احادیث
#3111
سنن ترمذی - Exegesis
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «فمنهم شقي وسعيد» ”سو ان میں کوئی بدبخت ہو گا اور کوئی نیک بخت“ ( ہود: ۱۰۵ ) ، نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے نبی! پھر ہم کس چیز کے موافق عمل کریں؟ کیا اس چیز کے موافق عمل کریں جس سے فراغت ہو چکی ہے ( یعنی جس کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے ) ؟ یا ہم ایسی چیز پر عمل کریں جس سے ابھی فراغت نہیں ہوئی ہے۔ ( یعنی اس کا فیصلہ ہمارا عمل دیکھ کر کیا جائے گا ) آپ نے فرمایا: ”عمر! ہم اسی چیز کے موافق عمل کرتے ہیں جس سے فراغت ہو چکی ہے۔ ( اور ہمارے عمل سے پہلے ) وہ چیز ضبط تحریر میں آ چکی ہے ۲؎، لیکن بات صرف اتنی ہے کہ ہر شخص کے لیے وہی آسان ہے جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالملک بن عمرو کی حدیث سے جانتے ہیں۔
حدثنا بندار، محمد بن بشار حدثنا ابو عامر العقدي، هو عبد الملك بن عمرو حدثنا سليمان بن سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، عن عمر بن الخطاب، قال لما نزلت هذه الاية : ( منهم شقي وسعيد ) سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا نبي الله فعلى ما نعمل على شيء قد فرغ منه او على شيء لم يفرغ منه قال " بل على شيء قد فرغ منه وجرت به الاقلام يا عمر ولكن كل ميسر لما خلق له " . هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه لا نعرفه الا من حديث عبد الملك بن عمرو
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3111
- Book Index
- 163
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiDaif
