احادیث
#3180
سنن ترمذی - Exegesis
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میرے بارے میں افواہیں پھیلائی جانے لگیں جو پھیلائی گئیں، میں ان سے بےخبر تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور میرے تعلق سے ایک خطبہ دیا، آپ نے شہادتین پڑھیں، اللہ کے شایان شان تعریف و ثنا کی، اور حمد و صلاۃ کے بعد فرمایا: ”لوگو! ہمیں ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دو جنہوں نے میری گھر والی پر تہمت لگائی ہے، قسم اللہ کی! میں نے اپنی بیوی میں کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی، انہوں نے میری بیوی کو اس شخص کے ساتھ متہم کیا ہے جس کے بارے میں اللہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی برائی نہیں جانی، وہ میرے گھر میں کبھی بھی میری غیر موجودگی میں داخل نہیں ہوا، وہ جب بھی میرے گھر میں آیا ہے میں موجود رہا ہوں، اور جب بھی میں گھر سے غائب ہوا، سفر میں رہا وہ بھی میرے ساتھ گھر سے دور سفر میں رہا ہے“، ( یہ سن کر ) سعد بن معاذ رضی الله عنہ نے کھڑے ہو کر، عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے میں ان کی گردنیں اڑا دوں، ( یہ سن کر ) خزرج قبیلے کا ایک اور شخص جس کے قبیلے سے حسان بن ثابت کی ماں تھیں کھڑا ہوا اس نے ( سعد بن معاذ سے مخاطب ہو کر ) کہا: آپ جھوٹ اور غلط بات کہہ رہے ہیں، سنئیے، اللہ کی قسم! اگر یہ ( تہمت لگانے والے آپ کے قبیلے ) اوس کے ہوتے تو یہ پسند نہ کرتے کہ آپ ان کی گردنیں اڑا دیں، یہ بحث و تکرار اتنی بڑھی کہ اوس و خزرج کے درمیان مسجد ہی میں فساد عظیم برپا ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا، ( عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں ) مجھے اس کی بھی خبر نہ ہوئی، جب اس دن کی شام ہوئی تو میں اپنی ( قضائے حاجت کی ) ضرورت سے گھر سے باہر نکلی، میرے ساتھ مسطح کی ماں بھی تھیں، وہ ( راستہ میں ) ٹھوکر کھائی تو کہہ اٹھیں: مسطح تباہ برباد ہو! میں نے ان سے کہا: آپ کیسی ماں ہیں بیٹے کو گالی دیتی ہیں؟ تو وہ چپ رہیں، پھر دوبارہ ٹھوکر کھائی تو پھر وہی لفظ دہرایا، مسطح ہلاک ہو، میں نے پھر ( ٹوکا ) میں نے کہا: آپ کیسی ماں ہیں؟ اپنے بیٹے کو گالی ( بد دعا ) دیتی ہیں؟ وہ پھر خاموش رہیں، پھر جب تیسری بار ٹھوکر کھائی تو پھر یہی لفظ دہرایا تو میں نے ڈانٹا ( اور جھڑک دیا ) کیسی ( خراب ) ماں ہیں آپ؟ اپنے ہی بیٹے کو برا بھلا کہہ رہی ہیں، وہ بولیں: ( بیٹی ) قسم اللہ کی میں اسے صرف تیرے معاملے میں برا بھلا کہہ رہی ہوں، میں نے پوچھا: میرے کس معاملے میں؟ تب انہوں نے مجھے ساری باتیں کھول کھول کر بتائیں، میں نے ان سے پوچھا: کیا ایسا ہوا؟ ( یہ ساری باتیں پھیل گئیں؟ ) انہوں نے کہا: ہاں، قسم اللہ کی! یہ سن کر میں گھر لوٹ آئی، تو ان میں جس کام کے لیے نکلی تھی، نکلی ہی نہیں، مجھے اس قضائے حاجت کی تھوڑی یا زیادہ کچھ بھی ضرورت محسوس نہ ہوئی، ( بلکہ ) مجھے تیز بخار چڑھ آیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: مجھے میرے ابا کے گھر بھیج دیجئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ایک لڑکا کر دیا، ( اور میں اپنے ابا کے گھر آ گئی ) میں گھر میں داخل ہوئی تو ( اپنی ماں ) ام رومان کو نیچے پایا اور ( اپنے ابا ) ابوبکر کو گھر کے اوپر پڑھتے ہوئے پایا، میری ماں نے کہا: بیٹی! کیسے آئیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے انہیں بتا دیا اور انہیں ساری باتیں ( اور سارا قصہ ) سنا دیا، مگر انہیں یہ باتیں سن کر وہ اذیت نہ پہنچی جو مجھے پہنچی، انہوں نے کہا: بیٹی! اپنے آپ کو سنبھالو، کیونکہ اللہ کی قسم! بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی مرد کی کوئی حسین و جمیل عورت ہو جس سے وہ مرد ( بے انتہا ) محبت کرتا ہو، اس سے اس کی سوکنیں حسد نہ کرتی ( اور جلن نہ رکھتی ) ہوں اور اس کے بارے میں لگائی بجھائی نہ کرتی ہوں، غرضیکہ انہیں اتنا صدمہ نہ پہنچا جتنا مجھے پہنچا، میں نے پوچھا: کیا میرے ابو جان کو بھی یہ بات معلوم ہو چکی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے ( پھر ) پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان باتوں سے واقف ہو چکے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، ( یہ سن کر ) میں غم سے نڈھال ہو گئی اور رو پڑی، ابوبکر رضی الله عنہ چھت پر قرآن پڑھ رہے تھے، میرے رونے کی آواز سن کر نیچے اتر آئے، میری ماں سے پوچھا، اسے کیا ہوا؟ ( یہ کیوں رو رہی ہے؟ ) انہوں نے کہا: اس کے متعلق جو باتیں کہی گئیں ( اور افواہیں پھیلائی گئی ہیں ) وہ اسے بھی معلوم ہو گئی ہیں، ( یہ سن کر ) ان کی بھی آنکھیں بہہ پڑیں، ( مگر ) انہوں نے کہا: اے میری ( لاڈلی ) بیٹی! میں تمہیں قسم دلا کر کہتا ہوں تو اپنے گھر لوٹ جا، میں اپنے گھر واپس ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور میری لونڈی ( بریرہ ) سے میرے متعلق پوچھ تاچھ کی، اس نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! میں ان میں کوئی عیب نہیں جانتی، ہاں، بس یہ بات ہے کہ ( کام کرتے کرتے تھک کر ) سو جاتی ہیں اور بکری آ کر گندھا ہوا آٹا کھا جاتی ہے، بعض صحابہ نے اسے ڈانٹا، ( باتیں نہ بنا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچ سچ بتا ( اس سے اس پوچھ تاچھ میں ) وہ ( اپنے مقام و مرتبہ سے ) نیچے اتر آئے، اس نے کہا: سبحان اللہ! پاک و برتر ہے اللہ کی ذات، قسم اللہ کی! میں انہیں بس ایسی ہی جانتی ہوں جیسے سنار سرخ سونے کے ڈلے کو جانتا پہچانتا ہے، پھر اس معاملے کی خبر اس شخص کو بھی ہو گئی جس پر تہمت لگائی گئی تھی۔ اس نے کہا: سبحان اللہ! قسم اللہ کی، میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی کا سینہ اور پہلو نہیں کھولا ہے ۱؎، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: وہ اللہ کی راہ میں شہید ہو کر مرے، میرے ماں باپ صبح ہی میرے پاس آ گئے اور ہمارے ہی پاس رہے۔ عصر پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لے آئے، اور ہمارے پاس پہنچے، میرے ماں باپ ہمارے دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادتین پڑھی، اللہ کی شایان شان حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”حمد و صلاۃ کے بعد: ”عائشہ! اگر تو برائی کی مرتکب ہو گئی یا اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھی ہے تو اللہ سے توبہ کر، اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے“، اسی دوران انصار کی ایک عورت آ کر دروازے میں بیٹھ گئی تھی، میں نے عرض کیا: اس عورت کے سامنے ( اس طرح کی ) کوئی بات کرتے ہوئے کیا آپ کو شرم محسوس نہیں ہوئی؟ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت فرمائی، میں اپنے باپ کی طرف متوجہ ہوئی، ان سے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا جواب دیں، انہوں نے کہا: میں کیا جواب دوں؟ میں اپنی ماں کی طرف پلٹی، میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات کہی ہے اس بارے میں ( میری طرف سے ) صفائی دیجئیے، انہوں نے کہا: کیا کہوں میں؟ جب میرے ماں باپ نے کچھ جواب نہ دیا، تو میں نے کلمہ شہادت ادا کیا، اللہ کے شایان شان اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر میں نے کہا: سنئیے، قسم اللہ کی! اگر میں آپ لوگوں سے کہتی ہوں کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور اللہ گواہ ہے کہ میں سچی ( بےگناہ ) ہوں تب بھی مجھے آپ کے سامنے اس سے فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ ہی یہ بات کہنے والے ہیں اور آپ کے دلوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے اور اگر میں یہ کہہ دوں کہ میں نے ایسا کیا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں نے نہیں کیا، تو آپ ضرور کہیں گے کہ اس نے تو اعتراف جرم کر لیا ہے، اور میں قسم اللہ کی! اپنے اور آپ کے لیے اس سے زیادہ مناسب حال کوئی مثال نہیں پاتی ( میں نے مثال دینے کے لیے ) یعقوب علیہ السلام کا نام ڈھونڈا اور یاد کیا، مگر میں اس پر قادر نہ ہو سکی، ( مجھے ان کا نام یاد نہ آ سکا تو میں نے ابویوسف کہہ دیا ) مگر یوسف علیہ السلام کے باپ کی مثال جب کہ انہوں نے «فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون» کہا ۲؎۔ اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی تو ہم سب خاموش ہو گئے، پھر آپ پر سے وحی کے آثار ختم ہوئے تو میں نے آپ کے چہرے سے خوشی پھوٹتی ہوئی دیکھی، آپ اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے فرمانے لگے: ”اے عائشہ! خوش ہو جاؤ اللہ نے تمہاری براۃ میں آیت نازل فرما دی ہے“، مجھے اس وقت سخت غصہ آیا جب میرے ماں باپ نے مجھ سے کہا: کھڑی ہو کر آپ کا شکریہ ادا کر، میں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! میں آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑی نہ ہوں گی، نہ میں ان کی تعریف کروں گی اور نہ آپ دونوں کی، نہ میں ان کی احسان مند ہوں گی اور نہ آپ دونوں کا بلکہ میں اس اللہ کا احسان مند اور شکر گزار ہوں گی جس نے میری براۃ میں آیت نازل فرمائی، آپ لوگوں نے تو میری غیبت و تہمت سنی، لیکن اس پر تردید و انکار نہ کیا، اور نہ اسے روک دینے اور بدل دینے کی کوشش کی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: رہی زینب بن حجش تو اللہ نے انہیں ان کی نیکی و دینداری کی وجہ سے بچا لیا، انہوں نے اس قضیہ میں جب بھی کہا، اچھی و بھلی بات ہی کہی، البتہ ان کی بہن حمنہ ( شریک بہتان ہو کر ) ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو گئی، اور جو لوگ اس بہتان بازی اور پروپیگنڈے میں لگے ہوئے تھے وہ مسطح، حسان بن ثابت اور منافق عبداللہ بن ابی بن سلول تھے، اور یہی منافق ( فتنہ پردازوں کا سردار و سرغنہ ) ہی اس معاملہ میں اپنی سیاست چلاتا اور اپنے ہم خیال لوگوں کو یکجا رکھتا تھا، یہی وہ شخص تھا اور اس کے ساتھ حمنہ بھی تھی، جو اس فتنہ انگیزی میں پیش پیش تھی، ابوبکر رضی الله عنہ نے قسم کھا لی کہ اب وہ ( اس احسان فراموش و بدگو ) مسطح کو کبھی کوئی فائدہ نہ پہنچائیں گے، اس پر آیت «ولا يأتل أولوا الفضل منكم والسعة» ۳؎ نازل ہوئی، اس سے یہاں مراد ابوبکر ہیں، «أن يؤتوا أولي القربى والمساكين والمهاجرين في سبيل الله» ۴؎ اس سے اشارہ مسطح کی طرف ہے۔ «ألا تحبون أن يغفر الله لكم والله غفور رحيم» ۵؎ ( یہ آیت سن کر ) ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: کیوں نہیں، قسم اللہ کی! ہمارے رب! ہم پسند کرتے ہیں کہ تو ہمیں بخش دے، پھر مسطح کو دینے لگے جو پہلے دیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ہشام بن عروہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس حدیث کو یونس بن یزید، معمر اور کئی دوسرے لوگوں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص لیثی اور عبیداللہ بن عبداللہ سے اور ان سبھوں نے عائشہ سے روایت کی ہے، یہ حدیث ہشام بن عروہ کی حدیث سے لمبی بھی ہے اور مکمل بھی ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، اخبرني ابي، عن عايشة، قالت لما ذكر من شاني الذي ذكر وما علمت به قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في خطيبا فتشهد وحمد الله واثنى عليه بما هو اهله ثم قال " اما بعد اشيروا على في اناس ابنوا اهلي والله ما علمت على اهلي من سوء قط وابنوا بمن والله ما علمت عليه من سوء قط ولا دخل بيتي قط الا وانا حاضر ولا غبت في سفر الا غاب معي فقام سعد بن معاذ رضي الله عنه فقال ايذن لي يا رسول الله ان اضرب اعناقهم . وقام رجل من الخزرج وكانت ام حسان بن ثابت من رهط ذلك الرجل فقال كذبت اما والله ان لو كانوا من الاوس ما احببت ان تضرب اعناقهم حتى كاد ان يكون بين الاوس والخزرج شر في المسجد وما علمت به فلما كان مساء ذلك اليوم خرجت لبعض حاجتي ومعي ام مسطح فعثرت فقالت تعس مسطح فقلت لها اى ام تسبين ابنك فسكتت ثم عثرت الثانية فقالت تعس مسطح فقلت لها اى ام تسبين ابنك فسكتت ثم عثرت الثالثة فقالت تعس مسطح فانتهرتها فقلت لها اى ام تسبين ابنك فقالت والله ما اسبه الا فيك . فقلت في اى شيء قالت فبقرت الى الحديث قلت وقد كان هذا قالت نعم . والله لقد رجعت الى بيتي وكان الذي خرجت له لم اخرج لا اجد منه قليلا ولا كثيرا ووعكت فقلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم ارسلني الى بيت ابي فارسل معي الغلام فدخلت الدار فوجدت ام رومان في السفل وابو بكر فوق البيت يقرا فقالت امي ما جاء بك يا بنية قالت فاخبرتها وذكرت لها الحديث فاذا هو لم يبلغ منها ما بلغ مني قالت يا بنية خففي عليك الشان فانه والله لقلما كانت امراة حسناء عند رجل يحبها لها ضراير الا حسدنها وقيل فيها فاذا هي لم يبلغ منها ما بلغ مني قالت قلت وقد علم به ابي قالت نعم . قلت ورسول الله صلى الله عليه وسلم قالت نعم . واستعبرت وبكيت فسمع ابو بكر صوتي وهو فوق البيت يقرا فنزل فقال لامي ما شانها قالت بلغها الذي ذكر من شانها . ففاضت عيناه فقال اقسمت عليك يا بنية الا رجعت الى بيتك . فرجعت ولقد جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بيتي فسال عني خادمتي فقالت لا والله ما علمت عليها عيبا الا انها كانت ترقد حتى تدخل الشاة فتاكل خميرتها او عجينتها وانتهرها بعض اصحابه فقال اصدقي رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اسقطوا لها به فقالت سبحان الله والله ما علمت عليها الا ما يعلم الصايغ على تبر الذهب الاحمر فبلغ الامر ذلك الرجل الذي قيل له فقال سبحان الله والله ما كشفت كنف انثى قط قالت عايشة فقتل شهيدا في سبيل الله قالت واصبح ابواى عندي فلم يزالا عندي حتى دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد صلى العصر ثم دخل وقد اكتنفني ابواى عن يميني وعن شمالي فتشهد النبي صلى الله عليه وسلم فحمد الله واثنى عليه بما هو اهله ثم قال " اما بعد يا عايشة ان كنت قارفت سوءا او ظلمت فتوبي الى الله فان الله يقبل التوبة عن عباده " . قالت وقد جاءت امراة من الانصار وهي جالسة بالباب فقلت الا تستحي من هذه المراة ان تذكر شييا . فوعظ رسول الله صلى الله عليه وسلم فالتفت الى ابي فقلت اجبه . قال فماذا اقول فالتفت الى امي فقلت اجيبيه . قالت اقول ماذا قالت فلما لم يجيبا تشهدت فحمدت الله واثنيت عليه بما هو اهله ثم قلت اما والله لين قلت لكم اني لم افعل والله يشهد اني لصادقة ما ذاك بنافعي عندكم لي لقد تكلمتم واشربت قلوبكم ولين قلت اني قد فعلت والله يعلم اني لم افعل لتقولن انها قد باءت به على نفسها واني والله ما اجد لي ولكم مثلا قالت والتمست اسم يعقوب فلم اقدر عليه الا ابا يوسف حين قال : (فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون ) قالت وانزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم من ساعته فسكتنا فرفع عنه واني لاتبين السرور في وجهه وهو يمسح جبينه ويقول " البشرى يا عايشة فقد انزل الله براءتك " . قالت وكنت اشد ما كنت غضبا فقال لي ابواى قومي اليه . فقلت لا والله لا اقوم اليه ولا احمده ولا احمدكما ولكن احمد الله الذي انزل براءتي لقد سمعتموه فما انكرتموه ولا غيرتموه وكانت عايشة تقول اما زينب بنت جحش فعصمها الله بدينها فلم تقل الا خيرا واما اختها حمنة فهلكت فيمن هلك وكان الذي يتكلم فيه مسطح وحسان بن ثابت والمنافق عبد الله بن ابى ابن سلول وهو الذي كان يسوسه ويجمعه وهو الذي تولى كبره منهم هو وحمنة قالت فحلف ابو بكر ان لا ينفع مسطحا بنافعة ابدا فانزل الله تعالى هذه الاية : (ولا ياتل اولو الفضل منكم والسعة ) الى اخر الاية يعني ابا بكر : (ان يوتوا اولي القربى والمساكين والمهاجرين في سبيل الله ) يعني مسطحا الى قوله : (الا تحبون ان يغفر الله لكم والله غفور رحيم ) قال ابو بكر بلى والله يا ربنا انا لنحب ان تغفر لنا وعاد له بما كان يصنع . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث هشام بن عروة . وقد رواه يونس بن يزيد ومعمر وغير واحد عن الزهري عن عروة بن الزبير وسعيد بن المسيب وعلقمة بن وقاص الليثي وعبيد الله بن عبد الله عن عايشة هذا الحديث اطول من حديث هشام بن عروة واتم
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3180
- Book Index
- 232
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
