احادیث
#3165
سنن ترمذی - Exegesis
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرے دو غلام ہیں، جو مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، میرے مال میں خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں، میں انہیں گالیاں دیتا ہوں مارتا ہوں، میرا ان کا نپٹارا کیسے ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”انہوں نے، تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، اور تمہاری نافرمانی کی ہے تم سے جو جھوٹ بولے ہیں ان سب کا شمار و حساب ہو گا تم نے انہیں جو سزائیں دی ہیں ان کا بھی شمار و حساب ہو گا، اب اگر تمہاری سزائیں ان کے گناہوں کے بقدر ہوئیں تو تم اور وہ برابر سرابر چھوٹ جاؤ گے، نہ تمہارا حق ان پر رہے گا اور نہ ان کا حق تم پر، اور اگر تمہاری سزا ان کے قصور سے کم ہوئی تو تمہارا فضل و احسان ہو گا، اور اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی تو تجھ سے ان کے ساتھ زیادتی کا بدلہ لیا جائے گا، ( یہ سن کر ) وہ شخص روتا پیٹتا ہوا واپس ہوا، آپ نے فرمایا: ”کیا تم کتاب اللہ نہیں پڑھتے ( اللہ نے فرمایا ہے ) «ونضع الموازين القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شيئا وإن كان مثقال» الآية ”اور ہم قیامت کے دن انصاف کا ترازو لگائیں گے پھر کسی نفس پر کسی طرح سے ظلم نہ ہو گا، اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہو گا ہم اسے لا حاضر کریں گے اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے“ ( الانبیاء: ۴۷ ) ، اس شخص نے کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے اور ان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی بات نہیں پاتا کہ ہم ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب آزاد ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن غزوان کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- احمد بن حنبل نے بھی یہ حدیث عبدالرحمٰن بن غزوان سے روایت کی ہے۔
حدثنا مجاهد بن موسى، - بغدادي - والفضل بن سهل الاعرج بغدادي وغير واحد قالوا حدثنا عبد الرحمن بن غزوان ابو نوح، حدثنا ليث بن سعد، عن مالك بن انس، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان رجلا، قعد بين يدى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان لي مملوكين يكذبونني ويخونونني ويعصونني واشتمهم واضربهم فكيف انا منهم قال " يحسب ما خانوك وعصوك وكذبوك وعقابك اياهم فان كان عقابك اياهم بقدر ذنوبهم كان كفافا لا لك ولا عليك وان كان عقابك اياهم دون ذنوبهم كان فضلا لك وان كان عقابك اياهم فوق ذنوبهم اقتص لهم منك الفضل " . قال فتنحى الرجل فجعل يبكي ويهتف فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما تقرا كتاب الله : ( ونضع الموازين القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شييا وان كان مثقال ) الاية . فقال الرجل والله يا رسول الله ما اجد لي ولهولاء شييا خيرا من مفارقتهم اشهدكم انهم احرار كلهم " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث عبد الرحمن بن غزوان وقد روى احمد بن حنبل عن عبد الرحمن بن غزوان هذا الحديث
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3165
- Book Index
- 217
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih Isnaad
- Al-AlbaniSahih Isnaad
- Zubair Ali ZaiDaif
