احادیث
#3084
سنن ترمذی - Exegesis
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب بدر کی لڑائی ہوئی اور قیدی پکڑ کر لائے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیدیوں کے بارے میں تم لوگ کیا کہتے ہو؟ پھر راوی نے حدیث میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مشوروں کا طویل قصہ بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغیر فدیہ کے کسی کو نہ چھوڑا جائے، یا اس کی گردن اڑا دی جائے“۔ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! سہیل بن بیضاء کو چھوڑ کر، اس لیے کہ میں نے انہیں اسلام کی باتیں کرتے ہوئے سنا ہے، ( مجھے توقع ہے کہ وہ ایمان لے آئیں گے ) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، تو میں نے اس دن اتنا خوف محسوس کیا کہ کہیں مجھ پر پتھر نہ برس پڑیں، اس سے زیادہ کسی دن بھی میں نے اپنے کو خوف زدہ نہ پایا ۱؎، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سہیل بن بیضاء کو چھوڑ کر“، اور عمر رضی الله عنہ کی تائید میں «ما كان لنبي أن يكون له أسرى حتى يثخن في الأرض» ”کسی نبی کے لیے یہ مناسب اور سزاوار نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ پورے طور پر خوں ریزی نہ کر لے“ ( الأنفال: ۶۷ ) ، والی آیت آخر تک نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوعبیدہ نے اپنے باپ عبداللہ بن مسعود سے سنا نہیں ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن ابي عبيدة بن عبد الله، عن عبد الله بن مسعود، قال لما كان يوم بدر وجيء بالاسارى قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما تقولون في هولاء الاسارى " . فذكر في الحديث قصة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ينفلتن منهم احد الا بفداء او ضرب عنق " . قال عبد الله بن مسعود فقلت يا رسول الله الا سهيل بن بيضاء فاني قد سمعته يذكر الاسلام . قال فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فما رايتني في يوم اخوف ان تقع على حجارة من السماء مني في ذلك اليوم قال حتى قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا سهيل ابن بيضاء " . قال ونزل القران بقول عمر : ( ما كان لنبي ان يكون له اسرى حتى يثخن في الارض ) الى اخر الايات . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وابو عبيدة بن عبد الله لم يسمع من ابيه
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3084
- Book Index
- 136
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif
- Al-AlbaniDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
