احادیث
#3075
سنن ترمذی - Exegesis
مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے آیت «وإذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم ذريتهم وأشهدهم على أنفسهم ألست بربكم قالوا بلى شهدنا أن تقولوا يوم القيامة إنا كنا عن هذا غافلين» ۱؎ کا مطلب پوچھا گیا، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ سے اسی آیت کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ نے آدم کو پیدا کیا پھر اپنا داہنا ہاتھ ان کی پیٹھ پر پھیرا اور ان کی ایک ذریت ( نسل ) کو نکالا، اور کہا: میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ لوگ جنت ہی کا کام کریں گے، پھر ( دوبارہ ) ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور وہاں سے ایک ذریت ( ایک نسل ) نکالی اور کہا کہ میں نے انہیں جہنم کے لیے پیدا کیا ہے اور جہنمیوں کا کام کریں گے“۔ ایک شخص نے کہا: پھر عمل کی کیا ضرورت ہے؟ اللہ کے رسول! ۲؎ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ جنتی شخص کو پیدا کرتا ہے تو اسے جنتیوں کے کام میں لگا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ جنتیوں کا کام کرتا ہوا مر جاتا ہے تو اللہ اسے جنت میں داخل فرما دیتا ہے۔ اور جب اللہ جہنمی شخص کو پیدا کرتا ہے تو اسے جہنمیوں کے کام میں لگا دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ جہنمیوں کا کام کرتا ہوا مرتا ہے تو اللہ اسے جہنم میں داخل کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- مسلم بن یسار نے عمر رضی الله عنہ سے سنا نہیں ہے، ۳- بعض راویوں نے اس اسناد میں مسلم بن یسار اور عمر رضی الله عنہ کے درمیان کسی غیر معروف راوی کا ذکر کیا ہے۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن زيد بن ابي انيسة، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب، عن مسلم بن يسار الجهني، ان عمر بن الخطاب، سيل عن هذه الاية ( واذ اخذ ربك من بني ادم من ظهورهم ذريتهم واشهدهم على انفسهم الست بربكم قالوا بلى شهدنا ان تقولوا يوم القيامة انا كنا عن هذا غافلين ) قال عمر بن الخطاب سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عنها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله خلق ادم ثم مسح ظهره بيمينه فاستخرج منه ذرية فقال خلقت هولاء للجنة وبعمل اهل الجنة يعملون ثم مسح ظهره فاستخرج منه ذرية فقال خلقت هولاء للنار وبعمل اهل النار يعملون " . فقال رجل يا رسول الله ففيم العمل قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله اذا خلق العبد للجنة استعمله بعمل اهل الجنة حتى يموت على عمل من اعمال اهل الجنة فيدخله الله الجنة واذا خلق العبد للنار استعمله بعمل اهل النار حتى يموت على عمل من اعمال اهل النار فيدخله الله النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . ومسلم بن يسار لم يسمع من عمر وقد ذكر بعضهم في هذا الاسناد بين مسلم بن يسار وبين عمر رجلا مجهولا
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3075
- Book Index
- 127
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif
- Al-AlbaniDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
