Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
براء بن عازب رضی الله عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «إن الذين ينادونك من وراء الحجرات أكثرهم لا يعقلون» ”اے نبی! جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے آواز دے کر پکارتے ہیں، ان کی اکثریت بے عقلوں کی ہے“ ( الحجرات: ۴ ) ، کی تفسیر میں کہتے ہیں: ایک شخص نے ( آپ کے دروازے پر ) کھڑے ہو کر ( پکار کر ) کہا: اللہ کے رسول! میری تعریف میری عزت ہے اور میری مذمت ذلت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صفت تو اللہ کی ہے ( یہ اللہ ہی کی شان ہے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث، حدثنا الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، في قوله : ( ان الذين ينادونك من وراء الحجرات اكثرهم لا يعقلون ) قال فقام رجل فقال يا رسول الله ان حمدي زين وان ذمي شين فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ذاك الله تعالى " . قال هذا حديث حسن غريب
ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے دو دو تین تین نام ہوا کرتے تھے، ان میں سے بعض کو بعض نام سے پکارا جاتا تھا، اور بعض نام سے پکارنا اسے برا لگتا تھا، اس پر یہ آیت «ولا تنابزوا بالألقاب» ”لوگوں کو برے القاب ( برے ناموں ) سے نہ پکارو“ ( الحجرات: ۱۱ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوجبیرہ، یہ ثابت بن ضحاک بن خلیفہ انصاری کے بھائی ہیں، اور ابوزید سعید بن الربیع صاحب الہروی بصرہ کے رہنے والے ثقہ ( معتبر ) شخص ہیں۔
حدثنا عبد الله بن اسحاق الجوهري البصري، حدثنا ابو زيد، عن شعبة، عن داود بن ابي هند، قال سمعت الشعبي، يحدث عن ابي جبيرة بن الضحاك، قال كان الرجل منا يكون له الاسمين والثلاثة فيدعى ببعضها فعسى ان يكره قال فنزلت هذه الاية ( ولا تنابزوا بالالقاب ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ابو جبيرة هو اخو ثابت بن الضحاك بن خليفة انصاري وابو زيد سعيد بن الربيع صاحب الهروي بصري ثقة . حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف حدثنا بشر بن المفضل، عن داود بن ابي هند، عن الشعبي، عن ابي جبيرة بن الضحاك، نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آیت: «واعلموا أن فيكم رسول الله لو يطيعكم في كثير من الأمر لعنتم» ”جان لو تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، اگر وہ بیشتر معاملات میں تمہاری بات ماننے لگ جائے تو تم مشقت و تکلیف میں پڑ جاؤ گے“ ( الحجرات: ۷ ) ، تلاوت کی اور اس کی تشریح میں کہا: یہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان پر وحی بھیجی جاتی ہے اور اگر وہ بہت سارے معاملات میں تمہاری امت کے چیدہ لوگوں کی اطاعت کرنے لگیں گے تو تم تکلیف میں مبتلا ہو جاتے، چنانچہ ( آج ) اب تمہاری باتیں کب اور کیسے مانی جا سکتی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے مستمر بن ریان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ثقہ ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عثمان بن عمر، عن المستمر بن الريان، عن ابي نضرة، قال قرا ابو سعيد الخدري : ( واعلموا ان فيكم، رسول الله لو يطيعكم في كثير من الامر لعنتم ) قال هذا نبيكم صلى الله عليه وسلم يوحى اليه وخيار ايمتكم لو اطاعهم في كثير من الامر لعنتوا فكيف بكم اليوم قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . قال علي بن المديني سالت يحيى بن سعيد القطان عن المستمر بن الريان فقال ثقة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب فرمایا: ”لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر و غرور اور خاندانی تکبر ختم کر دیا ہے، اب لوگ صرف دو طرح کے ہیں ( ۱ ) اللہ کی نظر میں نیک متقی، کریم و شریف اور ( ۲ ) دوسرا فاجر بدبخت، اللہ کی نظر میں ذلیل و کمزور، لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں۔ اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم إن الله عليم خبير» ”اے لوگو! ہم نے تمہیں نر اور مادہ ( کے ملاپ ) سے پیدا کیا اور ہم نے تمہیں کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، ( کہ کون کس قبیلے اور کس خاندان کا ہے ) بیشک اللہ کی نظر میں تم میں سب سے زیادہ معزز و محترم وہ شخص ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ بیشک اللہ جاننے والا اور خبر رکھنے ولا ہے“ ( الحجرات: ۱۳ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند کے سوا جسے عبداللہ بن دینار ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کسی اور سند سے مروی نہیں جانتے، ۳- عبداللہ بن جعفر ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، انہیں یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف کہا ہے، اور عبداللہ بن جعفر – یہ علی ابن مدینی – کے والد ہیں، ۴- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا عبد الله بن جعفر، حدثنا عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب الناس يوم فتح مكة فقال " يا ايها الناس ان الله قد اذهب عنكم عبية الجاهلية وتعاظمها بابايها فالناس رجلان رجل بر تقي كريم على الله وفاجر شقي هين على الله والناس بنو ادم وخلق الله ادم من تراب " . قال الله : ( يا ايها الناس انا خلقناكم من ذكر وانثى وجعلناكم شعوبا وقبايل لتعارفوا ان اكرمكم عند الله اتقاكم ان الله عليم خبير ) . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث عبد الله بن دينار عن ابن عمر الا من هذا الوجه . وعبد الله بن جعفر يضعف ضعفه يحيى بن معين وغيره وعبد الله بن جعفر هو والد علي بن المديني . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعبد الله بن عباس
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حسب» مال کو کہتے ہیں اور «کرم» سے مراد تقویٰ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سلام بن ابی مطیع کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا الفضل بن سهل الاعرج البغدادي، وغير، واحد، قالوا حدثنا يونس بن محمد، عن سلام بن ابي مطيع، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الحسب المال والكرم التقوى " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث سمرة . لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث سلام بن ابي مطيع وهو ثقة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کہتی رہے گی «هل من مزيد» ”کوئی اور ( جہنمی ) ہو تو لاؤ، ( ڈال دو اسے میرے پیٹ میں ) “ ( قٓ: ۳۰ ) ، یہاں تک کہ اللہ رب العزت اپنا قدم اس میں رکھ دے گا، اس وقت جہنم «قط قط» ”بس، بس“ کہے گی اور قسم ہے تیری عزت و بزرگی کی ( اس کے بعد ) جہنم کا ایک حصہ دوسرے حصے میں ضم ہو جائے گا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ فائدہ ۱؎: یعنی ایک حصہ دوسرے حصہ سے چمٹ کر یکجا ہو جائے گا۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا شيبان، عن قتادة، حدثنا انس بن مالك، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تزال جهنم تقول هل من مزيد حتى يضع فيها رب العزة قدمه فتقول قط قط وعزتك ويزوى بعضها الى بعض " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وفيه عن ابي هريرة
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا: میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس ( دوران گفتگو ) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ( اچھا ہوا ) آپ نے واقف کار سے پوچھا ( میں آپ کو بتاتا ہوں ) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل ( نامی شخص ) کو ( امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ ) بھیجا، وہ ( آ کر ) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا، بکر نے اسے شراب پلائی، اور دو مشہور مغنیاں اسے اپنے نغموں سے محظوظ کرتی رہیں، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا رخ کیا ( مہرہ ایک قبیلہ کے دادا کا نام ہے ) اس نے ( دعا مانگی ) کہا: اے اللہ! میں تیرے پاس کوئی مریض لے کر نہیں آیا کہ اس کا علاج کراؤں، اور نہ کسی قیدی کے لیے آیا اسے آزاد کرا لوں، تو اپنے بندے کو پلا ( یعنی مجھے ) جو تجھے پلانا ہے اور اس کے ساتھ بکر بن معاویہ کو بھی پلا ( اس نے یہ دعا کر کے ) اس شراب کا شکریہ ادا کیا، جو بکر بن معاویہ نے اسے پلائی تھی، ( انجام کار ) اس کے لیے ( آسمان پر ) کئی بدلیاں چھائیں اور اس سے کہا گیا کہ تم ان میں سے کسی ایک کو اپنے لیے چن لو، اس نے ان میں سے کالی رنگ کی بدلی کو پسند کر لیا، کہا گیا: اسے لے لو اپنی ہلاکت و بربادی کی صورت میں، عاد قوم کے کسی فرد کو بھی نہ باقی چھوڑے گی، اور یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ عاد پر ہوا ( آندھی ) اس حلقہ یعنی انگوٹھی کے حلقہ کے برابر ہی چھوڑی گئی۔ پھر آپ نے آیت «إذ أرسلنا عليهم الريح العقيم ما تذر من شيء أتت عليه إلا جعلته كالرميم» ”یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی جس چیز کو بھی وہ ہوا چھو جاتی اسے چورا چورا کر دیتی“ ( الذاریات: ۴۲ ) ، پڑھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو کئی لوگوں نے سلام ابومنذر سے، سلام نے عاصم بن ابی النجود سے، عاصم نے ابووائل سے اور ابووائل نے ( «عن رجل من ربیعة» کی جگہ ) حارث بن حسان سے روایت کیا ہے۔ ( یہ روایت آگے آ رہی ہے ) ۲- حارث بن حسان کو حارث بن یزید بھی کہا جاتا ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن سلام، عن عاصم بن ابي النجود، عن ابي وايل، عن رجل، من ربيعة قال قدمت المدينة فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت عنده وافد عاد فقلت اعوذ بالله ان اكون مثل وافد عاد . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وما وافد عاد " . قال فقلت على الخبير سقطت ان عادا لما اقحطت بعثت قيلا فنزل على بكر بن معاوية فسقاه الخمر وغنته الجرادتان ثم خرج يريد جبال مهرة فقال اللهم اني لم اتك لمريض فاداويه ولا لاسير فافاديه فاسق عبدك ما كنت مسقيه واسق معه بكر بن معاوية . يشكر له الخمر الذي سقاه فرفع له سحابات فقيل له اختر احداهن فاختار السوداء منهن فقيل له خذها رمادا رمددا لا تذر من عاد احدا وذكر انه لم يرسل عليهم من الريح الا قدر هذه الحلقة يعني حلقة الخاتم . ثم قرا : (اذ ارسلنا عليهم الريح العقيم * ما تذر من شيء اتت عليه الا جعلته كالرميم ) الاية . قال ابو عيسى وقد روى غير واحد هذا الحديث عن سلام ابي المنذر عن عاصم بن ابي النجود عن ابي وايل عن الحارث بن حسان ويقال له الحارث بن يزيد
حارث بن یزید البکری کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، مسجد نبوی میں گیا، وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، کالے جھنڈ ہوا میں اڑ رہے تھے اور بلال رضی الله عنہ آپ کے سامنے تلوار لٹکائے ہوئے کھڑے تھے، میں نے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے کہا: آپ کا ارادہ عمرو بن العاص رضی الله عنہ کو ( فوجی دستہ کے ساتھ ) کسی طرف بھیجنے کا ہے، پھر پوری لمبی حدیث سفیان بن عیینہ کی حدیث کی طرح اسی کے ہم معنی بیان کی۔ حارث بن یزید کو حارث بن حسان بھی کہا جاتا ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا زيد بن حباب، حدثنا سلام بن سليمان النحوي ابو المنذر، حدثنا عاصم بن ابي النجود، عن ابي وايل، عن الحارث بن يزيد البكري، قال قدمت المدينة فدخلت المسجد فاذا هو غاص بالناس واذا رايات سود تخفق واذا بلال متقلد السيف بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت ما شان الناس قالوا يريد ان يبعث عمرو بن العاص وجها فذكر الحديث بطوله نحوا من حديث سفيان بن عيينة بمعناه . قال ويقال له الحارث بن حسان ايضا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إدبار النجوم» ۱؎ ( نجوم کے پیچھے ) سے مراد نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتیں یعنی سنتیں ہیں اور «إدبار السجود» ( سجدوں کے بعد ) سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعتیں ہیں ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کو مرفوعاً صرف محمد بن فضیل کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ رشدین بن کریب سے روایت کرتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے محمد ( محمد بن فضیل ) اور رشدین بن کریب کے بارے میں پوچھا کہ ان دونوں میں کون زیادہ ثقہ ہے؟ انہوں نے کہا: دونوں ایک سے ہیں، لیکن محمد بن فضیل میرے نزدیک زیادہ راجح ہیں ( یعنی انہیں فوقیت حاصل ہے ) ۴- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن ( دارمی ) سے اس بارے میں پوچھا ( آپ کیا کہتے ہیں؟ ) کہا: کیا خوب دونوں میں یکسانیت ہے، لیکن رشدین بن کریب میرے نزدیک ان دونوں میں قابل ترجیح ہیں، کہتے ہیں: میرے نزدیک بات وہی درست ہے جو ابو محمد یعنی دارمی نے کہی ہے، رشدین محمد بن فضیل سے راجح ہیں اور پہلے کے بھی ہیں، رشدین نے ابن عباس کا زمانہ پایا ہے اور انہیں دیکھا بھی ہے۔
حدثنا ابو هشام الرفاعي، حدثنا محمد بن فضيل، عن رشدين بن كريب، عن ابيه، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ادبار النجوم الركعتان قبل الفجر وادبار السجود الركعتان بعد المغرب " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه مرفوعا الا من هذا الوجه من حديث محمد بن فضيل عن رشدين بن كريب . قال ابو عيسى وسالت محمد بن اسماعيل عن محمد ورشدين ابنى كريب ايهما اوثق قال ما اقربهما ومحمد عندي ارجح . قال وسالت عبد الله بن عبد الرحمن عن هذا فقال ما اقربهما عندي ورشدين بن كريب ارجحهما عندي . قال والقول عندي ما قال ابو محمد ورشدين ارجح من محمد واقدم وقد ادرك رشدين ابن عباس وراه
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( معراج کی رات ) سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچے تو کہا: یہی وہ آخری جگہ ہے جہاں زمین سے چیزیں اٹھ کر پہنچتی ہیں اور یہی وہ بلندی کی آخری حد ہے جہاں سے چیزیں نیچے آتی اور اترتی ہیں، یہیں اللہ نے آپ کو وہ تین چیزیں عطا فرمائیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں فرمائی تھیں، ( ۱ ) آپ پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں، ( ۲ ) سورۃ البقرہ کی «خواتیم» ( آخری آیات ) عطا کی گئیں، ( ۳ ) اور آپ کی امتیوں میں سے جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا، ان کے مہلک و بھیانک گناہ بھی بخش دیئے گئے، ( پھر ) ابن مسعود رضی الله عنہ نے آیت «إذ يغشى السدرة ما يغشى» ”ڈھانپ رہی تھی سدرہ کو جو چیز ڈھانپ رہی تھی“ ( النجم: ۱۶ ) ، پڑھ کر کہا «السدرہ» ( بیری کا درخت ) چھٹے آسمان پر ہے، سفیان کہتے ہیں: سونے کے پروانے ڈھانپ رہے تھے اور سفیان نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے انہیں چونکا دیا ( یعنی تصور میں چونک کر ان پروانوں کے اڑنے کی کیفیت دکھائی ) مالک بن مغول کے سوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہیں تک مخلوق کے علم کی پہنچ ہے اس سے اوپر کیا کچھ ہے کیا کچھ ہوتا ہے انہیں اس کا کچھ بھی علم اور کچھ بھی خبر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن مالك بن مغول، عن طلحة بن مصرف، عن مرة، عن عبد الله، قال لما بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم سدرة المنتهى قال " انتهى اليها ما يعرج من الارض وما ينزل من فوق . قال فاعطاه الله عندها ثلاثا لم يعطهن نبيا كان قبله فرضت عليه الصلاة خمسا واعطي خواتم سورة البقرة وغفر لامته المقحمات ما لم يشركوا بالله شييا " . قال ابن مسعود : ( اذ يغشى السدرة ما يغشى ) قال السدرة في السماء السادسة . قال سفيان فراش من ذهب واشار سفيان بيده فارعدها وقال غير مالك بن مغول اليها ينتهي علم الخلق لا علم لهم بما فوق ذلك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے زر بن حبیش سے آیت: «فكان قاب قوسين أو أدنى» ”دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کچھ کم فرق رہ گیا“ ( النجم: ۹ ) ، کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا: مجھے ابن مسعود رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو دیکھا اور ان کے چھ سو پر تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
اخبرنا احمد بن منيع، حدثنا عباد بن العوام، حدثنا الشيباني، قال سالت زر بن حبيش عن قوله : (فكان قاب قوسين او ادنى ) فقال اخبرني ابن مسعود، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى جبريل وله ستماية جناح . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح
عامر شراحیل شعبی کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما کی ملاقات کعب الاحبار سے عرفہ میں ہوئی، انہوں نے کعب سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے تکبیرات پڑھیں جن کی صدائے بازگشت پہاڑوں میں گونجنے لگی، ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: ہم بنو ہاشم سے تعلق رکھتے ہیں، کعب نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنی رویت و دیدار کو اور اپنے کلام کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ ( علیہ السلام ) کے درمیان تقسیم کر دیا ہے۔ اللہ نے موسیٰ سے دو بار بات کی، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو دو بار دیکھا۔ مسروق کہتے ہیں: میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس پہنچا، میں نے ان سے پوچھا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: تم نے تو ایسی بات کہی ہے جسے سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں، میں نے کہا: ٹھہریئے، جلدی نہ کیجئے ( پوری بات سن لیجئے ) پھر میں نے آیت «لقد رأى من آيات ربه الكبرى» ”پھر آپ نے اللہ کی بڑی آیات و نشانیاں دیکھیں“ ( النجم: ۱۸ ) ، تلاوت کی ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا: ”تمہیں کہاں لے جایا گیا ہے؟ ( کہاں بہکا دیے گئے ہو؟ ) یہ دیکھے جانے والے تو جبرائیل تھے، تمہیں جو یہ خبر دے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ یا جن باتوں کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ان میں سے آپ نے کچھ چھپا لیا ہے، یا وہ پانچ چیزیں جانتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ «إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث» ”اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اللہ ہی جانتا ہے کہ بارش کب اور کہاں نازل ہو گی“ ( سورۃ لقمان: ۳۴ ) ، اس نے بڑا جھوٹ بولا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ آپ نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، جبرائیل علیہ السلام کو آپ نے ان کی اپنی اصل صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، ( ایک بار ) سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک بار جیاد میں ( جیاد نشیبی مکہ کا ایک محلہ ہے ) جبرائیل علیہ السلام کے چھ سو بازو تھے، انہوں نے سارے افق کو اپنے پروں سے ڈھانپ رکھا تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: داود بن ابی ہند نے شعبی سے، شعبی نے مسروق سے اور مسروق نے عائشہ رضی الله عنہا کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس جیسی حدیث روایت کی، داود کی حدیث مجالد کی حدیث سے چھوٹی ہے ( لیکن وہی صحیح ہے ) ۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن مجالد، عن الشعبي، قال لقي ابن عباس كعبا بعرفة فساله عن شيء، فكبر حتى جاوبته الجبال فقال ابن عباس انا بنو هاشم . فقال كعب ان الله قسم رويته وكلامه بين محمد وموسى فكلم موسى مرتين وراه محمد مرتين . قال مسروق فدخلت على عايشة فقلت هل راى محمد ربه فقالت لقد تكلمت بشيء قف له شعري قلت رويدا ثم قرات : (لقد راى من ايات ربه الكبرى ) قالت اين يذهب بك انما هو جبريل من اخبرك ان محمدا راى ربه او كتم شييا مما امر به او يعلم الخمس التي قال الله تعالى : ( ان الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ) فقد اعظم الفرية ولكنه راى جبريل لم يره في صورته الا مرتين مرة عند سدرة المنتهى ومرة في جياد له ستماية جناح قد سد الافق . قال ابو عيسى وقد روى داود بن ابي هند عن الشعبي عن مسروق عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا الحديث وحديث داود اقصر من حديث مجالد
عکرمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے، میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار» ”اس کو آنکھیں نہیں پا سکتی ہیں ہاں وہ خود نگاہوں کو پا لیتا ہے“ ( الانعام: ۱۰۳ ) ، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے ( تم سمجھ نہیں سکے ) یہ تو اس وقت کی بات ہے جب وہ اپنے ذاتی نور کے ساتھ تجلی فرمائے، انہوں نے کہا: آپ نے اپنے رب کو دو بار دیکھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن عمرو بن نبهان بن صفوان البصري الثقفي، حدثنا يحيى بن كثير العنبري ابو غسان، حدثنا سلم بن جعفر، عن الحكم بن ابان، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال راى محمد ربه . قلت اليس الله يقول : ( لا تدركه الابصار وهو يدرك الابصار ) قال ويحك ذاك اذا تجلى بنوره الذي هو نوره وقد راى محمد ربه مرتين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے آیت: «ولقد رآه نزلة أخرى عند سدرة المنتهى» ۱؎ «فأوحى إلى عبده ما أوحى» ۲؎ «فكان قاب قوسين أو أدنى» ۳؎ کی تفسیر میں کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الاموي، حدثنا ابي، حدثنا محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابن عباس، في قول الله ( ولقد راه نزلة * اخرى عند سدرة المنتهى ) ( فاوحى الى عبده ما اوحى ) (فكان قاب قوسين او ادنى ) . قال ابن عباس قد راه النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت «ما كذب الفؤاد ما رأى» ”جو کچھ انہوں نے دیکھا اسے دل نے جھٹلایا نہیں ( بلکہ اس کی تصدیق کی ) “ ( النجم: ۱۱ ) ، پڑھی، کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دل کی آنکھ سے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرزاق، وابن ابي رزمة، وابو نعيم عن اسراييل، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس ( ما كذب الفواد ما راى ) قال راه بقلبه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی الله عنہ سے کہا: اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہوتا تو آپ سے پوچھتا، انہوں نے کہا: تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا پوچھتے؟ میں نے کہا: میں یہ پوچھتا کہ کیا آپ ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ ابوذر رضی الله عنہ نے کہا: میں نے آپ سے یہ بات پوچھی تھی، آپ نے فرمایا: ”وہ نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، ويزيد بن هارون، عن يزيد بن ابراهيم التستري، عن قتادة، عن عبد الله بن شقيق، قال قلت لابي ذر لو ادركت النبي صلى الله عليه وسلم فسالته . فقال عما كنت تساله قلت كنت اساله هل راى محمد ربه فقال قد سالته فقال " نور انى اراه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ اس آیت: «ما كذب الفؤاد ما رأى» کی تفسیر میں کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو باریک ریشمی جوڑا پہنے ہوئے دیکھا۔ آسمان و زمین کی ساری جگہیں ان کے وجود سے بھر گئی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبيد الله بن موسى، وابن ابي رزمة، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله (ما كذب الفواد ما راى ) قال راى رسول الله صلى الله عليه وسلم جبريل في حلة من رفرف قد ملا ما بين السماء والارض . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الذين يجتنبون كبائر الإثم والفواحش إلا اللمم» ”جو لوگ بڑے گناہوں سے بچتے ہیں مگر چھوٹے گناہ ( جو کبھی ان سے سرزد ہو جائیں تو وہ بھی معاف ہو جائیں گے ) “ ( النجم: ۳۲ ) ، کی تفسیر میں کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے رب اگر بخشتا ہے تو سب ہی گناہ بخش دے، اور تیرا کون سا بندہ ایسا ہے جس سے کوئی چھوٹا گناہ بھی سرزد نہ ہوا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف زکریا بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا احمد بن عثمان ابو عثمان البصري، حدثنا ابو عاصم، عن زكريا بن اسحاق، عن عمرو بن دينار، عن عطاء، عن ابن عباس : (الذين يجتنبون كباير الاثم والفواحش الا اللمم ) قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان تغفر اللهم تغفر جما واى عبد لك لا الما " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من حديث زكريا بن اسحاق
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، چاند دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا ( اس جانب ) پہاڑ کے پیچھے اور دوسرا ٹکڑا اس جانب ( پہاڑ کے آگے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”گواہ رہو، یعنی اس بات کے گواہ رہو کہ «اقتربت الساعة وانشق القمر» یعنی: قیامت قریب ہے اور چاند کے دو ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا علي بن مسهر، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن ابي معمر، عن ابن مسعود، رضي الله عنه قال بينما نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنى فانشق القمر فلقتين فلقة من وراء الجبل وفلقة دونه فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " اشهدوا " . يعني : (اقتربت الساعة وانشق القمر ) قال هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اہل مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نشانی ( معجزہ ) کا مطالبہ کیا جس پر مکہ میں چاند دو بار دو ٹکڑے ہوا، اس پر آیت «اقتربت الساعة وانشق القمر» سے لے کر «سحر مستمر» نازل ہوئی، راوی کہتے ہیں: «سحر مستمر» میں «مستمر» کا مطلب ہے «ذاہب» ( یعنی وہ جادو جو چلا آ رہا ہو ) امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن قتادة، عن انس، قال سال اهل مكة النبي صلى الله عليه وسلم اية فانشق القمر بمكة مرتين فنزلت : (اقتربت الساعة وانشق القمر ) الى قوله : (سحر مستمر ) يقول ذاهب . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح