Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
ام سلمہ انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ عورتوں میں سے ایک عورت نے عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) اس معروف سے کیا مراد ہے جس میں ہمیں آپ کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیئے، آپ نے فرمایا: ”وہ یہی ہے کہ تم ( کسی کے مرنے پر ) نوحہ مت کرو“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! فلاں قبیلے کی عورتوں نے نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی جب میں نے اپنے چچا پر نوحہ کیا تھا، اس لیے میرے لیے ضروری ہے کہ جب ان کے نوحہ کرنے کا وقت آئے تو میں ان کے ساتھ نوحہ میں شریک ہو کر اس کا بدلہ چکاؤں، آپ نے انکار کیا، ( مجھے اجازت نہ دی ) میں نے کئی بار آپ سے اپنی عرض دہرائی تو آپ نے مجھے ان کا بدلہ چکا دینے کی اجازت دے دی، اس بدلہ کے چکا دینے کے بعد پھر میں نے نہ ان پر اور نہ ہی کسی اور پر اب قیامت تک نوحہ ( جبکہ ) میرے سوا کوئی عورت ایسی باقی نہیں ہے جس نے نوحہ نہ کیا ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ام عطیہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- عبد بن حمید کہتے ہیں، ام سلمہ انصاریہ ہی اسماء بنت یزید بن السکن ہیں رضی الله عنہا۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا ابو نعيم، حدثنا يزيد بن عبد الله الشيباني، قال سمعت شهر بن حوشب، قال حدثتنا ام سلمة الانصارية، قالت قالت امراة من النسوة ما هذا المعروف الذي لا ينبغي لنا ان نعصيك فيه قال " لا تنحن " . قلت يا رسول الله ان بني فلان قد اسعدوني على عمي ولا بد لي من قضايهن فابى على فعاتبته مرارا فاذن لي في قضايهن فلم انح بعد على قضايهن ولا غيره حتى الساعة ولم يبق من النسوة امراة الا وقد ناحت غيري . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وفيه عن ام عطية رضى الله عنها . قال عبد بن حميد ام سلمة الانصارية هي اسماء بنت يزيد بن السكن
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما اس آیت «إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن» کی تفسیر میں کہتے ہیں: جب کوئی عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایمان لانے کے لیے آتی تو آپ اسے اللہ تعالیٰ کی قسم دلا کر کہلاتے کہ میں اپنے شوہر سے ناراضگی کے باعث کفر سے نہیں نکلی ہوں بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت لے کر اسلام قبول کرنے آئی ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا سلمة بن شبيب، حدثنا محمد بن يوسف الفريابي، حدثنا قيس بن الربيع، عن الاغر بن الصباح، عن خليفة بن حصين، عن ابي نصر، عن ابن عباس، في قوله تعالى : ( اذا جاءكم المومنات مهاجرات فامتحنوهن ) قال كانت المراة اذا جاءت النبي صلى الله عليه وسلم لتسلم حلفها بالله ما خرجت من بغض زوجي ما خرجت الا حبا لله ولرسوله . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم چند صحابہ بیٹھے ہوئے تھے، آپس میں باتیں کرنے لگے، ہم نے کہا: اگر ہم جان پاتے کہ کون سا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے تو ہم اسی پر عمل کرتے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «سبح لله ما في السموات وما في الأرض وهو العزيز الحكيم يا أيها الذين آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون» ”زمین و آسمان کی ہر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہی غالب حکمت والا ہے، اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو“ ( الصف: ۱-۳ ) ۱؎ عبداللہ بن سلام کہتے ہیں: یہ سورۃ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنائی، ابوسلمہ کہتے ہیں: یہ سورۃ ہمارے سامنے ابن سلام نے پڑھی، اور یحییٰ کہتے ہیں: یہ سورۃ ہمارے سامنے ابوسلمہ نے پڑھ کر سنائی، اور محمد بن کثیر کہتے ہیں: ہمارے سامنے اسے اوزاعی نے پڑھ کر سنایا، اور عبداللہ کہتے ہیں: یہ سورۃ ہمیں ابن کثیر نے پڑھ کر سنائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی اوزاعی سے روایت کرنے میں محمد بن کثیر کی مخالفت کی گئی ہے۔ ( اس کی تفصیل یہ ہے ) ۲- ابن مبارک نے اوزاعی سے روایت کی، اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، یحییٰ نے ہلال بن ابومیمونہ سے، ہلال نے عطاء بن یسار سے، اور عطاء نے عبداللہ بن سلام سے، یا ابوسلمہ کے واسطہ سے عبداللہ بن سلام سے، ۳- ولید بن مسلم نے اوزاعی سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے جس طرح محمد بن کثیر نے روایت کی ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا محمد بن كثير، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن عبد الله بن سلام، قال قعدنا نفر من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فتذاكرنا فقلنا لو نعلم اى الاعمال احب الى الله لعملناه فانزل الله تعالى : ( سبح لله ما في السموات وما في الارض وهو العزيز الحكيم * يا ايها الذين امنوا لم تقولون ما لا تفعلون ) قال عبد الله بن سلام فقراها علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ابو سلمة فقراها علينا ابن سلام . قال يحيى فقراها علينا ابو سلمة . قال ابن كثير فقراها علينا الاوزاعي . قال عبد الله فقراها علينا ابن كثير . قال ابو عيسى وقد خولف محمد بن كثير في اسناد هذا الحديث عن الاوزاعي . وروى ابن المبارك عن الاوزاعي عن يحيى بن ابي كثير عن هلال بن ابي ميمونة عن عطاء بن يسار عن عبد الله بن سلام او عن ابي سلمة عن عبد الله بن سلام . وروى الوليد بن مسلم هذا الحديث عن الاوزاعي نحو رواية محمد بن كثير
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت سورۃ الجمعہ نازل ہوئی اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ نے اس کی تلاوت کی، جب آپ «وآخرين منهم لما يلحقوا بهم» ”اور اللہ نے اس نبی کو ان میں سے ان دوسرے لوگوں کے لیے بھی بھیجا ہے جو اب تک ان سے ملے نہیں ہیں“ ( الجمعۃ: ۳ ) ، پر پہنچے تو ایک شخص نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں جو اب تک ہم سے نہیں ملے ہیں؟ ( آپ خاموش رہے ) اس سے کوئی بات نہ کی، سلمان ( فارسی ) رضی الله عنہ ہمارے درمیان موجود تھے، آپ نے اپنا ہاتھ سلمان پر رکھ کر فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر ایمان ثریا پر ہوتا تو بھی ( اتنی بلندی اور دوری پر پہنچ کر ) ان کی قوم کے لوگ اسے حاصل کر کے ہی رہتے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور عبداللہ بن جعفر، علی بن المدینی کے والد ہیں، یحییٰ بن معین نے انہیں ضعیف کہا ہے، ۲- ثور بن زید مدنی ہیں، اور ثور بن یزید شامی ہیں، اور ابوالغیث کا نام سالم ہے، یہ عبداللہ بن مطیع کے آزاد کردہ غلام ہیں، مدنی اور ثقہ ہیں، ۳- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے ( اور اسی بنیاد پر صحیح ہے ) ۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا عبد الله بن جعفر، حدثني ثور بن زيد الديلي، عن ابي الغيث، عن ابي هريرة، قال كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم حين انزلت سورة الجمعة فتلاها فلما بلغ : ( واخرين منهم لما يلحقوا بهم ) قال له رجل يا رسول الله من هولاء الذين لم يلحقوا بنا فلم يكلمه قال وسلمان الفارسي فينا قال فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده على سلمان فقال " والذي نفسي بيده لو كان الايمان بالثريا لتناوله رجال من هولاء " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب وقد روي هذا الحديث عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير وجه . وعبد الله بن جعفر هو والد علي بن المديني ضعفه يحيى بن معين . ثور بن زيد مدني وثور بن يزيد شامي وابو الغيث اسمه سالم مولى عبد الله بن مطيع مدني ثقة
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اس دوران کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے خطبہ دے رہے تھے، مدینہ کا ( تجارتی ) قافلہ آ گیا، ( یہ سن کر ) صحابہ بھی ( خطبہ چھوڑ کر ) ادھر ہی لپک لیے، صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے جن میں ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی تھے، اسی موقع پر آیت «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» ”اور جب کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشہ نظر آ جائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ کے پاس جو ہے وہ کھیل اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ بہترین روزی رساں ہے“ ( الجمعۃ: ۱۱ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا حصين، عن ابي سفيان، عن جابر، قال بينما النبي صلى الله عليه وسلم يخطب يوم الجمعة قايما اذ قدمت عير المدينة فابتدرها اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى لم يبق منهم الا اثنا عشر رجلا فيهم ابو بكر وعمر ونزلت الاية : ( واذا راوا تجارة او لهوا انفضوا اليها وتركوك قايما ) . قال هذا حديث حسن صحيح . حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا حصين، عن سالم بن ابي الجعد، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ تھا، میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو اپنے ساتھیوں سے کہتے ہوئے سنا کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں، یہاں تک کہ وہ تتربتر ہو جائیں، اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا، میں نے یہ بات اپنے چچا کو بتائی تو میرے چچا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کر دیا، آپ نے مجھے بلا کر پوچھا تو میں نے آپ کو ( بھی ) بتا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلا کر پوچھا، تو انہوں نے قسم کھا لی کہ ہم نے نہیں کہی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا اور اسے سچا تسلیم کر لیا، اس کا مجھے اتنا رنج و ملال ہوا کہ اس جیسا صدمہ، اور رنج و ملال مجھے کبھی نہ ہوا تھا، میں ( مارے شرم و ندامت اور صدمہ کے ) اپنے گھر میں ہی بیٹھ رہا، میرے چچا نے کہا: تو نے یہی چاہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں جھٹلا دیں اور تجھ پر خفا ہوں؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے «إذا جاءك المنافقون» والی سورت نازل فرمائی، تو آپ نے مجھے بلا بھیجا ( جب میں آیا تو ) آپ نے یہ سورۃ پڑھ کر سنائی، پھر فرمایا: ”اللہ نے تجھے سچا قرار دے دیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن زيد بن ارقم، قال كنت مع عمي فسمعت عبد الله بن ابى ابن سلول، يقول لاصحابه : ( لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا ) و (لين رجعنا الى المدينة ليخرجن الاعز منها الاذل ) فذكرت ذلك لعمي فذكر ذلك عمي للنبي صلى الله عليه وسلم فدعاني النبي صلى الله عليه وسلم فحدثته فارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم الى عبد الله بن ابى واصحابه فحلفوا ما قالوا فكذبني رسول الله صلى الله عليه وسلم وصدقه فاصابني شيء لم يصبني قط مثله فجلست في البيت فقال عمي ما اردت الا ان كذبك رسول الله صلى الله عليه وسلم ومقتك فانزل الله تعالى : ( اذا جاءك المنافقون ) فبعث الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقراها ثم قال " ان الله قد صدقك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( غزوہ بنی مصطلق میں ) جہاد کے لیے نکلے، ہمارے ساتھ کچھ اعرابی بھی تھے ( جب کہیں پانی نظر آتا ) تو ہم ایک دوسرے سے پہلے پہنچ کر حاصل کر لینے کی کوشش کرتے، اعرابی پانی تک پہنچنے میں ہم سے آگے بڑھ جاتے ( اس وقت ایسا ہوا ) ایک دیہاتی اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، جب آگے نکلتا تو حوض کو بھرتا اور اس کے اردگرد پتھر رکھتا، اس پر چمڑے کی چٹائی ڈال دیتا، پھر اس کے ساتھی آتے، اسی موقع پر انصاریوں میں سے ایک اعرابی کے پاس آیا، اور اپنی اونٹنی کی مہار ڈھیلی کر دی تاکہ وہ پانی پی لے، مگر اس اعرابی شخص نے پانی پینے نہ دیا، انصاری نے باندھ توڑ دیا اعرابی نے لٹھ اٹھائی اور انصاری کے سر پر مار کر اس کا سر توڑ دیا، وہ انصاری منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی کے پاس آیا، وہ اس کے ( ہم خیال ) ساتھیوں میں سے تھا، اس نے اسے واقعہ کی اطلاع دی، عبداللہ بن ابی یہ خبر سن کر بھڑک اٹھا، غصہ میں آ گیا، کہا: ان لوگوں پر تم لوگ خرچ نہ کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں جب تک کہ وہ ( یعنی اعرابی ) ہٹ نہ جائیں جب کہ ان کا معمول یہ تھا کہ کھانے کے وقت وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھا اور موجود ہوتے تھے، عبداللہ بن ابی نے کہا: جب وہ لوگ محمد کے پاس سے چلے جائیں تو محمد کے پاس کھانا لے کر آؤ تاکہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھ ( خاص ) موجود لوگ کھا لیں، پھر اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اگر ہم مدینہ ( بسلامت ) پہنچ گئے تو تم میں جو عزت والے ہیں انہیں ذلت والوں ( اعرابیوں ) کو مدینہ سے ضرور نکال بھگا دینا چاہیئے، زید کہتے ہیں: میں سواری پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، میں نے عبداللہ بن ابی کی بات سن لی، تو اپنے چچا کو بتا دی، چچا گئے، انہوں نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیدی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھیج کر اسے بلوایا، اس نے آ کر قسمیں کھائیں اور انکار کیا ( کہ میں نے ایسی باتیں نہیں کہی ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا مان لیا اور مجھے جھوٹا ٹھہرا دیا، پھر میرے چچا میرے پاس آئے، بولے ( بیٹے ) تو نے کیا سوچا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر غصہ ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے تجھے جھوٹا ٹھہرا دیا، ( یہ سن کر ) مجھے اتنا غم اور صدمہ ہوا کہ شاید اتنا غم اور صدمہ کسی اور کو نہ ہوا ہو گا، میں غم سے اپنا سر جھکائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں چلا ہی جا رہا تھا کہ یکایک آپ میرے قریب آئے میرے کان کو جھٹکا دیا اور میرے سامنے مسکرا دیئے مجھے اس سے اتنی خوشی ہوئی کہ اس کے بدلے میں اگر مجھے دنیا میں جنت مل جاتی تو بھی اتنی خوشی نہ ہوتی، پھر مجھے ابوبکر رضی الله عنہ ملے، مجھ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟ میں نے کہا: مجھ سے آپ نے کچھ نہیں کہا: البتہ میرے کان پکڑ کر آپ نے ہلائے اور مجھے دیکھ کر ہنسے، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: خوش ہو جاؤ، پھر مجھے عمر رضی الله عنہ ملے، میں نے انہیں بھی وہی بات بتائی، جو میں نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہی تھی، پھر صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز فجر میں ) سورۃ منافقین پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حکم بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں محمد بن کعب قرظی کو چالیس سال سے زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کرتے سن رہا ہوں کہ غزوہ تبوک میں عبداللہ بن ابی نے کہا: اگر ہم مدینہ لوٹے تو عزت والے لوگ ذلت والوں کو مدینہ سے ضرور نکال باہر کریں گے، وہ کہتے ہیں: میں یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، اور آپ کو یہ بات بتا دی ( جب اس سے بازپرس ہوئی ) تو وہ قسم کھا گیا کہ اس نے تو ایسی کوئی بات کہی ہی نہیں ہے، میری قوم نے مجھے ملامت کی، لوگوں نے کہا: تجھے اس طرح کی ( جھوٹ ) بات کہنے سے کیا ملا؟ میں گھر آ گیا، رنج و غم میں ڈوبا ہوا لیٹ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے یا میں آپ کے پاس پہنچا ( راوی کو شک ہو گیا ہے کہ زید بن ارقم رضی الله عنہ نے یہ کہا یا وہ کہا ) آپ نے فرمایا: ”اللہ نے تجھے سچا ٹھہرایا ہے یہ آیت نازل ہوئی ہے: «هم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا» ”وہی لوگ تھے جو کہتے تھے ان لوگوں پر خرچ نہ کرو، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں“ ( المنافقون: ۷ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن ابي عدي، انبانا شعبة، عن الحكم بن عتيبة، قال سمعت محمد بن كعب القرظي، منذ اربعين سنة يحدث عن زيد بن ارقم، رضى الله عنه ان عبد، الله بن ابى قال في غزوة تبوك : (لين رجعنا الى المدينة ليخرجن الاعز منها الاذل ) قال فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فحلف ما قاله فلامني قومي وقالوا ما اردت الى هذه فاتيت البيت ونمت كييبا حزينا فاتاني النبي صلى الله عليه وسلم او اتيته فقال " ان الله قد صدقك " . قال فنزلت هذه الاية : ( هم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، ( سفیان کہتے ہیں: لوگوں کا خیال یہ تھا کہ وہ غزوہ بنی مصطلق تھا ) ، مہاجرین میں سے ایک شخص نے ایک انصاری شخص کے چوتڑ پر لات مار دی، مہاجر نے پکارا: اے مہاجرین، انصاری نے کہا: اے انصاریو! یہ ( آواز ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لی، فرمایا: ”جاہلیت کی کیسی پکار ہو رہی ہے؟“ لوگوں نے بتایا: ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری شخص کو لات مار دی ہے، آپ نے فرمایا: ”یہ ( پکار ) چھوڑ دو، یہ قبیح و ناپسندیدہ پکار ہے“، یہ بات عبداللہ بن ابی بن سلول نے سنی تو اس نے کہا: واقعی انہوں نے ایسا کیا ہے؟ قسم اللہ کی مدینہ پہنچ کر ہم میں سے عزت دار لوگ ذلیل و بےوقعت لوگوں کو نکال دیں گے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانے دو ( گردن نہ مارو ) لوگ یہ باتیں کرنے لگیں کہ محمد تو اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتا ہے“، عمرو بن دینار کے علاوہ دوسرے راویوں نے کہا: عبداللہ بن ابی سے اس کے بیٹے عبداللہ ابن عبداللہ نے ( تو یہاں تک ) کہہ دیا کہ تم پلٹ نہیں سکتے جب تک یہ اقرار نہ کر لو کہ تم ہی ذلیل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی باعزت ہیں تو اس نے اقرار کر لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، سمع جابر بن عبد الله، يقول كنا في غزاة قال سفيان يرون انها غزوة بني المصطلق فكسع رجل من المهاجرين رجلا من الانصار فقال المهاجري يا للمهاجرين وقال الانصاري يا للانصار فسمع ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ما بال دعوى الجاهلية " . قالوا رجل من المهاجرين كسع رجلا من الانصار فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " دعوها فانها منتنة " . فسمع ذلك عبد الله بن ابى ابن سلول فقال اوقد فعلوها والله (لين رجعنا الى المدينة ليخرجن الاعز منها الاذل ) فقال عمر يا رسول الله دعني اضرب عنق هذا المنافق . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " دعه لا يتحدث الناس ان محمدا يقتل اصحابه " . وقال غير عمرو فقال له ابنه عبد الله بن عبد الله والله لا تنقلب حتى تقر انك الذليل ورسول الله صلى الله عليه وسلم العزيز . ففعل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ حج بیت اللہ کو جا سکے یا اس پر اس میں زکاۃ واجب ہوتی ہو اور وہ حج کو نہ جائے، زکاۃ ادا نہ کرے تو وہ مرتے وقت اللہ سے درخواست کرے گا کہ اسے وہ دنیا میں دوبارہ لوٹا دے، ایک شخص نے کہا: ابن عباس! اللہ سے ڈرو، دوبارہ لوٹا دیئے جانے کی آرزو تو کفار کریں گے ( نہ کہ مسلمین ) ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: میں تمہیں اس کے متعلق قرآن پڑھ کر سناتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا «يا أيها الذين آمنوا لا تلهكم أموالكم ولا أولادكم عن ذكر الله ومن يفعل ذلك فأولئك هم الخاسرون وأنفقوا من ما رزقناكم من قبل أن يأتي أحدكم الموت» سے «والله خبير بما تعملون» ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں، اور جس نے ایسا کیا وہی لوگ ہیں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے، اور جو روزی ہم نے تمہیں دی ہے اس میں سے خرچ کرو اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آئے اور وہ کہنے لگے کہ اے میرے رب! کیوں نہ تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دے لیتا، اور نیک لوگوں میں سے ہو جاتا اور جب کسی کا مقررہ وقت آ جاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو سب معلوم ہے“ ( المنافقین: ۹-۱۱ ) ، تک۔ اس نے پوچھا: کتنے مال میں زکاۃ واجب ہو جاتی ہے؟ ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: جب مال دو سو درہم ۱؎ ہو جائے یا زیادہ، پھر پوچھا: حج کب واجب ہوتا ہے؟ کہا: جب توشہ اور سواری کا انتظام ہو جائے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا جعفر بن عون، اخبرنا ابو جناب الكلبي، عن الضحاك بن مزاحم، عن ابن عباس، رضى الله عنهما قال من كان له مال يبلغه حج بيت ربه او تجب عليه فيه الزكاة فلم يفعل سال الرجعة عند الموت . فقال رجل يا ابن عباس اتق الله انما سال الرجعة الكفار قال ساتلو عليك بذلك قرانا : ( يا ايها الذين امنوا لا تلهكم اموالكم ولا اولادكم عن ذكر الله ) : (وانفقوا مما رزقناكم من قبل ان ياتي احدكم الموت ) الى قوله : ( والله خبير بما تعملون ) قال فما يوجب الزكاة قال اذا بلغ المال مايتى درهم فصاعدا . قال فما يوجب الحج قال الزاد والبعير . حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرزاق، عن الثوري، عن يحيى بن ابي حية، عن الضحاك، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه . وقال هكذا روى سفيان بن عيينة، وغير، واحد، هذا الحديث عن ابي جناب، عن الضحاك، عن ابن عباس، قوله ولم يرفعه . وهذا اصح من رواية عبد الرزاق . وابو جناب القصاب اسمه يحيى بن ابي حية وليس هو بالقوي في الحديث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے آیت «يا أيها الذين آمنوا إن من أزواجكم وأولادكم عدوا لكم فاحذروهم» ”اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہنا اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے“ ( التغابن: ۱۴ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس کے بارے میں اتری ہے؟ انہوں نے کہا: اہل مکہ میں کچھ لوگ تھے جو ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں نے انکار کیا کہ وہ انہیں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، پھر جب وہ ( کافی دنوں کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور دیکھا کہ لوگوں نے دین کی فقہ، ( دین کی سوجھ بوجھ ) کافی حاصل کر لی ہے، تو انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی بیویوں اور بچوں کو ( ان کے رکاوٹ ڈالنے کے باعث ) سزا دیں، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا اسراييل، حدثنا سماك بن حرب، عن عكرمة، عن ابن عباس، وساله، رجل عن هذه الاية، ( يا ايها الذين امنوا ان من ازواجكم واولادكم عدوا لكم فاحذروهم ) قال هولاء رجال اسلموا من اهل مكة وارادوا ان ياتوا النبي صلى الله عليه وسلم فابى ازواجهم واولادهم ان يدعوهم ان ياتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما اتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم راوا الناس قد فقهوا في الدين هموا ان يعاقبوهم فانزل الله عز وجل : ( يا ايها الذين امنوا ان من ازواجكم واولادكم عدوا لكم فاحذروهم ) الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میری برابر یہ خواہش رہی کہ میں عمر رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» ”اے نبی کی دونوں بیویو! اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں ( یعنی حق سے ہٹ گئے ہیں“ ( التحریم: ۴ ) ، ( مگر مجھے موقع اس وقت ملا ) جب عمر رضی الله عنہ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، میں نے ڈول سے پانی ڈال کر انہیں وضو کرایا، ( اسی دوران ) میں نے ان سے پوچھا: امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دو بیویاں کون ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کہا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما وإن تظاهرا عليه فإن الله هو مولاه» عمر رضی الله عنہ نے مجھ سے حیرت سے کہا: ہائے تعجب! اے ابن عباس ( تمہیں اتنی سی بات معلوم نہیں ) ( زہری کہتے ہیں قسم اللہ کی ابن عباس رضی الله عنہما نے جو بات پوچھی وہ انہیں بری لگی مگر انہوں نے حقیقت چھپائی نہیں بتا دی ) انہوں نے مجھے بتایا: وہ عائشہ اور حفصہ رضی الله عنہما ہیں، پھر وہ مجھے پوری بات بتانے لگے کہا: ہم قریش والے عورتوں پر حاوی رہتے اور انہیں دبا کر رکھتے تھے، مگر جب مدینہ آئے تو یہاں ایسے لوگ ملے جن پر ان کی بیویاں غالب اور حاوی ہوتی تھیں، تو ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے ان کے رنگ ڈھنگ سیکھنے لگیں، ایک دن ایسا ہوا کہ میں اپنی بیوی پر غصہ ہو گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بھی مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی، مجھے ( سخت ) ناگوار ہوا کہ وہ مجھے پلٹ کر جواب دے، اس نے کہا: آپ کو یہ بات کیوں ناگوار لگ رہی ہے؟ قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب دے رہی ہیں اور دن سے رات تک آپ کو چھوڑے رہتی ہیں ( روٹھی اور اینٹھی رہتی ) ہیں، میں نے اپنے جی میں کہا: آپ کی بیویوں میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ ناکام ہوئی اور گھاٹے میں رہی، میرا گھر مدینہ کے بنی امیہ نامی محلہ میں عوالی کے علاقہ میں تھا، اور میرا ایک انصاری پڑوسی تھا، ہم باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتے تھے، ایک دن وہ آتا اور جو کچھ ہوا ہوتا وہ واپس جا کر مجھے بتاتا، اور ایسے ہی ایک دن میں آپ کے پاس آتا اور وحی وغیرہ کی جو بھی خبر ہوتی میں جا کر اسے بتاتا، ہم ( اس وقت ) باتیں کیا کرتے تھے کہ اہل غسان ہم سے لڑائی کرنے کے لیے اپنے گھوڑوں کے پیروں میں نعلیں ٹھونک رہے ہیں، ایک دن عشاء کے وقت ہمارے پڑوسی انصاری نے آ کر، دروازہ کھٹکھٹایا، میں دروازہ کھول کر اس کے پاس گیا، اس نے کہا: ایک بڑی بات ہو گئی ہے، میں نے پوچھا: کیا اہل غسان ہم پر چڑھائی کر آئے ہیں؟ اس نے کہا: اس سے بھی بڑا معاملہ پیش آ گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے، میں نے اپنے جی میں کہا: حفصہ ناکام رہی گھاٹے میں پڑی، میں سوچا کرتا تھا کہ ایسا ہونے والا ہے، جب میں نے فجر پڑھی تو اپنے کپڑے پہنے اور چل پڑا، حفصہ کے پاس پہنچا تو وہ ( بیٹھی ) رو رہی تھی، میں نے پوچھا: کیا تم سب بیویوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم ہے، البتہ آپ اس بالاخانے پر الگ تھلگ بیٹھے ہیں، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں ( اٹھ کر آپ سے ملنے ) چلا، میں ایک کالے رنگ کے ( دربان ) لڑکے کے پاس آیا اور اس سے کہا: جاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر کے آنے کی اجازت مانگو، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: وہ لڑکا آپ کے پاس گیا پھر نکل کر میرے پاس آیا اور کہا: میں نے آپ کے آنے کی خبر کی مگر آپ نے کچھ نہ کہا، میں مسجد چلا گیا ( دیکھا ) منبر کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے رو رہے تھے، میں بھی انہیں لوگوں کے پاس بیٹھ گیا، ( مجھے سکون نہ ملا ) میری فکرو تشویش بڑھتی گئی، میں اٹھ کر دوبارہ لڑکے کے پاس چلا آیا، میں نے کہا: جاؤ آپ سے عمر کے اندر آنے کی اجازت مانگو، تو وہ اندر گیا پھر میرے پاس واپس آیا، اس نے کہا: میں نے آپ کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں دوبارہ مسجد میں آ کر بیٹھ گیا، مگر مجھ پر پھر وہی فکر سوار ہو گئی، میں ( سہ بارہ ) لڑکے کے پاس آ گیا اور اس سے کہا: جاؤ اور آپ سے عمر کے اندر آنے کی اجازت مانگو، وہ لڑکا اندر گیا پھر میرے پاس واپس آیا، کہا: میں نے آپ سے آپ کے آنے کا ذکر کیا مگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا، ( یہ سن کر ) میں پلٹ پڑا، یکایک لڑکا مجھے پکارنے لگا، ( آ جائیے آ جائیے ) اندر تشریف لے جائیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے، میں اندر چلا گیا، میں نے دیکھا آپ بوریئے پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں اور اس کا اثر و نشان آپ کے پہلوؤں میں دیکھا، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے کہا: اللہ اکبر، آپ نے دیکھا ہو گا اللہ کے رسول! ہم قریشی لوگ اپنی بیویوں پر کنٹرول رکھتے تھے، لیکن جب ہم مدینہ آ گئے تو ہمارا سابقہ ایک ایسی قوم سے پڑ گیا ہے جن پر ان کی بیویاں حاوی اور غالب رہتی ہیں، ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے ( ان کے طور طریقے ) سیکھنے لگیں، ایک دن اپنی بیوی پر غصہ ہوا تو وہ مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی، مجھے یہ سخت برا لگا، کہنے لگی آپ کو کیوں اتنا برا لگ رہا ہے، قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویاں بھی آپ کو پلٹ کر جواب دے رہی ہیں اور کوئی بھی عورت دن سے رات تک آپ کو چھوڑ کر ( روٹھی و اینٹھی ) رہتی ہے، میں نے حفصہ سے کہا: کیا تم پلٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو؟ اس نے کہا: ہاں، ہم میں کوئی بھی آپ سے ( خفا ہو کر ) دن سے رات تک آپ سے علیحدہ رہتی ہے، میں نے کہا: تم میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ گھاٹے میں رہی اور ناکام ہوئی، کیا تم میں سے ہر کوئی اس بات سے مطمئن ہے کہ اللہ اپنے رسول کی ناراضگی کے سبب اس سے ناراض و ناخوش ہو جائے اور وہ ہلاک و برباد ہو جائے؟ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: میں نے حفصہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب نہ دو اور نہ آپ سے کسی چیز کا مطالبہ کرو، جس چیز کی تمہیں حاجت ہو وہ مجھ سے مانگ لیا کرو، اور تم بھروسے میں نہ رہو تمہاری سوکن تو تم سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی ہے ۱؎ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر مسکرا دیئے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں دل بستگی کی بات کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، عمر کہتے ہیں: میں نے سر اٹھایا تو گھر میں تین کچی کھالوں کے سوا کوئی اور چیز دکھائی نہ دی، میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! اللہ سے دعا فرمایئے کہ وہ آپ کی امت کو وہ کشادگی و فراوانی دے جو اس نے روم و فارس کو دی ہے، جب کہ وہ اس کی عبادت و بندگی بھی نہیں کرتے ہیں، ( یہ سن کر ) آپ جم کر بیٹھ گئے، فرمایا: ”خطاب کے بیٹے! کیا تم ابھی تک اسلام کی حقانیت کے بارے میں شک و شبہہ میں پڑے ہوئے ہو؟ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں ان کے حصہ کی اچھی چیزیں پہلے ہی دنیا میں دے دی گئی ہیں“، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ایک مہینہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے فہمائش کی اور آپ کو کفارہ یمین ( قسم کا کفارہ ) ادا کرنے کا حکم دیا۔ زہری کہتے ہیں: عروہ نے عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ عائشہ رضی الله عنہا نے بتایا کہ جب مہینے کے ۲۹ دن گزر گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے، آپ نے فرمایا: ”میں تم سے ایک بات کا ذکر کرنے والا ہوں، اپنے والدین سے مشورہ کئے بغیر جواب دینے میں جلدی نہ کرنا“، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «يا أيها النبي قل لأزواجك» ( آخر آیت تک ) ”اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ اگر تمہیں دنیا کی زندگی اور اس کی خوش رنگینیاں چاہیئے، تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دوں، اور خوش اسلوبی سے تم کو رخصت کر دوں، اور اگر تمہیں اللہ اور اس کا رسول چاہیں اور آخرت کی بھلائی چاہیں تو بیشک اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیک عمل کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے“ ( الاحزاب: ۲۸، ۲۹ ) ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ جانتے تھے، قسم اللہ کی میرے والدین مجھے آپ سے علیحدگی اختیار کر لینے کا ہرگز حکم نہ دیں گے، میں نے کہا: کیا میں اس معاملے میں والدین سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی اور پسند کرتی ہوں۔
عبدالواحد بن سلیم کہتے ہیں کہ میں مکہ آیا، عطاء بن ابی رباح سے میری ملاقات ہوئی، میں نے ان سے کہا: ابو محمد! ہمارے یہاں کچھ لوگ تقدیر کا انکار کرتے ہیں، عطا نے کہا: میں ولید بن عبادہ بن صامت سے ملا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے: سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا ( بنایا ) پھر اس سے کہا: لکھ، تو وہ چل پڑا، اور ہمیشہ ہمیش تک جو کچھ ہونے والا تھا سب اس نے لکھ ڈالا ۱؎۔ اس حدیث میں ایک قصہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا عبد الواحد بن سليم، قال قدمت مكة فلقيت عطاء بن ابي رباح فقلت له يا ابا محمد ان اناسا عندنا يقولون في القدر . فقال عطاء لقيت الوليد بن عبادة بن الصامت قال حدثني ابي قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان اول ما خلق الله القلم فقال له اكتب فجرى بما هو كاين الى الابد " . وفي الحديث قصة . قال هذا حديث حسن صحيح غريب . وفيه عن ابن عباس
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں وادی بطحاء میں صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور آپ بھی انہیں لوگوں میں تشریف فرما تھے، اچانک لوگوں کے اوپر سے ایک بدلی گزری، لوگ اسے دیکھنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو اس کا نام کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں ہم جانتے ہیں، یہ «سحاب» ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا یہ «مزن» ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں یہ «مزن» بھی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اسے «عنان» ۱؎ بھی کہتے ہیں“، لوگوں نے کہا: جی ہاں یہ «عنان» بھی ہے، پھر آپ نے لوگوں سے کہا: کیا تم جانتے ہو آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی ہم نہیں جانتے، آپ نے فرمایا: ”ان دونوں میں اکہتر ( ۷۱ ) بہتر ( ۷۲ ) یا تہتر ( ۷۳ ) سال کا فرق ہے اور جو آسمان اس کے اوپر ہے وہ بھی اتنا ہی دور ہے“، اور اسی فرق کے ساتھ آپ نے سات آسمان گن ڈالے، پھر آپ نے فرمایا: ”ساتویں آسمان پر ایک دریا ہے جس کی اوپری سطح اور نچلی سطح میں اتنی دوری ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی دوری ہے ( یعنی وہ اتنا زیادہ گہرا ہے ) اور ان کے اوپر آٹھ جنگلی بکرے ( فرشتے ) ہیں جن کی کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی دوری اور لمبائی ہے جتنی دوری اور لمبائی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان ہے، پھر ان کی پیٹھوں پر عرش ہے، عرش کی نچلی سطح اور اوپری سطح میں ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی سی دوری ہے ( یعنی عرش اتنا موٹا ہے ) اور اللہ اس کے اوپر ہے۔ عبد بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے ہوئے سنا ہے، عبدالرحمٰن بن سعد حج کرنے کیوں نہیں جاتے کہ وہاں ان سے یہ حدیث ہم سنتے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ولید بن ابوثور نے سماک سے اسی طرح یہ حدیث روایت کی ہے اور اسے مرفوعاً روایت کیا ہے، ۳- شریک نے سماک سے اس حدیث کے بعض حصوں کی روایت کی ہے اور اسے موقوفا روایت کیا ہے، مرفوعاً نہیں کیا، ۴- عبدالرحمٰن، یہ ابن عبداللہ بن سعد رازی ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرحمن بن سعد، عن عمرو بن ابي قيس، عن سماك بن حرب، عن عبد الله بن عميرة، عن الاحنف بن قيس، عن العباس بن عبد المطلب، قال زعم انه كان جالسا في البطحاء في عصابة ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس فيهم اذ مرت عليهم سحابة فنظروا اليها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل تدرون ما اسم هذه " . قالوا نعم هذا السحاب . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والمزن " . قالوا والمزن . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والعنان " . قالوا والعنان . ثم قال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل تدرون كم بعد ما بين السماء والارض " . فقالوا لا والله ما ندري . قال " فان بعد ما بينهما اما واحدة واما اثنتان او ثلاث وسبعون سنة والسماء التي فوقها كذلك " . حتى عددهن سبع سموات كذلك ثم قال " فوق السماء السابعة بحر بين اعلاه واسفله كما بين السماء الى السماء وفوق ذلك ثمانية اوعال بين اظلافهن وركبهن ما بين سماء الى سماء ثم فوق ظهورهن العرش بين اسفله واعلاه ما بين سماء الى سماء والله فوق ذلك " . قال عبد بن حميد سمعت يحيى بن معين يقول الا يريد عبد الرحمن بن سعد ان يحج حتى نسمع منه هذا الحديث . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وروى الوليد بن ابي ثور عن سماك نحوه ورفعه . وروى شريك عن سماك بعض هذا الحديث واوقفه ولم يرفعه وعبد الرحمن هو ابن عبد الله بن سعد الرازي
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن سعد رازی سے روایت ہے کہ ان کے باب عبداللہ نے ان کو خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو بخارا میں خچر پر سوار سر پر سیاہ عمامہ باندھے ہوئے دیکھا وہ کہتا تھا: یہ وہ عمامہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پہنایا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن حميد الرازي، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد، عن والده عبد الله بن سعد، . حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد الرازي، وهو الدشتكي ان اباه، اخبره ان اباه رحمه الله اخبره كذا، قال اخبره قال رايت رجلا ببخارى على بغلة وعليه عمامة سوداء ويقول كسانيها رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «يوم تكون السماء كالمهل» ”جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا“ ( المعارج: ۸ ) ، میں مہل کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس سے مراد تیل کی تلچھٹ ہے، جب کافر اسے اپنے منہ کے قریب لائے گا تو سر کی کھال مع بالوں کے اس میں گر جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا رشدين بن سعد، عن عمرو بن الحارث، عن دراج ابي السمح، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله : ( كالمهل ) قال " كعكر الزيت فاذا قربه الى وجهه سقطت فروة وجهه فيه " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث رشدين
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ ( ہوا یہ ہے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، ( بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد ) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے ( دنیا میں ) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ کھڑی ہوئی ہے، تم زمین کے مشرق و مغرب میں چاروں طرف پھیل جاؤ اور دیکھو کہ وہ کون سی چیز ہے جو ہمارے اور ہمارے آسمان سے خبریں حاصل کرنے کے درمیان حائل ہوئی ( اور رکاوٹ بنی ) ہے چنانچہ وہ زمین کے چاروں کونے مغربین و مشرقین میں تلاش کرنے نکل کھڑے ہوئے، شیاطین کا جو گروہ تہامہ کی طرف نکلا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ( اس وقت ) آپ سوق عکاظ جاتے ہوئے مقام نخلہ میں تھے، اور اپنے صحابہ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے، جب انہوں نے قرآن سنا تو پوری توجہ سے کان لگا کر سننے لگے، ( سن چکے تو ) انہوں نے کہا: یہ ہے قسم اللہ کی! وہ چیز جو تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہوئی ہے، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: یہیں سے وہ لوگ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے، ( وہاں جا کر ) کہا: اے میری قوم! «إنا سمعنا قرآنا عجبا يهدي إلى الرشد فآمنا به ولن نشرك بربنا أحدا» ”ہم نے عجیب و غریب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس پر ایمان لا چکے ( اب ) ہم کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے“ ( الجن: ۱-۲ ) ، اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت «قل أوحي إلي أنه استمع نفر من الجن» نازل فرمائی، اور آپ پر جن کا قول وحی کیا گیا ۲؎۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثني ابو الوليد، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، رضى الله عنهما قال ما قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم على الجن ولا راهم انطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم في طايفة من اصحابه عامدين الى سوق عكاظ وقد حيل بين الشياطين وبين خبر السماء وارسلت عليهم الشهب فرجعت الشياطين الى قومهم فقالوا ما لكم قالوا حيل بيننا وبين خبر السماء وارسلت علينا الشهب . فقالوا ما حال بيننا وبين خبر السماء الا من امر حدث فاضربوا مشارق الارض ومغاربها فانظروا ما هذا الذي حال بينكم وبين خبر السماء قال فانطلقوا يضربون مشارق الارض ومغاربها يبتغون ما هذا الذي حال بينهم وبين خبر السماء فانصرف اوليك النفر الذين توجهوا الى نحو تهامة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بنخلة عامدا الى سوق عكاظ وهو يصلي باصحابه صلاة الفجر فلما سمعوا القران استمعوا له فقالوا هذا والله الذي حال بينكم وبين خبر السماء . قال فهنالك رجعوا الى قومهم فقالوا يا قومنا : ( انا سمعنا قرانا عجبا * يهدي الى الرشد فامنا به ولن نشرك بربنا احدا ) فانزل الله على نبيه : ( قل اوحي الى انه استمع ) وانما اوحي اليه قول الجن . قال وبهذا الاسناد عن ابن عباس، قال قول الجن لقومهم (لما قام عبد الله يدعوه كادوا يكونون عليه لبدا ) قال لما راوه يصلي واصحابه يصلون بصلاته فيسجدون بسجوده قال تعجبوا من طواعية اصحابه له قالوا لقومهم : (لما قام عبد الله يدعوه كادوا يكونون عليه لبدا ) . قال هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جن آسمان کی طرف چڑھ کر وحی سننے جایا کرتے تھے، اور جب وہ ایک بات سن لیتے تو اس میں اور بڑھا لیتے، تو جو بات وہ سنتے وہ تو حق ہوتی لیکن جو بات وہ اس کے ساتھ بڑھا دیتے وہ باطل ہوتی، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرما دیئے گئے تو انہیں ( جنوں کو ) ان کی نشست گاہوں سے روک دیا گیا تو انہوں نے اس بات کا ذکر ابلیس سے کیا: اس سے پہلے انہیں تارے پھینک پھینک کر نہ مارا جاتا تھا، ابلیس نے کہا: زمین میں کوئی نیا حادثہ وقوع پذیر ہوا ہے جبھی ایسا ہوا ہے، اس نے پتا لگانے کے لیے اپنے لشکر کو بھیجا، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو پہاڑوں کے درمیان کھڑے نماز پڑھتے ہوئے ملے۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: یہ واقعہ مکہ میں پیش آیا، وہ لوگ آپ سے ملے اور جا کر اسے بتایا، پھر اس نے کہا یہی وہ حادثہ ہے جو زمین پر ظہور پذیر ہوا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا اسراييل، حدثنا ابو اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كان الجن يصعدون الى السماء يستمعون الوحى فاذا سمعوا الكلمة زادوا فيها تسعا فاما الكلمة فتكون حقا واما ما زادوه فيكون باطلا فلما بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم منعوا مقاعدهم فذكروا ذلك لابليس ولم تكن النجوم يرمى بها قبل ذلك فقال لهم ابليس ما هذا الا من امر قد حدث في الارض فبعث جنوده فوجدوا رسول الله صلى الله عليه وسلم قايما يصلي بين جبلين اراه قال بمكة فاتوه فاخبروه فقال هذا الذي حدث في الارض . قال هذا حديث حسن صحيح
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ وحی موقوف ہو جانے کے واقعہ کا ذکر کر رہے تھے، آپ نے دوران گفتگو بتایا: ”میں چلا جا رہا تھا کہ یکایک میں نے آسمان سے آتی ہوئی ایک آواز سنی، میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ فرشتہ جو ( غار ) حراء میں میرے پاس آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، رعب کی وجہ سے مجھ پر دہشت طاری ہو گئی، میں لوٹ پڑا ( گھر آ کر ) کہا: مجھے کمبل میں لپیٹ دو، تو لوگوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا، اسی موقع پر آیت «يا أيها المدثر قم فأنذر» سے «والرجز فاهجر» ”اے کپڑا اوڑھنے والے، کھڑے ہو جا اور لوگوں کو ڈرا، اور اپنے رب کی بڑائیاں بیان کر، اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر، اور ناپاکی کو چھوڑ دے“ ( المدثر: ۱-۵ ) ، تک نازل ہوئی، یہ واقعہ نماز فرض ہونے سے پہلے کا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث یحییٰ بن کثیر نے بھی ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے واسطہ سے جابر سے بھی روایت کی ہے، ۳- اور ابوسلمہ کا نام عبداللہ ہے۔ ( یہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے بیٹے تھے اور ان کا شمار فقہائے مدینہ میں ہوتا تھا ) ۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن جابر بن عبد الله، رضى الله عنهما قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يحدث عن فترة الوحى فقال في حديثه " بينما انا امشي سمعت صوتا من السماء فرفعت راسي فاذا الملك الذي جاءني بحراء جالس على كرسي بين السماء والارض فجثثت منه رعبا فرجعت فقلت زملوني زملوني . فدثروني فانزل الله عز وجل : ( يا ايها المدثر * قم فانذر ) الى قوله : ( والرجز فاهجر ) قبل ان تفرض الصلاة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد رواه يحيى بن ابي كثير عن ابي سلمة بن عبد الرحمن عن جابر ابو سلمة اسمه عبد الله
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صعود» جہنم کا ایک پہاڑ ہے، اس پر کافر ستر سال تک چڑھتا رہے گا پھر وہاں سے لڑھک جائے گا، یہی عذاب اسے ہمیشہ ہوتا رہے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے مرفوع صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس حدیث کا کچھ حصہ عطیہ سے مروی ہے جسے وہ ابوسعید سے موقوفاً روایت کرتے ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا الحسن بن موسى، عن ابن لهيعة، عن دراج، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الصعود جبل من نار يتصعد فيه الكافر سبعين خريفا ثم يهوي به كذلك فيه ابدا " . قال هذا حديث غريب انما نعرفه مرفوعا من حديث ابن لهيعة . وقد روي شيء من هذا عن عطية عن ابي سعيد قوله موقوف
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن السدي، عن ابي سعيد الازدي، حدثنا زيد بن ارقم، قال غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان معنا اناس من الاعراب فكنا نبتدر الماء وكان الاعراب يسبقونا اليه فسبق اعرابي اصحابه فسبق الاعرابي فيملا الحوض ويجعل حوله حجارة ويجعل النطع عليه حتى يجيء اصحابه . قال فاتى رجل من الانصار اعرابيا فارخى زمام ناقته لتشرب فابى ان يدعه فانتزع قباض الماء فرفع الاعرابي خشبته فضرب بها راس الانصاري فشجه فاتى عبد الله بن ابى راس المنافقين فاخبره وكان من اصحابه فغضب عبد الله بن ابى ثم قال : (لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا ) من حوله . يعني الاعراب وكانوا يحضرون رسول الله صلى الله عليه وسلم عند الطعام فقال عبد الله اذا انفضوا من عند محمد فايتوا محمدا بالطعام فلياكل هو ومن عنده ثم قال لاصحابه لين رجعتم الى المدينة ليخرجن الاعز منها الاذل . قال زيد وانا ردف رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فسمعت عبد الله بن ابى فاخبرت عمي فانطلق فاخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فارسل اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فحلف وجحد . قال فصدقه رسول الله صلى الله عليه وسلم وكذبني قال فجاء عمي الى فقال ما اردت الا ان مقتك رسول الله صلى الله عليه وسلم وكذبك والمسلمون . قال فوقع على من الهم ما لم يقع على احد . قال فبينما انا اسير مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر قد خفقت براسي من الهم اذ اتاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فعرك اذني وضحك في وجهي فما كان يسرني ان لي بها الخلد في الدنيا . ثم ان ابا بكر لحقني فقال ما قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت ما قال شييا الا انه عرك اذني وضحك في وجهي . فقال ابشر . ثم لحقني عمر فقلت له مثل قولي لابي بكر فلما اصبحنا قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم سورة المنافقين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن ابي ثور، قال سمعت ابن عباس، رضى الله عنهما يقول لم ازل حريصا ان اسال عمر عن المراتين من ازواج النبي صلى الله عليه وسلم اللتين قال الله عز وجل : (ان تتوبا الى الله فقد صغت قلوبكما ) حتى حج عمر وحججت معه فصببت عليه من الاداوة فتوضا فقلت يا امير المومنين من المراتان من ازواج النبي صلى الله عليه وسلم اللتان قال الله : ( ان تتوبا الى الله فقد صغت قلوبكما وان تظاهرا عليه فان الله هو مولاه ) فقال لي واعجبا لك يا ابن عباس قال الزهري وكره والله ما ساله عنه ولم يكتمه فقال لي هي عايشة وحفصة قال ثم انشا يحدثني الحديث فقال كنا معشر قريش نغلب النساء فلما قدمنا المدينة وجدنا قوما تغلبهم نساوهم فطفق نساونا يتعلمن من نسايهم فتغضبت على امراتي يوما فاذا هي تراجعني فانكرت ان تراجعني فقالت ما تنكر من ذلك فوالله ان ازواج النبي صلى الله عليه وسلم ليراجعنه وتهجره احداهن اليوم الى الليل . قال قلت في نفسي قد خابت من فعلت ذلك منهن وخسرت . قال وكان منزلي بالعوالي في بني امية وكان لي جار من الانصار كنا نتناوب النزول الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فينزل يوما فياتيني بخبر الوحى وغيره وانزل يوما فاتيه بمثل ذلك . قال وكنا نحدث ان غسان تنعل الخيل لتغزونا . قال فجاءني يوما عشاء فضرب على الباب فخرجت اليه فقال حدث امر عظيم . قلت اجاءت غسان قال اعظم من ذلك طلق رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءه . قال قلت في نفسي قد خابت حفصة وخسرت قد كنت اظن هذا كاينا قال فلما صليت الصبح شددت على ثيابي ثم انطلقت حتى دخلت على حفصة فاذا هي تبكي فقلت اطلقكن رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت لا ادري هو ذا معتزل في هذه المشربة . قال فانطلقت فاتيت غلاما اسود فقلت استاذن لعمر . قال فدخل ثم خرج الى . قال قد ذكرتك له فلم يقل شييا . قال فانطلقت الى المسجد فاذا حول المنبر نفر يبكون فجلست اليهم ثم غلبني ما اجد فاتيت الغلام فقلت استاذن لعمر . فدخل ثم خرج الى فقال قد ذكرتك له فلم يقل شييا . قال فانطلقت الى المسجد ايضا فجلست ثم غلبني ما اجد فاتيت الغلام فقلت استاذن لعمر . فدخل ثم خرج الى فقال قد ذكرتك له فلم يقل شييا . قال فوليت منطلقا فاذا الغلام يدعوني فقال ادخل فقد اذن لك فدخلت فاذا النبي صلى الله عليه وسلم متكي على رمل حصير قد رايت اثره في جنبه فقلت يا رسول الله اطلقت نساءك قال لا . قلت الله اكبر لقد رايتنا يا رسول الله ونحن معشر قريش نغلب النساء فلما قدمنا المدينة وجدنا قوما تغلبهم نساوهم فطفق نساونا يتعلمن من نسايهم فتغضبت يوما على امراتي فاذا هي تراجعني فانكرت ذلك فقالت ما تنكر فوالله ان ازواج النبي صلى الله عليه وسلم ليراجعنه وتهجره احداهن اليوم الى الليل . قال فقلت لحفصة اتراجعين رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت نعم وتهجره احدانا اليوم الى الليل . فقلت قد خابت من فعلت ذلك منكن وخسرت اتامن احداكن ان يغضب الله عليها لغضب رسوله فاذا هي قد هلكت فتبسم النبي صلى الله عليه وسلم . قال فقلت لحفصة لا تراجعي رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا تساليه شييا وسليني ما بدا لك ولا يغرنك ان كانت صاحبتك اوسم منك واحب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال فتبسم اخرى فقلت يا رسول الله استانس قال " نعم " . قال فرفعت راسي فما رايت في البيت الا اهبة ثلاثة . قال فقلت يا رسول الله ادع الله ان يوسع على امتك فقد وسع على فارس والروم وهم لا يعبدونه . فاستوى جالسا فقال " اوفي شك انت يا ابن الخطاب اوليك قوم عجلت لهم طيباتهم في الحياة الدنيا " . قال وكان اقسم ان لا يدخل على نسايه شهرا فعاتبه الله في ذلك وجعل له كفارة اليمين . قال الزهري فاخبرني عروة، عن عايشة، قالت فلما مضت تسع وعشرون دخل على النبي صلى الله عليه وسلم بدا بي فقال " يا عايشة اني ذاكر لك شييا فلا تعجلي حتى تستامري ابويك " . قالت ثم قرا هذه الاية ( يا ايها النبي قل لازواجك ) الاية . قالت علم والله ان ابوى لم يكونا يامراني بفراقه فقلت افي هذا استامر ابوى فاني اريد الله ورسوله والدار الاخرة . قال معمر فاخبرني ايوب ان عايشة قالت له يا رسول الله لا تخبر ازواجك اني اخترتك . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انما بعثني الله مبلغا ولم يبعثني متعنتا " . قال هذا حديث حسن صحيح غريب قد روي من غير وجه عن ابن عباس