص روتا پیٹتا ہوا واپس ہوا، آپ نے فرمایا: ”کیا تم کتاب اللہ نہیں پڑھتے ( اللہ نے فرمایا ہے ) «ونضع الموازين القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شيئا وإن كان مثقال» الآية ”اور ہم قیامت کے دن انصاف کا ترازو لگائیں گے پھر کسی نفس پر کسی طرح سے ظلم نہ ہو گا، اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہو گا ہم اسے لا حاضر کریں گے اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے“ ( الانبیاء: ۴۷ ) ، اس شخص نے کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے اور ان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی بات نہیں پاتا کہ ہم ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب آزاد ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن غزوان کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- احمد بن حنبل نے بھی یہ حدیث عبدالرحمٰن بن غزوان سے روایت کی ہے۔
حدثنا مجاهد بن موسى، - بغدادي - والفضل بن سهل الاعرج بغدادي وغير واحد قالوا حدثنا عبد الرحمن بن غزوان ابو نوح، حدثنا ليث بن سعد، عن مالك بن انس، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان رجلا، قعد بين يدى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان لي مملوكين يكذبونني ويخونونني ويعصونني واشتمهم واضربهم فكيف انا منهم قال " يحسب ما خانوك وعصوك وكذبوك وعقابك اياهم فان كان عقابك اياهم بقدر ذنوبهم كان كفافا لا لك ولا عليك وان كان عقابك اياهم دون ذنوبهم كان فضلا لك وان كان عقابك اياهم فوق ذنوبهم اقتص لهم منك الفضل " . قال فتنحى الرجل فجعل يبكي ويهتف فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما تقرا كتاب الله : ( ونضع الموازين القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شييا وان كان مثقال ) الاية . فقال الرجل والله يا رسول الله ما اجد لي ولهولاء شييا خيرا من مفارقتهم اشهدكم انهم احرار كلهم " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث عبد الرحمن بن غزوان وقد روى احمد بن حنبل عن عبد الرحمن بن غزوان هذا الحديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابراہیم علیہ السلام نے تین معاملات کے سوا کسی بھی معاملے میں کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا، ایک تو یہ ہے کہ آپ نے کہا: میں بیمار ہوں، حالانکہ آپ بیمار نہیں تھے، ( دوسرا ) آپ نے سارہ کو اپنی بہن کہا: ( جب کہ وہ آپ کی بیوی تھیں ) ( تیسرا، آپ نے بت توڑا ) اور پوچھنے والوں سے آپ نے کہا: بڑے ( بت ) ان کے اس بڑے نے توڑے ہیں، ( ان سے پوچھ لیں ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، اور ابوالزناد کے واسطہ سے ابن اسحاق کی روایت غریب ہے۔
حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الاموي، حدثني ابي، حدثنا محمد بن اسحاق، عن ابي الزناد، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لم يكذب ابراهيم عليه السلام في شيء قط الا في ثلاث قوله : (اني سقيم ) ولم يكن سقيما وقوله لسارة اختي وقوله : ( بل فعله كبيرهم هذا ) " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن علي بن زيد بن جدعان، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا سيد ولد ادم يوم القيامة ولا فخر وبيدي لواء الحمد ولا فخر وما من نبي يوميذ ادم فمن سواه الا تحت لوايي وانا اول من تنشق عنه الارض ولا فخر قال فيفزع الناس ثلاث فزعات فياتون ادم فيقولون انت ابونا ادم فاشفع لنا الى ربك . فيقول اني اذنبت ذنبا اهبطت منه الى الارض ولكن ايتوا نوحا . فياتون نوحا فيقول اني دعوت على اهل الارض دعوة فاهلكوا ولكن اذهبوا الى ابراهيم . فياتون ابراهيم فيقول اني كذبت ثلاث كذبات " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما منها كذبة الا ماحل بها عن دين الله ولكن ايتوا موسى . فياتون موسى فيقول اني قد قتلت نفسا ولكن ايتوا عيسى . فياتون عيسى فيقول اني عبدت من دون الله ولكن ايتوا محمدا قال فياتونني فانطلق معهم " . قال ابن جدعان قال انس فكاني انظر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " فاخذ بحلقة باب الجنة فاقعقعها فيقال من هذا فيقال محمد . فيفتحون لي ويرحبون فيقولون مرحبا فاخر ساجدا فيلهمني الله من الثناء والحمد فيقال لي ارفع راسك سل تعط واشفع تشفع وقل يسمع لقولك وهو المقام المحمود الذي قال الله : ( عسى ان يبعثك ربك مقاما محمودا ) " . قال سفيان ليس عن انس الا هذه الكلمة " فاخذ بحلقة باب الجنة فاقعقعها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روى بعضهم هذا الحديث عن ابي نضرة عن ابن عباس الحديث بطوله
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن سعيد بن جبير، قال قلت لابن عباس ان نوفا البكالي يزعم ان موسى صاحب بني اسراييل ليس بموسى صاحب الخضر قال كذب عدو الله سمعت ابى بن كعب يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " قام موسى خطيبا في بني اسراييل فسيل اى الناس اعلم فقال انا اعلم . فعتب الله عليه اذ لم يرد العلم اليه فاوحى الله اليه ان عبدا من عبادي بمجمع البحرين هو اعلم منك قال موسى اى رب فكيف لي به فقال له احمل حوتا في مكتل فحيث تفقد الحوت فهو ثم فانطلق وانطلق معه فتاه وهو يوشع بن نون ويقال يوسع فحمل موسى حوتا في مكتل فانطلق هو وفتاه يمشيان حتى اذا اتيا الصخرة فرقد موسى وفتاه فاضطرب الحوت في المكتل حتى خرج من المكتل فسقط في البحر قال وامسك الله عنه جرية الماء حتى كان مثل الطاق وكان للحوت سربا وكان لموسى ولفتاه عجبا فانطلقا بقية يومهما وليلتهما ونسي صاحب موسى ان يخبره فلما اصبح موسى قال لفتاه: (اتنا غداءنا لقد لقينا من سفرنا هذا نصبا ) قال ولم ينصب حتى جاوز المكان الذي امر به : (قال ارايت اذ اوينا الى الصخرة فاني نسيت الحوت وما انسانيه الا الشيطان ان اذكره واتخذ سبيله في البحر عجبا ) قال موسى : ( ذلك ما كنا نبغ فارتدا على اثارهما قصصا ) قال فكانا يقصان اثارهما . قال سفيان يزعم ناس ان تلك الصخرة عندها عين الحياة ولا يصيب ماوها ميتا الا عاش . قال وكان الحوت قد اكل منه فلما قطر عليه الماء عاش . قال فقصا اثارهما حتى اتيا الصخرة فراى رجلا مسجى عليه بثوب فسلم عليه موسى فقال انى بارضك السلام قال انا موسى . قال موسى بني اسراييل قال نعم . قال يا موسى انك على علم من علم الله علمكه الله لا اعلمه وانا على علم من علم الله علمنيه لا تعلمه فقال موسى : ( هل اتبعك على ان تعلمني مما علمت رشدا * قال انك لن تستطيع معي صبرا * وكيف تصبر على ما لم تحط به خبرا * قال ستجدني ان شاء الله صابرا ولا اعصي لك امرا ) قال له الخضر : (فان اتبعتني فلا تسالني عن شيء حتى احدث لك منه ذكرا ) قال نعم فانطلق الخضر وموسى يمشيان على ساحل البحر فمرت بهما سفينة فكلماه ان يحملوهما فعرفوا الخضر فحملوهما بغير نول فعمد الخضر الى لوح من الواح السفينة فنزعه فقال له موسى قوم حملونا بغير نول عمدت الى سفينتهم فخرقتها : ( لتغرق اهلها لقد جيت شييا امرا * قال الم اقل انك لن تستطيع معي صبرا * قال لا تواخذني بما نسيت ولا ترهقني من امري عسرا ) ثم خرجا من السفينة فبينما هما يمشيان على الساحل واذا غلام يلعب مع الغلمان فاخذ الخضر براسه فاقتلعه بيده فقتله فقال له موسى : ( اقتلت نفسا زكية بغير نفس لقد جيت شييا نكرا * قال الم اقل لك انك لن تستطيع معي صبرا ) قال وهذه اشد من الاولى : ( قال ان سالتك عن شيء بعدها فلا تصاحبني قد بلغت من لدني عذرا * فانطلقا حتى اذا اتيا اهل قرية استطعما اهلها فابوا ان يضيفوهما فوجدا فيها جدارا يريد ان ينقض ) يقول مايل فقال الخضر بيده هكذا : ( فاقامه ) فقال له موسى قوم اتيناهم فلم يضيفونا ولم يطعمونا : ( ان شيت لاتخذت عليه اجرا * قال هذا فراق بيني وبينك سانبيك بتاويل ما لم تستطع عليه صبرا ) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يرحم الله موسى لوددنا انه كان صبر حتى يقص علينا من اخبارهما " . قال وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الاولى كانت من موسى نسيان - قال وجاء عصفور حتى وقع على حرف السفينة ثم نقر في البحر فقال له الخضر ما نقص علمي وعلمك من علم الله الا مثل ما نقص هذا العصفور من البحر " . قال سعيد بن جبير وكان يعني ابن عباس يقرا وكان امامهم ملك ياخذ كل سفينة صالحة غصبا وكان يقرا واما الغلام فكان كافرا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ورواه الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابن عباس عن ابى بن كعب عن النبي صلى الله عليه وسلم وقد رواه ابو اسحاق الهمداني عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن ابى بن كعب عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى سمعت ابا مزاحم السمرقندي يقول سمعت علي بن المديني يقول حججت حجة وليس لي همة الا ان اسمع من سفيان يذكر في هذا الحديث الخبر حتى سمعته يقول حدثنا عمرو بن دينار وقد كنت سمعت هذا من سفيان من قبل ذلك ولم يذكر فيه الخبر