احادیث
#3146
سنن ترمذی - Exegesis
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا» ”صلاۃ میں آواز بہت بلند نہ کیجئے اور نہ ہی بہت پست بلکہ دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کیجئے“ ( الاسراء: ۱۱۰ ) ، کے بارے میں کہتے ہیں: یہ آیت مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جب آپ مکہ میں چھپے چھپے رہتے تھے، جب آپ اپنے صحابہ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے، مشرکین جب سن لیتے تو قرآن، قرآن نازل کرنے والے اور قرآن لانے والے سب کو گالیاں دیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: «ولا تجهر بصلاتك» بلند آواز سے نماز نہ پڑھو ( یعنی بلند آواز سے قرأت نہ کرو ) کہ جسے سن کر مشرکین قرآن کو گالیاں دینے لگیں اور نہ دھیمی آواز سے پڑھو ( کہ تمہارے صحابہ سن نہ سکیں ) بلکہ درمیان کا راستہ اختیار کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، حدثنا ابو بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، في قوله : (ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا ) قال نزلت ورسول الله صلى الله عليه وسلم مختف بمكة وكان اذا صلى باصحابه رفع صوته بالقران فكان المشركون اذا سمعوه شتموا القران ومن انزله ومن جاء به فقال الله لنبيه : (ولا تجهر بصلاتك ) اى بقراءتك فيسمع المشركون فيسبوا القران : (ولا تخافت بها ) عن اصحابك : ( وابتغ بين ذلك سبيلا ) . هذا حديث حسن صحيح
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3146
- Book Index
- 198
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih
