احادیث
#3039
سنن ترمذی - Exegesis
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اس وقت آپ پر یہ آیت: «من يعمل سوءا يجز به ولا يجد له من دون الله وليا ولا نصيرا» نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ابوبکر! کیا میں تمہیں ایک آیت جو ( ابھی ) مجھ پر اتری ہے نہ پڑھا دوں؟“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ ابوبکر رضی الله عنہ کہتے ہیں: تو آپ نے مجھے ( مذکورہ آیت ) پڑھائی۔ میں نہیں جانتا کیا بات تھی، مگر میں نے اتنا پایا کہ کمر ٹوٹ رہی ہے تو میں نے اس کی وجہ سے انگڑائی لی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کیا حال ہے!“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، بھلا ہم میں کون ہے ایسا جس سے کوئی برائی سرزد نہ ہوتی ہو؟ اور حال یہ ہے کہ ہم سے جو بھی عمل صادر ہو گا ہمیں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( گھبراؤ نہیں ) ابوبکر تم اور سارے مومن لوگ یہ ( چھوٹی موٹی ) سزائیں تمہیں اسی دنیا ہی میں دے دی جائیں گی، یہاں تک کہ جب تم اللہ سے ملو گے تو تمہارے ذمہ کوئی گناہ نہ ہو گا، البتہ دوسروں کا حال یہ ہو گا کہ ان کی برائیاں جمع اور اکٹھی ہوتی رہیں گی جن کا بدلہ انہیں قیامت کے دن دیا جائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور اس کی سند میں کلام ہے، ۲- موسیٰ بن عبیدہ حدیث میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید اور احمد بن حنبل نے ضعیف کہا ہے۔ اور مولی بن سباع مجہول ہیں، ۳- اور یہ حدیث اس سند کے علاوہ سند سے ابوبکر سے مروی ہے، لیکن اس کی کوئی سند بھی صحیح نہیں ہے، ۴- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، وعبد بن حميد، قالا حدثنا روح بن عبادة، عن موسى بن عبيدة، اخبرني مولى ابن سباع، قال سمعت عبد الله بن عمر، يحدث عن ابي بكر الصديق، قال كنت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فانزلت عليه هذه الاية : ( من يعمل سوءا يجز به ولا يجد له من دون الله وليا ولا نصيرا ) فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا بكر الا اقريك اية انزلت على " . قلت بلى يا رسول الله . قال فاقرانيها فلا اعلم الا اني قد كنت وجدت انقصاما في ظهري فتمطات لها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما شانك يا ابا بكر " . قلت يا رسول الله بابي انت وامي واينا لم يعمل سوءا وانا لمجزيون بما عملنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما انت يا ابا بكر والمومنون فتجزون بذلك في الدنيا حتى تلقوا الله وليس لكم ذنوب واما الاخرون فيجمع ذلك لهم حتى يجزوا به يوم القيامة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب وفي اسناده مقال . موسى بن عبيدة يضعف في الحديث ضعفه يحيى بن سعيد واحمد بن حنبل ومولى ابن سباع مجهول . وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه عن ابي بكر وليس له اسناد صحيح ايضا . وفي الباب عن عايشة
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3039
- Book Index
- 91
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif Isnaad
- Al-AlbaniDaif Isnaad
- Bashar Awad MaaroufDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
