احادیث
#2975
سنن ترمذی - Exegesis
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج عرفات کی حاضری ہے، حج عرفات کی حاضری ہے۔ حج عرفات کی حاضری ہے، منیٰ ( میں قیام ) کے دن تین ہیں۔ مگر جو جلدی کر کے دو دنوں ہی میں واپس ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو تین دن پورے کر کے گیا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ۲؎ اور جو طلوع فجر سے پہلے عرفہ پہنچ گیا، اس نے حج کو پا لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن ابی عمر کہتے ہیں: سفیان بن عیینہ نے کہا: یہ ثوری کی سب سے عمدہ حدیث ہے، جسے انہوں نے روایت کی ہے، ۳- اسے شعبہ نے بھی بکیر بن عطاء سے روایت کیا ہے، ۴- اس حدیث کو ہم صرف بکیر بن عطاء کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن سفيان الثوري، عن بكير بن عطاء، عن عبد الرحمن بن يعمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الحج عرفات الحج عرفات الحج عرفات ايام منى ثلاث : (فمن تعجل في يومين فلا اثم عليه ومن تاخر فلا اثم عليه ) ومن ادرك عرفة قبل ان يطلع الفجر فقد ادرك الحج " . قال ابن ابي عمر قال سفيان بن عيينة وهذا اجود حديث رواه الثوري . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ورواه شعبة عن بكير بن عطاء ولا نعرفه الا من حديث بكير بن عطاء
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #2975
- Book Index
- 27
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih
