احادیث
#3168
سنن ترمذی - Exegesis
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت «يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے قول «ولكن عذاب الله شديد» ۱؎ تک نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سفر میں تھے، آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو وہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس دن اللہ آدم ( علیہ السلام ) سے کہے گا «ابعث بعث النار» ”جہنم میں جانے والی جماعت کو چھانٹ کر بھیجو“ آدم علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب «بعث النار» ”کیا ہے ( یعنی کتنے ) ؟“ اللہ فرمائے گا: نو سو ننانوے ( ۹۹۹ ) افراد جہنم میں اور ( ان کے مقابل میں ) ایک شخص جنت میں جائے گا، یہ سن کر مسلمان ( صحابہ ) رونے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نزدیکی حاصل کرو اور ہر کام صحیح اور درست ڈھنگ سے کرتے رہو، ( اہل جنت میں سے ہو جاؤ گے ) ، کیونکہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نبوت کا سلسلہ چلا ہو اور اس سے پہلے جاہلیت ( کی تاریکی پھیلی ہوئی ) نہ ہو“، آپ نے فرمایا: ”یہ ( ۹۹۹ کی تعداد ) عدد انہیں ( ادوار ) جاہلیت کے افراد سے پوری کی جائے گی۔ یہ تعداد اگر جاہلیت سے پوری نہ ہوئی تو ان کے ساتھ منافقین کو ملا کر پوری کی جائے گی، اور تمہاری اور ( پچھلی ) امتوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ داغ، نشان، تل جانور کے اگلے پیر میں، یا سیاہ نشان اونٹ کے پہلو ( پسلی ) میں ہو“ ۲؎ پھر آپ نے فرمایا: ”مگر مجھے امید ہے کہ جنت میں جانے والوں میں ایک چوتھائی تعداد تم لوگوں کی ہو گی“، یہ سن کر ( لوگوں نے خوش ہو کر ) نعرہ تکبیر بلند کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”مجھے توقع ہے جنتیوں کی ایک تہائی تعداد تم ہو گے“، لوگوں نے پھر تکبیر بلند کی، آپ نے پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھا آدھا تم لوگ ہو گے“، لوگوں نے پھر صدائے تکبیر بلند کی ( اس سے آگے ) مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ نے دو تہائی بھی فرمایا یا نہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی راویوں سے عمران بن حصین کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن جدعان، عن الحسن، عن عمران بن حصين، ان النبي صلى الله عليه وسلم لما نزلت : ( يا ايها الناس اتقوا ربكم ان زلزلة الساعة شيء عظيم ) الى قوله : (ولكن عذاب الله شديد ) قال انزلت عليه هذه وهو في سفر فقال " اتدرون اى يوم ذلك " . فقالوا الله ورسوله اعلم . قال " ذلك يوم يقول الله لادم ابعث بعث النار فقال يا رب وما بعث النار قال تسعماية وتسعة وتسعون الى النار وواحد الى الجنة " . قال فانشا المسلمون يبكون فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قاربوا وسددوا فانها لم تكن نبوة قط الا كان بين يديها جاهلية قال فيوخذ العدد من الجاهلية فان تمت والا كملت من المنافقين وما مثلكم والامم الا كمثل الرقمة في ذراع الدابة او كالشامة في جنب البعير ثم قال اني لارجو ان تكونوا ربع اهل الجنة " . فكبروا ثم قال " اني لارجو ان تكونوا ثلث اهل الجنة " . فكبروا ثم قال " اني لارجو ان تكونوا نصف اهل الجنة " . فكبروا قال ولا ادري قال الثلثين ام لا . قال هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن عمران بن حصين عن النبي صلى الله عليه وسلم
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3168
- Book Index
- 220
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif Isnaad
- Al-AlbaniDaif Isnaad
- Zubair Ali ZaiDaif
