احادیث
#3087
سنن ترمذی - Exegesis
سلیمان بن عمرو بن احوص کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے بتایا کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف اور ثنا کی، اور وعظ و نصیحت فرمائی۔ پھر فرمایا: ”کون سا دن سب سے زیادہ حرمت و تقدس والا ہے؟ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت و تقدس ہے؟ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت و تقدس والا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! حج اکبر کا دن ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تمہارا خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں سب تم پر حرام ہیں جیسے کہ تمہارے آج کے دن کی حرمت ہے، تمہارے اس شہر میں تمہارے اس مہینے میں، سن لو! کوئی انسان کوئی جرم نہیں کرے گا مگر اس کا وبال اسی پر آئے گا، کوئی باپ قصور نہیں کرے گا کہ جس کی سزا اس کے بیٹے کو ملے۔ اور نہ ہی کوئی بیٹا کوئی قصور کرے گا کہ اس کی سزا اس کے باپ کو ملے۔ آگاہ رہو! مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ کسی مسلمان کے لیے اپنے بھائی کی کوئی چیز حلال نہیں ہے سوائے اس چیز کے جو اسے اس کا بھائی خود سے دیدے۔ سن لو! جاہلیت کا ہر سود باطل ہے تم صرف اپنا اصل مال ( اصل پونجی ) لے سکتے ہو، نہ تم کسی پر ظلم و زیادتی کرو گے اور نہ تمہارے ساتھ ظلم و زیادتی کی جائے گی۔ سوائے عباس بن عبدالمطلب کے سود کے کہ اس کا سارا کا سارا معاف ہے۔ خبردار! جاہلیت کا ہر خون ختم کر دیا گیا ہے ۱؎ اور جاہلیت میں ہوئے خونوں میں سے پہلا خون جسے میں معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے، وہ قبیلہ بنی لیث میں دودھ پیتے تھے، تو انہیں قبیلہ ہذیل نے قتل کر دیا تھا، سنو! عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک ( و برتاؤ ) کرو۔ کیونکہ وہ تمہارے پاس بے کس و لاچار بن کر ہیں اور تم اس کے سوا ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو، مگر یہ کہ وہ کوئی کھلی ہوئی بدکاری کر بیٹھیں، اگر وہ کوئی قبیح گناہ کر بیٹھیں تو ان کے بستر الگ کر دو اور انہیں مارو مگر ایسی مار نہ لگاؤ کہ ان کی ہڈی پسلی توڑ بیٹھو، پھر اگر وہ تمہارے کہے میں آ جائیں تو ان پر ظلم و زیادتی کے راستے نہ ڈھونڈو، خبردار ہو جاؤ! تمہارے لیے تمہاری بیویوں پر حقوق ہیں، اور تمہاری بیویوں کے تم پر حقوق ہیں، تمہارا حق تمہاری بیویوں پر یہ ہے کہ جنہیں تم ناپسند کرتے ہو انہیں وہ تمہارے بستروں پر نہ آنے دیں، اور نہ ہی ان لوگوں کو گھروں میں آنے کی اجازت دیں جنہیں تم برا جانتے ہو، اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور انہیں اچھا پہناؤ اور اچھا کھلاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے ابوالا ٔحوص نے شبیب بن غرقدہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا حسين بن علي الجعفي، عن زايدة، عن شبيب بن غرقدة، عن سليمان بن عمرو بن الاحوص، حدثنا ابي انه، شهد حجة الوداع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فحمد الله واثنى عليه وذكر ووعظ ثم قال " اى يوم احرم اى يوم احرم اى يوم احرم " . قال فقال الناس يوم الحج الاكبر يا رسول الله . قال " فان دماءكم واموالكم واعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا الا لا يجني جان الا على نفسه ولا يجني والد على ولده ولا ولد على والده الا ان المسلم اخو المسلم فليس يحل لمسلم من اخيه شيء الا ما احل من نفسه الا وان كل ربا في الجاهلية موضوع لكم رءوس اموالكم لا تظلمون ولا تظلمون غير ربا العباس بن عبد المطلب فانه موضوع كله الا وان كل دم كان في الجاهلية موضوع واول دم اضع من دماء الجاهلية دم الحارث بن عبد المطلب كان مسترضعا في بني ليث فقتلته هذيل الا واستوصوا بالنساء خيرا فانما هن عوان عندكم ليس تملكون منهن شييا غير ذلك الا ان ياتين بفاحشة مبينة فان فعلن فاهجروهن في المضاجع واضربوهن ضربا غير مبرح فان اطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا الا ان لكم على نسايكم حقا ولنسايكم عليكم حقا فاما حقكم على نسايكم فلا يوطين فرشكم من تكرهون ولا ياذن في بيوتكم من تكرهون الا وان حقهن عليكم ان تحسنوا اليهن في كسوتهن وطعامهن " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد رواه ابو الاحوص عن شبيب بن غرقدة
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3087
- Book Index
- 139
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirHasan
- Al-AlbaniHasan
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
