احادیث
#3262
سنن ترمذی - Exegesis
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، میں نے آپ سے کچھ کہا، آپ خاموش رہے، میں نے پھر آپ سے بات کی آپ پھر خاموش رہے، میں نے پھر بات کی آپ ( اس بار بھی ) خاموش رہے، میں نے اپنی سواری کو جھٹکا دیا اور ایک جانب ( کنارے ) ہو گیا، اور ( اپنے آپ سے ) کہا: ابن خطاب! تیری ماں تجھ پر روئے، تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار اصرار کیا، اور آپ نے تجھ سے ایک بار بھی بات نہیں کی، تو اس کا مستحق اور سزاوار ہے کہ تیرے بارے میں کوئی آیت نازل ہو ( اور تجھے سرزنش کی جائے ) عمر بن خطاب کہتے ہیں: ابھی کچھ بھی دیر نہ ہوئی تھی کہ میں نے ایک پکارنے والے کو سنا، وہ مجھے پکار رہا تھا، عمر بن خطاب کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نے فرمایا: ”ابن خطاب! آج رات مجھ پر ایک ایسی سورۃ نازل ہوئی ہے جو مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج نکلتا ہے اور وہ سورۃ یہ ہے «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» ”بیشک اے نبی! ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے“ ( الفتح: ۱ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- بعض نے اس حدیث کو مالک سے مرسلاً ( بلاعاً ) روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن خالد بن عثمة، حدثنا مالك بن انس، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، قال سمعت عمر بن الخطاب، رضى الله عنه يقول كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض اسفاره فكلمت رسول الله صلى الله عليه وسلم فسكت ثم كلمته فسكت ثم كلمته فسكت فحركت راحلتي فتنحيت وقلت ثكلتك امك يا ابن الخطاب نزرت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث مرات كل ذلك لا يكلمك ما اخلقك ان ينزل فيك قران قال فما نشبت ان سمعت صارخا يصرخ بي قال فجيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا ابن الخطاب لقد انزل على هذه الليلة سورة ما احب ان لي بها ما طلعت عليه الشمس : (انا فتحنا لك فتحا مبينا ) " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب ورواه بعضهم عن مالك مرسلا
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3262
- Book Index
- 314
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih Bukhari
