احادیث
#3251
سنن ترمذی - Exegesis
طاؤس کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے اس آیت «قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى» ”اے نبی! کہہ دو میں تم سے ( اپنی دعوت و تبلیغ کا ) کوئی اجر نہیں مانگتا، ہاں چاہتا ہوں کہ قرابت داروں میں الفت و محبت پیدا ہو“ ( الشوریٰ: ۲۳ ) ، کے بارے میں پوچھا گیا، اس پر سعید بن جبیر نے کہا: «قربیٰ» سے مراد آل محمد ہیں، ابن عباس نے کہا: ( تم نے رشتہ داری کی تشریح میں جلد بازی کی ہے ) قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں تھی جس میں آپ کی رشتہ داری نہ ہو، ( آیت کا مفہوم ہے ) اللہ نے کہا: میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا ( بس میں تو یہ چاہتا ہوں کہ ) ہمارے اور تمہارے درمیان جو رشتہ داری ہے اس کا پاس و لحاظ رکھو اور ایک دوسرے سے حسن سلوک کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عباس رضی الله عنہما سے آئی ہے۔
حدثنا بندار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عبد الملك بن ميسرة، قال سمعت طاوسا، قال سيل ابن عباس عن هذه الاية : (قل لا اسالكم عليه اجرا الا المودة في القربى ) فقال سعيد بن جبير قربى ال محمد صلى الله عليه وسلم . فقال ابن عباس اعلمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن بطن من قريش الا كان له فيهم قرابة فقال الا ان تصلوا ما بيني وبينكم من القرابة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن ابن عباس
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3251
- Book Index
- 303
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih Bukhari
