احادیث
#3266
سنن ترمذی - Exegesis
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں ان کی اپنی قوم پر عامل بنا دیجئیے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں عامل نہ بنائیے، ان دونوں حضرات نے آپ کی موجودگی میں آپس میں توتو میں میں کی، ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، ابوبکر نے عمر رضی الله عنہما سے کہا: آپ کو تو بس ہماری مخالفت ہی کرنی ہے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: میں آپ کی مخالفت نہیں کرتا، چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي» ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرو“ ( الحجرات: ۲ ) ، اس واقعہ کے بعد عمر رضی الله عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرتے تو اتنے دھیرے بولتے کہ بات سنائی نہیں پڑتی، سامع کو ان سے پوچھنا پڑ جاتا، راوی کہتے ہیں: ابن زبیر نے اپنے نانا یعنی ابوبکر رضی الله عنہ کا ذکر نہیں کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض نے اس حدیث کو ابن ابی ملیکہ سے مرسل طریقہ سے روایت کیا ہے اور اس میں عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا مومل بن اسماعيل، حدثنا نافع بن عمر بن جميل الجمحي، حدثني ابن ابي مليكة، حدثني عبد الله بن الزبير، ان الاقرع بن حابس، قدم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال ابو بكر يا رسول الله استعمله على قومه . فقال عمر لا تستعمله يا رسول الله . فتكلما عند النبي صلى الله عليه وسلم حتى ارتفعت اصواتهما فقال ابو بكر لعمر ما اردت الا خلافي . فقال عمر ما اردت خلافك قال فنزلت هذه الاية : ( يا ايها الذين امنوا لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبي ) فكان عمر بن الخطاب بعد ذلك اذا تكلم عند النبي صلى الله عليه وسلم لم يسمع كلامه حتى يستفهمه . قال وما ذكر ابن الزبير جده يعني ابا بكر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وقد روى بعضهم عن ابن ابي مليكة مرسل ولم يذكر فيه عن عبد الله بن الزبير
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3266
- Book Index
- 318
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Bukhari
