Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ نے آیت: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين» ( غافر: 60 ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن منصور، والاعمش، عن ذر، عن يسيع الحضرمي، عن النعمان بن بشير، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " الدعاء هو العبادة " . ثم قرا : ( وقال ربكم ادعوني استجب لكم ان الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين ) قال ابو عيسى . هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تین آدمی خانہ کعبہ کے قریب جھگڑ بیٹھے، دو قریشی تھے اور ایک ثقفی، یا دو ثقفی تھے اور ایک قریشی، ان کے پیٹوں پر چربی چڑھی تھی، ان میں سے ایک نے کہا: کیا سمجھتے ہو کہ ہم جو کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے، دوسرے نے کہا: ہم جب زور سے بولتے ہیں تو وہ سنتا ہے اور جب ہم دھیرے بولتے ہیں تو وہ نہیں سنتا۔ تیسرے نے کہا: اگر وہ ہمارے زور سے بولنے کو سنتا ہے تو وہ ہمارے دھیرے بولنے کو بھی سنتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وما كنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعكم ولا أبصاركم ولا جلودكم» ( فصلت: 22 ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن منصور، عن مجاهد، عن ابي معمر، عن ابن مسعود، قال اختصم عند البيت ثلاثة نفر قرشيان وثقفي او ثقفيان وقرشي قليلا فقه قلوبهم كثيرا شحم بطونهم فقال احدهم اترون ان الله يسمع ما نقول فقال الاخر يسمع اذا جهرنا ولا يسمع اذا اخفينا . وقال الاخر ان كان يسمع اذا جهرنا فانه يسمع اذا اخفينا . فانزل الله : ( وما كنتم تستترون ان يشهد عليكم سمعكم ولا ابصاركم ولا جلودكم ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
(عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: میں کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا کھڑا تھا، تین ناسمجھ جن کے پیٹوں کی چربی زیادہ تھی ) آئے، ایک قریشی تھا اور دو اس کے سالے ثقفی تھے، یا ایک ثقفی تھا اور دو اس کے قریشی سالے تھے، انہوں نے ایک ایسی زبان میں بات کی جسے میں سمجھ نہ سکا، ان میں سے ایک نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے: کیا اللہ ہماری یہ بات چیت سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا: جب ہم بآواز بلند بات چیت کرتے ہیں تو سنتا ہے، اور جب ہم اپنی آواز بلند نہیں کرتے ہیں تو نہیں سنتا ہے، تیسرے نے کہا: اگر وہ ہماری بات چیت کا کچھ حصہ سن سکتا ہے تو وہ سبھی کچھ سن سکتا ہے، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر آیت «وما كنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعكم ولا أبصاركم ولا جلودكم» ( فصلت: 22 ) سے لے کر «فأصبحتم من الخاسرين» ( فصلت: 23 ) تک نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں ـ: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن عبد الرحمن بن يزيد، قال قال عبد الله كنت مستترا باستار الكعبة فجاء ثلاثة نفر كثير شحم بطونهم قليل فقه قلوبهم قرشي وختناه ثقفيان او ثقفي وختناه قرشيان فتكلموا بكلام لم افهمه فقال احدهم اترون ان الله يسمع كلامنا هذا فقال الاخر انا اذا رفعنا اصواتنا سمعه واذا لم نرفع اصواتنا لم يسمعه فقال الاخر ان سمع منه شييا سمعه كله فقال عبد الله فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فانزل الله : ( وما كنتم تستترون ان يشهد عليكم سمعكم ولا ابصاركم ولا جلودكم ) الى قوله : (اصبحتم من الخاسرين ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن وهب بن ربيعة، عن عبد الله، نحوه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «إن الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا» ( فصلت: 30 ) ۱؎ پڑھی، آپ نے فرمایا: ”بہتوں نے تو «ربنا الله» کہنے کے باوجود بھی کفر کیا، سنو جو اپنے ایمان پر آخر وقت تک قائم رہ کر مرا وہ استقامت کا راستہ اختیار کرنے والوں میں سے ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- میں نے ابوزرعہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عفان نے عمرو بن علی سے ایک حدیث روایت کی ہے، ۴- اس آیت کے سلسلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما سے «استقاموا» کا معنی مروی ہے۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي الفلاس حدثنا ابو قتيبة، سلم بن قتيبة حدثنا سهيل بن ابي حزم القطعي، حدثنا ثابت البناني، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا : (ان الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا ) قال " قد قال الناس ثم كفر اكثرهم فمن مات عليها فهو ممن استقام " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . سمعت ابا زرعة يقول روى عفان عن عمرو بن علي حديثا ويروى في هذه الاية عن النبي صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر رضى الله عنهما معنى استقاموا
طاؤس کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے اس آیت «قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى» ”اے نبی! کہہ دو میں تم سے ( اپنی دعوت و تبلیغ کا ) کوئی اجر نہیں مانگتا، ہاں چاہتا ہوں کہ قرابت داروں میں الفت و محبت پیدا ہو“ ( الشوریٰ: ۲۳ ) ، کے بارے میں پوچھا گیا، اس پر سعید بن جبیر نے کہا: «قربیٰ» سے مراد آل محمد ہیں، ابن عباس نے کہا: ( تم نے رشتہ داری کی تشریح میں جلد بازی کی ہے ) قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں تھی جس میں آپ کی رشتہ داری نہ ہو، ( آیت کا مفہوم ہے ) اللہ نے کہا: میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا ( بس میں تو یہ چاہتا ہوں کہ ) ہمارے اور تمہارے درمیان جو رشتہ داری ہے اس کا پاس و لحاظ رکھو اور ایک دوسرے سے حسن سلوک کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عباس رضی الله عنہما سے آئی ہے۔
حدثنا بندار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عبد الملك بن ميسرة، قال سمعت طاوسا، قال سيل ابن عباس عن هذه الاية : (قل لا اسالكم عليه اجرا الا المودة في القربى ) فقال سعيد بن جبير قربى ال محمد صلى الله عليه وسلم . فقال ابن عباس اعلمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن بطن من قريش الا كان له فيهم قرابة فقال الا ان تصلوا ما بيني وبينكم من القرابة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن ابن عباس
بنی مرہ کے ایک شیخ کہتے ہیں کہ میں کوفہ آیا مجھے بلال بن ابوبردہ ۱؎ کے حالات کا علم ہوا تو میں نے ( جی میں ) کہا کہ ان میں عبرت و موعظت ہے، میں ان کے پاس آیا، وہ اپنے اس گھر میں محبوس و مقید تھے جسے انہوں نے خود ( اپنے عیش و آرام کے لیے ) بنوایا تھا، عذاب اور مار پیٹ کے سبب ان کی ہر چیز کی صورت و شکل بدل چکی تھی، وہ چیتھڑا پہنے ہوئے تھے، میں نے کہا: اے بلال! تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، میں نے آپ کو اس وقت بھی دیکھا ہے جب آپ بغیر دھول اور گردوغبار کے ( نزاکت و نفاست سے ) ناک پکڑ کر ہمارے پاس سے گزر جاتے تھے، اور آج آپ اس حالت میں ہیں؟ انہوں نے کہا: تم کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو؟ میں نے کہا: بنی مرہ بن عباد سے، انہوں نے کہا: کیا میں تم سے ایک ایسی حدیث نہ بتاؤں جس سے امید ہے کہ اللہ تمہیں اس سے فائدہ پہنچائے گا، میں نے کہا: پیش فرمائیے، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے باپ ابوبردہ نے بیان کیا اور وہ اپنے باپ ابوموسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی بندے کو چھوٹی یا بڑی جو بھی مصیبت پہنچتی ہے اس کے گناہ کے سبب ہی پہنچتی ہے، اور اللہ اس کے جن گناہوں سے درگزر فرما دیتا ہے وہ تو بہت ہوتے ہیں“۔ پھر انہوں نے آیت پڑھی «وما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم ويعفو عن كثير» ( الشورى: 30 ) پڑھی ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا عبيد الله بن الوازع، حدثني شيخ، من بني مرة قال قدمت الكوفة فاخبرت عن بلال بن ابي بردة، فقلت ان فيه لمعتبرا فاتيته وهو محبوس في داره التي قد كان بنى قال واذا كل شيء منه قد تغير من العذاب والضرب واذا هو في قشاش فقلت الحمد لله يا بلال لقد رايتك وانت تمر بنا تمسك بانفك من غير غبار وانت في حالك هذا اليوم فقال ممن انت فقلت من بني مرة بن عباد . فقال الا احدثك حديثا عسى الله ان ينفعك به قلت هات . قال حدثني ابي ابو بردة عن ابيه ابي موسى ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يصيب عبدا نكبة فما فوقها او دونها الا بذنب وما يعفو الله عنه اكثر " . قال وقرا : (وما اصابكم من مصيبة فبما كسبت ايديكم ويعفو عن كثير ) . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی قوم ہدایت پانے کے بعد جب گمراہ ہو جاتی ہے تو جھگڑا لو اور مناظرہ باز ہو جاتی ہے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی «ما ضربوه لك إلا جدلا بل هم قوم خصمون» ”یہ لوگ تیرے سامنے صرف جھگڑے کے طور پر کہتے ہیں بلکہ یہ لوگ طبعاً جھگڑالو ہیں“ ( الزخرف: ۵۸ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم اسے صرف حجاج بن دینار کی روایت سے جانتے ہیں، حجاج ثقہ، مقارب الحدیث ہیں اور ابوغالب کا نام حزور ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا محمد بن بشر، ويعلى بن عبيد، عن حجاج بن دينار، عن ابي غالب، عن ابي امامة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما ضل قوم بعد هدى كانوا عليه الا اوتوا الجدل " . ثم تلا رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه الاية : (ما ضربوه لك الا جدلا بل هم قوم خصمون ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح انما نعرفه من حديث حجاج بن دينار . وحجاج ثقة مقارب الحديث وابو غالب اسمه حزور
مسروق کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے پاس آ کر کہا: ایک قصہ گو ( واعظ ) قصہ بیان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا ( قیامت کے قریب ) زمین سے دھواں نکلے گا، جس سے کافروں کے کان بند ہو جائیں گے، اور مسلمانوں کو زکام ہو جائے گا۔ مسروق کہتے ہیں: یہ سن کر عبداللہ غصہ ہو گئے ( پہلے ) ٹیک لگائے ہوئے تھے، ( سنبھل کر ) بیٹھ گئے۔ پھر کہا: تم میں سے جب کسی سے کوئی چیز پوچھی جائے اور وہ اس کے بارے میں جانتا ہو تو اسے بتانی چاہیئے اور جب کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو اسے «اللہ اعلم» ”اللہ بہتر جانتا ہے“ کہنا چاہیئے، کیونکہ یہ آدمی کے علم و جانکاری ہی کی بات ہے کہ جب اس سے کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو وہ کہہ دے «اللہ اعلم» ”اللہ بہتر جانتا ہے“، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا: «قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين» ”کہہ دو میں تم سے اس کام پر کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، اور میں خود سے باتیں بنانے والا بھی نہیں ہوں“ ( ص: ۸۶ ) ، ( بات اس دخان کی یہ ہے کہ ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو دیکھا کہ وہ نافرمانی ہی کیے جا رہے ہیں تو آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! یوسف علیہ السلام کے سات سالہ قحط کی طرح ان پر سات سالہ قحط بھیج کر ہماری مدد کر“ ( آپ کی دعا قبول ہو گئی ) ، ان پر قحط پڑ گیا، ہر چیز اس سے متاثر ہو گئی، لوگ چمڑے اور مردار کھانے لگے ( اس حدیث کے دونوں راویوں اعمش و منصور میں سے ایک نے کہا ہڈیاں بھی کھانے لگے ) ، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: دھواں جیسی چیز زمین سے نکلنے لگی، تو ابوسفیان نے آپ کے پاس آ کر کہا: آپ کی قوم ہلاک و برباد ہو گئی، آپ ان کی خاطر اللہ سے دعا فرما دیجئیے عبداللہ نے کہا: یہی مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «يوم تأتي السماء بدخان مبين يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”جس دن آسمان کھلا ہوا دھواں لائے گا یہ ( دھواں ) لوگوں کو ڈھانپ لے گا، یہ بڑا تکلیف دہ عذاب ہے“ ( الدخان: ۱۰ ) ، کا، منصور کہتے ہیں: یہی مفہوم ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «ربنا اكشف عنا العذاب إنا مؤمنون» ”اے ہمارے رب! ہم سے عذاب کو ٹال دے ہم ایمان لانے والے ہیں“ ( الدخان: ۱۲ ) ، کا، تو کیا آخرت کا عذاب ٹالا جا سکے گا؟ ۔ عبداللہ کہتے ہیں: «بطشہ»، «لزام» ( بدر ) اور دخان کا ذکرو زمانہ گزر گیا اعمش اور منصور دونوں راویوں میں سے، ایک نے کہا: «قمر» ( چاند ) کا شق ہونا گزر گیا، اور دوسرے نے کہا: روم کے مغلوب ہونے کا واقعہ بھی پیش آ چکا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- «لزام» سے مراد یوم بدر ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الملك بن ابراهيم الجدي، حدثنا شعبة، عن الاعمش، ومنصور، سمعا ابا الضحى، يحدث عن مسروق، قال جاء رجل الى عبد الله فقال ان قاصا يقص يقول انه يخرج من الارض الدخان فياخذ بمسامع الكفار وياخذ المومن كهيية الزكام قال فغضب وكان متكيا فجلس ثم قال اذا سيل احدكم عما يعلم فليقل به قال منصور فليخبر به واذا سيل عما لا يعلم فليقل الله اعلم فان من علم الرجل اذا سيل عما لا يعلم ان يقول الله اعلم فان الله تعالى قال لنبيه : (قل ما اسالكم عليه من اجر وما انا من المتكلفين ) " . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما راى قريشا استعصوا عليه قال " اللهم اعني عليهم بسبع كسبع يوسف " . فاخذتهم سنة فاحصت كل شيء حتى اكلوا الجلود والميتة وقال احدهما العظام قال وجعل يخرج من الارض كهيية الدخان قال فاتاه ابو سفيان قال ان قومك قد هلكوا فادع الله لهم . قال فهذا لقوله : ( يوم تاتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب اليم ) . قال منصور هذا لقوله ( ربنا اكشف عنا العذاب انا مومنون ) فهل يكشف عذاب الاخرة قال مضى البطشة واللزام الدخان وقال احدهما القمر وقال الاخر الروم . قال ابو عيسى واللزام يعني يوم بدر . قال وهذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کے نیک عمل چڑھتے ہیں اور ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کی روزی اترتی ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: «فما بكت عليهم السماء والأرض وما كانوا منظرين» ” ( کفار و مشرکین ) پر زمین و آسمان کوئی بھی نہ رویا اور انہیں کسی بھی طرح کی مہلت نہ دی گئی“ ( الدخان: ۲۹ ) ، کا مطلب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
حدثنا الحسين بن حريث، حدثنا وكيع، عن موسى بن عبيدة، عن يزيد بن ابان، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مومن الا وله بابان باب يصعد منه عمله وباب ينزل منه رزقه فاذا مات بكيا عليه فذلك قوله عز وجل ( فما بكت عليهم السماء والارض وما كانوا منظرين ) . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه مرفوعا الا من هذا الوجه . وموسى بن عبيدة ويزيد بن ابان الرقاشي يضعفان في الحديث
عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے بھتیجے کہتے ہیں کہ جب عثمان غنی رضی الله عنہ کو جان سے مار ڈالنے کا ارادہ کر لیا گیا تو عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ ان کے پاس آئے، عثمان رضی الله عنہ نے ان سے کہا: تم کس مقصد سے یہاں آئے ہو؟ انہوں نے کہا: میں آپ کی مدد میں ( آپ کو بچانے کے لیے ) آیا ہوں، انہوں نے کہا: تم لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں مجھ سے دور ہٹا دو، تمہارا میرے پاس رہنے سے باہر رہنا زیادہ بہتر ہے، چنانچہ عبداللہ بن سلام لوگوں کے پاس آئے اور انہیں مخاطب کر کے کہا: لوگو! میرا نام جاہلیت میں فلاں تھا ( یعنی حصین ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام عبداللہ رکھا، میرے بارے میں کتاب اللہ کی کئی آیات نازل ہوئیں، میرے بارے میں آیت: «وشهد شاهد من بني إسرائيل على مثله فآمن واستكبرتم إن الله لا يهدي القوم الظالمين» ”بنی اسرائیل میں سے گواہی دینے والے نے اس کے مثل گواہی دی ( یعنی اس بات پر گواہی دی کہ قرآن اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے ) اور ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا، اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا“ ( الاحقاف: ۱۰ ) ، اور میرے ہی حق میں «قل كفى بالله شهيدا بيني وبينكم ومن عنده علم الكتاب» ”اے نبی کہہ دو! اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور وہ بھی گواہ ہے جس کے پاس کتاب کا علم ہے ( اس سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں کہ حق کیا ہے اور کس کے پاس ہے ) “ ( الرعد: ۴۳ ) ، آیت اتری ہے، بیشک اللہ کے پاس ایسی تلوار ہے جو تمہیں نظر نہیں آتی، بیشک تمہارے اس شہر میں جس میں تمہارے نبی بھیجے گئے، فرشتے تمہارے پڑوسی ہیں، تو ڈرو اللہ سے، ڈرو اللہ سے اس شخص ( عثمان ) کے قتل کر دینے سے، قسم ہے اللہ کی اگر تم لوگوں نے انہیں قتل کر ڈالا تو تم اپنے پڑوسی فرشتوں کو اپنے سے دور کر دو گے ( بھگا دو گے ) اور اللہ کی وہ تلوار جو تمہاری نظروں سے پوشیدہ ہے تمہارے خلاف سونت دی جائے گی، پھر وہ قیامت تک میان میں ڈالی نہ جا سکے گی، راوی کہتے ہیں: لوگوں نے ( عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی بات سن کر ) کہا: اس یہودی کو قتل کر دو، اور عثمان رضی الله عنہ کو بھی مار ڈالو قتل کر دو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث کو شعیب بن صفوان نے عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک بن عمیر نے ابن محمد بن عبداللہ بن سلام سے اور ابن محمد نے اپنے دادا عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا علي بن سعيد الكندي، حدثنا ابو محياة، عن عبد الملك بن عمير، عن ابن اخي عبد الله بن سلام، لما اريد عثمان جاء عبد الله بن سلام فقال له عثمان ما جاء بك قال جيت في نصرك قال اخرج الى الناس فاطردهم عني فانك خارج خير لي منك داخل . فخرج عبد الله الى الناس فقال ايها الناس انه كان اسمي في الجاهلية فلان فسماني رسول الله صلى الله عليه وسلم عبد الله ونزل في ايات من كتاب الله نزلت في : ( وشهد شاهد من بني اسراييل على مثله فامن واستكبرتم ان الله لا يهدي القوم الظالمين ) ونزلت في : (قل كفى بالله شهيدا بيني وبينكم ومن عنده علم الكتاب ) ان لله سيفا مغمودا عنكم وان الملايكة قد جاورتكم في بلدكم هذا الذي نزل فيه نبيكم فالله الله في هذا الرجل ان تقتلوه فوالله ان قتلتموه لتطردن جيرانكم الملايكة ولتسلن سيف الله المغمود عنكم فلا يغمد الى يوم القيامة قال فقالوا اقتلوا اليهودي واقتلوا عثمان . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وقد رواه شعيب بن صفوان عن عبد الملك بن عمير عن ابن محمد بن عبد الله بن سلام عن جده عبد الله بن سلام
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب برسنے والا کوئی بادل دیکھتے تو آگے بڑھتے پیچھے ہٹتے ( اندر آتے باہر جاتے ) مگر جب بارش ہونے لگتی تو اسے دیکھ خوش ہو جاتے، میں نے عرض کیا: ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ( صحیح ) جانتا تو نہیں شاید وہ کچھ ایسا ہی نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا» ”جب انہوں نے اسے بحیثیت بادل اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ بادل ہم پر برسنے آ رہا ہے، بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کی تم نے جلدی مچا رکھی تھی ( آندھی ہے کہ جس میں نہایت درد ناک عذاب ہے ) “ ( الاحقاف: ۲۴ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا عبد الرحمن بن الاسود ابو عمرو البصري، حدثنا محمد بن ربيعة، عن ابن جريج، عن عطاء، عن عايشة، رضى الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا راى مخيلة اقبل وادبر فاذا مطرت سري عنه . قالت فقلت له . فقال " وما ادري لعله كما قال الله تعالى : (فلما راوه عارضا مستقبل اوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا ) " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے کہا: کیا جنوں والی رات میں آپ لوگوں میں سے کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا؟ انہوں نے کہا: ہم میں سے کوئی آپ کے ساتھ نہیں تھا، آپ مکہ میں تھے اس وقت کی بات ہے، ایک رات ہم نے آپ کو نائب پایا، ہم نے کہا: آپ کا اغوا کر لیا گیا ہے یا ( جن ) اڑا لے گئے ہیں، آپ کے ساتھ کیا کیا گیا ہے؟ بری سے بری رات جو کوئی قوم گزار سکتی ہے ہم نے ویسی ہی اضطراب وبے چینی کی رات گزاری، یہاں تک کہ جب صبح ہوئی، یا صبح تڑکے کا وقت تھا اچانک ہم نے دیکھا کہ آپ حرا کی جانب سے تشریف لا رہے ہیں، لوگوں نے آپ سے اپنی اس فکرو تشویش کا ذکر کیا جس سے وہ رات کے وقت دوچار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنوں کا قاصد ( مجھے بلانے ) آیا، تو میں ان کے پاس گیا، اور انہیں قرآن پڑھ کر سنایا“، ابن مسعود کہتے ہیں: ـ پھر آپ اٹھ کر چلے اور ہمیں ان کے آثار ( نشانات و ثبوت ) دکھائے، اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ شعبی کہتے ہیں: جنوں نے آپ سے توشہ مانگا، اور وہ جزیرہ کے رہنے والے جن تھے، آپ نے فرمایا: ”ہر ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا جائے گا تمہارے ہاتھ میں پہنچ کر پہلے سے زیادہ گوشت والی بن جائے گی، ہر مینگنی اور لید ( گوبر ) تمہارے جانوروں کا چارہ ہے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( صحابہ سے ) فرمایا: ” ( اسی وجہ سے ) ان دونوں چیزوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ دونوں چیزیں تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن ابراهيم، عن داود، عن الشعبي، عن علقمة، قال قلت لابن مسعود رضى الله عنه هل صحب النبي صلى الله عليه وسلم ليلة الجن منكم احد قال ما صحبه منا احد ولكن قد افتقدناه ذات ليلة وهو بمكة فقلنا اغتيل او استطير ما فعل به فبتنا بشر ليلة بات بها قوم حتى اذا اصبحنا او كان في وجه الصبح اذا نحن به يجيء من قبل حراء قال فذكروا له الذي كانوا فيه فقال " اتاني داعي الجن فاتيتهم فقرات عليهم " . فانطلق فارانا اثارهم واثار نيرانهم . قال الشعبي وسالوه الزاد وكانوا من جن الجزيرة فقال " كل عظم لم يذكر اسم الله عليه يقع في ايديكم اوفر ما كان لحما وكل بعرة او روثة علف لدوابكم " . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فلا تستنجوا بهما فانهما زاد اخوانكم من الجن " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «واستغفر لذنبك وللمؤمنين والمؤمنات» ”تو اپنے گناہوں کے لیے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے مغفرت مانگ“ ( محمد: ۱۹ ) ، کی تفسیر میں فرمایا: ”میں اللہ سے ہر دن ستر بار مغفرت طلب کرتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دن میں اللہ سے سو بار مغفرت طلب کرتا ہوں“، ۳- نیز متعدد دیگر سندوں سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ میں اللہ سے ہر دن سو مرتبہ استغفار طلب کرتا ہوں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، رضى الله عنه : (واستغفر لذنبك وللمومنين والمومنات ) فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اني لاستغفر الله في اليوم سبعين مرة " . قال هذا حديث حسن صحيح . - ويروى عن ابي هريرة ايضا عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اني لاستغفر الله في اليوم ماية مرة " . وقد روي من غير وجه عن النبي صلى الله عليه وسلم " اني لاستغفر الله في اليوم ماية مرة " . ورواه محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن یہ آیت «وإن تتولوا يستبدل قوما غيركم ثم لا يكونوا أمثالكم» ”اے عرب کے لوگو! تم ( ایمان و جہاد سے ) پھر جاؤ گے تو تمہارے بدلے اللہ دوسری قوم کو لا کر کھڑا کرے گا، وہ تمہارے جیسے نہیں ( بلکہ تم سے اچھے ) ہوں گے“ ( محمد: ۳۸ ) ، تلاوت فرمائی، صحابہ نے کہا: ہمارے بدلے کون لوگ لائے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان کے کندھے پر ہاتھ مارا ( رکھا ) پھر فرمایا: ”یہ اور اس کی قوم، یہ اور اس کی قوم“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند میں کلام ہے، ۳- عبداللہ بن جعفر نے بھی یہ حدیث علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت کی ہے ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا شيخ، من اهل المدينة عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال تلا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما هذه الاية : (وان تتولوا يستبدل قوما غيركم ثم لا يكونوا امثالكم ) قالوا ومن يستبدل بنا قال فضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم على منكب سلمان ثم قال " هذا وقومه هذا وقومه " . قال هذا حديث غريب في اسناده مقال . وقد روى عبد الله بن جعفر ايضا هذا الحديث عن العلاء بن عبد الرحمن
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ نے کیا ہے کہ اگر ہم پلٹ جائیں گے تو وہ ہماری جگہ لے آئے جائیں گے، اور وہ ہم جیسے نہ ہوں گے، سلمان رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان رضی الله عنہ کی ران پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: ”یہ اور ان کے اصحاب، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ایمان ثریا ۱؎ کے ساتھ بھی معلق ہو گا تو بھی فارس کے کچھ لوگ اسے پا لیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ عبداللہ بن جعفر بن نجیح: علی بن المدینی کے والد ہیں، ۲- علی بن حجر نے عبداللہ بن جعفر سے بہت سے احادیث روایت کی ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، انبانا اسماعيل بن جعفر، حدثنا عبد الله بن جعفر بن نجيح، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، انه قال قال ناس من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يا رسول الله من هولاء الذين ذكر الله ان تولينا استبدلوا بنا ثم لم يكونوا امثالنا قال وكان سلمان بجنب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم فخذ سلمان قال " هذا واصحابه والذي نفسي بيده لو كان الايمان منوطا بالثريا لتناوله رجال من فارس " . قال ابو عيسى وعبد الله بن جعفر بن نجيح هو والد علي بن المديني وقد روى علي بن حجر عن عبد الله بن جعفر الكثير . وحدثنا علي بهذا الحديث عن اسماعيل بن جعفر عن عبد الله بن جعفر . وحدثنا بشر بن معاذ، حدثنا عبد الله بن جعفر، عن العلاء، نحوه الا انه قال معلق بالثريا
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، میں نے آپ سے کچھ کہا، آپ خاموش رہے، میں نے پھر آپ سے بات کی آپ پھر خاموش رہے، میں نے پھر بات کی آپ ( اس بار بھی ) خاموش رہے، میں نے اپنی سواری کو جھٹکا دیا اور ایک جانب ( کنارے ) ہو گیا، اور ( اپنے آپ سے ) کہا: ابن خطاب! تیری ماں تجھ پر روئے، تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار اصرار کیا، اور آپ نے تجھ سے ایک بار بھی بات نہیں کی، تو اس کا مستحق اور سزاوار ہے کہ تیرے بارے میں کوئی آیت نازل ہو ( اور تجھے سرزنش کی جائے ) عمر بن خطاب کہتے ہیں: ابھی کچھ بھی دیر نہ ہوئی تھی کہ میں نے ایک پکارنے والے کو سنا، وہ مجھے پکار رہا تھا، عمر بن خطاب کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نے فرمایا: ”ابن خطاب! آج رات مجھ پر ایک ایسی سورۃ نازل ہوئی ہے جو مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج نکلتا ہے اور وہ سورۃ یہ ہے «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» ”بیشک اے نبی! ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے“ ( الفتح: ۱ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- بعض نے اس حدیث کو مالک سے مرسلاً ( بلاعاً ) روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن خالد بن عثمة، حدثنا مالك بن انس، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، قال سمعت عمر بن الخطاب، رضى الله عنه يقول كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض اسفاره فكلمت رسول الله صلى الله عليه وسلم فسكت ثم كلمته فسكت ثم كلمته فسكت فحركت راحلتي فتنحيت وقلت ثكلتك امك يا ابن الخطاب نزرت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث مرات كل ذلك لا يكلمك ما اخلقك ان ينزل فيك قران قال فما نشبت ان سمعت صارخا يصرخ بي قال فجيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا ابن الخطاب لقد انزل على هذه الليلة سورة ما احب ان لي بها ما طلعت عليه الشمس : (انا فتحنا لك فتحا مبينا ) " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب ورواه بعضهم عن مالك مرسلا
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حدیبیہ سے واپسی کے وقت «ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر» ” ( اللہ نے جہاد اس لیے فرض کیا ہے ) تاکہ اللہ تمہارے اگلے پچھلے گناہ بخش دے“ ( الفتح: ۲ ) ، نازل ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے زمین کی ساری چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“، پھر آپ نے وہ آیت سب کو پڑھ کر سنائی، لوگوں نے ( سن کر ) «هنيأ مريئًا» ( آپ کے لیے خوش گوار اور مبارک ہو ) کہا، اے اللہ کے نبی! اللہ نے آپ کو بتا دیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا مگر ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ اس پر آیت «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحتها الأنهار» سے لے کر سے «فوزا عظيما» ”تاکہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہ دور کر دے اور اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے“ ( الفتح: ۵ ) ، تک نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں مجمع بن جاریہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن قتادة، عن انس، رضى الله عنه قال انزلت على النبي صلى الله عليه وسلم : (ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تاخر ) مرجعه من الحديبية فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لقد انزلت على اية احب الى مما على الارض ثم قراها النبي صلى الله عليه وسلم عليهم فقالوا هنييا مرييا يا نبي الله قد بين الله لك ماذا يفعل بك فماذا يفعل بنا فنزلت عليه : ( ليدخل المومنين والمومنات جنات تجري من تحتها الانهار ) حتى بلغ : (فوزا عظيما ) قال هذا حديث حسن صحيح وفيه عن مجمع بن جارية
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ پر حملہ آور ہونے کے لیے اسی ( ۸۰ ) کی تعداد میں کافر تنعیم پہاڑ سے نماز فجر کے وقت اترے، وہ چاہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں، مگر سب کے سب پکڑے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت: «وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم» ”وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے“ ( الفتح: ۲۴ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثني سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس، ان ثمانين، هبطوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه من جبل التنعيم عند صلاة الصبح وهم يريدون ان يقتلوه فاخذوا اخذا فاعتقهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فانزل الله : ( هو الذي كف ايديهم عنكم وايديكم عنهم ) الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «وألزمهم كلمة التقوى» ”اللہ نے انہیں تقوے کی بات پر جمائے رکھا“ ( الفتح: ۲۶ ) ، کے متعلق فرمایا: ”اس سے مراد «لا إله إلا الله» ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسے ہم حسن بن قزعہ کے سوا کسی اور کو مرفوع روایت کرتے ہوئے نہیں جانتے، ۳- میں نے ابوزرعہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس سند کے سوا کسی اور سند سے اسے مرفوع نہیں جانا۔
حدثنا الحسن بن قزعة البصري، حدثنا سفيان بن حبيب، عن شعبة، عن ثوير، عن ابيه، عن الطفيل بن ابى بن كعب، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم : ( والزمهم كلمة التقوى ) قال لا اله الا الله . قال هذا حديث غريب لا نعرفه مرفوعا الا من حديث الحسن بن قزعة قال وسالت ابا زرعة عن هذا الحديث فلم يعرفه مرفوعا الا من هذا الوجه
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں ان کی اپنی قوم پر عامل بنا دیجئیے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں عامل نہ بنائیے، ان دونوں حضرات نے آپ کی موجودگی میں آپس میں توتو میں میں کی، ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، ابوبکر نے عمر رضی الله عنہما سے کہا: آپ کو تو بس ہماری مخالفت ہی کرنی ہے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: میں آپ کی مخالفت نہیں کرتا، چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي» ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرو“ ( الحجرات: ۲ ) ، اس واقعہ کے بعد عمر رضی الله عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرتے تو اتنے دھیرے بولتے کہ بات سنائی نہیں پڑتی، سامع کو ان سے پوچھنا پڑ جاتا، راوی کہتے ہیں: ابن زبیر نے اپنے نانا یعنی ابوبکر رضی الله عنہ کا ذکر نہیں کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض نے اس حدیث کو ابن ابی ملیکہ سے مرسل طریقہ سے روایت کیا ہے اور اس میں عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا مومل بن اسماعيل، حدثنا نافع بن عمر بن جميل الجمحي، حدثني ابن ابي مليكة، حدثني عبد الله بن الزبير، ان الاقرع بن حابس، قدم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال ابو بكر يا رسول الله استعمله على قومه . فقال عمر لا تستعمله يا رسول الله . فتكلما عند النبي صلى الله عليه وسلم حتى ارتفعت اصواتهما فقال ابو بكر لعمر ما اردت الا خلافي . فقال عمر ما اردت خلافك قال فنزلت هذه الاية : ( يا ايها الذين امنوا لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبي ) فكان عمر بن الخطاب بعد ذلك اذا تكلم عند النبي صلى الله عليه وسلم لم يسمع كلامه حتى يستفهمه . قال وما ذكر ابن الزبير جده يعني ابا بكر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وقد روى بعضهم عن ابن ابي مليكة مرسل ولم يذكر فيه عن عبد الله بن الزبير