احادیث
#3179
سنن ترمذی - Exegesis
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی، ہلال نے کہا: جب ہم میں سے کوئی کسی شخص کو اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا ہوا دیکھے گا تو کیا وہ گواہ ڈھونڈتا پھرے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے کہ تم گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی۔ ہلال نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں سچا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس معاملے میں کوئی ایسی چیز ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو حد سے بچا دے گی، پھر ( اسی موقع پر ) آیت «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» سے «والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين» تک نازل ہوئی آپ نے اس کی تلاوت فرمائی، جب آپ پڑھ کر فارغ ہوئے تو ان دونوں کو بلا بھیجا، وہ دونوں آئے، پھر ہلال بن امیہ کھڑے ہوئے اور گواہیاں دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سمجھانے لگے: اللہ کو معلوم ہے کہ تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی ہے جو توبہ کر لے؟ پھر عورت کھڑی ہوئی، اور اس نے بھی گواہی دی، پھر جب پانچویں گواہی ”اللہ کی اس پر لعنت ہو اگر وہ سچا ہو“ دینے کی باری آئی، تو لوگوں نے اس سے کہا: یہ گواہی اللہ کے غضب کو واجب کر دے گی ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: ( لوگوں کی بات سن کر ) وہ ٹھٹکی اور ذلت و شرمندگی سے سر جھکا لیا، ہم سب نے گمان کیا کہ شاید وہ ( اپنی پانچویں گواہی ) سے پھر جائے گی، مگر اس نے کہا: میں اپنی قوم کو ہمیشہ کے لیے ذلیل و رسوا نہ کروں گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کو دیکھتے رہو اگر وہ کالی آنکھوں والا موٹے چوتڑ والا اور بھری رانوں والا بچہ جنے تو سمجھ لو کہ دہ شریک بن سحماء کا ہے، تو اس نے ایسا ہی بچہ جنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کتاب اللہ ( قرآن ) سے اس کا فیصلہ ( لعان کا ) نہ آ چکا ہوتا تو ہماری اور اس کی ایک عجیب ہی شان ہوتی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے ہشام بن حسان کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث کو عباد بن منصور نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، ۳- ایوب نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کی ہے اور اس روایت میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن ابي عدي، حدثنا هشام بن حسان، حدثني عكرمة، عن ابن عباس، ان هلال بن امية، قذف امراته عند النبي صلى الله عليه وسلم بشريك بن السحماء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البينة والا حد في ظهرك " . قال فقال هلال يا رسول الله اذا راى احدنا رجلا على امراته ايلتمس البينة فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " البينة والا حد في ظهرك " . قال فقال هلال والذي بعثك بالحق اني لصادق ولينزلن في امري ما يبري ظهري من الحد فنزل : (والذين يرمون ازواجهم ولم يكن لهم شهداء الا انفسهم ) فقرا حتى بلغ : ( والخامسة ان غضب الله عليها ان كان من الصادقين ) قال فانصرف النبي صلى الله عليه وسلم فارسل اليهما فجاءا فقام هلال بن امية فشهد والنبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله يعلم ان احدكما كاذب فهل منكما تايب " . ثم قامت فشهدت فلما كانت عند الخامسة : ( ان غضب الله عليها ان كان من الصادقين ) قالوا لها انها موجبة فقال ابن عباس فتلكات ونكست حتى ظننا ان سترجع فقالت لا افضح قومي ساير اليوم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ابصروها فان جاءت به اكحل العينين سابغ الاليتين خدلج الساقين فهو لشريك بن السحماء " . فجاءت به كذلك فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لولا ما مضى من كتاب الله عز وجل لكان لنا ولها شان " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث هشام بن حسان وهكذا روى عباد بن منصور هذا الحديث عن عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم . ورواه ايوب عن عكرمة مرسلا ولم يذكر فيه عن ابن عباس
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3179
- Book Index
- 231
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Bukhari
