احادیث
#3248
سنن ترمذی - Exegesis
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تین آدمی خانہ کعبہ کے قریب جھگڑ بیٹھے، دو قریشی تھے اور ایک ثقفی، یا دو ثقفی تھے اور ایک قریشی، ان کے پیٹوں پر چربی چڑھی تھی، ان میں سے ایک نے کہا: کیا سمجھتے ہو کہ ہم جو کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے، دوسرے نے کہا: ہم جب زور سے بولتے ہیں تو وہ سنتا ہے اور جب ہم دھیرے بولتے ہیں تو وہ نہیں سنتا۔ تیسرے نے کہا: اگر وہ ہمارے زور سے بولنے کو سنتا ہے تو وہ ہمارے دھیرے بولنے کو بھی سنتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وما كنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعكم ولا أبصاركم ولا جلودكم» ( فصلت: 22 ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن منصور، عن مجاهد، عن ابي معمر، عن ابن مسعود، قال اختصم عند البيت ثلاثة نفر قرشيان وثقفي او ثقفيان وقرشي قليلا فقه قلوبهم كثيرا شحم بطونهم فقال احدهم اترون ان الله يسمع ما نقول فقال الاخر يسمع اذا جهرنا ولا يسمع اذا اخفينا . وقال الاخر ان كان يسمع اذا جهرنا فانه يسمع اذا اخفينا . فانزل الله : ( وما كنتم تستترون ان يشهد عليكم سمعكم ولا ابصاركم ولا جلودكم ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3248
- Book Index
- 300
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
