احادیث
#3224
سنن ترمذی - Exegesis
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے کہ یکایک ایک تارہ ٹوٹا جس سے روشنی پھیل گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا: ”زمانہ جاہلیت میں جب تم لوگ ایسی کوئی چیز دیکھتے تو کیا کہتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ہم کہتے تھے کوئی بڑا آدمی مرے گا یا کوئی بڑی شخصیت جنم لے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کسی کے مرنے کی وجہ سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ اللہ بزرگ و برتر جب کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے تسبیح و تہلیل کرتے ہیں، پھر ان سے قریبی آسمان کے فرشتے تسبیح کرتے ہیں، پھر ان سے قریبی، اس طرح تسبیح کا یہ غلغلہ ہمارے اس آسمان تک آ پہنچتا ہے، چھٹے آسمان والے فرشتے ساتویں آسمان والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں: تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ ( کیا حکم صادر فرمایا ہے؟ ) تو وہ انہیں بتاتے ہیں، پھر اسی طرح ہر نیچے آسمان والے اوپر کے آسمان والوں سے پوچھتے ہیں، اس طرح بات دنیا سے قریبی آسمان والوں تک آ پہنچتی ہے۔ اور کی جانے والی بات چیت کو شیاطین اچک لیتے ہیں۔ ( جب وہ اچکنے کی کوشش کرتے ہیں تو سننے سے باز رکھنے کے لیے تارہ پھینک کر ) انہیں مارا جاتا ہے اور وہ اسے ( اچکی ہوئی بات کو ) اپنے یاروں ( کاہنوں ) کی طرف پھینک دیتے ہیں تو وہ جیسی ہے اگر ویسی ہی اسے پہنچاتے ہیں تو وہ حق ہوتی ہے، مگر لوگ اسے بدل دیتے اور گھٹا بڑھا دیتے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا معمر، عن الزهري، عن علي بن حسين، عن ابن عباس، قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس في نفر من اصحابه اذ رمي بنجم فاستنار فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما كنتم تقولون لمثل هذا في الجاهلية اذا رايتموه " . قالوا كنا نقول يموت عظيم او يولد عظيم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فانه لا يرمى به لموت احد ولا لحياته ولكن ربنا عز وجل اذا قضى امرا سبح له حملة العرش ثم سبح اهل السماء الذين يلونهم ثم الذين يلونهم حتى يبلغ التسبيح الى هذه السماء ثم سال اهل السماء السادسة اهل السماء السابعة ماذا قال ربكم قال فيخبرونهم ثم يستخبر اهل كل سماء حتى يبلغ الخبر اهل السماء الدنيا وتختطف الشياطين السمع فيرمون فيقذفونها الى اوليايهم فما جاءوا به على وجهه فهو حق ولكنهم يحرفون ويزيدون " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي هذا الحديث، عن الزهري، عن علي بن الحسين، عن ابن عباس، عن رجال، من الانصار رضى الله عنهم قالوا كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم . وروى الاوزاعي عن الزهري عن عبيد الله عن ابن عباس عن رجال من الانصار قالوا كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم . فذكر نحوه بمعناه حدثنا بذلك الحسين بن حريث حدثنا الوليد بن مسلم حدثنا الاوزاعي
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3224
- Book Index
- 276
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim
