احادیث
#3203
سنن ترمذی - Exegesis
طلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک جاہل دیہاتی سے کہا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «ممن قضى نحبه» سے متعلق پوچھے کہ اس سے مراد کیا ہے؟ وہ لوگ خود آپ سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت نہیں کر رہے تھے، وہ آپ کا ادب و احترام کرتے تھے اور آپ سے ڈرتے بھی تھے، اعرابی نے آپ سے پوچھا، مگر آپ نے اعراض کیا، اس نے پھر پوچھا، آپ نے پھر اس کی طرف توجہ نہ دی، اس نے پھر پوچھا: آپ نے پھر بےرخی برتی، پھر میں مسجد کے دروازے سے نمودار ہوا اور ( اندر آیا ) میں ( نمایاں ) سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، جب آپ نے مجھے دیکھا تو آپ نے فرمایا: ” «ممن قضى نحبه» سے متعلق پوچھنے والا شخص کہاں ہے“؟ اعرابی، ( گنوار دیہاتی ) نے کہا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص ( طلحہ ) انہی لوگوں میں سے ہے، جنہوں نے اپنے کام اور ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یونس بن بکیر کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا يونس بن بكير، عن طلحة بن يحيى، عن موسى، وعيسى، ابنى طلحة عن ابيهما، طلحة ان اصحاب، رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا لاعرابي جاهل سله عمن قضى نحبه من هو وكانوا لا يجتريون على مسالته يوقرونه ويهابونه فساله الاعرابي فاعرض عنه ثم ساله فاعرض عنه ثم ساله فاعرض عنه ثم اني اطلعت من باب المسجد وعلى ثياب خضر فلما راني رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اين السايل عمن قضى نحبه " . قال الاعرابي انا يا رسول الله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا ممن قضى نحبه " . قال هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث يونس بن بكير
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3203
- Book Index
- 255
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirHasan Sahih
- Al-AlbaniHasan Sahih
- Bashar Awad MaaroufHasan
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
