احادیث
#3233
سنن ترمذی - Exegesis
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا بزرگ و برتر رب بہترین صورت میں میرے پاس آیا“، مجھے خیال پڑتا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”- خواب میں – رب کریم نے کہا: اے محمد! کیا تمہیں معلوم ہے کہ «ملا ٔ اعلی» ( اونچے مرتبے والے فرشتے ) کس بات پر آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں“، آپ نے فرمایا: ”میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا تو اللہ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے بیچ میں رکھ دیا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنی چھاتیوں کے درمیان محسوس کی، یا اپنے سینے میں یا «نحری» کہا، ( ہاتھ کندھے پر رکھنے کے بعد ) آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ میں جان گیا، رب کریم نے فرمایا: اے محمد! کیا تم جانتے ہو «ملا ٔ اعلی» میں کس بات پر جھگڑا ہو رہا ہے، ( بحث و تکرار ہو رہی ہے ) ؟ میں نے کہا: ہاں، کفارات گناہوں کو مٹا دینے والی چیزوں کے بارے میں ( کہ وہ کون کون سی چیزیں ہیں؟ ) ( فرمایا ) ”کفارات یہ ہیں: ( ۱ ) نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنا، ( ۲ ) پیروں سے چل کر نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جانا، ( ۳ ) ناگواری کے باوجود باقاعدگی سے وضو کرنا، جو ایسا کرے گا بھلائی کی زندگی گزارے گا، اور بھلائی کے ساتھ مرے گا اور اپنے گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہو جائے گا جس طرح وہ اس دن پاک و صاف تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا، رب کریم کہے گا: اے محمد! جب تم نماز پڑھ چکو تو کہو: «اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين وإذا أردت بعبادك فتنة فاقبضني إليك غير مفتون» ”اے اللہ میں تجھ سے بھلے کام کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور ناپسندیدہ و منکر کاموں سے بچنا چاہتا ہوں اور مسکینوں سے محبت کرنا چاہتا ہوں، اور جب تو اپنے بندوں کو کسی آزمائش میں ڈالنا چاہیئے تو فتنے میں ڈالے جانے سے پہلے مجھے اپنے پاس بلا لے“، آپ نے فرمایا: ”درجات بلند کرنے والی چیزیں ( ۱ ) سلام کو پھیلانا عام کرنا ہے، ( ۲ ) ( محتاج و مسکین ) کو کھانا کھلانا ہے، ( ۳ ) رات کو تہجد پڑھنا ہے کہ جب لوگ سو رہے ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- کچھ محدثین نے ابوقلابہ اور ابن عباس رضی الله عنہما کے درمیان اس حدیث میں ایک شخص کا ذکر کیا ہے۔ ( اور وہ خالد بن لجلاج ہیں ان روایت کے آگے آ رہی ہے ) ۲- اس حدیث کو قتادہ نے ابوقلابہ سے روایت کی ہے اور ابوقلابہ نے خالد بن لجلاج سے، اور خالد بن لجلاج نے ابن عباس سے روایت کی ہے۔
حدثنا سلمة بن شبيب، وعبد بن حميد، قالا حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتاني الليلة ربي تبارك وتعالى في احسن صورة قال احسبه قال في المنام فقال يا محمد هل تدري فيم يختصم الملا الاعلى قال قلت لا . قال فوضع يده بين كتفى حتى وجدت بردها بين ثديى او قال في نحري فعلمت ما في السموات وما في الارض قال يا محمد هل تدري فيم يختصم الملا الاعلى قلت نعم . قال في الكفارات . والكفارات المكث في المساجد بعد الصلوات والمشى على الاقدام الى الجماعات واسباغ الوضوء في المكاره ومن فعل ذلك عاش بخير ومات بخير وكان من خطييته كيوم ولدته امه وقال يا محمد اذا صليت فقل اللهم اني اسالك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين واذا اردت بعبادك فتنة فاقبضني اليك غير مفتون قال والدرجات افشاء السلام واطعام الطعام والصلاة بالليل والناس نيام
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3233
- Book Index
- 285
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiHasan
