Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( قیامت کے قریب زمین سے ) ایک جانور نکلے گا جس کے پاس سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ( مہر ) اور موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہو گا، وہ اس عصا سے ( لکیر کھینچ کر ) مومن کے چہرے کو روشن و نمایاں کر دے گا، اور انگوٹھی کے ذریعہ کافر کی ناک پر مہر لگا دے گا یہاں تک کہ دستر خوان والے جب دستر خوان پر اکٹھے ہوں گے تو یہ کہے گا: اے مومن اور وہ کہے گا: اے کافر! ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- «دابة الأرض» کے سلسلے میں اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، ۳- اس باب میں ابوامامہ اور حذیفہ بن اسید سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا روح بن عبادة، عن حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن اوس بن خالد، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تخرج الدابة معها خاتم سليمان وعصا موسى فتجلو وجه المومن وتختم انف الكافر بالخاتم حتى ان اهل الخوان ليجتمعون فيقول هاها يا مومن ويقال هاها يا كافر ويقول هذا يا كافر وهذا يا مومن " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روي هذا الحديث عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير هذا الوجه في دابة الارض . وفيه عن ابي امامة وحذيفة بن اسيد
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ( ابوطالب ) سے کہا: ”آپ «لا إله إلا الله» ”کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ کے“ کہہ دیجئیے میں آپ کے ایمان کی قیامت کے روز گواہی دوں گا، انہوں نے کہا: اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریش مجھے طعنہ دیں گے کہ موت کی گھبراہٹ سے اس نے ایمان قبول کر لیا ہے تو میں تمہارے سامنے ہی اس کلمے کا اقرار کر لیتا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت یہ نازل فرمائی: «إنك لا تهدي من أحببت ولكن الله يهدي من يشاء» ”آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے“ ( القصص: ۵۶ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یزید بن کیسان کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن يزيد بن كيسان، حدثني ابو حازم الاشجعي، هو كوفي اسمه سلمان مولى عزة الاشجعية عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعمه " قل لا اله الا الله اشهد لك بها يوم القيامة " . فقال لولا ان تعيرني بها قريش انما يحمله عليه الجزع لاقررت بها عينك فانزل الله عز وجل : (انك لا تهدي من احببت ولكن الله يهدي من يشاء ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث يزيد بن كيسان
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے تعلق سے چار آیتیں نازل ہوئی ہیں، پھر انہوں نے ایک واقعہ وقصہ بیان کیا، ام سعد رضی الله عنہا نے کہا: کیا اللہ نے احسان کا حکم نہیں دیا ہے؟ ۱؎ قسم اللہ کی! نہ میں کھانا کھاؤں گی نہ کچھ پیوں گی یہاں تک کہ مر جاؤں یا پھر تم ( اپنے ایمان سے ) پھر جاؤ۔ ( سعد ) کہتے ہیں: جب لوگ اسے کھلانے کا ارادہ کرتے تو لکڑی ڈال کر اس کا منہ کھولتے، اسی موقع پر آیت «ووصينا الإنسان بوالديه حسنا وإن جاهداك لتشرك بي» ”ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان ( و حسن سلوک ) کا حکم دیا لیکن اگر وہ چاہیں کہ تم میرے ساتھ شرک کرو جس کا تمہیں علم نہیں تو تم ان کا کہنا نہ مانو“ ( العنکبوت: ۸ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سماك بن حرب، قال سمعت مصعب بن سعد، يحدث عن ابيه، سعد قال انزلت في اربع ايات . فذكر قصة فقالت ام سعد اليس قد امر الله بالبر والله لا اطعم طعاما ولا اشرب شرابا حتى اموت او تكفر قال فكانوا اذا ارادوا ان يطعموها شجروا فاها فنزلت هذه الاية : (ووصينا الانسان بوالديه حسنا ) الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، اور ہم اسے صرف حاتم بن ابی صغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ سماک سے روایت کرتے ہیں۔ اس سند سے سلیم بن اخضر نے حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو اسامة، وعبد الله بن بكر السهمي، عن حاتم بن ابي صغيرة، عن سماك بن حرب، عن ابي صالح، عن ام هاني، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله تعالى : (اتاتون في ناديكم المنكر ) قال " كانوا يخذفون اهل الارض ويسخرون منهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن انما نعرفه من حديث حاتم بن ابي صغيرة عن سماك . حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا سليم بن اخضر، عن حاتم بن ابي صغيرة، بهذا الاسناد نحوه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے ان کے ( قریش سے ) شرط لگانے پر کہا: ”اے ابوبکر تم نے شرط لگانے میں «الم غلبت الروم» کی احتیاط کیوں نہ برتی، کیونکہ لفظ ( «بضع» ) تین سے نو تک کے لیے بولا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے زہری عبیداللہ کے واسطہ سے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا محمد بن خالد بن عثمة، حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن الجمحي، حدثنا ابن شهاب الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لابي بكر في مناحبة : ( الم* غلبت الروم ) " الا احتطت يا ابا بكر فان البضع ما بين الثلاث الى التسع " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من حديث الزهري عن عبيد الله عن ابن عباس
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر جب رومی اہل فارس پر غالب آ گئے تو مومنوں کو اس سے خوشی حاصل ہوئی ۱؎ اس پر یہ آیت: «الم غلبت الروم» سے لے کر «يفرح المؤمنون بنصر الله» ۲؎ تک نازل ہوئی، وہ کہتے ہیں: روم کے فارس پر غلبہ سے مسلمان بےحد خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتِ الرُّومُ» ( «غ» اور «ل» کے زبر کے ساتھ ) پڑھا ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا المعتمر بن سليمان، عن ابيه، عن سليمان الاعمش، عن عطية، عن ابي سعيد، قال لما كان يوم بدر ظهرت الروم على فارس فاعجب ذلك المومنين فنزلت : ( الم *غلبت الروم ) الى قوله : (يفرح المومنون بنصر الله ) قال ففرح المومنون بظهور الروم على فارس . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه كذا قرا نصر بن علي : (غلبت الروم)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض» کے بارے میں کہتے ہیں: «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا گیا ہے، کفار و مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس روم پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ کفار و مشرکین اور وہ سب بت پرست تھے جب کہ مسلمان چاہتے تھے کہ رومی اہل فارس پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے، انہوں نے اس کا ذکر ابوبکر رضی الله عنہ سے کیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ سے، آپ نے فرمایا: ”وہ ( رومی ) ( مغلوب ہو جانے کے بعد پھر ) غالب آ جائیں گے، ابوبکر رضی الله عنہ نے جا کر انہیں یہ بات بتائی، انہوں نے کہا: ( ایسی بات ہے تو ) ہمارے اور اپنے درمیان کوئی مدت متعین کر لو، اگر ہم غالب آ گئے تو ہمیں تم اتنا اتنا دینا، اور اگر تم غالب آ گئے ( جیت گئے ) تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ تو انہوں نے پانچ سال کی مدت رکھ دی، لیکن وہ ( رومی ) اس مدت میں غالب نہ آ سکے، ابوبکر رضی الله عنہ نے یہ بات بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے اس کی مدت اس سے کچھ آگے کیوں نہ بڑھا دی؟“ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ کی مراد اس سے دس ( سال ) تھی، ابوسعید نے کہا کہ «بضع» دس سے کم کو کہتے ہیں، اس کے بعد رومی غالب آ گئے۔ ( ابن عباس رضی الله عنہما ) کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے قول «الم غلبت الروم» سے «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء» تک کا یہی مفہوم ہے، سفیان ثوری کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ وہ ( رومی ) لوگ ان پر اس دن غالب آئے جس دن بدر کی جنگ لڑی گئی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف سفیان ثوری کی اس روایت سے جسے وہ حبیب بن ابو عمرہ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، جانتے ہیں۔
حدثنا الحسين بن حريث، حدثنا معاوية بن عمرو، عن ابي اسحاق الفزاري، عن سفيان الثوري، عن حبيب بن ابي عمرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، في قول الله تعالى : ( الم * غلبت الروم * في ادنى الارض ) قال غلبت وغلبت كان المشركون يحبون ان يظهر اهل فارس على الروم لانهم واياهم اهل اوثان وكان المسلمون يحبون ان يظهر الروم على فارس لانهم اهل كتاب فذكروه لابي بكر فذكره ابو بكر لرسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اما انهم سيغلبون " . فذكره ابو بكر لهم فقالوا اجعل بيننا وبينك اجلا فان ظهرنا كان لنا كذا وكذا وان ظهرتم كان لكم كذا وكذا فجعل اجل خمس سنين فلم يظهروا فذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " الا جعلته الى دون - قال اراه العشر " . قال سعيد والبضع ما دون العشر قال ثم ظهرت الروم بعد . قال فذلك قوله تعالى : ( الم * غلبت الروم ) الى قوله : (يفرح المومنون * بنصر الله ينصر من يشاء ) قال سفيان سمعت انهم ظهروا عليهم يوم بدر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب انما نعرفه من حديث سفيان الثوري عن حبيب بن ابي عمرة
نیار بن مکرم اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» ”اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے“ ( الروم: ۴-۵ ) ، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مکہ کے اطراف میں اعلان کرنے نکل کھڑے ہوئے، انہوں نے چیخ چیخ کر ( بآواز بلند ) اعلان کیا، «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» ”رومی مغلوب ہو گئے زمین میں، وہ مغلوب ہو جانے کے بعد چند سالوں میں پھر غالب آ جائیں گے“ تو قریش کے کچھ لوگوں نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا: آؤ ہمارے اور تمہارے درمیان اس بات پر شرط ہو جائے، تمہارے ساتھی ( نبی ) کا خیال ہے کہ رومی فارسیوں پر چند سالوں کے اندر اندر غالب آ جائیں گے، کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم سے اس بات پر شرط لگا لیں، انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ ہم تیار ہیں، ابوبکر رضی الله عنہ اور مشرکین دونوں نے شرط لگا لی، اور شرط کا مال کہیں رکھوا دیا، مشرکین نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا: تم «بضع» کو تین سے نو سال کے اندر کتنے سال پر متعین و مشروط کرتے ہو؟ ہمارے اور اپنے درمیان بیچ کی ایک مدت متعین کر لو، جس پر فیصلہ ہو جائے، راوی کہتے ہیں: انہوں نے چھ سال کی مدت متعین اور مقرر کر دی۔ راوی کہتے ہیں کہ روم کے مشرکین پر غالب آنے سے پہلے چھ سال گزر گئے تو مشرکین نے ابوبکر رضی الله عنہ کے بطور شرط جمع کرائے ہوئے مال کو لے لیا، مگر جب ساتواں سال شروع ہوا اور رومی فارسیوں پر غالب آ گئے، تو مسلمانوں نے ابوبکر رضی الله عنہ پر نکتہ چینی کی کہ یہ ان کی غلطی تھی کہ چھ سال کی مدت متعین کی جب کہ اللہ تعالیٰ نے «بضع سنین» کہا تھا، ( اور «بضع» تین سال سے نو سال تک کے لیے مستعمل ہوتا ہے ) ۔ راوی کہتے ہیں: اس پیشین گوئی کے برحق ثابت ہونے پر بہت سارے لوگ ایمان لے آئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث نیار بن مکرم کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابوالزناد کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، حدثني ابن ابي الزناد، عن ابي الزناد، عن عروة بن الزبير، عن نيار بن مكرم الاسلمي، قال لما نزلت : ( الم * غلبت الروم * في ادنى الارض وهم من بعد غلبهم سيغلبون * في بضع سنين ) فكانت فارس يوم نزلت هذه الاية قاهرين للروم وكان المسلمون يحبون ظهور الروم عليهم لانهم واياهم اهل كتاب وفي ذلك قول الله تعالى : (يوميذ يفرح المومنون * بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم ) فكانت قريش تحب ظهور فارس لانهم واياهم ليسوا باهل كتاب ولا ايمان ببعث فلما انزل الله تعالى هذه الاية خرج ابو بكر الصديق رضى الله عنه يصيح في نواحي مكة : ( الم * غلبت الروم * في ادنى الارض وهم من بعد غلبهم سيغلبون * في بضع سنين ) قال ناس من قريش لابي بكر فذلك بيننا وبينكم زعم صاحبكم ان الروم ستغلب فارسا في بضع سنين افلا نراهنك على ذلك قال بلى . وذلك قبل تحريم الرهان فارتهن ابو بكر والمشركون وتواضعوا الرهان وقالوا لابي بكر كم تجعل البضع ثلاث سنين الى تسع سنين فسم بيننا وبينك وسطا تنتهي اليه . قال فسموا بينهم ست سنين قال فمضت الست سنين قبل ان يظهروا فاخذ المشركون رهن ابي بكر فلما دخلت السنة السابعة ظهرت الروم على فارس فعاب المسلمون على ابي بكر تسمية ست سنين لان الله تعالى قال : (في بضع سنين ) قال واسلم عند ذلك ناس كثير . قال هذا حديث صحيح حسن غريب من حديث نيار بن مكرم لا نعرفه الا من حديث عبد الرحمن بن ابي الزناد
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیاں نہ بیچو، نہ انہیں خریدو اور نہ انہیں گانا بجانا سکھاؤ، ان کی تجارت میں کوئی بہتری نہیں ہے، ان کی قیمت حرام ہے“، ایسے ہی مواقع کے لیے آپ پر آیت «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”بعض لوگ ایسے ہیں جو لہو و لعب کی چیزیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں“ ( لقمان: ۶ ) ، آخر تک نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث قاسم سے ابوامامہ کے واسطہ سے مروی ہے، قاسم ثقہ ہیں اور علی بن یزید میں ضعیف سمجھے جاتے ہیں، یہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا بكر بن مضر، عن عبيد الله بن زحر، عن علي بن يزيد، عن القاسم بن عبد الرحمن، وهو عبد الرحمن مولى عبد الرحمن عن ابي امامة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تبيعوا القينات ولا تشتروهن ولا تعلموهن ولا خير في تجارة فيهن وثمنهن حرام " . في مثل ذلك انزلت عليه هذه الاية : (ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله ) الى اخر الاية . قال ابو عيسى هذا حديث غريب انما يروى من حديث القاسم عن ابي امامة . والقاسم ثقة وعلي بن يزيد يضعف في الحديث قال سمعت محمد بن اسماعيل يقول القاسم ثقة وعلي بن يزيد يضعف
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت «تتجافى جنوبهم عن المضاجع» ”ان کے پہلو خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں“ ( السجدۃ: ۱۶ ) ، اس نماز کا انتظار کرنے والوں کے حق میں اتری ہے جسے رات کی پہلی تہائی کی نماز کہتے ہیں، یعنی نماز عشاء ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الاويسي، عن سليمان بن بلال، عن يحيى بن سعيد، عن انس بن مالك، ان هذه الاية : ( تتجافى، جنوبهم عن المضاجع، ) نزلت في انتظار هذه الصلاة التي تدعى العتمة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں نے اپنے نیک صالح بندوں کے لیے ایسی چیز تیار کی ہے جسے کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا ہے، اس کی تصدیق کتاب اللہ ( قرآن ) کی اس آیت «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”کوئی شخص نہیں جانتا جو ہم نے ان کے ( صالح ) اعمال کے بدلے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ( کے لیے ) پوشیدہ رکھ رکھی ہے“ ( السجدۃ: ۱۶ ) ، سے ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " قال الله تعالى اعددت لعبادي الصالحين ما لا عين رات ولا اذن سمعت ولا خطر على قلب بشر وتصديق ذلك في كتاب الله عز وجل : ( فلا تعلم نفس ما اخفي لهم من قرة اعين جزاء بما كانوا يعملون ) " . قال هذا حديث حسن صحيح
شعبی کہتے ہیں میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کو منبر پر کھڑے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے پوچھتے ہوئے کہا: اے میرے رب! کون سا جنتی سب سے کمتر درجے کا ہو گا؟ اللہ فرمائے گا: جنتیوں کے جنت میں داخل ہو جانے کے بعد ایک شخص آئے گا، اس سے کہا جائے گا: تو بھی جنت میں داخل ہو جا، وہ کہے گا: میں کیسے داخل ہو جاؤں جب کہ لوگ ( پہلے پہنچ کر ) اپنے اپنے گھروں میں آباد ہو چکے ہیں اور اپنی اپنی چیزیں لے لی ہیں“، آپ نے فرمایا: ”اس سے کہا جائے گا: دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے پاس جتنا کچھ ہوتا ہے اتنا تمہیں دے دیا جائے، تو کیا تم اس سے راضی و خوش ہو گے؟ وہ کہے گا: ہاں، اے میرے رب! میں راضی ہوں، اس سے کہا جائے گا: تو جا تیرے لیے یہ ہے اور اتنا اور اتنا اور اتنا اور، وہ کہے گا: میرے رب! میں راضی ہوں، اس سے پھر کہا جائے گا جاؤ تمہارے لیے یہ سب کچھ اور اس سے دس گنا اور بھی وہ کہے گا، میرے رب! بس میں راضی ہو گیا، تو اس سے کہا جائے گا: اس ( ساری بخشش و عطایا ) کے باوجود تمہارا جی اور نفس جو کچھ چاہے اور جس چیز سے بھی تمہیں لذت ملے وہ سب تمہارے لیے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ان میں سے بعض ( محدثین ) نے اس حدیث کو شعبی سے اور انہوں نے مغیرہ سے روایت کیا ہے۔ اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، لیکن ( حقیقت یہ ہے کہ ) مرفوع روایت زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن مطرف بن طريف، وعبد الملك، وهو ابن ابجر سمعا الشعبي، يقول سمعت المغيرة بن شعبة، على المنبر يرفعه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان موسى عليه السلام سال ربه فقال اى رب اى اهل الجنة ادنى منزلة قال رجل ياتي بعد ما يدخل اهل الجنة الجنة فيقال له ادخل الجنة . فيقول كيف ادخل وقد نزلوا منازلهم واخذوا اخذاتهم . قال فيقال له اترضى ان يكون لك ما كان لملك من ملوك الدنيا فيقول نعم اى رب قد رضيت . فيقال له فان لك هذا ومثله ومثله ومثله فيقول رضيت اى رب . فيقال له فان لك هذا وعشرة امثاله فيقول رضيت اى رب . فيقال له فان لك مع هذا ما اشتهت نفسك ولذت عينك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وروى بعضهم هذا الحديث عن الشعبي عن المغيرة ولم يرفعه والمرفوع اصح
ابوظبیان کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا: ذرا بتائیں اللہ تعالیٰ کے اس قول «ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه» ”اللہ تعالیٰ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ہیں“ ( الاحزاب: ۴ ) ، کا کیا معنی و مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ سے کچھ سہو ہو گیا، آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے منافقین نے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں ان کے دو دل ہیں ایک تم لوگوں کے ساتھ اور ایک اوروں کے ساتھ ہے۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه» نازل فرمائی۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا صاعد الحراني، حدثنا زهير، اخبرنا قابوس بن ابي ظبيان، ان اباه، حدثه قال قلنا لابن عباس ارايت قول الله عز وجل : (ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه ) ما عنى بذلك قال قام نبي الله صلى الله عليه وسلم يوما يصلي فخطر خطرة فقال المنافقون الذين يصلون معه الا ترى ان له قلبين قلبا معكم وقلبا معهم . فانزل الله : (ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه ) . حدثنا عبد بن حميد، حدثني احمد بن يونس، حدثنا زهير، نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے چچا انس بن نضر رضی الله عنہ جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا تھا جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہوئے تھے، یہ بات انہیں بڑی شاق اور گراں گزر رہی تھی، کہتے تھے: جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس حاضر و موجود تھے میں اس سے غیر حاضر رہا، ( اس کا مجھے بےحد افسوس ہے ) مگر سنو! قسم اللہ کی! اب اگر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک ہونے کا موقع ملا تو یقیناً اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کچھ کرتا ہوں، راوی کہتے ہیں: وہ اس کے سوا اور کچھ کہنے سے ڈرتے ( اور بچتے ) رہے، پھر اگلے سال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ احد میں شریک ہوئے، سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا ان سے سامنا ہوا تو انہوں نے کہا: ابوعمرو! کہاں کا ارادہ ہے انہوں نے کہا: اے واہ! میں تو احد پہاڑ کے پرے جنت کی خوشبو پا رہا ہوں پھر وہ لڑے اور اس شان سے لڑے کہ شہید کر دیئے گئے، ان کے جسم میں اسی ( ۸۰ ) سے کچھ زائد چوٹ تیر و نیزہ کے زخم پائے گئے۔ میری پھوپھی ربیع بنت نضر رضی الله عنہا نے کہا: میں اپنے بھائی کی نعش صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچان پائی، اسی موقع پر آیت «رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا» ”ایمان والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ کے ساتھ جو انہوں نے وعدے کیے تھے ان میں وہ پورے اترے، ان میں سے کچھ تو انتقال کر گئے اور کچھ لوگ مرنے کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے اس میں یعنی ( اللہ سے کیے ہوئے اپنے معاہدہ میں کسی قسم ) کی تبدیلی نہیں کی“ ( الاحزاب: ۲۳ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن محمد، حدثنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا سليمان بن المغيرة، عن ثابت، عن انس، قال قال عمي انس بن النضر سميت به لم يشهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فكبر عليه فقال اول مشهد شهده رسول الله صلى الله عليه وسلم غبت عنه اما والله لين اراني الله مشهدا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليرين الله ما اصنع . قال فهاب ان يقول غيرها فشهد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم احد من العام القابل فاستقبله سعد بن معاذ فقال يا ابا عمرو اين قال واها لريح الجنة اجدها دون احد فقاتل حتى قتل فوجد في جسده بضع وثمانون من بين ضربة وطعنة ورمية فقالت عمتي الربيع بنت النضر فما عرفت اخي الا ببنانه . ونزلت هذه الاية : (رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا ( انس بن نضر ) بدر کی لڑائی میں غیر حاضر تھے، انہوں نے ( افسوس کرتے ہوئے ) کہا: اس پہلی لڑائی میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے لڑائی میں غیر موجود رہا، اب اگر اللہ نے مشرکین سے مجھے کسی جنگ میں لڑنے کا موقع دیا تو اللہ ضرور دیکھے گا کہ میں ( بے جگری و بہادری سے کس طرح لڑتا اور ) کیا کرتا ہوں۔ پھر جب جنگ احد کی لڑائی کا موقع آیا، اور مسلمان ( میدان سے ) چھٹ گئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جسے یہ لوگ یعنی مشرکین لے کر آئے ہیں اور ان سے یعنی آپ کے صحابہ سے جو غلطی سرزد ہوئی ہے، اس کے لیے تجھ سے معذرت خواہ ہوں، پھر وہ آگے بڑھے، ان سے سعد بن معاذ رضی الله عنہ کی ملاقات ہوئی، سعد نے ان سے کہا: میرے بھائی! آپ جو بھی کریں میں آپ کے ساتھ ساتھ ہوں، ( سعد کہتے ہیں ) لیکن انہوں نے جو کچھ کیا وہ میں نہ کر سکا، ان کی لاش پر تلوار کی مار کے، نیزے گھوپنے کے اور تیر لگنے کے اسّی ( ۸۰ ) سے کچھ زیادہ ہی زخم تھے، ہم کہتے تھے کہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں آیت «فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر» اتری ہے۔ یزید ( راوی ) کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ( پوری ) آیت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- انس بن مالک کے چچا کا نام انس بن نضر رضی الله عنہما ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا حميد الطويل، عن انس بن مالك، ان عمه، غاب عن قتال، بدر فقال غبت عن اول، قتال قاتله رسول الله صلى الله عليه وسلم المشركين لين الله اشهدني قتالا للمشركين ليرين الله كيف اصنع فلما كان يوم احد انكشف المسلمون فقال اللهم اني ابرا اليك مما جاء به هولاء . يعني المشركين واعتذر اليك مما يصنع هولاء . يعني اصحابه ثم تقدم فلقيه سعد فقال يا اخي ما فعلت انا معك فلم استطع ان اصنع ما صنع . فوجد فيه بضع وثمانون من ضربة بسيف وطعنة برمح ورمية بسهم فكنا نقول فيه وفي اصحابه نزلت : (فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر ) . قال يزيد يعني هذه الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . واسم عمه انس بن النضر
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سنا دوں؟ میں نے کہا: ضرور، سنائیے، کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”طلحہ رضی الله عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے «ممن قضى نحبه» فرمایا ہے“، یعنی جو اپنا کام پورا کر چکے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے معاویہ رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- جبکہ یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ صرف طلحہ کی حدیث سے روایت کی جاتی ہے، ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
حدثنا عبد القدوس بن محمد العطار البصري، حدثنا عمرو بن عاصم، عن اسحاق بن يحيى بن طلحة، عن موسى بن طلحة، قال دخلت على معاوية فقال الا ابشرك قلت بلى . قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " طلحة ممن قضى نحبه " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث معاوية الا من هذا الوجه وانما روي عن موسى بن طلحة عن ابيه
طلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک جاہل دیہاتی سے کہا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «ممن قضى نحبه» سے متعلق پوچھے کہ اس سے مراد کیا ہے؟ وہ لوگ خود آپ سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت نہیں کر رہے تھے، وہ آپ کا ادب و احترام کرتے تھے اور آپ سے ڈرتے بھی تھے، اعرابی نے آپ سے پوچھا، مگر آپ نے اعراض کیا، اس نے پھر پوچھا، آپ نے پھر اس کی طرف توجہ نہ دی، اس نے پھر پوچھا: آپ نے پھر بےرخی برتی، پھر میں مسجد کے دروازے سے نمودار ہوا اور ( اندر آیا ) میں ( نمایاں ) سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، جب آپ نے مجھے دیکھا تو آپ نے فرمایا: ” «ممن قضى نحبه» سے متعلق پوچھنے والا شخص کہاں ہے“؟ اعرابی، ( گنوار دیہاتی ) نے کہا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص ( طلحہ ) انہی لوگوں میں سے ہے، جنہوں نے اپنے کام اور ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یونس بن بکیر کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا يونس بن بكير، عن طلحة بن يحيى، عن موسى، وعيسى، ابنى طلحة عن ابيهما، طلحة ان اصحاب، رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا لاعرابي جاهل سله عمن قضى نحبه من هو وكانوا لا يجتريون على مسالته يوقرونه ويهابونه فساله الاعرابي فاعرض عنه ثم ساله فاعرض عنه ثم ساله فاعرض عنه ثم اني اطلعت من باب المسجد وعلى ثياب خضر فلما راني رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اين السايل عمن قضى نحبه " . قال الاعرابي انا يا رسول الله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا ممن قضى نحبه " . قال هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث يونس بن بكير
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دے دیں ۱؎ تو آپ نے اپنی اس کاروائی کی ابتداء مجھ سے کی: آپ نے کہا: عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملہ رکھتا ہوں، تم اپنے ماں باپ سے مشورہ لیے بغیر جواب دہی میں جلد بازی نہ کرنا، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ آپ خوب سمجھتے تھے کہ میرے والدین مجھے آپ سے جدائی و علیحدگی اختیار کر لینے کا حکم نہیں دے سکتے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين» سے لے کر یہاں تک «للمحسنات منكن أجرا عظيما» ۲؎ میں نے کہا: کیا میں اس بارے میں ماں باپ سے مشورہ لوں؟ ( نہیں مجھے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں ) میں اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں، آپ کی دیگر بیویوں نے بھی ویسا ہی کچھ کہا جیسا میں نے کہا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث زہری سے بھی مروی ہے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے عائشہ سے روایت کی ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عثمان بن عمر، عن يونس بن يزيد، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن عايشة، رضى الله عنها قالت لما امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بتخيير ازواجه بدا بي فقال " يا عايشة اني ذاكر لك امرا فلا عليك ان لا تستعجلي حتى تستامري ابويك " . قالت وقد علم ان ابواى لم يكونا ليامراني بفراقه قالت ثم قال " ان الله تعالى يقول: ( يا ايها النبي قل لازواجك ان كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين ) حتى بلغ : ( للمحسنات منكن اجرا عظيما ) فقلت في اى هذا استامر ابوى فاني اريد الله ورسوله والدار الاخرة وفعل ازواج النبي صلى الله عليه وسلم مثل ما فعلت . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي هذا ايضا عن الزهري عن عروة عن عايشة رضى الله عنها
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر پرورش عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والو! تم سے وہ ( ہر قسم کی ) گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ ( الاحزاب: ۳۳ ) ، ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو آپ نے فاطمہ و حسن حسین ( رضی الله عنہم ) کو بلایا اور انہیں ایک چادر کے نیچے ڈھانپ دیا، علی رضی الله عنہ آپ کی پیٹھ کے پیچھے تھے آپ نے انہیں بھی چادر کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت، میرے گھر والے، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں ہر طرح کی آلائشوں سے پوری طرح پاک و صاف کر دے“، ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: اور میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی جگہ ہی ٹھیک ہو، تمہیں خیر ہی کا مقام و درجہ حاصل ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے عطاء عمر بن ابی سلمہ سے روایت کرتے ہیں غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا محمد بن سليمان بن الاصبهاني، عن يحيى بن عبيد، عن عطاء بن ابي رباح، عن عمر بن ابي سلمة، ربيب النبي صلى الله عليه وسلم قال لما نزلت هذه الاية على النبي صلى الله عليه وسلم : ( انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت ويطهركم تطهيرا ) في بيت ام سلمة فدعا فاطمة وحسنا وحسينا فجللهم بكساء وعلي خلف ظهره فجللهم بكساء ثم قال " اللهم هولاء اهل بيتي فاذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا " . قالت ام سلمة وانا معهم يا نبي الله قال " انت على مكانك وانت على خير " . قال هذا حديث غريب من هذا الوجه من حديث عطاء عن عمر بن ابي سلمة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی الله عنہا کے دروازے کے سامنے سے چھ مہینے تک گزرتے رہے، جب فجر کے لیے نکلتے تو آپ کا معمول تھا کہ آپ آواز دیتے «الصلاة يا أهل البيت» ”اے میرے گھر والو! نماز فجر کے لیے اٹھو“ «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری نجاست تم سے دور کر دے اور تمہیں پورے طور پر پاک کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوالحمراء، معقل بن یسار اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا حماد بن سلمة، اخبرنا علي بن زيد، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يمر بباب فاطمة ستة اشهر اذا خرج الى صلاة الفجر يقول " الصلاة يا اهل البيت : ( انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت ويطهركم تطهيرا ) " . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه انما نعرفه من حديث حماد بن سلمة . قال وفي الباب عن ابي الحمراء ومعقل بن يسار وام سلمة