احادیث
#3263
سنن ترمذی - Exegesis
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حدیبیہ سے واپسی کے وقت «ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر» ” ( اللہ نے جہاد اس لیے فرض کیا ہے ) تاکہ اللہ تمہارے اگلے پچھلے گناہ بخش دے“ ( الفتح: ۲ ) ، نازل ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے زمین کی ساری چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“، پھر آپ نے وہ آیت سب کو پڑھ کر سنائی، لوگوں نے ( سن کر ) «هنيأ مريئًا» ( آپ کے لیے خوش گوار اور مبارک ہو ) کہا، اے اللہ کے نبی! اللہ نے آپ کو بتا دیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا مگر ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ اس پر آیت «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحتها الأنهار» سے لے کر سے «فوزا عظيما» ”تاکہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہ دور کر دے اور اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے“ ( الفتح: ۵ ) ، تک نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں مجمع بن جاریہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن قتادة، عن انس، رضى الله عنه قال انزلت على النبي صلى الله عليه وسلم : (ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تاخر ) مرجعه من الحديبية فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لقد انزلت على اية احب الى مما على الارض ثم قراها النبي صلى الله عليه وسلم عليهم فقالوا هنييا مرييا يا نبي الله قد بين الله لك ماذا يفعل بك فماذا يفعل بنا فنزلت عليه : ( ليدخل المومنين والمومنات جنات تجري من تحتها الانهار ) حتى بلغ : (فوزا عظيما ) قال هذا حديث حسن صحيح وفيه عن مجمع بن جارية
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3263
- Book Index
- 315
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih Isnaad
- Al-AlbaniSahih Isnaad
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih
