Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”تم لوگ قیامت کے دن اللہ کے پاس ننگے اور غیر مختون جمع کئے جاؤ گے، پھر آپ نے آیت پڑھی «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا» ”ہم نے جیسے پہلے آدمی کو پیدا کیا ہے ویسا ہی دوبارہ لوٹا دیں گے ( پیدا فرما دیں گے ) “ ( الانبیاء: ۱۰۴ ) ، آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن جنہیں سب سے پہلے کپڑا پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے، ( قیامت کے دن ) میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے جنہیں چھانٹ کر بائیں جانب ( جہنم کی رخ ) کر دیا جائے گا، میں کہوں گا پروردگار! یہ تو میرے اصحاب ( امتی ) ہیں، کہا جائے گا: آپ کو نہیں معلوم ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی باتیں ( خرافات ) دین میں پیدا ( داخل ) کر دیں۔ ( یہ سن کر ) میں بھی وہی بات کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) نے کہی ہے «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت أنت الرقيب عليهم وأنت على كل شيء شهيد إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم» ”میں جب تک ان کے درمیان تھا ان کی دیکھ بھال کرتا رہا تھا، پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا آپ ان کے محافظ و نگہبان بن گئے، آپ ہر چیز سے واقف ہیں۔ اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے و غلام ہیں۔ ( آپ انہیں سزا دے سکتے ہیں ) اور اگر آپ انہیں معاف کر دیں تو آپ زبردست حکمت والے ہیں“ ( المائدہ: ۱۱۸ ) ، کہا جائے گا: یہ وہ لوگ ہیں کہ آپ نے جب سے ان کا ساتھ چھوڑا ہے یہ اپنی پہلی حالت سے پھر گئے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، ووهب بن جرير، وابو داود قالوا حدثنا شعبة، عن المغيرة بن النعمان، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم بالموعظة فقال " يا ايها الناس انكم محشورون الى الله عراة غرلا " . ثم قرا : ( كما بدانا اول خلق نعيده وعدا علينا ) الى اخر الاية قال " اول من يكسى يوم القيامة ابراهيم وانه سيوتى برجال من امتي فيوخذ بهم ذات الشمال فاقول رب اصحابي . فيقال انك لا تدري ما احدثوا بعدك . فاقول كما قال العبد الصالح ( وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شيء شهيد * ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفر لهم فانك انت العزيز الحكيم ) فيقال هولاء لم يزالوا مرتدين على اعقابهم منذ فارقتهم " . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن المغيرة بن النعمان، نحوه . قال هذا حديث حسن صحيح . ورواه سفيان الثوري عن المغيرة بن النعمان نحوه . قال ابو عيسى كانه تاوله على اهل الردة
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت «يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے قول «ولكن عذاب الله شديد» ۱؎ تک نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سفر میں تھے، آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو وہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس دن اللہ آدم ( علیہ السلام ) سے کہے گا «ابعث بعث النار» ”جہنم میں جانے والی جماعت کو چھانٹ کر بھیجو“ آدم علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب «بعث النار» ”کیا ہے ( یعنی کتنے ) ؟“ اللہ فرمائے گا: نو سو ننانوے ( ۹۹۹ ) افراد جہنم میں اور ( ان کے مقابل میں ) ایک شخص جنت میں جائے گا، یہ سن کر مسلمان ( صحابہ ) رونے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نزدیکی حاصل کرو اور ہر کام صحیح اور درست ڈھنگ سے کرتے رہو، ( اہل جنت میں سے ہو جاؤ گے ) ، کیونکہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نبوت کا سلسلہ چلا ہو اور اس سے پہلے جاہلیت ( کی تاریکی پھیلی ہوئی ) نہ ہو“، آپ نے فرمایا: ”یہ ( ۹۹۹ کی تعداد ) عدد انہیں ( ادوار ) جاہلیت کے افراد سے پوری کی جائے گی۔ یہ تعداد اگر جاہلیت سے پوری نہ ہوئی تو ان کے ساتھ منافقین کو ملا کر پوری کی جائے گی، اور تمہاری اور ( پچھلی ) امتوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ داغ، نشان، تل جانور کے اگلے پیر میں، یا سیاہ نشان اونٹ کے پہلو ( پسلی ) میں ہو“ ۲؎ پھر آپ نے فرمایا: ”مگر مجھے امید ہے کہ جنت میں جانے والوں میں ایک چوتھائی تعداد تم لوگوں کی ہو گی“، یہ سن کر ( لوگوں نے خوش ہو کر ) نعرہ تکبیر بلند کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”مجھے توقع ہے جنتیوں کی ایک تہائی تعداد تم ہو گے“، لوگوں نے پھر تکبیر بلند کی، آپ نے پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھا آدھا تم لوگ ہو گے“، لوگوں نے پھر صدائے تکبیر بلند کی ( اس سے آگے ) مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ نے دو تہائی بھی فرمایا یا نہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی راویوں سے عمران بن حصین کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن جدعان، عن الحسن، عن عمران بن حصين، ان النبي صلى الله عليه وسلم لما نزلت : ( يا ايها الناس اتقوا ربكم ان زلزلة الساعة شيء عظيم ) الى قوله : (ولكن عذاب الله شديد ) قال انزلت عليه هذه وهو في سفر فقال " اتدرون اى يوم ذلك " . فقالوا الله ورسوله اعلم . قال " ذلك يوم يقول الله لادم ابعث بعث النار فقال يا رب وما بعث النار قال تسعماية وتسعة وتسعون الى النار وواحد الى الجنة " . قال فانشا المسلمون يبكون فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قاربوا وسددوا فانها لم تكن نبوة قط الا كان بين يديها جاهلية قال فيوخذ العدد من الجاهلية فان تمت والا كملت من المنافقين وما مثلكم والامم الا كمثل الرقمة في ذراع الدابة او كالشامة في جنب البعير ثم قال اني لارجو ان تكونوا ربع اهل الجنة " . فكبروا ثم قال " اني لارجو ان تكونوا ثلث اهل الجنة " . فكبروا ثم قال " اني لارجو ان تكونوا نصف اهل الجنة " . فكبروا قال ولا ادري قال الثلثين ام لا . قال هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن عمران بن حصين عن النبي صلى الله عليه وسلم
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، اور چلنے میں ایک دوسرے سے آگے پیچھے ہو گئے تھے، آپ نے بآواز بلند یہ دونوں آیتیں: «يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے لے کر «عذاب الله شديد» تک تلاوت فرمائی، جب صحابہ نے یہ سنا تو اپنی سواریوں کو ابھار کر ان کی رفتار بڑھا دی، اور یہ جان لیا کہ کوئی بات ہے جسے آپ فرمانے والے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“، صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکاریں گے اور وہ اپنے رب کو جواب دیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: «ابعث بعث النار» ”بھیجو جہنم میں جانے والی جماعت کو“، آدم علیہ السلام کہیں گے: اے ہمارے رب! «بعث النار» ”کیا ہے ( یعنی کتنے ) ؟“ اللہ کہے گا: ایک ہزار افراد میں سے نو سو ننانوے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا، یہ سن کر لوگ مایوس ہو گئے، ایسا لگا کہ اب یہ زندگی بھر کبھی ہنسیں گے نہیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی یہ ( مایوسانہ ) کیفیت و گھبراہٹ دیکھی تو فرمایا: ”اچھے بھلے کام کرو اور خوش ہو جاؤ ( اچھے اعمال کے صلے میں جنت پاؤ گے ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم ایسی دو مخلوق کے ساتھ ہو کہ وہ جس کے بھی ساتھ ہو جائیں اس کی تعداد بڑھا دیں، ایک یاجوج و ماجوج اور دوسرے وہ جو اولاد آدم اور اولاد ابلیس میں سے ( حالت کفر میں ) مر چکے ہیں، آپ کی اس بات سے لوگوں کے رنج و فکر کی اس کیفیت میں کچھ کمی آئی جسے لوگ شدت سے محسوس کر رہے تھے اور اپنے دلوں میں موجود پا رہے تھے۔“ آپ نے فرمایا: ”نیکی کا عمل جاری رکھو، اور ایک دوسرے کو خوشخبری دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم تو لوگوں میں بس ایسے ہو جیسے اونٹ ( جیسے بڑے جانور ) کے پہلو ( پسلی ) میں کوئی داغ یا نشان ہو، یا چوپائے کی اگلی دست میں کوئی تل ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
(حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا هشام بن ابي عبد الله، عن قتادة، عن الحسن، عن عمران بن حصين، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فتفاوت بين اصحابه في السير فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم صوته بهاتين الايتين ايها الناس اتقوا ربكم ان زلزلة الساعة شيء عظيم ) الى قوله : ( ان عذاب الله شديد ) فلما سمع ذلك اصحابه حثوا المطي وعرفوا انه عند قول يقوله فقال " هل تدرون اى يوم ذلك " . قالوا الله ورسوله اعلم . قال " ذاك يوم ينادي الله فيه ادم فيناديه ربه فيقول يا ادم ابعث بعث النار . فيقول يا رب وما بعث النار فيقول من كل الف تسعماية وتسعة وتسعون الى النار وواحد في الجنة " . فييس القوم حتى ما ابدوا بضاحكة فلما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي باصحابه قال " اعملوا وابشروا فوالذي نفس محمد بيده انكم لمع خليقتين ما كانتا مع شيء الا كثرتاه ياجوج وماجوج ومن مات من بني ادم وبني ابليس " . قال فسري عن القوم بعض الذي يجدون . فقال " اعملوا وابشروا فوالذي نفس محمد بيده ما انتم في الناس الا كالشامة في جنب البعير او كالرقمة في ذراع الدابة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خانہ کعبہ کا نام «بيت العتيق» ۱؎ ( آزاد گھر ) اس لیے رکھا گیا کہ اس پر کسی جابر و ظالم کا غلبہ و قبضہ نہیں ہو سکا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث زہری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، وغير، واحد، قالوا حدثنا عبد الله بن صالح، قال حدثني الليث، عن عبد الرحمن بن خالد، عن ابن شهاب، عن محمد بن عروة بن الزبير، عن عبد الله بن الزبير، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما سمي البيت العتيق لانه لم يظهر عليه جبار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي هذا الحديث عن الزهري عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا کہ ان لوگوں نے اپنے نبی کو ( اپنے وطن سے ) نکال دیا ہے، یہ لوگ ضرور ہلاک ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن الله على نصرهم لقدير» ”ان لوگوں کو بھی لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے مظلوم ( و کمزور ) سمجھ کر جنگ چھیڑ رکھی گئی ہے، اللہ ان ( مظلومین ) کی مدد پر قادر ہے“ ( الحج: ۳۹ ) ، نازل فرمائی ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: ( جب یہ آیت نازل ہوئی تو ) میں نے یہ سمجھ لیا کہ اب ( مسلمانوں اور کافروں میں ) لڑائی ہو گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابي واسحاق بن يوسف الازرق، عن سفيان الثوري، عن الاعمش، عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال لما اخرج النبي صلى الله عليه وسلم من مكة قال ابو بكر اخرجوا نبيهم ليهلكن فانزل الله : (اذن للذين يقاتلون بانهم ظلموا وان الله على نصرهم لقدير ) الاية . فقال ابو بكر لقد علمت انه سيكون قتال . قال هذا حديث حسن . وقد رواه عبد الرحمن بن مهدي وغيره عن سفيان عن الاعمش عن مسلم البطين عن سعيد بن جبير مرسلا ليس فيه عن ابن عباس
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکالے گئے، ایک آدمی نے کہا: ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکال دیا تو اس پر آیت «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن الله على نصرهم لقدير الذين أخرجوا من ديارهم بغير حق» ”ان لوگوں کو بھی لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے مظلوم ( و کمزور ) سمجھ کر جنگ چھیڑ رکھی گئی ہے، اللہ ان ( مظلومین ) کی مدد پر قادر ہے“ ( الحج: ۳۹ ) ، نازل ہوئی، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو ناحق نکال دیا گیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، قال لما اخرج النبي صلى الله عليه وسلم من مكة قال رجل اخرجوا نبيهم فنزلت : ( اذن للذين يقاتلون بانهم ظلموا وان الله على نصرهم لقدير * الذين اخرجوا من ديارهم بغير حق ) النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کے منہ کے قریب شہد کی مکھی کے اڑنے کی طرح آواز ( بھنبھناہٹ ) سنائی پڑتی تھی۔ ( ایک دن کا واقعہ ہے ) آپ پر وحی نازل ہوئی ہم کچھ دیر ( خاموش ) ٹھہرے رہے، جب آپ سے نزول وحی کے وقت کی کیفیت ( تکلیف ) دور ہوئی تو آپ قبلہ رخ ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا فرمائی: «اللهم زدنا ولا تنقصنا وأكرمنا ولا تهنا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علينا وارضنا وارض عنا» ”اے اللہ! ہم کو زیادہ دے، ہمیں دینے میں کمی نہ کر، ہم کو عزت دے، ہمیں ذلیل و رسوا نہ کر، ہمیں اپنی نعمتوں سے نواز، اپنی نوازشات سے ہمیں محروم نہ رکھ، ہمیں ( اوروں ) پر فضیلت دے، اور دوسروں کو ہم پر فضیلت و تفوّق نہ دے، اور ہمیں راضی کر دے ( اپنی عبادت و بندگی کرنے کے لیے ) اور ہم سے راضی و خوش ہو جا“ پھر آپ نے فرمایا: مجھ پر دس آیتیں نازل ہوئی ہیں جو ان پر عمل کرتا رہے گا، وہ جنت میں جائے گا، پھر آپ نے «قد أفلح المؤمنون» ( سورۃ المومنون: ۱- ۱۰ ) سے شروع کر کے دس آیتیں مکمل تلاوت فرمائیں۔
حدثنا يحيى بن موسى، وعبد بن حميد، وغير، واحد المعنى، واحد، قالوا حدثنا عبد الرزاق، عن يونس بن سليم، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، عن عبد الرحمن بن عبد القاري، قال سمعت عمر بن الخطاب، رضى الله عنه يقول كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا نزل عليه الوحى سمع عند وجهه كدوي النحل فانزل عليه يوما فمكثنا ساعة فسري عنه فاستقبل القبلة ورفع يديه وقال " اللهم زدنا ولا تنقصنا واكرمنا ولا تهنا واعطنا ولا تحرمنا واثرنا ولا توثر علينا وارضنا وارض عنا " . ثم قال صلى الله عليه وسلم " انزل على عشر ايات من اقامهن دخل الجنة " . ثم قرا : ( قد افلح المومنون ) حتى ختم عشر ايات . حدثنا محمد بن ابان، حدثنا عبد الرزاق، عن يونس بن سليم، عن يونس بن يزيد، عن الزهري، بهذا الاسناد نحوه بمعناه . قال ابو عيسى هذا اصح من الحديث الاول سمعت اسحاق بن منصور، يقول روى احمد بن حنبل، وعلي بن المديني، واسحاق بن ابراهيم، عن عبد الرزاق، عن يونس بن سليم، عن يونس بن يزيد، عن الزهري، هذا الحديث . قال ابو عيسى ومن سمع من عبد الرزاق، قديما فانهم انما يذكرون فيه عن يونس بن يزيد وبعضهم لا يذكر فيه عن يونس بن يزيد ومن ذكر فيه يونس بن يزيد فهو اصح وكان عبد الرزاق ربما ذكر في هذا الحديث يونس بن يزيد وربما لم يذكره واذا لم يذكر فيه يونس فهو مرسل
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ربیع بنت نضر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، ان کے بیٹے حارث بن سراقہ جنگ بدر میں شہید ہو گئے تھے، انہیں ایک انجانا تیر لگا تھا جس کے بارے میں پتا نہ لگ سکا تھا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے ( میرے بیٹے ) حارثہ کے بارے میں بتائیے، اگر وہ خیر پاس کا ہے تو میں ثواب کی امید رکھتی اور صبر کرتی ہوں، اور اگر وہ خیر ( بھلائی ) کو نہیں پاس کا تو میں ( اس کے لیے ) اور زیادہ دعائیں کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حارثہ کی ماں! جنت میں بہت ساری جنتیں ہیں، تمہارا بیٹا جنت الفردوس میں پہنچ چکا ہے اور فردوس جنت کا ایک ٹیلہ ہے، جنت کے بیچ میں ہے اور جنت کی سب سے اچھی جگہ ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا روح بن عبادة، عن سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، رضى الله عنه ان الربيع بنت النضر، اتت النبي صلى الله عليه وسلم وكان ابنها حارثة بن سراقة اصيب يوم بدر اصابه سهم غرب فاتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت اخبرني عن حارثة لين كان اصاب خيرا احتسبت وصبرت وان لم يصب الخير اجتهدت في الدعاء . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا ام حارثة انها جنان في جنة وان ابنك اصاب الفردوس الاعلى والفردوس ربوة الجنة واوسطها وافضلها " . قال هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث انس
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» ”جو لوگ اللہ کے لیے دیتے ہیں، جو دیتے ہیں اور ان کے دل خوف کھا رہے ہوتے ہیں ( کہ قبول ہو گا یا نہیں ) “ ( المؤمنون: ۶۰ ) ، کا مطلب پوچھا: کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں، اور چوری کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، صدیق کی صاحبزادی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، صدقے دیتے ہیں، اس کے باوجود ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کی یہ نیکیاں قبول نہ ہوں، یہی ہیں وہ لوگ جو خیرات ( بھلے کاموں ) میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی لوگ بھلائیوں میں سبقت لے جانے والے لوگ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن سعید نے بھی اس حدیث کو ابوحازم سے، ابوحازم نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، حدثنا مالك بن مغول، عن عبد الرحمن بن سعيد بن وهب الهمداني، ان عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن هذه الاية : ( والذين يوتون ما اتوا وقلوبهم وجلة ) قالت عايشة اهم الذين يشربون الخمر ويسرقون قال " لا يا بنت الصديق ولكنهم الذين يصومون ويصلون ويتصدقون وهم يخافون ان لا يقبل منهم اوليك الذين يسارعون في الخيرات وهم لها سابقون " . قال وقد روي هذا الحديث عن عبد الرحمن بن سعيد عن ابي حازم عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وهم فيها كالحون» ”اور وہ اس میں ڈراونی شکل والے ہوں گے“ ( المومنون: ۱۰۴ ) ، کے سلسلے سے فرمایا: ”جہنم ان کے منہ کو جھلسا دے گی، جس سے اوپر کا ہونٹ سکڑ کر آدھے سر تک پہنچ جائے گا اور نچلا ہونٹ لٹک کر ناف سے ٹکرانے لگے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن سعيد بن يزيد ابي شجاع، عن ابي السمح، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : (وهم فيها كالحون ) قال " تشويه النار فتقلص شفته العليا حتى تبلغ وسط راسه وتسترخي شفته السفلى حتى تضرب سرته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مرثد بن مرثد نامی صحابی وہ ایسے ( جی دار و بہادر ) شخص تھے جو ( مسلمان ) قیدیوں کو مکہ سے نکال کر مدینہ لے آیا کرتے تھے، اور مکہ میں عناق نامی ایک زانیہ، بدکار عورت تھی، وہ عورت اس صحابی کی ( ان کے اسلام لانے سے پہلے کی ) دوست تھی، انہوں نے مکہ کے قیدیوں میں سے ایک قیدی شخص سے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ اسے قید سے نکال کر لے جائیں گے، کہتے ہیں کہ میں ( اسے قید سے نکال کر مدینہ لے جانے کے لیے ) آ گیا، میں ایک چاندنی رات میں مکہ کی دیواروں میں سے ایک دیوار کے سایہ میں جا کر کھڑا ہوا ہی تھا کہ عناق آ گئی۔ دیوار کے اوٹ میں میری سیاہ پرچھائیں اس نے دیکھ لی، جب میرے قریب پہنچی تو مجھے پہچان کر پوچھا: مرثد ہونا؟ میں نے کہا: ہاں، مرثد ہوں، اس نے خوش آمدید کہا، ( اور کہا: ) آؤ، رات ہمارے پاس گزارو، میں نے کہا: عناق! اللہ نے زنا کو حرام قرار دیا ہے، اس نے شور مچا دیا، اے خیمہ والو ( دوڑو ) یہ شخص تمہارے قیدیوں کو اٹھائے لیے جا رہا ہے، پھر میرے پیچھے آٹھ آدمی دوڑ پڑے، میں خندمہ ( نامی پہاڑ ) کی طرف بھاگا اور ایک غار یا کھوہ کے پاس پہنچ کر اس میں گھس کر چھپ گیا، وہ لوگ بھی اوپر چڑھ آئے اور میرے سر کے قریب ہی کھڑے ہو کر۔ انہوں نے پیشاب کیا تو ان کے پیشاب کی بوندیں ہمارے سر پر ٹپکیں، لیکن اللہ نے انہیں اندھا بنا دیا، وہ ہمیں نہ دیکھ سکے، وہ لوٹے تو میں بھی لوٹ کر اپنے ساتھی کے پاس ( جسے اٹھا کر مجھے لے جانا تھا ) آ گیا، وہ بھاری بھر کم آدمی تھے، میں نے انہیں اٹھا کر ( پیٹھ پر ) لاد لیا، اذخر ( کی جھاڑیوں میں ) پہنچ کر میں نے ان کی بیڑیاں توڑ ڈالیں اور پھر اٹھا کر چل پڑا، کبھی کبھی اس نے بھی میری مدد کی ( وہ بھی بیڑیاں لے کر چلتا ) اس طرح میں مدینہ آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں؟ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، پھر یہ آیت «الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك وحرم ذلك على المؤمنين» ”زانی زانیہ یا مشرکہ ہی سے نکاح کرے اور زانیہ سے زانی یا مشرک ہی نکاح کرے، مسلمانوں پر یہ نکاح حرام ہے“ ( النور: ۳ ) ، نازل ہوئی آپ نے ( اس آیت کے نزول کے بعد مرثد بن ابی مرثد سے ) فرمایا: ”اس سے نکاح نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا روح بن عبادة، عن عبيد الله بن الاخنس، اخبرني عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال كان رجل يقال له مرثد بن ابي مرثد وكان رجلا يحمل الاسرى من مكة حتى ياتي بهم المدينة قال وكانت امراة بغي بمكة يقال لها عناق وكانت صديقة له وانه كان وعد رجلا من اسارى مكة يحمله قال فجيت حتى انتهيت الى ظل حايط من حوايط مكة في ليلة مقمرة . قال فجاءت عناق فابصرت سواد ظلي بجنب الحايط فلما انتهت الى عرفته فقالت مرثد فقلت مرثد . فقالت مرحبا واهلا هلم فبت عندنا الليلة . قال قلت يا عناق حرم الله الزنا . قالت يا اهل الخيام هذا الرجل يحمل اسراكم . قال فتبعني ثمانية وسلكت الخندمة فانتهيت الى كهف او غار فدخلت فجاءوا حتى قاموا على راسي فبالوا فطل بولهم على راسي واعماهم الله عني . قال ثم رجعوا ورجعت الى صاحبي فحملته وكان رجلا ثقيلا حتى انتهيت الى الاذخر ففككت عنه كبله فجعلت احمله ويعينني حتى قدمت المدينة فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله انكح عناقا مرتين فامسك رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يرد على شييا حتى نزلت : (الزاني لا ينكح الا زانية او مشركة والزانية لا ينكحها الا زان او مشرك وحرم ذلك على المومنين ) فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا مرثد الزاني لا ينكح الا زانية او مشركة والزانية لا ينكحها الا زان او مشرك فلا تنكحها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ مصعب بن زبیر رضی الله عنہ کی امارت کے زمانے میں مجھ سے پوچھا گیا: کیا لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان جدائی کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آ گیا، ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، مجھ سے کہا گیا کہ وہ قیلولہ فرما رہے ہیں، مگر انہوں نے میری بات چیت سن لی۔ اور مجھے ( پکار کر ) کہا: ابن جبیر! اندر آ جاؤ، تم کسی ( دینی ) ضرورت ہی سے آئے ہو گے، میں اندر داخل ہوا، دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے کجاوے کے نیچے ڈالنے والا کمبل بچھائے ہوئے ہیں، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! پاک اور برتر ذات ہے اللہ کی، ہاں، ( سنو ) سب سے پہلا شخص جس نے اس بارے میں مسئلہ پوچھا وہ فلاں بن فلاں تھے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، کہا: اللہ کے رسول! بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری میں مبتلا یعنی زناکاری کرتے ہوئے دیکھے تو کیا کرے؟ اگر بولتا ہے تو بڑی بات کہتا ہے اور اگر چپ رہتا ہے تو بڑی بات پر چپ رہتا ہے، آپ یہ سن کر چپ رہے اور انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر جب اس کے بعد ایسا واقعہ پیش ہی آ گیا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: میں نے آپ سے جو بات پوچھی تھی، اس سے میں خود دوچار ہو گیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی آیات «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» ۱؎ سے ختم آیات تک «والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين» نازل فرمائیں، ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں اور اسے نصیحت کیا، اسے سمجھایا بجھایا، اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے، اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اس عورت پر جھوٹا الزام نہیں لگایا ہے، پھر آپ عورت کی طرف متوجہ ہوئے، اسے بھی وعظ و نصیحت کی، سمجھایا بجھایا، اسے بھی بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابل میں ہلکا اور آسان ہے ۲؎، اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! اس نے سچ نہیں کہا ہے، پھر آپ نے لعان کی شروعات مرد سے کی، مرد نے چار بار گواہیاں دی کہ اللہ گواہ ہے کہ وہ سچا ہے، پانچویں بار میں کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو، پھر آپ عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور اس نے بھی اللہ کی چار گواہیاں دیں، اللہ گواہ ہے کہ اس کا شوہر جھوٹوں میں سے ہے اور پانچویں بار کہا: اللہ کا غضب ہو اس پر اگر اس کا شوہر سچوں میں سے ہو، اس کے بعد آپ نے ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سہل بن سعد رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة بن سليمان، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن سعيد بن جبير، قال سيلت عن المتلاعنين، في امارة مصعب بن الزبير ايفرق بينهما فما دريت ما اقول فقمت من مكاني الى منزل عبد الله بن عمر فاستاذنت عليه فقيل لي انه قايل فسمع كلامي فقال لي ابن جبير ادخل ما جاء بك الا حاجة قال فدخلت فاذا هو مفترش بردعة رحل له فقلت يا ابا عبد الرحمن المتلاعنان ايفرق بينهما فقال سبحان الله نعم ان اول من سال عن ذلك فلان بن فلان اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ارايت لو ان احدنا راى امراته على فاحشة كيف يصنع ان تكلم تكلم بامر عظيم وان سكت سكت على امر عظيم قال فسكت النبي صلى الله عليه وسلم فلم يجبه فلما كان بعد ذلك اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان الذي سالتك عنه قد ابتليت به فانزل الله هذه الايات في سورة النور : (والذين يرمون ازواجهم ولم يكن لهم شهداء الا انفسهم ) حتى ختم الايات قال فدعا الرجل فتلاهن عليه ووعظه وذكره واخبره ان عذاب الدنيا اهون من عذاب الاخرة فقال لا والذي بعثك بالحق ما كذبت عليها . ثم ثنى بالمراة ووعظها وذكرها واخبرها ان عذاب الدنيا اهون من عذاب الاخرة فقالت لا والذي بعثك بالحق ما صدق . فبدا بالرجل فشهد اربع شهادات بالله انه لمن الصادقين والخامسة ان لعنة الله عليه ان كان من الكاذبين ثم ثنى بالمراة فشهدت اربع شهادات بالله انه لمن الكاذبين والخامسة ان غضب الله عليها ان كان من الصادقين ثم فرق بينهما . وفي الباب عن سهل بن سعد قال وهذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی، ہلال نے کہا: جب ہم میں سے کوئی کسی شخص کو اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا ہوا دیکھے گا تو کیا وہ گواہ ڈھونڈتا پھرے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے کہ تم گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی۔ ہلال نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں سچا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس معاملے میں کوئی ایسی چیز ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو حد سے بچا دے گی، پھر ( اسی موقع پر ) آیت «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» سے «والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين» تک نازل ہوئی آپ نے اس کی تلاوت فرمائی، جب آپ پڑھ کر فارغ ہوئے تو ان دونوں کو بلا بھیجا، وہ دونوں آئے، پھر ہلال بن امیہ کھڑے ہوئے اور گواہیاں دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سمجھانے لگے: اللہ کو معلوم ہے کہ تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی ہے جو توبہ کر لے؟ پھر عورت کھڑی ہوئی، اور اس نے بھی گواہی دی، پھر جب پانچویں گواہی ”اللہ کی اس پر لعنت ہو اگر وہ سچا ہو“ دینے کی باری آئی، تو لوگوں نے اس سے کہا: یہ گواہی اللہ کے غضب کو واجب کر دے گی ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: ( لوگوں کی بات سن کر ) وہ ٹھٹکی اور ذلت و شرمندگی سے سر جھکا لیا، ہم سب نے گمان کیا کہ شاید وہ ( اپنی پانچویں گواہی ) سے پھر جائے گی، مگر اس نے کہا: میں اپنی قوم کو ہمیشہ کے لیے ذلیل و رسوا نہ کروں گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کو دیکھتے رہو اگر وہ کالی آنکھوں والا موٹے چوتڑ والا اور بھری رانوں والا بچہ جنے تو سمجھ لو کہ دہ شریک بن سحماء کا ہے، تو اس نے ایسا ہی بچہ جنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کتاب اللہ ( قرآن ) سے اس کا فیصلہ ( لعان کا ) نہ آ چکا ہوتا تو ہماری اور اس کی ایک عجیب ہی شان ہوتی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے ہشام بن حسان کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث کو عباد بن منصور نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، ۳- ایوب نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کی ہے اور اس روایت میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن ابي عدي، حدثنا هشام بن حسان، حدثني عكرمة، عن ابن عباس، ان هلال بن امية، قذف امراته عند النبي صلى الله عليه وسلم بشريك بن السحماء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البينة والا حد في ظهرك " . قال فقال هلال يا رسول الله اذا راى احدنا رجلا على امراته ايلتمس البينة فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " البينة والا حد في ظهرك " . قال فقال هلال والذي بعثك بالحق اني لصادق ولينزلن في امري ما يبري ظهري من الحد فنزل : (والذين يرمون ازواجهم ولم يكن لهم شهداء الا انفسهم ) فقرا حتى بلغ : ( والخامسة ان غضب الله عليها ان كان من الصادقين ) قال فانصرف النبي صلى الله عليه وسلم فارسل اليهما فجاءا فقام هلال بن امية فشهد والنبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله يعلم ان احدكما كاذب فهل منكما تايب " . ثم قامت فشهدت فلما كانت عند الخامسة : ( ان غضب الله عليها ان كان من الصادقين ) قالوا لها انها موجبة فقال ابن عباس فتلكات ونكست حتى ظننا ان سترجع فقالت لا افضح قومي ساير اليوم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ابصروها فان جاءت به اكحل العينين سابغ الاليتين خدلج الساقين فهو لشريك بن السحماء " . فجاءت به كذلك فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لولا ما مضى من كتاب الله عز وجل لكان لنا ولها شان " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث هشام بن حسان وهكذا روى عباد بن منصور هذا الحديث عن عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم . ورواه ايوب عن عكرمة مرسلا ولم يذكر فيه عن ابن عباس
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میرے بارے میں افواہیں پھیلائی جانے لگیں جو پھیلائی گئیں، میں ان سے بےخبر تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور میرے تعلق سے ایک خطبہ دیا، آپ نے شہادتین پڑھیں، اللہ کے شایان شان تعریف و ثنا کی، اور حمد و صلاۃ کے بعد فرمایا: ”لوگو! ہمیں ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دو جنہوں نے میری گھر والی پر تہمت لگائی ہے، قسم اللہ کی! میں نے اپنی بیوی میں کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی، انہوں نے میری بیوی کو اس شخص کے ساتھ متہم کیا ہے جس کے بارے میں اللہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی برائی نہیں جانی، وہ میرے گھر میں کبھی بھی میری غیر موجودگی میں داخل نہیں ہوا، وہ جب بھی میرے گھر میں آیا ہے میں موجود رہا ہوں، اور جب بھی میں گھر سے غائب ہوا، سفر میں رہا وہ بھی میرے ساتھ گھر سے دور سفر میں رہا ہے“، ( یہ سن کر ) سعد بن معاذ رضی الله عنہ نے کھڑے ہو کر، عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے میں ان کی گردنیں اڑا دوں، ( یہ سن کر ) خزرج قبیلے کا ایک اور شخص جس کے قبیلے سے حسان بن ثابت کی ماں تھیں کھڑا ہوا اس نے ( سعد بن معاذ سے مخاطب ہو کر ) کہا: آپ جھوٹ اور غلط بات کہہ رہے ہیں، سنئیے، اللہ کی قسم! اگر یہ ( تہمت لگانے والے آپ کے قبیلے ) اوس کے ہوتے تو یہ پسند نہ کرتے کہ آپ ان کی گردنیں اڑا دیں، یہ بحث و تکرار اتنی بڑھی کہ اوس و خزرج کے درمیان مسجد ہی میں فساد عظیم برپا ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا، ( عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں ) مجھے اس کی بھی خبر نہ ہوئی، جب اس دن کی شام ہوئی تو میں اپنی ( قضائے حاجت کی ) ضرورت سے گھر سے باہر نکلی، میرے ساتھ مسطح کی ماں بھی تھیں، وہ ( راستہ میں ) ٹھوکر کھائی تو کہہ اٹھیں: مسطح تباہ برباد ہو! میں نے ان سے کہا: آپ کیسی ماں ہیں بیٹے کو گالی دیتی ہیں؟ تو وہ چپ رہیں، پھر دوبارہ ٹھوکر کھائی تو پھر وہی لفظ دہرایا، مسطح ہلاک ہو، میں نے پھر ( ٹوکا ) میں نے کہا: آپ کیسی ماں ہیں؟ اپنے بیٹے کو گالی ( بد دعا ) دیتی ہیں؟ وہ پھر خاموش رہیں، پھر جب تیسری بار ٹھوکر کھائی تو پھر یہی لفظ دہرایا تو میں نے ڈانٹا ( اور جھڑک دیا ) کیسی ( خراب ) ماں ہیں آپ؟ اپنے ہی بیٹے کو برا بھلا کہہ رہی ہیں، وہ بولیں: ( بیٹی ) قسم اللہ کی میں اسے صرف تیرے معاملے میں برا بھلا کہہ رہی ہوں، میں نے پوچھا: میرے کس معاملے میں؟ تب انہوں نے مجھے ساری باتیں کھول کھول کر بتائیں، میں نے ان سے پوچھا: کیا ایسا ہوا؟ ( یہ ساری باتیں پھیل گئیں؟ ) انہوں نے کہا: ہاں، قسم اللہ کی! یہ سن کر میں گھر لوٹ آئی، تو ان میں جس کام کے لیے نکلی تھی، نکلی ہی نہیں، مجھے اس قضائے حاجت کی تھوڑی یا زیادہ کچھ بھی ضرورت محسوس نہ ہوئی، ( بلکہ ) مجھے تیز بخار چڑھ آیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: مجھے میرے ابا کے گھر بھیج دیجئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ایک لڑکا کر دیا، ( اور میں اپنے ابا کے گھر آ گئی ) میں گھر میں داخل ہوئی تو ( اپنی ماں ) ام رومان کو نیچے پایا اور ( اپنے ابا ) ابوبکر کو گھر کے اوپر پڑھتے ہوئے پایا، میری ماں نے کہا: بیٹی! کیسے آئیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے انہیں بتا دیا اور انہیں ساری باتیں ( اور سارا قصہ ) سنا دیا، مگر انہیں یہ باتیں سن کر وہ اذیت نہ پہنچی جو مجھے پہنچی، انہوں نے کہا: بیٹی! اپنے آپ کو سنبھالو، کیونکہ اللہ کی قسم! بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی مرد کی کوئی حسین و جمیل عورت ہو جس سے وہ مرد ( بے انتہا ) محبت کرتا ہو، اس سے اس کی سوکنیں حسد نہ کرتی ( اور جلن نہ رکھتی ) ہوں اور اس کے بارے میں لگائی بجھائی نہ کرتی ہوں، غرضیکہ انہیں اتنا صدمہ نہ پہنچا جتنا مجھے پہنچا، میں نے پوچھا: کیا میرے ابو جان کو بھی یہ بات معلوم ہو چکی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے ( پھر ) پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان باتوں سے واقف ہو چکے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، ( یہ سن کر ) میں غم سے نڈھال ہو گئی اور رو پڑی، ابوبکر رضی الله عنہ چھت پر قرآن پڑھ رہے تھے، میرے رونے کی آواز سن کر نیچے اتر آئے، میری ماں سے پوچھا، اسے کیا ہوا؟ ( یہ کیوں رو رہی ہے؟ ) انہوں نے کہا: اس کے متعلق جو باتیں کہی گئیں ( اور افواہیں پھیلائی گئی ہیں ) وہ اسے بھی معلوم ہو گئی ہیں، ( یہ سن کر ) ان کی بھی آنکھیں بہہ پڑیں، ( مگر ) انہوں نے کہا: اے میری ( لاڈلی ) بیٹی! میں تمہیں قسم دلا کر کہتا ہوں تو اپنے گھر لوٹ جا، میں اپنے گھر واپس ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور میری لونڈی ( بریرہ ) سے میرے متعلق پوچھ تاچھ کی، اس نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! میں ان میں کوئی عیب نہیں جانتی، ہاں، بس یہ بات ہے کہ ( کام کرتے کرتے تھک کر ) سو جاتی ہیں اور بکری آ کر گندھا ہوا آٹا کھا جاتی ہے، بعض صحابہ نے اسے ڈانٹا، ( باتیں نہ بنا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچ سچ بتا ( اس سے اس پوچھ تاچھ میں ) وہ ( اپنے مقام و مرتبہ سے ) نیچے اتر آئے، اس نے کہا: سبحان اللہ! پاک و برتر ہے اللہ کی ذات، قسم اللہ کی! میں انہیں بس ایسی ہی جانتی ہوں جیسے سنار سرخ سونے کے ڈلے کو جانتا پہچانتا ہے، پھر اس معاملے کی خبر اس شخص کو بھی ہو گئی جس پر تہمت لگائی گئی تھی۔ اس نے کہا: سبحان اللہ! قسم اللہ کی، میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی کا سینہ اور پہلو نہیں کھولا ہے ۱؎، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: وہ اللہ کی راہ میں شہید ہو کر مرے، میرے ماں باپ صبح ہی میرے پاس آ گئے اور ہمارے ہی پاس رہے۔ عصر پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لے آئے، اور ہمارے پاس پہنچے، میرے ماں باپ ہمارے دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادتین پڑھی، اللہ کی شایان شان حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”حمد و صلاۃ کے بعد: ”عائشہ! اگر تو برائی کی مرتکب ہو گئی یا اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھی ہے تو اللہ سے توبہ کر، اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے“، اسی دوران انصار کی ایک عورت آ کر دروازے میں بیٹھ گئی تھی، میں نے عرض کیا: اس عورت کے سامنے ( اس طرح کی ) کوئی بات کرتے ہوئے کیا آپ کو شرم محسوس نہیں ہوئی؟ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت فرمائی، میں اپنے باپ کی طرف متوجہ ہوئی، ان سے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا جواب دیں، انہوں نے کہا: میں کیا جواب دوں؟ میں اپنی ماں کی طرف پلٹی، میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات کہی ہے اس بارے میں ( میری طرف سے ) صفائی دیجئیے، انہوں نے کہا: کیا کہوں میں؟ جب میرے ماں باپ نے کچھ جواب نہ دیا، تو میں نے کلمہ شہادت ادا کیا، اللہ کے شایان شان اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر میں نے کہا: سنئیے، قسم اللہ کی! اگر میں آپ لوگوں سے کہتی ہوں کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور اللہ گواہ ہے کہ میں سچی ( بےگناہ ) ہوں تب بھی مجھے آپ کے سامنے اس سے فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ ہی یہ بات کہنے والے ہیں اور آپ کے دلوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے اور اگر میں یہ کہہ دوں کہ میں نے ایسا کیا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں نے نہیں کیا، تو آپ ضرور کہیں گے کہ اس نے تو اعتراف جرم کر لیا ہے، اور میں قسم اللہ کی! اپنے اور آپ کے لیے اس سے زیادہ مناسب حال کوئی مثال نہیں پاتی ( میں نے مثال دینے کے لیے ) یعقوب علیہ السلام کا نام ڈھونڈا اور یاد کیا، مگر میں اس پر قادر نہ ہو سکی، ( مجھے ان کا نام یاد نہ آ سکا تو میں نے ابویوسف کہہ دیا ) مگر یوسف علیہ السلام کے باپ کی مثال جب کہ انہوں نے «فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون» کہا ۲؎۔ اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی تو ہم سب خاموش ہو گئے، پھر آپ پر سے وحی کے آثار ختم ہوئے تو میں نے آپ کے چہرے سے خوشی پھوٹتی ہوئی دیکھی، آپ اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے فرمانے لگے: ”اے عائشہ! خوش ہو جاؤ اللہ نے تمہاری براۃ میں آیت نازل فرما دی ہے“، مجھے اس وقت سخت غصہ آیا جب میرے ماں باپ نے مجھ سے کہا: کھڑی ہو کر آپ کا شکریہ ادا کر، میں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! میں آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑی نہ ہوں گی، نہ میں ان کی تعریف کروں گی اور نہ آپ دونوں کی، نہ میں ان کی احسان مند ہوں گی اور نہ آپ دونوں کا بلکہ میں اس اللہ کا احسان مند اور شکر گزار ہوں گی جس نے میری براۃ میں آیت نازل فرمائی، آپ لوگوں نے تو میری غیبت و تہمت سنی، لیکن اس پر تردید و انکار نہ کیا، اور نہ اسے روک دینے اور بدل دینے کی کوشش کی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: رہی زینب بن حجش تو اللہ نے انہیں ان کی نیکی و دینداری کی وجہ سے بچا لیا، انہوں نے اس قضیہ میں جب بھی کہا، اچھی و بھلی بات ہی کہی، البتہ ان کی بہن حمنہ ( شریک بہتان ہو کر ) ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو گئی، اور جو لوگ اس بہتان بازی اور پروپیگنڈے میں لگے ہوئے تھے وہ مسطح، حسان بن ثابت اور منافق عبداللہ بن ابی بن سلول تھے، اور یہی منافق ( فتنہ پردازوں کا سردار و سرغنہ ) ہی اس معاملہ میں اپنی سیاست چلاتا اور اپنے ہم خیال لوگوں کو یکجا رکھتا تھا، یہی وہ شخص تھا اور اس کے ساتھ حمنہ بھی تھی، جو اس فتنہ انگیزی میں پیش پیش تھی، ابوبکر رضی الله عنہ نے قسم کھا لی کہ اب وہ ( اس احسان فراموش و بدگو ) مسطح کو کبھی کوئی فائدہ نہ پہنچائیں گے، اس پر آیت «ولا يأتل أولوا الفضل منكم والسعة» ۳؎ نازل ہوئی، اس سے یہاں مراد ابوبکر ہیں، «أن يؤتوا أولي القربى والمساكين والمهاجرين في سبيل الله» ۴؎ اس سے اشارہ مسطح کی طرف ہے۔ «ألا تحبون أن يغفر الله لكم والله غفور رحيم» ۵؎ ( یہ آیت سن کر ) ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: کیوں نہیں، قسم اللہ کی! ہمارے رب! ہم پسند کرتے ہیں کہ تو ہمیں بخش دے، پھر مسطح کو دینے لگے جو پہلے دیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ہشام بن عروہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس حدیث کو یونس بن یزید، معمر اور کئی دوسرے لوگوں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص لیثی اور عبیداللہ بن عبداللہ سے اور ان سبھوں نے عائشہ سے روایت کی ہے، یہ حدیث ہشام بن عروہ کی حدیث سے لمبی بھی ہے اور مکمل بھی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میری صفائی و پاکدامنی کی آیت نازل ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا ذکر کیا، قرآن کی تلاوت کی، اور منبر سے اترنے کے بعد دو مردوں اور ایک عورت پر حد ( قذف ) جاری کرنے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ ان سب پر حد جاری کر دی گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے محمد بن اسحاق کی روایت کے سوا اور کسی طریقے سے نہیں جانتے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن محمد بن اسحاق، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عمرة، عن عايشة، قالت لما نزل عذري قام رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر فذكر ذلك وتلا القران فلما نزل امر برجلين وامراة فضربوا حدهم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث محمد بن اسحاق
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ صرف اسی ایک ذات نے تمہیں پیدا کیا ہے ( اس کا کوئی شریک نہیں ہے ) “۔ میں نے کہا: پھر کون سا گناہ بہت بڑا ہے؟ فرمایا: ”یہ ہے کہ تم اپنے بیٹے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھائے گا“، میں نے کہا: پھر کون سا گناہ بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن واصل، عن ابي وايل، عن عمرو بن شرحبيل، عن عبد الله، قال قلت يا رسول الله اى الذنب اعظم قال " ان تجعل لله ندا وهو خلقك " . قال قلت ثم ماذا قال " ان تقتل ولدك خشية ان يطعم معك " . قال قلت ثم ماذا قال " ان تزني بحليلة جارك " . قال هذا حديث حسن غريب . حدثنا محمد بن بشار، بندار حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن منصور، والاعمش، عن ابي وايل، عن عمرو بن شرحبيل، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا گناہ بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”بڑا گناہ یہ ہے کہ تم کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراؤ، جب کہ اسی نے تم کو پیدا کیا ہے، اور تم اپنے بیٹے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ رہے گا تو تمہارے ساتھ کھائے پیئے گا، یا تمہارے کھانے میں سے کھائے گا، اور تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو، اور آپ نے یہ آیت پڑھی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك يلق أثاما يضاعف له العذاب يوم القيامة ويخلد فيه مهانا» ”اللہ کے بندے وہ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود جان کر نہیں پکارتے، اور کسی جان کو جس کا قتل اللہ نے حرام کر دیا ہے، ناحق ( یعنی بغیر قصاص وغیرہ ) قتل نہیں کرتے، اور زنا نہیں کرتے، اور جو ایسا کچھ کرے گا وہ اپنے گناہوں کی سزا سے دوچار ہو گا، قیامت کے دن عذاب دوچند ہو جائے گا اور اس میں ہمیشہ ذلیل و رسوا ہو کر رہے گا“ ( الفرقان: ۶۸-۶۹ ) ، ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفیان کی وہ روایت جسے انہوں نے منصور اور اعمش سے روایت کی ہے، واصل کی روایت کے مقابلہ میں زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ انہوں نے اس حدیث کی سند میں ایک راوی ( عمرو بن شرحبیل ) کا اضافہ کیا ہے ۱؎۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا سعيد بن الربيع ابو زيد، حدثنا شعبة، عن واصل الاحدب، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم اى الذنب اعظم قال " ان تجعل لله ندا وهو خلقك وان تقتل ولدك من اجل ان ياكل معك او من طعامك وان تزني بحليلة جارك " . قال وتلا هذه الاية : (والذين لا يدعون مع الله الها اخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله الا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك يلق اثاما * يضاعف له العذاب يوم القيامة ويخلد فيه مهانا ) . قال ابو عيسى حديث سفيان عن منصور والاعمش اصح من حديث شعبة عن واصل لانه زاد في اسناده رجلا . حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن واصل، عن ابي وايل، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال وهكذا روى شعبة عن واصل عن ابي وايل عن عبد الله ولم يذكر فيه عمرو بن شرحبيل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب یہ آیت «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اے نبی! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ“ ( الشعراء: ۲۱۴ ) ، نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صفیہ بنت عبدالمطلب، اے فاطمہ بنت محمد، اے بنی عبدالمطلب: سن لو میں اللہ سے متعلق معاملات میں تمہاری کچھ بھی حمایت، مدد و سفارش نہیں کر سکتا، ہاں ( اس دنیا میں ) میرے مال میں سے جو چاہو مانگ سکتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح روایت کی ہے وکیع اور کئی راویوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے اور عروہ نے عائشہ سے محمد بن عبدالرحمٰن طفاوی کی حدیث کی مانند، ۳- اور بعض راویوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے اور اس سند میں عائشہ رضی الله عنہا کا ذکر نہیں کیا، ۴- اس باب میں علی اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو الاشعث، احمد بن المقدام العجلي حدثنا محمد بن عبد الرحمن الطفاوي، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت لما نزلت هذه الاية : (وانذر عشيرتك الاقربين ) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا صفية بنت عبد المطلب يا فاطمة بنت محمد يا بني عبد المطلب اني لا املك لكم من الله شييا سلوني من مالي ما شيتم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وهكذا روى وكيع وغير واحد هذا الحديث عن هشام بن عروة عن ابيه عن عايشة نحو حديث محمد بن عبد الرحمن الطفاوي . روى بعضهم عن هشام بن عروة عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا ولم يذكر فيه عن عايشة . وفي الباب عن علي وابن عباس
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اے نبی! اپنے قرابت داروں کو ڈرایئے“ نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص و عام سبھی قریش کو اکٹھا کیا ۱؎، آپ نے انہیں مخاطب کر کے کہا: اے قریش کے لوگو! اپنی جانوں کو آگ سے بچا لو، اس لیے کہ میں تمہیں اللہ کے مقابل میں کوئی نقصان یا کوئی نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اے بنی عبد مناف کے لوگو! اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو، کیونکہ میں تمہیں اللہ کے مقابل میں کسی طرح کا نقصان یا نفع پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا، اے بنی قصی کے لوگو! اپنی جانوں کو آگ سے بچا لو۔ کیونکہ میں تمہیں کوئی نقصان یا فائدہ پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اے بنی عبدالمطلب کے لوگو! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، کیونکہ میں تمہیں کسی طرح کا ضرر یا نفع پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا، اے فاطمہ بنت محمد! اپنی جان کو جہنم کی آگ سے بچا لے، کیونکہ میں تجھے کوئی نقصان یا نفع پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا، تم سے میرا رحم ( خون ) کا رشتہ ہے سو میں احساس کو تازہ رکھوں گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: موسیٰ بن طلحہ کی روایت سے یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا زكريا بن عدي، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرقي، عن عبد الملك بن عمير، عن موسى بن طلحة، عن ابي هريرة، قال لما نزلت : ( وانذر عشيرتك الاقربين ) جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم قريشا فخص وعم فقال " يا معشر قريش انقذوا انفسكم من النار فاني لا املك لكم من الله ضرا ولا نفعا يا معشر بني عبد مناف انقذوا انفسكم من النار فاني لا املك لكم من الله ضرا ولا نفعا يا معشر بني قصى انقذوا انفسكم من النار فاني لا املك لكم ضرا ولا نفعا يا معشر بني عبد المطلب انقذوا انفسكم من النار فاني لا املك لكم ضرا ولا نفعا يا فاطمة بنت محمد انقذي نفسك من النار فاني لا املك لك ضرا ولا نفعا ان لك رحما سابلها ببلالها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه يعرف من حديث موسى بن طلحة . حدثنا علي بن حجر، حدثنا شعيب بن صفوان، عن عبد الملك بن عمير، عن موسى بن طلحة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت: «وأنذر عشيرتك الأقربين» نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں کانوں میں ( اذان کی طرح ) ڈال کر بلند آواز سے پکار کہا: یا بنی عبد مناف! یا صباحاہ! اے عبد مناف کے لوگو! جمع ہو جاؤ ( اور سنو اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرو ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- بعض نے اس حدیث کو عوف سے، اور عوف نے قسامہ بن زہیر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں ابوموسیٰ ( اشعری ) سے روایت کا ذکر نہیں کیا اور یہی زیادہ صحیح ہے، ۳- میں نے اس کے بارے میں محمد بن اسماعیل بخاری سے مذاکرہ کیا تو انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کے واسطہ سے اس حدیث کی معرفت سے اپنی لاعلمی ظاہر کی۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد، حدثنا ابو زيد، عن عوف، عن قسامة بن زهير، حدثنا الاشعري، قال لما نزل : (وانذر عشيرتك الاقربين ) وضع رسول الله صلى الله عليه وسلم اصبعيه في اذنيه فرفع من صوته فقال " يا بني عبد مناف يا صباحاه " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه من حديث ابي موسى . وقد رواه بعضهم عن عوف عن قسامة بن زهير عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا ولم يذكروا فيه عن ابي موسى وهو اصح ذاكرت به محمد بن اسماعيل فلم يعرفه من حديث ابي موسى
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، اخبرني ابي، عن عايشة، قالت لما ذكر من شاني الذي ذكر وما علمت به قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في خطيبا فتشهد وحمد الله واثنى عليه بما هو اهله ثم قال " اما بعد اشيروا على في اناس ابنوا اهلي والله ما علمت على اهلي من سوء قط وابنوا بمن والله ما علمت عليه من سوء قط ولا دخل بيتي قط الا وانا حاضر ولا غبت في سفر الا غاب معي فقام سعد بن معاذ رضي الله عنه فقال ايذن لي يا رسول الله ان اضرب اعناقهم . وقام رجل من الخزرج وكانت ام حسان بن ثابت من رهط ذلك الرجل فقال كذبت اما والله ان لو كانوا من الاوس ما احببت ان تضرب اعناقهم حتى كاد ان يكون بين الاوس والخزرج شر في المسجد وما علمت به فلما كان مساء ذلك اليوم خرجت لبعض حاجتي ومعي ام مسطح فعثرت فقالت تعس مسطح فقلت لها اى ام تسبين ابنك فسكتت ثم عثرت الثانية فقالت تعس مسطح فقلت لها اى ام تسبين ابنك فسكتت ثم عثرت الثالثة فقالت تعس مسطح فانتهرتها فقلت لها اى ام تسبين ابنك فقالت والله ما اسبه الا فيك . فقلت في اى شيء قالت فبقرت الى الحديث قلت وقد كان هذا قالت نعم . والله لقد رجعت الى بيتي وكان الذي خرجت له لم اخرج لا اجد منه قليلا ولا كثيرا ووعكت فقلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم ارسلني الى بيت ابي فارسل معي الغلام فدخلت الدار فوجدت ام رومان في السفل وابو بكر فوق البيت يقرا فقالت امي ما جاء بك يا بنية قالت فاخبرتها وذكرت لها الحديث فاذا هو لم يبلغ منها ما بلغ مني قالت يا بنية خففي عليك الشان فانه والله لقلما كانت امراة حسناء عند رجل يحبها لها ضراير الا حسدنها وقيل فيها فاذا هي لم يبلغ منها ما بلغ مني قالت قلت وقد علم به ابي قالت نعم . قلت ورسول الله صلى الله عليه وسلم قالت نعم . واستعبرت وبكيت فسمع ابو بكر صوتي وهو فوق البيت يقرا فنزل فقال لامي ما شانها قالت بلغها الذي ذكر من شانها . ففاضت عيناه فقال اقسمت عليك يا بنية الا رجعت الى بيتك . فرجعت ولقد جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بيتي فسال عني خادمتي فقالت لا والله ما علمت عليها عيبا الا انها كانت ترقد حتى تدخل الشاة فتاكل خميرتها او عجينتها وانتهرها بعض اصحابه فقال اصدقي رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اسقطوا لها به فقالت سبحان الله والله ما علمت عليها الا ما يعلم الصايغ على تبر الذهب الاحمر فبلغ الامر ذلك الرجل الذي قيل له فقال سبحان الله والله ما كشفت كنف انثى قط قالت عايشة فقتل شهيدا في سبيل الله قالت واصبح ابواى عندي فلم يزالا عندي حتى دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد صلى العصر ثم دخل وقد اكتنفني ابواى عن يميني وعن شمالي فتشهد النبي صلى الله عليه وسلم فحمد الله واثنى عليه بما هو اهله ثم قال " اما بعد يا عايشة ان كنت قارفت سوءا او ظلمت فتوبي الى الله فان الله يقبل التوبة عن عباده " . قالت وقد جاءت امراة من الانصار وهي جالسة بالباب فقلت الا تستحي من هذه المراة ان تذكر شييا . فوعظ رسول الله صلى الله عليه وسلم فالتفت الى ابي فقلت اجبه . قال فماذا اقول فالتفت الى امي فقلت اجيبيه . قالت اقول ماذا قالت فلما لم يجيبا تشهدت فحمدت الله واثنيت عليه بما هو اهله ثم قلت اما والله لين قلت لكم اني لم افعل والله يشهد اني لصادقة ما ذاك بنافعي عندكم لي لقد تكلمتم واشربت قلوبكم ولين قلت اني قد فعلت والله يعلم اني لم افعل لتقولن انها قد باءت به على نفسها واني والله ما اجد لي ولكم مثلا قالت والتمست اسم يعقوب فلم اقدر عليه الا ابا يوسف حين قال : (فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون ) قالت وانزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم من ساعته فسكتنا فرفع عنه واني لاتبين السرور في وجهه وهو يمسح جبينه ويقول " البشرى يا عايشة فقد انزل الله براءتك " . قالت وكنت اشد ما كنت غضبا فقال لي ابواى قومي اليه . فقلت لا والله لا اقوم اليه ولا احمده ولا احمدكما ولكن احمد الله الذي انزل براءتي لقد سمعتموه فما انكرتموه ولا غيرتموه وكانت عايشة تقول اما زينب بنت جحش فعصمها الله بدينها فلم تقل الا خيرا واما اختها حمنة فهلكت فيمن هلك وكان الذي يتكلم فيه مسطح وحسان بن ثابت والمنافق عبد الله بن ابى ابن سلول وهو الذي كان يسوسه ويجمعه وهو الذي تولى كبره منهم هو وحمنة قالت فحلف ابو بكر ان لا ينفع مسطحا بنافعة ابدا فانزل الله تعالى هذه الاية : (ولا ياتل اولو الفضل منكم والسعة ) الى اخر الاية يعني ابا بكر : (ان يوتوا اولي القربى والمساكين والمهاجرين في سبيل الله ) يعني مسطحا الى قوله : (الا تحبون ان يغفر الله لكم والله غفور رحيم ) قال ابو بكر بلى والله يا ربنا انا لنحب ان تغفر لنا وعاد له بما كان يصنع . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث هشام بن عروة . وقد رواه يونس بن يزيد ومعمر وغير واحد عن الزهري عن عروة بن الزبير وسعيد بن المسيب وعلقمة بن وقاص الليثي وعبيد الله بن عبد الله عن عايشة هذا الحديث اطول من حديث هشام بن عروة واتم