احادیث
#3177
سنن ترمذی - Exegesis
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مرثد بن مرثد نامی صحابی وہ ایسے ( جی دار و بہادر ) شخص تھے جو ( مسلمان ) قیدیوں کو مکہ سے نکال کر مدینہ لے آیا کرتے تھے، اور مکہ میں عناق نامی ایک زانیہ، بدکار عورت تھی، وہ عورت اس صحابی کی ( ان کے اسلام لانے سے پہلے کی ) دوست تھی، انہوں نے مکہ کے قیدیوں میں سے ایک قیدی شخص سے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ اسے قید سے نکال کر لے جائیں گے، کہتے ہیں کہ میں ( اسے قید سے نکال کر مدینہ لے جانے کے لیے ) آ گیا، میں ایک چاندنی رات میں مکہ کی دیواروں میں سے ایک دیوار کے سایہ میں جا کر کھڑا ہوا ہی تھا کہ عناق آ گئی۔ دیوار کے اوٹ میں میری سیاہ پرچھائیں اس نے دیکھ لی، جب میرے قریب پہنچی تو مجھے پہچان کر پوچھا: مرثد ہونا؟ میں نے کہا: ہاں، مرثد ہوں، اس نے خوش آمدید کہا، ( اور کہا: ) آؤ، رات ہمارے پاس گزارو، میں نے کہا: عناق! اللہ نے زنا کو حرام قرار دیا ہے، اس نے شور مچا دیا، اے خیمہ والو ( دوڑو ) یہ شخص تمہارے قیدیوں کو اٹھائے لیے جا رہا ہے، پھر میرے پیچھے آٹھ آدمی دوڑ پڑے، میں خندمہ ( نامی پہاڑ ) کی طرف بھاگا اور ایک غار یا کھوہ کے پاس پہنچ کر اس میں گھس کر چھپ گیا، وہ لوگ بھی اوپر چڑھ آئے اور میرے سر کے قریب ہی کھڑے ہو کر۔ انہوں نے پیشاب کیا تو ان کے پیشاب کی بوندیں ہمارے سر پر ٹپکیں، لیکن اللہ نے انہیں اندھا بنا دیا، وہ ہمیں نہ دیکھ سکے، وہ لوٹے تو میں بھی لوٹ کر اپنے ساتھی کے پاس ( جسے اٹھا کر مجھے لے جانا تھا ) آ گیا، وہ بھاری بھر کم آدمی تھے، میں نے انہیں اٹھا کر ( پیٹھ پر ) لاد لیا، اذخر ( کی جھاڑیوں میں ) پہنچ کر میں نے ان کی بیڑیاں توڑ ڈالیں اور پھر اٹھا کر چل پڑا، کبھی کبھی اس نے بھی میری مدد کی ( وہ بھی بیڑیاں لے کر چلتا ) اس طرح میں مدینہ آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں؟ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، پھر یہ آیت «الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك وحرم ذلك على المؤمنين» ”زانی زانیہ یا مشرکہ ہی سے نکاح کرے اور زانیہ سے زانی یا مشرک ہی نکاح کرے، مسلمانوں پر یہ نکاح حرام ہے“ ( النور: ۳ ) ، نازل ہوئی آپ نے ( اس آیت کے نزول کے بعد مرثد بن ابی مرثد سے ) فرمایا: ”اس سے نکاح نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا روح بن عبادة، عن عبيد الله بن الاخنس، اخبرني عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال كان رجل يقال له مرثد بن ابي مرثد وكان رجلا يحمل الاسرى من مكة حتى ياتي بهم المدينة قال وكانت امراة بغي بمكة يقال لها عناق وكانت صديقة له وانه كان وعد رجلا من اسارى مكة يحمله قال فجيت حتى انتهيت الى ظل حايط من حوايط مكة في ليلة مقمرة . قال فجاءت عناق فابصرت سواد ظلي بجنب الحايط فلما انتهت الى عرفته فقالت مرثد فقلت مرثد . فقالت مرحبا واهلا هلم فبت عندنا الليلة . قال قلت يا عناق حرم الله الزنا . قالت يا اهل الخيام هذا الرجل يحمل اسراكم . قال فتبعني ثمانية وسلكت الخندمة فانتهيت الى كهف او غار فدخلت فجاءوا حتى قاموا على راسي فبالوا فطل بولهم على راسي واعماهم الله عني . قال ثم رجعوا ورجعت الى صاحبي فحملته وكان رجلا ثقيلا حتى انتهيت الى الاذخر ففككت عنه كبله فجعلت احمله ويعينني حتى قدمت المدينة فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله انكح عناقا مرتين فامسك رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يرد على شييا حتى نزلت : (الزاني لا ينكح الا زانية او مشركة والزانية لا ينكحها الا زان او مشرك وحرم ذلك على المومنين ) فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا مرثد الزاني لا ينكح الا زانية او مشركة والزانية لا ينكحها الا زان او مشرك فلا تنكحها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3177
- Book Index
- 229
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirHasan Isnaad
- Al-AlbaniHasan Isnaad
- Bashar Awad MaaroufHasan
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
