Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں سورج ڈوبنے کے وقت داخل ہوا، آپ وہاں تشریف فرما تھے۔ آپ نے فرمایا: ”ابوذر! کیا تم جانتے ہو یہ ( سورج ) کہاں جاتا ہے؟“، ابوذر کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم، آپ نے فرمایا: ”وہ جا کر سجدہ کی اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت دے دی جاتی ہے تو ان اس سے کہا جاتا ہے وہیں سے نکلو جہاں سے آئے ہو۔ پھر وہ ( قیامت کے قریب ) اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکلے گا“۔ ابوذر کہتے ہیں: پھر آپ نے «وذلك مستقر لها» ”یہی اس کے ٹھہرنے کی جگہ ہے“ پڑھا۔ راوی کہتے ہیں: یہی عبداللہ بن مسعود کی قرأت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي ذر، قال دخلت المسجد حين غابت الشمس والنبي صلى الله عليه وسلم جالس فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اتدري يا ابا ذر اين تذهب هذه " . قال قلت الله ورسوله اعلم . قال " فانها تذهب فتستاذن في السجود فيوذن لها وكانها قد قيل لها اطلعي من حيث جيت فتطلع من مغربها " . قال ثم قرا : (وذلك مستقر لها ) قال وذلك قراءة عبد الله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی نے بھی کسی چیز کی طرف دعوت دی قیامت کے دن وہ اسی کے ساتھ چمٹا اور ٹھہرا رہے گا، وہ اسے چھوڑ کر آگے نہیں جا سکتا اگرچہ ایک آدمی نے ایک آدمی ہی کو بلایا ہو“ پھر آپ نے آیت «وقفوهم إنهم مسئولون ما لكم لا تناصرون» ”انہیں روک لو، ان سے پوچھا جائے گا: کیا بات ہے؟ تم لوگ ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے؟“ ( الصافات: ۲۴-۲۵ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا معتمر بن سليمان، حدثنا ليث بن ابي سليم، عن بشر، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من داع دعا الى شيء الا كان موقوفا يوم القيامة لازما له لا يفارقه وان دعا رجل رجلا " . ثم قرا قول الله : ( وقفوهم انهم مسيولون * ما لكم لا تناصرون ) . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت کریمہ: «وأرسلناه إلى مائة ألف أو يزيدون» ”ہم نے انہیں ( یعنی یونس کو ) ایک لاکھ بلکہ اس سے کچھ زیادہ کی طرف بھیجا“ ( الصافات: ۷۷ ) ، کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”ایک لاکھ بیس ہزار تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا الوليد بن مسلم، عن زهير بن محمد، عن رجل، عن ابي العالية، عن ابى بن كعب، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قول الله تعالى : ( وارسلناه الى ماية الف او يزيدون ) قال " عشرون الفا " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «وجعلنا ذريته هم الباقين» ”ہم نے نوح ہی کی اولاد کو باقی رکھا“ ( الصافات: ۷۷ ) ، کی تفسیر میں فرمایا: ” ( نوح کے تین بیٹے ) حام، سام اور یافث تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف سعید بن بشیر کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ۲- یافت «ت» سے اور یافث «ث» سے دونوں طرح سے کہا جاتا ہے «یفث» بھی کہا جاتا ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن خالد بن عثمة، حدثنا سعيد بن بشير، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قول الله : ( وجعلنا ذريته هم الباقين ) قال " حام وسام ويافث " . كذا . قال ابو عيسى يقال يافت ويافث بالتاء والثاء ويقال يفث . قال وهذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث سعيد بن بشير
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سام» «ابوالعرب» ( عربوں کے باپ ) ہیں اور «حام» «ابوالحبش» ( اہل حبشہ کے باپ ) ہیں اور «یافث» «ابوالروم» ( رومیوں کے باپ ) ہیں“۔
حدثنا بشر بن معاذ العقدي، حدثنا يزيد بن زريع، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " سام ابو العرب وحام ابو الحبش ويافث ابو الروم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ابوطالب بیمار پڑے، تو قریش ان کے پاس آئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی آئے، ابوطالب کے پاس صرف ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی، ابوجہل اٹھا کہ وہ آپ کو وہاں بیٹھنے سے روک دے، اور ان سب نے ابوطالب سے آپ کی شکایت کی، ابوطالب نے آپ سے کہا: بھتیجے! تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو؟ آپ نے فرمایا: ”میں ان سے صرف ایک ایسا کلمہ تسلیم کرانا چاہتا ہوں جسے یہ قبول کر لیں تو اس کلمہ کے ذریعہ پورا عرب مطیع و فرماں بردار ہو جائے گا اور عجم کے لوگ انہیں جزیہ ادا کریں گے، انہوں نے کہا: ایک ہی کلمہ؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ایک ہی کلمہ“، آپ نے فرمایا: ”چچا جان! آپ لوگ «لا إلہ الا اللہ» کہہ دیجئیے، انہوں نے کہا: ایک معبود کو تسلیم کر لیں؟ یہ بات تو ہم نے اگلے لوگوں میں نہیں سنی ہے، یہ تو صرف بناوٹی اور ( تمہاری ) گھڑی ہوئی بات ہے، ( ہم یہ بات تسلیم نہیں کر سکتے ) ابن عباس کہتے ہیں: اسی پر ان ہی لوگوں سے متعلق سورۃ ”ص“ کی آیات «ص والقرآن ذي الذكر بل الذين كفروا في عزة وشقاق ) إلى قوله ( ما سمعنا بهذا في الملة الآخرة إن هذا إلا اختلاق» ”صٓ، اس نصیحت والے قرآن کی قسم، بلکہ کفار غرور و مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں، ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباہ کر ڈالا، انہوں نے ہر چند چیخ و پکار کی لیکن وہ چھٹکارے کا نہ تھا اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ انہیں میں سے ایک انہیں ڈرانے والا آ گیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے، کیا اس نے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا، واقعی یہ تو بہت ہی عجیب بات ہے، ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے، ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی، کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے“ ( ص: ۱-۷ ) ، تک نازل ہوئیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یحییٰ بن سعید نے بھی سفیان سے، سفیان نے اعمش سے اسی حدیث کے مثل حدیث بیان کی، اور یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عباد کے بجائے ”یحییٰ بن عمارہ“ کہا۔
حدثنا محمود بن غيلان، وعبد بن حميد، - المعنى واحد قالا حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن يحيى، قال عبد هو ابن عباد عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال مرض ابو طالب فجاءته قريش وجاءه النبي صلى الله عليه وسلم وعند ابي طالب مجلس رجل فقام ابو جهل كى يمنعه وشكوه الى ابي طالب فقال يا ابن اخي ما تريد من قومك قال " اني اريد منهم كلمة واحدة تدين لهم بها العرب وتودي اليهم العجم الجزية " . قال كلمة واحدة قال " كلمة واحدة " . قال " يا عم قولوا لا اله الا الله " . فقالوا: الها واحدا؟ ( ما سمعنا بهذا في الملة الاخرة ان هذا الا اختلاق ) قال فنزل فيهم القران : (ص* والقران ذي الذكر * بل الذين كفروا في عزة وشقاق ) الى قوله : (ما سمعنا بهذا في الملة الاخرة ان هذا الا اختلاق ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وروى يحيى بن سعيد، عن سفيان، عن الاعمش، نحو هذا الحديث وقال يحيى بن عمارة حدثنا بندار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، نحوه عن الاعمش،
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا بزرگ و برتر رب بہترین صورت میں میرے پاس آیا“، مجھے خیال پڑتا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”- خواب میں – رب کریم نے کہا: اے محمد! کیا تمہیں معلوم ہے کہ «ملا ٔ اعلی» ( اونچے مرتبے والے فرشتے ) کس بات پر آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں“، آپ نے فرمایا: ”میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا تو اللہ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے بیچ میں رکھ دیا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنی چھاتیوں کے درمیان محسوس کی، یا اپنے سینے میں یا «نحری» کہا، ( ہاتھ کندھے پر رکھنے کے بعد ) آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ میں جان گیا، رب کریم نے فرمایا: اے محمد! کیا تم جانتے ہو «ملا ٔ اعلی» میں کس بات پر جھگڑا ہو رہا ہے، ( بحث و تکرار ہو رہی ہے ) ؟ میں نے کہا: ہاں، کفارات گناہوں کو مٹا دینے والی چیزوں کے بارے میں ( کہ وہ کون کون سی چیزیں ہیں؟ ) ( فرمایا ) ”کفارات یہ ہیں: ( ۱ ) نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنا، ( ۲ ) پیروں سے چل کر نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جانا، ( ۳ ) ناگواری کے باوجود باقاعدگی سے وضو کرنا، جو ایسا کرے گا بھلائی کی زندگی گزارے گا، اور بھلائی کے ساتھ مرے گا اور اپنے گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہو جائے گا جس طرح وہ اس دن پاک و صاف تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا، رب کریم کہے گا: اے محمد! جب تم نماز پڑھ چکو تو کہو: «اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين وإذا أردت بعبادك فتنة فاقبضني إليك غير مفتون» ”اے اللہ میں تجھ سے بھلے کام کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور ناپسندیدہ و منکر کاموں سے بچنا چاہتا ہوں اور مسکینوں سے محبت کرنا چاہتا ہوں، اور جب تو اپنے بندوں کو کسی آزمائش میں ڈالنا چاہیئے تو فتنے میں ڈالے جانے سے پہلے مجھے اپنے پاس بلا لے“، آپ نے فرمایا: ”درجات بلند کرنے والی چیزیں ( ۱ ) سلام کو پھیلانا عام کرنا ہے، ( ۲ ) ( محتاج و مسکین ) کو کھانا کھلانا ہے، ( ۳ ) رات کو تہجد پڑھنا ہے کہ جب لوگ سو رہے ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- کچھ محدثین نے ابوقلابہ اور ابن عباس رضی الله عنہما کے درمیان اس حدیث میں ایک شخص کا ذکر کیا ہے۔ ( اور وہ خالد بن لجلاج ہیں ان روایت کے آگے آ رہی ہے ) ۲- اس حدیث کو قتادہ نے ابوقلابہ سے روایت کی ہے اور ابوقلابہ نے خالد بن لجلاج سے، اور خالد بن لجلاج نے ابن عباس سے روایت کی ہے۔
حدثنا سلمة بن شبيب، وعبد بن حميد، قالا حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتاني الليلة ربي تبارك وتعالى في احسن صورة قال احسبه قال في المنام فقال يا محمد هل تدري فيم يختصم الملا الاعلى قال قلت لا . قال فوضع يده بين كتفى حتى وجدت بردها بين ثديى او قال في نحري فعلمت ما في السموات وما في الارض قال يا محمد هل تدري فيم يختصم الملا الاعلى قلت نعم . قال في الكفارات . والكفارات المكث في المساجد بعد الصلوات والمشى على الاقدام الى الجماعات واسباغ الوضوء في المكاره ومن فعل ذلك عاش بخير ومات بخير وكان من خطييته كيوم ولدته امه وقال يا محمد اذا صليت فقل اللهم اني اسالك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين واذا اردت بعبادك فتنة فاقبضني اليك غير مفتون قال والدرجات افشاء السلام واطعام الطعام والصلاة بالليل والناس نيام
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے میرا رب ( خواب میں ) بہترین صورت میں نظر آیا، اور اس نے مجھ سے کہا: محمد! میں نے کہا: میرے رب! میں تیری خدمت میں حاضر و موجود ہوں، کہا: اونچے مرتبے والے فرشتوں کی جماعت کس بات پر جھگڑ رہی ہے؟ میں نے عرض کیا: ( میرے ) رب! میں نہیں جانتا، ( اس پر ) میرے رب نے اپنا دست شفقت و عزت میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنی چھاتیوں کے درمیان ( سینے میں ) محسوس کی، اور مجھے مشرق و مغرب کے درمیان کی چیزوں کا علم حاصل ہو گیا، ( پھر ) کہا: محمد! میں نے عرض کیا: ( میرے ) رب! میں حاضر ہوں، اور تیرے حضور میری موجودگی میری خوش بختی ہے، فرمایا: فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت کس بات پر جھگڑ رہی ہے؟ میں نے کہا: انسان کا درجہ و مرتبہ بڑھانے والی اور گناہوں کو مٹانے والی چیزوں کے بارے میں ( کہ وہ کیا کیا ہیں ) تکرار کر رہے ہیں، جماعتوں کی طرف جانے کے لیے اٹھنے والے قدموں کے بارے میں اور طبیعت کے نہ چاہتے ہوئے بھی مکمل وضو کرنے کے بارے میں۔ اور ایک نماز پڑھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنے کے بارے میں، جو شخص ان کی پابندی کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا، اور خیر ( بھلائی ) ہی کے ساتھ مرے گا، اور اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک و صاف ہو جائے گا جس دن کہ ان کی ماں نے جنا تھا، اور وہ گناہوں سے پاک و صاف تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں معاذ بن جبل اور عبدالرحمٰن بن عائش رضی الله عنہما ۱؎ کی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، اور اس پوری لمبی حدیث کو معاذ بن جبل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، ( اس میں ہے ) ”میں نے ذرا سی اونگھ لی، تو مجھے گہری نیند آ گئی، پھر میں نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا، میرے رب نے کہا: «فيم يختصم الملأ الأعلى» فرشتوں کی ( سب سے اونچے مرتبے کی جماعت ) کس بات پر لڑ جھگڑ رہی ہے؟
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن ابي قلابة، عن خالد بن اللجلاج، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اتاني ربي في احسن صورة فقال يا محمد قلت لبيك ربي وسعديك قال فيم يختصم الملا الاعلى قلت ربي لا ادري فوضع يده بين كتفى فوجدت بردها بين ثديى فعلمت ما بين المشرق والمغرب قال يا محمد . فقلت لبيك رب وسعديك قال فيم يختصم الملا الاعلى قلت في الدرجات والكفارات وفي نقل الاقدام الى الجماعات واسباغ الوضوء في المكروهات وانتظار الصلاة بعد الصلاة ومن يحافظ عليهن عاش بخير ومات بخير وكان من ذنوبه كيوم ولدته امه " . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . قال وفي الباب عن معاذ بن جبل وعبد الرحمن بن عايش عن النبي صلى الله عليه وسلم
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھانے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیں، پھر آپ تیزی سے ( حجرہ سے ) باہر تشریف لائے، لوگوں کو نماز کھڑی کرنے کے لیے بلایا، آپ نے نماز پڑھائی، اور نماز مختصر کی، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آواز دے کر لوگوں کو ( اپنے قریب ) بلایا، فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: ”میں آپ حضرات کو بتاؤں گا کہ فجر میں بروقت مجھے تم لوگوں کے پاس مسجد میں پہنچنے سے کس چیز نے روک لیا، میں رات میں اٹھا، وضو کیا، ( تہجد کی ) نماز پڑھی جتنی بھی میرے نام لکھی گئی تھی، پھر میں نماز میں اونگھنے لگا یہاں تک کہ مجھے گہری نیند آ گئی، اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے بزرگ و برتر رب کے ساتھ ہوں وہ بہتر صورت و شکل میں ہے، اس نے کہا: اے محمد! میں نے کہا: میرے رب! میں حاضر ہوں، اس نے کہا: «ملا ٔ الأعلى» ( فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت ) کس بات پر جھگڑ رہی ہے؟ میں نے عرض کیا: رب کریم میں نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ نے یہ بات تین بار پوچھی، آپ نے فرمایا: میں نے اللہ ذوالجلال کو دیکھا کہ اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے اندر محسوس کی، ہر چیز میرے سامنے روشن ہو کر آ گئی، اور میں جان گیا ( اور پہچان گیا ) پھر اللہ عزوجل نے فرمایا: اے محمد! میں نے کہا: رب! میں حاضر ہوں، اس نے کہا: «ملا ٔ الأعلى» کے فرشتے کس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے کہا: «کفارات» کے بارے میں، اس نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ میں نے کہا: نماز باجماعت کے لیے پیروں سے چل کر جانا، نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر ( دوسری نماز کے انتظار میں ) رہنا، ناگواری کے وقت بھی مکمل وضو کرنا، اس نے پوچھا: پھر کس چیز کے بارے میں ( بحث کر رہے ہیں ) ؟ میں نے کہا: ( محتاجوں اور ضرورت مندوں کو ) کھانا کھلانے کے بارے میں، نرم بات چیت میں، جب لوگ سو رہے ہوں اس وقت اٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں، رب کریم نے فرمایا: مانگو ( اور مانگتے وقت کہو ) کہو: «اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين وأن تغفر لي وترحمني وإذا أردت فتنة قوم فتوفني غير مفتون أسألك حبك وحب من يحبك وحب عمل يقرب إلى حبك» ”اے اللہ! میں تجھ سے بھلے کاموں کے کرنے اور منکرات ( ناپسندیدہ کاموں ) سے بچنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور مساکین سے محبت کرنا چاہتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ مجھے معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرما، اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنا چاہے، تو مجھے تو فتنہ میں ڈالنے سے پہلے موت دیدے، میں تجھ سے اور اس شخص سے جو تجھ سے محبت کرتا ہو، محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے ایسے کام کرنے کی توفیق چاہتا ہوں جو کام تیری محبت کے حصول کا سبب بنے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حق ہے، اسے پڑھو یاد کرو اور دوسروں کو پڑھاؤ سکھاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ بھی کہا کہ یہ حدیث ولید بن مسلم کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے وہ عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا خالد بن لجلاج نے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا عبدالرحمٰن بن عائش حضرمی نے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آگے یہی حدیث بیان کی، اور یہ غیر محفوظ ہے، ولید نے اسی طرح اپنی حدیث میں جسے انہوں نے عبدالرحمٰن بن عائش سے روایت کیا ہے ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جبکہ بشر بن بکر نے، روایت کیا عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے، یہ حدیث اسی سند کے ساتھ، انہوں نے روایت کیا، عبدالرحمٰن بن عائش سے اور عبدالرحمٰن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بلفظ «عن» اور یہ زیادہ صحیح ہے، کیونکہ عبدالرحمٰن بن عائش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے۔)
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما اپنے باپ (زبیر) سے روایت کرتے ہیں کہ جب آیت «ثم إنكم يوم القيامة عند ربكم تختصمون» ”پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس ( توحید و شرک کے سلسلے میں ) جھگڑ رہے ہو گے“ ( الروم: ۳۱ ) ، نازل ہوئی تو زبیر بن عوام رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اس دنیا میں ہمارا آپس میں جو لڑائی جھگڑا ہے اس کے بعد بھی دوبارہ ہمارے درمیان ( آخرت میں ) لڑائی جھگڑے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، انہوں نے کہا: پھر تو معاملہ بڑا سخت ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عبد الله بن الزبير، عن ابيه، قال لما نزلت : (ثم انكم يوم القيامة عند ربكم تختصمون ) قال الزبير يا رسول الله اتكرر علينا الخصومة بعد الذي كان بيننا في الدنيا قال " نعم " . فقال ان الامر اذا لشديد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آیت «يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله إن الله يغفر الذنوب جميعا» ”اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے ( یعنی گناہ کیے ہیں ) اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوؤ، اللہ سبھی گناہ معاف کر دیتا ہے“ ( الزمر: ۵۳ ) ، پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ اللہ کو کوئی پروا نہیں ہوتی ( کہ اللہ کی اس چھوٹ اور مہربانی سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے اور کون محروم رہ رہا ہے ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف ثابت کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ شہر بن حوشب سے روایت کرتے ہیں، ۳- شہر بن حوشب ام سلمہ انصاریہ سے روایت کرتے ہیں، اور ام سلمہ انصاریہ اسماء بنت یزید ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا حبان بن هلال، وسليمان بن حرب، وحجاج بن منهال، قالوا حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن شهر بن حوشب، عن اسماء بنت يزيد، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا : (يا عبادي الذين اسرفوا على انفسهم لا تقنطوا من رحمة الله ان الله يغفر الذنوب جميعا ) ولا يبالي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث ثابت عن شهر بن حوشب . قال وشهر بن حوشب يروي عن ام سلمة الانصارية وام سلمة الانصارية هي اسماء بنت يزيد
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: محمد! اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر روکے ہوئے ہے، زمینوں کو ایک انگلی پر اٹھائے ہوئے ہے، پہاڑوں کو ایک انگلی سے تھامے ہوئے ہے، اور مخلوقات کو ایک انگلی پر آباد کئے ہوئے ہے، پھر کہتا ہے: میں ہی ( ساری کائنات کا ) بادشاہ ہوں۔ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھلکھلا کر ہنس پڑے، فرمایا: ”پھر بھی لوگوں نے اللہ کی قدر و عزت نہ کی جیسی کہ کرنی چاہیئے تھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان، حدثني منصور، وسليمان الاعمش، عن ابراهيم، عن عبيدة، عن عبد الله، قال جاء يهودي الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا محمد ان الله يمسك السموات على اصبع والارضين على اصبع والجبال على اصبع والخلايق على اصبع ثم يقول انا الملك . قال فضحك النبي صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه قال : (وما قدروا الله حق قدره ) . قال هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تعجب سے اور ( اس کی باتوں کی ) تصدیق میں ہنس پڑے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا فضيل بن عياض، عن منصور، عن ابراهيم، عن عبيدة، عن عبد الله، قال فضحك النبي صلى الله عليه وسلم تعجبا وتصديقا . قال هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک یہودی کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( یہودی ) سے کہا: ”ہم سے کچھ بات چیت کرو“، اس نے کہا: ابوالقاسم! آپ کیا کہتے ہیں: جب اللہ آسمانوں کو اس پر اٹھائے گا ۱؎ اور زمینوں کو اس پر اور پانی کو اس پر اور پہاڑوں کو اس پر اور ساری مخلوق کو اس پر، ابوجعفر محمد بن صلت نے ( یہ بات بیان کرتے ہوئے ) پہلے چھنگلی ( کانی انگلی ) کی طرف اشارہ کیا، اور یکے بعد دیگرے اشارہ کرتے , ہوئے انگوٹھے تک پہنچے، ( اس موقع پر بطور جواب ) اللہ تعالیٰ نے «وما قدروا الله حق قدره» ”انہوں نے اللہ کی ( ان ساری قدرتوں کے باوجود ) صحیح قدر و منزلت نہ جانی، نہ پہچانی“ ( الزمر: ۶۷ ) ، نازل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- ہم اسے ( ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے ) صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- ابوکدینہ کا نام یحییٰ بن مہلب ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو دیکھا ہے، انہوں نے یہ حدیث حسن بن شجاع سے اور حسن نے محمد بن صلت سے روایت کی ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا محمد بن الصلت، حدثنا ابو كدينة، عن عطاء بن السايب، عن ابي الضحى، عن ابن عباس، قال مر يهودي بالنبي صلى الله عليه وسلم فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " يا يهودي حدثنا " . فقال كيف تقول يا ابا القاسم اذا وضع الله السموات على ذه والارضين على ذه والماء على ذه والجبال على ذه وساير الخلق على ذه . واشار ابو جعفر محمد بن الصلت بخنصره اولا ثم تابع حتى بلغ الابهام فانزل الله : (وما قدروا الله حق قدره ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح لا نعرفه من حديث ابن عباس الا من هذا الوجه . وابو كدينة اسمه يحيى بن المهلب قال رايت محمد بن اسماعيل روى هذا الحديث عن الحسن بن شجاع عن محمد بن الصلت
مجاہد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے جہنم کتنی بڑی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: بیشک، قسم اللہ کی! مجھے بھی معلوم نہ تھا، ( مگر ) عائشہ رضی الله عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت «والأرض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه» ”ساری زمین قیامت کے دن رب کی ایک مٹھی میں ہو گی اور سارے آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے“ ( الزمر: ۶۷ ) ، کے تعلق سے پوچھا: رسول اللہ! پھر اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”جہنم کے پل پر، ( اس سے مجھے معلوم ہو گیا کہ جہنم بہت لمبی چوڑی ہو گی ) اس حدیث کے سلسلے میں پوری ایک کہانی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن عنبسة بن سعيد، عن حبيب بن ابي عمرة، عن مجاهد، قال قال ابن عباس اتدري ما سعة جهنم قلت لا . قال اجل والله ما تدري . حدثتني عايشة انها سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قوله : (والارض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه ) قالت قلت فاين الناس يوميذ يا رسول الله قال " على جسر جهنم " . وفي الحديث قصة . قال هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول! «والأرض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه» ”زمین ساری کی ساری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی، اور آسمان سارے کے سارے اس کے ہاتھ لپٹے ہوئے ہوں گے“ پھر اس دن مومن لوگ کہاں پر ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”عائشہ! وہ لوگ ( پل ) صراط پر ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن داود بن ابي هند، عن الشعبي، عن مسروق، عن عايشة، انها قالت يا رسول الله : (والارض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه ) فاين المومنون يوميذ قال " على الصراط يا عايشة " . هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا صور کو منہ سے لگائے ہوئے اپنا رخ اسی کی طرف کئے ہوئے ہے، اسی کی طرف کان لگائے ہوئے ہے، انتظار میں ہے کہ اسے صور پھونکنے کا حکم دیا جائے تو وہ فوراً صور پھونک دے، مسلمانوں نے کہا: ہم ( ایسے موقعوں پر ) کیا کہیں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کہو: «حسبنا الله ونعم الوكيل توكلنا على الله ربنا وربما» ”ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے، ہم نے اپنے رب اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے“ راوی کہتے ہیں: کبھی کبھی سفیان نے «توكلنا على الله ربنا» کے بجائے «على الله توكلنا» روایت کیا ہے۔ ( اس کے معنی بھی وہی ہیں ) ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اعمش نے بھی اسے عطیہ سے اور عطیہ نے ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن مطرف، عن عطية العوفي، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كيف انعم وقد التقم صاحب القرن القرن وحنى جبهته واصغى سمعه ينتظر ان يومر ان ينفخ فينفخ " . قال المسلمون فكيف نقول يا رسول الله قال " قولوا حسبنا الله ونعم الوكيل توكلنا على الله ربنا " . وربما قال سفيان على الله توكلنا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد رواه الاعمش ايضا عن عطية عن ابي سعيد
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے کہا: اللہ کے رسول! صور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک سینگ ( بھوپو ) ہے جس میں پھونکا جائے گا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور ہم اسے صرف سلیمان تیمی کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، اخبرنا سليمان التيمي، عن اسلم العجلي، عن بشر بن شغاف، عن عبد الله بن عمرو، رضي الله عنهما قال قال اعرابي يا رسول الله ما الصور قال " قرن ينفخ فيه " . قال هذا حديث حسن انما نعرفه من حديث سليمان التيمي
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے مدینہ کے بازار میں کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں میں سے چن لیا، ( یہ سنا ) تو ایک انصاری شخص نے ہاتھ اٹھا کر ایک طمانچہ اس کے منہ پر مار دیا، کہا: تو ایسا کہتا ہے جب کہ ( تمام انسانوں اور جنوں کے سردار ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ( دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «ونفخ في الصور فصعق من في السموات ومن في الأرض إلا من شاء الله ثم نفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون» ”جب صور پھونکا جائے گا آواز کی کڑک سے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا آسمانوں و زمین کے سبھی لوگ غشی کھا جائیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا، تو وہ کھڑے ہو کر دیکھتے ہوں گے ( کہ ان کے ساتھ ) کیا کیا جاتا ہے؟“ ( الزمر: ۶۹ ) ، پڑھی اور کہا: سب سے پہلا سر اٹھانے والا میں ہوں گا تو موسیٰ مجھے عرش کا ایک پایہ پکڑے ہوئے دکھائی دیں گے، میں نہیں کہہ سکتا کہ موسیٰ نے مجھ سے پہلے سر اٹھایا ہو گا یا وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے «إلا من شاء الله» کہہ کر مستثنیٰ کر دیا ہے ۲؎ اور جس نے کہا: میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں اس نے غلط کہا ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، حدثنا محمد بن عمرو، حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال قال يهودي بسوق المدينة لا والذي اصطفى موسى على البشر . قال فرفع رجل من الانصار يده فصك بها وجهه قال تقول هذا وفينا نبي الله صلى الله عليه وسلم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ( ونفخ في الصور فصعق من في السموات ومن في الارض الا من شاء الله ثم نفخ فيه اخرى فاذا هم قيام ينظرون ) فاكون اول من رفع راسه فاذا موسى اخذ بقايمة من قوايم العرش فلا ادري ارفع راسه قبلي او كان ممن استثنى الله ومن قال انا خير من يونس بن متى فقد كذب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پکارنے والا پکار کر کہے گا: ( جنت میں ) تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی مرو گے نہیں، تم صحت مند رہو گے، کبھی بیمار نہ ہو گے، کبھی محتاج و حاجت مند نہ ہو گے، اللہ تعالیٰ کے قول: «وتلك الجنة التي أورثتموها بما كنتم تعملون» ”یہی وہ جنت ہے جس کے تم اپنے نیک اعمال کے بدلے وارث بنائے جاؤ گے“ ( الزخرف: ۷۲ ) ، کا یہی مطلب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن مبارک وغیرہ نے یہ حدیث ثوری سے روایت کی ہے، اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، وغير، واحد، قالوا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا الثوري، اخبرني ابو اسحاق، ان الاغر ابا مسلم، حدثه عن ابي سعيد، وابي، هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ينادي مناد ان لكم ان تحيوا فلا تموتوا ابدا وان لكم ان تصحوا فلا تسقموا ابدا وان لكم ان تشبوا فلا تهرموا ابدا وان لكم ان تنعموا فلا تباسوا ابدا " . فذلك قوله تعالى : (و تلك الجنة التي اورثتموها بما كنتم تعملون ) . قال ابو عيسى وروى ابن المبارك وغيره هذا الحديث عن الثوري ولم يرفعوه
وقد روي هذا الحديث، عن معاذ بن جبل، عن النبي صلى الله عليه وسلم بطوله وقال " اني نعست فاستثقلت نوما فرايت ربي في احسن صورة فقال فيم يختصم الملا الاعلى " . حدثنا محمد بن بشار حدثنا معاذ بن هاني ابو هاني اليشكري حدثنا جهضم بن عبد الله عن يحيى بن ابي كثير عن زيد بن سلام عن ابي سلام عن عبد الرحمن بن عايش الحضرمي انه حدثه عن مالك بن يخامر السكسكي عن معاذ بن جبل رضى الله عنه قال احتبس عنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات غداة عن صلاة الصبح حتى كدنا نتراءى عين الشمس فخرج سريعا فثوب بالصلاة فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وتجوز في صلاته فلما سلم دعا بصوته قال لنا " على مصافكم كما انتم " . ثم انفتل الينا ثم قال " اما اني ساحدثكم ما حبسني عنكم الغداة اني قمت من الليل فتوضات وصليت ما قدر لي فنعست في صلاتي حتى استثقلت فاذا انا بربي تبارك وتعالى في احسن صورة فقال يا محمد . قلت لبيك رب . قال فيم يختصم الملا الاعلى قلت لا ادري . قالها ثلاثا قال فرايته وضع كفه بين كتفى حتى وجدت برد انامله بين ثديى فتجلى لي كل شيء وعرفت فقال يا محمد . قلت لبيك رب قال فيم يختصم الملا الاعلى قلت في الكفارات قال ما هن قلت مشى الاقدام الى الجماعات والجلوس في المساجد بعد الصلوات واسباغ الوضوء في المكروهات . قال فيم قلت اطعام الطعام ولين الكلام والصلاة بالليل والناس نيام . قال سل . قلت اللهم اني اسالك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين وان تغفر لي وترحمني واذا اردت فتنة قوم فتوفني غير مفتون اسالك حبك وحب من يحبك وحب عمل يقرب الى حبك " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انها حق فادرسوها ثم تعلموها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . سالت محمد بن اسماعيل عن هذا الحديث فقال هذا حديث حسن صحيح . وقال هذا اصح من حديث الوليد بن مسلم عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر . قال حدثنا خالد بن اللجلاج حدثني عبد الرحمن بن عايش الحضرمي قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر الحديث وهذا غير محفوظ . هكذا ذكر الوليد في حديثه عن عبد الرحمن بن عايش قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم . وروى بشر بن بكر عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر هذا الحديث بهذا الاسناد عن عبد الرحمن بن عايش عن النبي صلى الله عليه وسلم . وهذا اصح . وعبد الرحمن بن عايش لم يسمع من النبي صلى الله عليه وسلم