Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کی کوئی چیز چھپا لینے والے ہوتے تو یہ آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه» ”جب آپ اس شخص سے جس پر اللہ نے اسلام کے ذریعہ انعام کیے تھے اور آپ نے بھی ( اسے آزاد کر کے ) اس پر انعام و احسان کیے تھے کہہ رہے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو ( طلاق نہ دو ) اور اللہ سے ڈرو، اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا تم لوگوں کے ( لعن طعن ) سے ڈرتے تھے اور اللہ اس کا زیادہ سزاوار ہے کہ تم اس سے ڈرو“، سے لے کر «وكان أمر الله مفعولا» تک چھپا لیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے ( زینب سے ) شادی کر لی تو لوگوں نے کہا: آپ نے اپنے ( لے پالک ) بیٹے کی بیوی سے شادی کر لی، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما كان محمد أبا أحد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين» ”محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم لوگوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ( آخری نبی ) ہیں“، نازل فرمائی، زید چھوٹے تھے تبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، وہ برابر آپ کے پاس رہے یہاں تک کہ جوان ہو گئے، اور ان کو زید بن محمد کہا جانے لگا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم» ”انہیں ان کے ( اصلی باپ کی طرف ) منسوب کر کے پکارو ( جن کے نطفے سے وہ پیدا ہوئے ہیں ) یہ اللہ کے نزدیک زیادہ مبنی بر انصاف بات ہے، لیکن اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو ( کہ وہ کون ہیں ) تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں“، فلاں فلاں کا دوست ہے اور فلاں فلاں کا دینی بھائی ہے ۴؎، «هو أقسط عند الله» یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف پر مبنی کا مفہوم یہ ہے کہ پورا انصاف ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ اس سند سے مسروق نے عائشہ سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں: اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وحی میں سے کچھ چھپانے والے ہوتے تو آپ یہ آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه وأنعمت عليه» چھپاتے، ( اس روایت میں ) یہ حدیث کی پوری روایت نہیں کی گئی ہے ۵؎۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا داود بن الزبرقان، عن داود بن ابي هند، عن الشعبي، عن عايشة، رضى الله عنها قالت لو كان رسول الله صلى الله عليه وسلم كاتما شييا من الوحى لكتم هذه الاية : ( اذ تقول للذي انعم الله عليه ) يعني بالاسلام : ( وانعمت عليه ) بالعتق فاعتقته : ( امسك عليك زوجك واتق الله وتخفي في نفسك ما الله مبديه وتخشى الناس والله احق ان تخشاه ) الى قوله : (وكان امر الله مفعولا ) وان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما تزوجها قالوا تزوج حليلة ابنه فانزل الله تعالى : ( ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين ) وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم تبناه وهو صغير فلبث حتى صار رجلا يقال له زيد بن محمد فانزل الله : ( ادعوهم لابايهم هو اقسط عند الله فان لم تعلموا اباءهم فاخوانكم في الدين ومواليكم ) فلان مولى فلان وفلان اخو فلان (هو اقسط عند الله ) يعني اعدل عند الله . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . قد روي عن داود بن ابي هند، عن الشعبي، عن مسروق، عن عايشة، قالت لو كان النبي صلى الله عليه وسلم كاتما شييا من الوحى لكتم هذه الاية : ( اذ تقول للذي انعم الله عليه وانعمت عليه ) الاية هذا الحرف لم يرو بطوله . حدثنا بذلك عبد الله بن وضاح الكوفي حدثنا عبد الله بن ادريس عن داود بن ابي هند
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی میں سے کوئی چیز چھپا لینے والے ہوتے تو آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه وأنعمت عليه» کو چھپاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن ابان، حدثنا ابن ابي عدي، عن داود بن ابي هند، عن الشعبي، عن مسروق، عن عايشة، رضى الله عنها قالت لو كان النبي صلى الله عليه وسلم كاتما شييا من الوحى لكتم هذه الاية : ( اذ تقول للذي انعم الله عليه وانعمت عليه ) الاية . قال هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد کہہ کر ہی پکارتے تھے یہاں تک کہ قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» ”ایسے لوگوں کو ان کے اصلی باپوں کے ناموں کے ساتھ پکارو یہی اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے“ ( الاحزاب: ۵ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن موسى بن عقبة، عن سالم، عن ابن عمر، قال ما كنا ندعو زيد بن حارثة الا زيد بن محمد حتى نزل القران : ( ادعوهم لابايهم هو اقسط عند الله ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عامر شعبی اللہ کے اس قول «ما كان محمد أبا أحد من رجالكم» ” ( لوگو! ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نہیں“ ( الاحزاب: ۴۰ ) ، کے بارے میں کہتے ہیں: اس سے مراد زندہ نہ رہنے والی نرینہ اولاد ہے ۱؎۔
حدثنا الحسن بن قزعة، - بصري - حدثنا مسلمة بن علقمة، عن داود بن ابي هند، عن عامر الشعبي، في قول الله عز وجل : ( ما كان محمد ابا احد من رجالكم ) قال ما كان ليعيش له فيكم ولد ذكر
ام عمارہ انصاریہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: کیا بات ہے میں ہر چیز مردوں ہی کے لیے دیکھتی ہوں اور عورتوں کا ( قرآن میں ) کہیں ذکر نہیں ملتا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «إن المسلمين والمسلمات والمؤمنين والمؤمنات» آخر آیت تک۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ حدیث صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سليمان بن كثير، عن حسين، عن عكرمة، عن ام عمارة الانصارية، انها اتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ما ارى كل شيء الا للرجال وما ارى النساء يذكرن بشيء فنزلت هذه الاية : (ان المسلمين والمسلمات والمومنين والمومنات ) الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وانما يعرف هذا الحديث من هذا الوجه
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ آیت «وتخفي في نفسك ما الله مبديه وتخشى الناس» ”تم اس چیز کو اپنے جی میں چھپا کر رکھ رہے ہو جس کو اللہ ظاہر کرنے والا ہے، اور تم ( اللہ سے ڈرنے کی بجائے ) لوگوں سے ڈر رہے ہو“ ( الاحزاب: ۳۷ ) ، زینب بنت جحش رضی الله عنہا کی شان میں نازل ہوئی ہے ( ان کے شوہر ) زید شکایت لے کر ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) آئے اور انہوں نے زینب کو طلاق دینے کا ارادہ کر لیا، اس پر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا: «أمسك عليك زوجك واتق الله» ”اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو ( طلاق نہ دو ) اور اللہ سے ڈرو ( الاحزاب: ۳۷ ) “ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس، قال نزلت هذه الاية : (وتخفي في نفسك ما الله مبديه وتخشى الناس ) في شان زينب بنت جحش جاء زيد يشكو فهم بطلاقها فاستامر النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " امسك عليك زوجك واتق الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت «فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها» ”زید نے جب ان سے اپنی حاجت پوری کر لی ( انہیں طلاق دے دی ) تو ہم نے تمہاری شادی اس سے کر دی“ ( الاحزاب: ۳۷ ) ، زینب بنت جحش رضی الله عنہا کے بارے میں اتری ہے۔ انس کہتے ہیں: چنانچہ اسی بناء پر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں پر یہ کہہ کر فخر کرتی تھیں کہ تمہاری شادیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارے گھر والوں ( رشتہ داروں ) نے کی ہیں، اور میری شادی تو اللہ نے آپ سے ساتویں آسمان پر کر دی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا محمد بن الفضل، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس، قال نزلت هذه الاية في زينب بنت جحش : (فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها ) قال فكانت تفتخر على ازواج النبي صلى الله عليه وسلم تقول زوجكن اهلكن وزوجني الله من فوق سبع سموات . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام ہانی بنت ابی طالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شادی کا پیغام دیا، تو میں نے آپ سے معذرت کر لی ۱؎ تو آپ نے میری معذرت قبول کر لی، پھر اللہ نے یہ آیت «إنا أحللنا لك أزواجك اللاتي آتيت أجورهن وما ملكت يمينك مما أفاء الله عليك وبنات عمك وبنات عماتك وبنات خالك وبنات خالاتك اللاتي هاجرن معك وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي» ”اے نبی ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا ہے اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموؤں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کر دے“ ( الاحزاب: ۵۰ ) ، نازل فرمائی ام ہانی کہتی ہیں کہ اس آیت کی رو سے میں آپ کے لیے حلال نہیں ہوئی کیونکہ میں نے ہجرت نہیں کی تھی میں ( فتح مکہ کے موقع پر ) «الطلقاء» آزاد کردہ لوگوں میں سے تھی، ( اور اسی موقع پر ایمان لائی تھی ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ہم اس کو سُدّی کی روایت صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن السدي، عن ابي صالح، عن ام هاني بنت ابي طالب، قالت خطبني رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعتذرت اليه فعذرني ثم انزل الله تعالى : (انا احللنا لك ازواجك اللاتي اتيت اجورهن وما ملكت يمينك مما افاء الله عليك وبنات عمك وبنات عماتك وبنات خالك وبنات خالاتك اللاتي هاجرن معك وامراة مومنة ان وهبت نفسها للنبي ) الاية قالت فلم اكن احل له لاني لم اهاجر كنت من الطلقاء . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث السدي
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مومن اور مہاجر عورتوں کے سوا دوسری عورتوں سے شادی کرنے سے روک دیا گیا، ( جیسا کہ ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” «لا يحل لك النساء من بعد ولا أن تبدل بهن من أزواج ولو أعجبك حسنهن إلا ما ملكت يمينك» ”آپ کے لیے آج کے بعد کوئی عورت حلال نہیں، اور آپ کے لیے یہ بھی حلال نہیں کہ موجودہ بیویوں میں سے کسی بیوی کو ہٹا کر من بھائی عورت سے شادی کر لیں، سوائے ان لونڈیوں کے جن کے آپ مالک بن جائیں“ ( الاحزاب: ۵۲ ) ، اللہ نے ( نبی کے لیے ) تمہاری جوان مومن مسلمان عورتیں حلال کر دی ہیں۔ «وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي» ”اور وہ ایمان والی عورت بھی اللہ نے حلال کر دی ہیں جو اپنے آپ کو نبی کو پیش کر دے“، اور اسلام کے سوا ہر دین والی عورت کو حرام کر دیا ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا: ” «ومن يكفر بالإيمان فقد حبط عمله وهو في الآخرة من الخاسرين» ”جو ایمان کا منکر ہوا اس کا عمل ضائع گیا، اور وہ آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو گا“ ( المائدہ: ۵ ) ، اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے «يا أيها النبي إنا أحللنا لك أزواجك اللاتي آتيت أجورهن وما ملكت يمينك مما أفاء الله عليك» سے لے کر «خالصة لك من دون المؤمن» ”اے نبی! ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں اور وہ باندیاں تمہارے لیے حلال کر دی ہیں جو اللہ نے تمہیں بطور مال فیٔ ( غنیمت ) میں عطا فرمائی ہیں“ ( الاحزاب: ۵۰ ) ، تک، یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے ۱؎ اور دوسرے مومنین کے لیے نہیں ( ان کا نکاح بغیر مہر کے نہیں ہو سکتا ) ان کے علاوہ عورتوں کی اور قسمیں حرام کر دی گئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے عبدالحمید بن بہرام کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: عبدالحمید بن بہرام کی شہر بن حوشب سے روایات کے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا روح، عن عبد الحميد بن بهرام، عن شهر بن حوشب، قال قال ابن عباس رضى الله عنهما نهي رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اصناف النساء الا ما كان من المومنات المهاجرات قال : ( لا يحل لك النساء من بعد ولا ان تبدل بهن من ازواج ولو اعجبك حسنهن الا ما ملكت يمينك ) فاحل الله فتياتكم المومنات وامراة مومنة ان وهبت نفسها للنبي وحرم كل ذات دين غير الاسلام ثم قال : (ومن يكفر بالايمان فقد حبط عمله وهو في الاخرة من الخاسرين ) وقال : ( يا ايها النبي انا احللنا لك ازواجك اللاتي اتيت اجورهن وما ملكت يمينك مما افاء الله عليك ) الى قوله : ( خالصة لك من دون المومنين ) وحرم ما سوى ذلك من اصناف النساء . قال ابو عيسى هذا حديث حسن انما نعرفه من حديث عبد الحميد بن بهرام . قال سمعت احمد بن الحسن يقول قال احمد بن حنبل لا باس بحديث عبد الحميد بن بهرام عن شهر بن حوشب
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ کے لیے سب عورتیں حلال ہو چکی تھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو، عن عطاء، قال قالت عايشة ما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى احل له النساء . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ اپنی ایک بیوی کے کمرے کے دروازہ پر تشریف لائے جن کے ساتھ آپ کو رات گزارنی تھی، وہاں کچھ لوگوں کو موجود پایا تو آپ وہاں سے چلے گئے، اور اپنا کچھ کام کاج کیا اور کچھ دیر رکے رہے، پھر آپ دوبارہ لوٹ کر آئے تو لوگ وہاں سے جا چکے تھے، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر آپ اندر چلے گئے اور ہمارے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا ( لٹکا دیا ) میں نے اس بات کا ذکر ابوطلحہ سے کیا: تو انہوں نے کہا اگر بات ایسی ہی ہے جیسا تم کہتے ہو تو اس بارے میں کوئی نہ کوئی حکم ضرور نازل ہو گا، پھر آیت حجاب نازل ہوئی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا اشهل بن حاتم، قال ابن عون حدثناه عن عمرو بن سعيد، عن انس بن مالك، قال كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم فاتى باب امراة عرس بها فاذا عندها قوم فانطلق فقضى حاجته فاحتبس ثم رجع وعندها قوم فانطلق فقضى حاجته فرجع وقد خرجوا قال فدخل وارخى بيني وبينه سترا قال فذكرته لابي طلحة قال فقال لين كان كما تقول لينزلن في هذا شيء . فنزلت اية الحجاب . هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور اپنی بیوی ( زینب بنت جحش رضی الله عنہا ) کے پاس تشریف لے گئے، اس موقع پر میری ماں ام سلیم رضی الله عنہا نے حیس ۱؎ تیار کیا، اسے ایک چھوٹے برتن میں رکھا، پھر ( مجھ سے ) کہا: ( بیٹے ) انس! اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے کہو: اسے میری امی جان نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور انہوں نے آپ کو سلام عرض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تھوڑا سا ہدیہ میری طرف سے آپ کی خدمت میں پیش ہے، اللہ کے رسول! میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میں نے عرض کیا: میری امی جان آپ کو سلام کہتی ہیں اور کہتی ہیں: یہ میری طرف سے آپ کے لیے تھوڑا سا ہدیہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے رکھ دو“، پھر فرمایا: ”جاؤ فلاں فلاں، اور فلاں کچھ لوگوں کے نام لیے اور جو بھی تمہیں ملے سب کو میرے پاس بلا کر لے آؤ“، انس کہتے ہیں: جن کے نام آپ نے لیے تھے انہیں اور جو بھی مجھے آتے جاتے ملا اسے بلا لیا، راوی جعد بن عثمان کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا: کتنے لوگ رہے ہوں گے؟ انہوں نے کہا: تقریباً تین سو، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انس «تَور» پیالہ لے آؤ“۔ انس کہتے ہیں: لوگ اندر آئے یہاں تک کہ صفہ ( چبوترہ ) اور کمرہ سب بھر گیا، آپ نے فرمایا: ”دس دس افراد کی ٹولی بنا لو اور ہر شخص اپنے قریب سے کھائے“، لوگوں نے پیٹ بھر کر کھایا، ایک ٹولی ( کھا کر ) باہر جاتی اور دوسری ٹولی ( کھانے کے لیے ) اندر آ جاتی اس طرح سبھی نے کھا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: ”انس: اب ( برتن ) اٹھا لو“۔ میں نے ( پیالہ ) اٹھا لیا، مگر ( صحیح صحیح ) بتا نہ پاؤں گا کہ جب میں نے پیالہ لا کر رکھا تھا تب اس میں حیس زیادہ تھا یا جب اٹھایا تھا تب؟ کچھ لوگ کھانے سے فارغ ہو کر آپ کے گھر میں بیٹھ کر آپس میں باتیں کرنے لگ گئے۔ ( انہوں نے کچھ بھی خیال نہ کیا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں اور آپ کی اہلیہ محترمہ دیوار کی طرف منہ پھیرے بیٹھی ہیں، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بوجھ بن گئے، آپ وہاں سے اٹھ کر اپنی دوسری بیویوں کی طرف چلے گئے اور انہیں سلام کیا ( مزاج پرسی کی ) اور پھر لوٹ آئے، جب لوگوں نے دیکھا کہ آپ لوٹ آئے ہیں تو انہیں احساس و گمان ہوا کہ وہ لوگ آپ کے لیے باعث اذیت بن گئے ہیں، تو وہ لوگ تیزی سے دروازہ کی طرف بڑھے اور سب کے سب باہر نکل گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے دروازہ کا پردہ گرا دیا اور خود اندر چلے گئے، میں کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ تھوڑی ہی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور آپ پر یہ آیتیں اتریں پھر آپ نے باہر آ کر لوگوں کو یہ آیتیں «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه ولكن إذا دعيتم فادخلوا فإذا طعمتم فانتشروا ولا مستأنسين لحديث إن ذلكم كان يؤذي النبي» ”اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لیے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو، بلکہ جب بلایا جائے تب جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو، نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے“ ( الاحزاب: ۵۳ ) ، آخر تک پڑھ کر سنائیں۔ میں ان آیات سے سب سے پہلا واقف ہونے والا ہوں، اور اسی وقت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں پردہ کرنے لگیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- جعد: عثمان کے بیٹے ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ دینار کے بیٹے ہیں اور ان کی کنیت ابوعثمان بصریٰ ہے، اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ ( قوی ) ہیں، ان سے یونس بن عبید، شعبہ اور حماد بن زید نے روایت کی ہے۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے ایک بیوی کے ساتھ شادی والی رات گزاری، پھر آپ نے مجھے کچھ لوگوں کو کھانے پر بلانے کے لیے بھیجا۔ جب لوگ کھا پی کر چلے گئے، تو آپ اٹھے، عائشہ رضی الله عنہا کے گھر کا رخ کیا پھر آپ کی نظر دو بیٹھے ہوئے آدمیوں پر پڑی۔ تو آپ ( فوراً ) پلٹ پڑے ( انہیں اس کا احساس ہو گیا ) وہ دونوں اٹھے اور وہاں سے نکل گئے۔ اسی موقع پر اللہ عزوجل نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه» نازل فرمائی، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بیان کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ثابت نے انس کے واسطہ سے یہ حدیث پوری کی پوری بیان کی ہے۔
حدثنا عمر بن اسماعيل بن مجالد، حدثني ابي، عن بيان، عن انس بن مالك، رضى الله عنه قال بنى رسول الله صلى الله عليه وسلم بامراة من نسايه فارسلني فدعوت قوما الى الطعام فلما اكلوا وخرجوا قام رسول الله صلى الله عليه وسلم منطلقا قبل بيت عايشة فراى رجلين جالسين فانصرف راجعا فقام الرجلان فخرجا فانزل الله عز وجل : ( يا ايها الذين امنوا لا تدخلوا بيوت النبي الا ان يوذن لكم الى طعام غير ناظرين اناه ) وفي الحديث قصة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث بيان . وروى ثابت عن انس هذا الحديث بطوله
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم سعد بن عبادہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ سے بشیر بن سعد نے کہا: اللہ نے ہمیں آپ پر صلاۃ ( درود ) بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ تو ہم کیسے آپ پر صلاۃ ( درود ) بھیجیں، راوی کہتے ہیں: آپ ( یہ سن کر ) خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم سوچنے لگے کہ انہوں نے نہ پوچھا ہوتا تو ہی ٹھیک تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» اور سلام تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تم ( التحیات میں ) جانتے ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوحمید، کعب بن عجرہ اور طلحہ بن عبیداللہ اور ابو سعید خدری اور زید بن خارجہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور زید کو ابن جاریہ اور ابن بریدہ بھی کہا جاتا ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن نعيم بن عبد الله المجمر، ان محمد بن عبد الله بن زيد الانصاري، وعبد الله بن زيد الذي، كان اري النداء بالصلاة اخبره عن ابي مسعود الانصاري، انه قال اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن في مجلس سعد بن عبادة فقال له بشير بن سعد امرنا الله ان نصلي عليك فكيف نصلي عليك قال فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى تمنينا انه لم يساله ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قولوا اللهم صل على محمد وعلى ال محمد كما صليت على ال ابراهيم وبارك على محمد وعلى ال محمد كما باركت على ال ابراهيم في العالمين انك حميد مجيد والسلام كما قد علمتم " . قال وفي الباب عن علي وابي حميد وكعب بن عجرة وطلحة بن عبيد الله وابي سعيد وزيد بن خارجة ويقال ابن جارية وبريدة . قال هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام باحیاء، پردہ پوش انسان تھے، ان کے بدن کا کوئی حصہ ان کے شرما جانے کے ڈر سے دیکھا نہ جا سکتا تھا، مگر انہیں تکلیف پہنچائی جس کسی بھی اسرائیلی نے تکلیف پہنچائی، ان لوگوں نے کہا: یہ شخص ( اتنی زبردست ) ستر پوشی محض اس وجہ سے کر رہا ہے کہ اسے کوئی جلدی بیماری ہے: یا تو اسے برص ہے، یا اس کے خصیے بڑھ گئے ہیں، یا اسے کوئی اور بیماری لاحق ہے۔ اللہ نے چاہا کہ ان پر جو تہمت اور جو الزامات لگائے جا رہے ہیں ان سے انہیں بری کر دے۔ ( تو ہوا یوں کہ ) موسیٰ علیہ السلام ایک دن تنہا تھے، کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ کر نہانے لگے، جب نہا چکے اور اپنے کپڑے لینے کے لیے آگے بڑھے تو پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی اٹھائی، پتھر کو بلانے اور کہنے لگے «ثوبي حجر ثوبي حجر» ”پتھر: میرا کپڑا دے، پتھر! میرا کپڑا دے“ اور یہ کہتے ہوئے پیچھے پیچھے دوڑتے رہے یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک جماعت ( ایک گروہ ) کے پاس جا پہنچا، دوسروں نے انہیں ( مادر زاد ) ننگا اپنی خلقت و بناوٹ میں لوگوں سے اچھا دیکھا۔ اللہ نے انہیں ان تمام عیبوں اور خرابیوں سے پاک و صاف دکھا دیا جو عیب وہ ان میں بتا رہے تھے“۔ آپ نے فرمایا: ”پھر وہ پتھر رک گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے، پھر اپنی لاٹھی سے پتھر کو پیٹنے لگے۔ تو قسم اللہ کی پتھر پر لاٹھی کی مار سے تین، چار یا پانچ چوٹ کے نشان تھے۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی اس آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تكونوا كالذين آذوا موسى فبرأه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها» ”اے ایمان لانے والو! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنے جھوٹے الزامات سے تکلیف پہنچائی، تو اللہ نے انہیں اس تہمت سے بری قرار دیا، وہ اللہ کے نزدیک بڑی عزت و مرتبت والا تھا“ ( الاحزاب: ۶۹ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، اور اس میں ایک حدیث انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا روح بن عبادة، عن عوف، عن الحسن، ومحمد، وخلاس، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم " ان موسى عليه السلام كان رجلا حييا ستيرا ما يرى من جلده شيء استحياء منه فاذاه من اذاه من بني اسراييل فقالوا ما يستتر هذا الستر الا من عيب بجلده اما برص واما ادرة واما افة وان الله عز وجل اراد ان يبريه مما قالوا وان موسى عليه السلام خلا يوما وحده فوضع ثيابه على حجر ثم اغتسل فلما فرغ اقبل الى ثيابه لياخذها وان الحجر عدا بثوبه فاخذ موسى عصاه فطلب الحجر فجعل يقول ثوبي حجر ثوبي حجر حتى انتهى الى ملا من بني اسراييل فراوه عريانا احسن الناس خلقا وابراه مما كانوا يقولون قال وقام الحجر فاخذ ثوبه ولبسه وطفق بالحجر ضربا بعصاه فوالله ان بالحجر لندبا من اثر عصاه ثلاثا او اربعا او خمسا فذلك قوله تعالى : ( يا ايها الذين امنوا لا تكونوا كالذين اذوا موسى فبراه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم وفيه عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم
فروہ بن مسیک مرادی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے ساتھ مل کر جو ایمان لے آئے ہیں ان لوگوں سے نہ لڑوں جو ایمان نہیں لائے ہیں، تو آپ نے مجھے ان سے لڑنے کی اجازت دے دی، اور مجھے میری قوم کا امیر بنا دیا، جب میں آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا تو آپ نے میرے متعلق پوچھا کہ غطیفی نے کیا کیا؟ آپ کو بتایا گیا کہ میں تو جا چکا ہوں، مجھے لوٹا لانے کے لیے میرے پیچھے آپ نے آدمی دوڑائے، تو میں آپ کے پاس آ گیا، آپ اس وقت اپنے کچھ صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے، آپ نے فرمایا: ”لوگوں کو تم دعوت دو، تو ان میں سے جو اسلام لے آئے اس کے اسلام و ایمان کو قبول کر لو، اور جو اسلام نہ لائے تو اس کے معاملے میں جلدی نہ کرو، یہاں تک کہ میں تمہیں نیا ( و تازہ ) حکم نہ بھیجوں“۔ راوی کہتے ہیں: سبا کے متعلق ( کلام پاک میں ) جو نازل ہوا سو ہوا ( اسی مجلس کے ) ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! سبا کیا ہے، سبا کوئی سر زمین ہے، یا کسی عورت کا نام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ نہ کوئی ملک ہے اور نہ ہی وہ کسی عورت کا نام بلکہ سبا نام کا ایک عربی شخص تھا جس کے دس بچے تھے، جن میں سے چھ کو اس نے باعث خیر و برکت جانا اور چار سے بدشگونی لی ( انہیں منحوس جانا ) تو جنہیں اس نے منحوس سمجھا وہ: لخم، جذام، غسان اور عاملہ ہیں، اور جنہیں مبارک سمجھا وہ ازد، اشعری، حمیر، مذحج، انمار اور کندہ ہیں“، ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! انمار کون سا قبیلہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسی قبیلہ کی شاخیں خشعم اور بجیلہ ہیں“۔ یہ حدیث ابن عباس سے مروی ہے، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو كريب، وعبد بن حميد، وغير، واحد، قالوا اخبرنا ابو اسامة، عن الحسن بن الحكم النخعي، حدثنا ابو سبرة النخعي، عن فروة بن مسيك المرادي، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله الا اقاتل من ادبر من قومي بمن اقبل منهم فاذن لي في قتالهم وامرني فلما خرجت من عنده سال عني ما فعل الغطيفي فاخبر اني قد سرت قال فارسل في اثري فردني فاتيته وهو في نفر من اصحابه فقال " ادع القوم فمن اسلم منهم فاقبل منه ومن لم يسلم فلا تعجل حتى احدث اليك " . قال وانزل في سبا ما انزل فقال رجل يا رسول الله وما سبا ارض او امراة قال " ليس بارض ولا امراة ولكنه رجل ولد عشرة من العرب فتيامن منهم ستة وتشاءم منهم اربعة فاما الذين تشاءموا فلخم وجذام وغسان وعاملة واما الذين تيامنوا فالازد والاشعريون وحمير ومذحج وانمار وكندة " . فقال رجل يا رسول الله وما انمار قال " الذين منهم خثعم وبجيلة " . وروي هذا عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ آسمان پر کسی معاملے کا حکم و فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے عجز و انکساری کے ساتھ ( حکم برداری کے جذبہ سے ) اپنے پر ہلاتے ہیں۔ ان کے پر ہلانے سے پھڑپھڑانے کی ایسی آواز پیدا ہوتی ہے تو ان زنجیر پتھر پر گھسٹ رہی ہے، پھر جب ان کے دلوں کی گھبراہٹ جاتی رہتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں: تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں: حق بات کہی ہے۔ وہی بلند و بالا ہے“، آپ نے فرمایا: ”شیاطین ( زمین سے آسمان تک ) یکے بعد دیگرے ( اللہ کے احکام اور فیصلوں کو اچک کر اپنے چیلوں تک پہنچانے کے لیے تاک و انتظار میں ) لگے رہتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا قضى الله في السماء امرا ضربت الملايكة باجنحتها خضعانا لقوله كانها سلسلة على صفوان فاذا فزع عن قلوبهم قالوا ماذا قال ربكم قالوا الحق وهو العلي الكبير قال والشياطين بعضهم فوق بعض " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے کہ یکایک ایک تارہ ٹوٹا جس سے روشنی پھیل گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا: ”زمانہ جاہلیت میں جب تم لوگ ایسی کوئی چیز دیکھتے تو کیا کہتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ہم کہتے تھے کوئی بڑا آدمی مرے گا یا کوئی بڑی شخصیت جنم لے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کسی کے مرنے کی وجہ سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ اللہ بزرگ و برتر جب کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے تسبیح و تہلیل کرتے ہیں، پھر ان سے قریبی آسمان کے فرشتے تسبیح کرتے ہیں، پھر ان سے قریبی، اس طرح تسبیح کا یہ غلغلہ ہمارے اس آسمان تک آ پہنچتا ہے، چھٹے آسمان والے فرشتے ساتویں آسمان والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں: تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ ( کیا حکم صادر فرمایا ہے؟ ) تو وہ انہیں بتاتے ہیں، پھر اسی طرح ہر نیچے آسمان والے اوپر کے آسمان والوں سے پوچھتے ہیں، اس طرح بات دنیا سے قریبی آسمان والوں تک آ پہنچتی ہے۔ اور کی جانے والی بات چیت کو شیاطین اچک لیتے ہیں۔ ( جب وہ اچکنے کی کوشش کرتے ہیں تو سننے سے باز رکھنے کے لیے تارہ پھینک کر ) انہیں مارا جاتا ہے اور وہ اسے ( اچکی ہوئی بات کو ) اپنے یاروں ( کاہنوں ) کی طرف پھینک دیتے ہیں تو وہ جیسی ہے اگر ویسی ہی اسے پہنچاتے ہیں تو وہ حق ہوتی ہے، مگر لوگ اسے بدل دیتے اور گھٹا بڑھا دیتے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا معمر، عن الزهري، عن علي بن حسين، عن ابن عباس، قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس في نفر من اصحابه اذ رمي بنجم فاستنار فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما كنتم تقولون لمثل هذا في الجاهلية اذا رايتموه " . قالوا كنا نقول يموت عظيم او يولد عظيم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فانه لا يرمى به لموت احد ولا لحياته ولكن ربنا عز وجل اذا قضى امرا سبح له حملة العرش ثم سبح اهل السماء الذين يلونهم ثم الذين يلونهم حتى يبلغ التسبيح الى هذه السماء ثم سال اهل السماء السادسة اهل السماء السابعة ماذا قال ربكم قال فيخبرونهم ثم يستخبر اهل كل سماء حتى يبلغ الخبر اهل السماء الدنيا وتختطف الشياطين السمع فيرمون فيقذفونها الى اوليايهم فما جاءوا به على وجهه فهو حق ولكنهم يحرفون ويزيدون " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي هذا الحديث، عن الزهري، عن علي بن الحسين، عن ابن عباس، عن رجال، من الانصار رضى الله عنهم قالوا كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم . وروى الاوزاعي عن الزهري عن عبيد الله عن ابن عباس عن رجال من الانصار قالوا كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم . فذكر نحوه بمعناه حدثنا بذلك الحسين بن حريث حدثنا الوليد بن مسلم حدثنا الاوزاعي
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «ثم أورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا فمنهم ظالم لنفسه ومنهم مقتصد ومنهم سابق بالخيرات» ”پھر ہم نے اللہ کے حکم سے کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنا دیا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا تھا، تو ان میں سے بعض تو خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں، اور بعض میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں اور ان میں سے بعض نیکی و بھلائی کے کاموں میں سبقت لے جانے والے لوگ ہیں“ ( فاطر: ۳۲ ) ، کے سلسلے میں فرمایا: ”یہ سب ایک ہی درجے میں ہوں گے اور یہ سب کے سب جنت میں جانے والے لوگ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى ومحمد بن بشار قالا حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الوليد بن عيزار، انه سمع رجلا، من ثقيف يحدث عن رجل، من كنانة عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال في هذه الاية : (ثم اورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا فمنهم ظالم لنفسه ومنهم مقتصد ومنهم سابق بالخيرات ) قال " هولاء كلهم بمنزلة واحدة وكلهم في الجنة " . قال هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ ( قبیلہ کے لوگ ) مدینہ کے کسی نواحی علاقہ میں رہتے تھے۔ انہوں نے وہاں سے منتقل ہو کر مسجد ( نبوی ) کے قریب آ کر آباد ہونے کا ارادہ کیا تو یہ آیت «إنا نحن نحي الموتى ونكتب ما قدموا وآثارهم» ”ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور وہ جو آگے بھیجتے ہیں اسے ہم لکھ لیتے ہیں اور ( مسجد کی طرف آنے و جانے والے ) آثار قدم بھی ہم ( گن کر ) لکھ لیتے ہیں“ ( یس: ۱۲ ) نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں، اس لیے تم اپنے گھر نہ بدلو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ثوری سے مروی یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن وزير الواسطي، حدثنا اسحاق بن يوسف الازرق، عن سفيان الثوري، عن ابي سفيان، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال كانت بنو سلمة في ناحية المدينة فارادوا النقلة الى قرب المسجد فنزلت هذه الاية : (انا نحن نحيي الموتى ونكتب ما قدموا واثارهم ) فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اثاركم تكتب فلا ينتقلوا" . قال هذا حديث حسن غريب من حديث الثوري وابو سفيان هو طريف السعدي
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي، عن الجعد بن عثمان، عن انس بن مالك، رضى الله عنه قال تزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل باهله - قال - فصنعت امي ام سليم حيسا فجعلته في تور فقالت يا انس اذهب بهذا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقل له بعثت اليك بها امي وهي تقريك السلام وتقول ان هذا لك منا قليل يا رسول الله . قال فذهبت به الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت ان امي تقريك السلام وتقول ان هذا منا لك قليل . فقال " ضعه " . ثم قال " اذهب فادع لي فلانا وفلانا وفلانا ومن لقيت " . فسمى رجالا قال فدعوت من سمى ومن لقيت قال قلت لانس عددكم كم كانوا قال زهاء ثلاثماية . قال وقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا انس هات التور " . قال فدخلوا حتى امتلات الصفة والحجرة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليتحلق عشرة عشرة ولياكل كل انسان مما يليه " . قال فاكلوا حتى شبعوا قال فخرجت طايفة ودخلت طايفة حتى اكلوا كلهم . قال فقال لي " يا انس ارفع " . قال فرفعت فما ادري حين وضعت كان اكثر ام حين رفعت قال وجلس منهم طوايف يتحدثون في بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس وزوجته مولية وجهها الى الحايط فثقلوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلم على نسايه ثم رجع فلما راوا رسول الله صلى الله عليه وسلم قد رجع ظنوا انهم قد ثقلوا عليه قال فابتدروا الباب فخرجوا كلهم وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى ارخى الستر ودخل وانا جالس في الحجرة فلم يلبث الا يسيرا حتى خرج على وانزلت هذه الايات فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فقراهن على الناس : ( يا ايها الذين امنوا لا تدخلوا بيوت النبي الا ان يوذن لكم الى طعام غير ناظرين اناه ) الى اخر الاية . قال الجعد قال انس انا احدث الناس عهدا بهذه الايات وحجبن نساء رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والجعد هو ابن عثمان ويقال هو ابن دينار ويكنى ابا عثمان بصري وهو ثقة عند اهل الحديث روى عنه يونس بن عبيد وشعبة وحماد بن زيد